May 10, 2026 06:14 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
بریلوی یا اہلِ سنت؟ ایک معتدل جائزہ:

بریلوی یا اہلِ سنت؟ ایک معتدل جائزہ:

30 Apr 2026
1 min read

بریلوی یا اہلِ سنت؟ ایک معتدل جائزہ:

ابوالعطر محمد عبدالسلام امجدی برکاتی

ابوالعطر محمد عبدالسلام امجدی برکاتی

برصغیر کے دینی ماحول میں بعض الفاظ ایسے ہیں جو محض نام نہیں بلکہ ایک فکری پس منظر، مذہبی شناخت اور علمی روایت کی علامت بن گئے۔ انہی میں ایک لفظ "بریلوی" بھی ہے۔ بعض لوگ اسے محبت و نسبت کے طور پر استعمال کرتے ہیں، بعض اسے محض تعارف سمجھتے ہیں اور بعض اس پر اعتراض کرتے ہیں۔ اس مسئلے میں الجھنے کی بجائے اس کا صحیح حل نکالنا ہوگا اور پیچیدگیوں کی دنیا سے نکل کر سہل و یسر کی دنیا میں آباد ہونا ہوگا۔

سب سے پہلے یہ حقیقت واضح ہونی چاہیے کہ مسلمانوں میں حق پر قائم جماعت کی اصل اور جامع شناخت "اہلِ سنت و جماعت" ہے۔ یہی وہ عنوان ہے جسے صدیوں سے محدثین، فقہاء، مفسرین اور علماءِ امت نے اختیار فرمایا۔ یہ نام کسی ایک شخصیت، شہر یا زمانے سے وابستہ نہیں بلکہ سنتِ نبوی ﷺ، طریقۂ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور جمہور امت کے تسلسل کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس اعتبار سے جب کوئی شخص اپنے آپ کو اہلِ سنت کہتا ہے تو وہ اپنی بنیادی دینی شناخت بیان کرتا ہے۔

تاہم تاریخ کے بعض ادوار میں جب مختلف مذہبی جماعتیں اور فکری تحریکیں سامنے آئیں اور ہر گروہ نے اپنے آپ کو مسلمان یا حق پر قائم جماعت کہنا شروع کیا، تو عوام کے لیے امتیاز مشکل ہوگیا کہ روایتی سنی عقائد پر قائم طبقہ کون سا ہے۔ ایسے ماحول میں بعض اضافی نسبتیں رائج ہوئیں تاکہ پہچان آسان ہو سکے۔ اسی پس منظر میں "بریلوی" کا لفظ معروف ہوا، جو دراصل امام احمد رضا خان کی طرف نسبت ہے، جنہوں نے اپنے دور میں اہلِ سنت کے عقائد و نظریات کا نہایت مضبوط، مدلل اور علمی دفاع فرمایا۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ "بریلوی" کوئی نیا مذہب، مستقل فرقہ یا الگ شریعت کا نام نہیں، بلکہ ایک تعارفی نسبت ہے، جیسے مختلف ادوار میں  حنفی، شافعی، قادری،نقشبندی، اشعری اور ماتریدی  جیسی نسبتیں معروف رہیں۔ جس طرح "حنفی" کہنے سے ۔

کوئی نیا دین مراد نہیں لیا جاتا ،اسی طرح "بریلوی" سے مراد بھی وہ سنی طبقہ لیا جاتا ہے جو برصغیر میں روایتی عقائدِ اہلِ سنت کا حامل سمجھا جاتا ہے،جس پر اعتراض کرنا ،یا انگشت نمائی کرنا یا اپنی جدت فکری کے زعم میں طوفان بپاکرنا نہ فکری اعتدال کی علامت ہے اور نہ دانائی بلکہ اشتعال اور شرار بولہبی ہے،اور ایک مستقل  اور الگ فرقہ و جماعت جدیدہ سے ہمارا متعارف کرانا بد دیانتی اور مکرو فریب ،افترا  اور فکری بدمعاشی کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتایہ حقیقت بھی  اپنی جگہ مسلم ہے کہ کسی مسلمان کے لیے خود کو "بریلوی" کہلانا نہ شرعاً لازم ہے، نہ عقلاً ضروری۔ اگر کوئی شخص اپنے تعارف میں محض مسلمان، سنی، اہلِ سنت، حنفی یا کسی بھی معتبر دینی نسبت کو اختیار کرے تو اس میں نہ کوئی قباحت ہے، نہ کوئی اشکال۔ دین کی اساس ناموں پر نہیں، بلکہ ایمان کی سچائی، عمل کی پختگی، سنت کی پیروی اور محبتِ رسولِ کریم ﷺ کی تابندگی پر قائم ہے۔ اصل سرمایہ وہ دل ہے جو خدا کی یاد سے معمور ہو  اور وہ زندگی ہے جو سنتِ مصطفوی ﷺ کے نور سے منور ہو۔لیکن موجودہ دور و حالات میں اسی قدر پر قناعت مناسب بھی نہیں، کیونکہ دنیا میں شناخت صرف باطن کی سچائی سے نہیں بنتی، بلکہ ظاہر کے عنوان، عرفِ عام کے فہم اور معاشرتی ادراک سے بھی متعین ہوتی ہے۔ مثلا اگر کوئی شخص یا ادارہ اپنے عقائد، معمولات اور علمی منہج میں اہلِ سنت ہی کے مسلک پر قائم ہو، مگر اپنے تعارف میں ایسی نسبت اختیار کرلے جو عوام کے عرف میں کسی دوسرے فکری دھارے کی علامت بن چکی ہو، تو عام ذہنوں میں اشتباہ پیدا ہونا، فضا میں اضطراب کا ابھرنا اور دلوں میں غیر ضروری سوءظن کا در آنا ایک فطری امر ہے۔ کیونکہ عوام کتابوں کی اصطلاحات سے نہیں، بلکہ ناموں کے اثرات اور عنوانات کے سائے سے رستہ پہچانتے ہیں۔اور یہی وہ نکتہ ہے جسے اکابرِ امت نے ہمیشہ حکمت و بصیرت کے ساتھ ملحوظ رکھا۔ ان کا انداز یہ رہا کہ حقیقت کو بھی محفوظ رکھا جائے اور فہمِ عامہ کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے۔ اگر کسی لفظ یا نسبت سے ذہنی انتشار پیدا ہونے لگے، یا ایک خالص سنی ادارہ غیر مقلد یا کسی دوسرے مسلک کے  ساتھ خلط ہو کر دیکھا جانے لگے، تو وہاں حکمت یہی کہتی ہے کہ ایسے مبہم عنوان سے احتراز کیا جائے، تاکہ امت کے ذہن میں الجھن کی دھند نہ پھیلے۔

یہ بات تو یقینی ہے ہے کہ لفظ "بریلوی" ابتداءً اہلِ سنت کی جانب سے وضع کردہ عنوان نہ تھا، بلکہ مخالف حلقوں کی طرف سے بطورِ امتیاز، بلکہ بعض مواقع پر بطورِ تعریض و تفریق استعمال میں آیا،جیسا کہ اکابر کی کتابوں اور تحریروں سے ظاہر ہے۔ بعد ازاں حالات کے جبر، مسلکی یا مشربی رواج، اور شناختی ضرورتوں کے تحت یہی لفظ برصغیر، خصوصاً پاک و ہند میں ایک معروف نسبت بن گیا اور بہت سے اہلِ سنت نے اسے نشانِ امتیاز کے طور پر قبول بھی کر لیا۔ مگر اس

کے ساتھ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ اس عمل کے نتیجے میں "اہلِ سنت و جماعت" جیسا اصل، جامع اور تاریخی عنوان بتدریج روپوش ہوتا چلا گیا، جبکہ بعض دوسرے فرقے اسی نام سے متعارف ہونے لگے۔ یوں معاملہ یہاں تک پہنچا کہ بیرونِ ملک، خصوصاً عرب دنیا میں، جہاں اصطلاحات کا پس منظر برصغیر جیسا معروف نہ تھا، وہاں بہت سے لوگوں نے "بریلوی" کو ایک مستقل نئے فرقے، یا کسی خاص مذہبی جماعت کے نام کے طور پر سمجھ لیا اور اہلِ سنت کی اصل شناخت اوجھل ہوتی چلی گئی۔

یہ سوال بھی  ذہن میں ابھرتا ہے کہ جب اس لفظ کی ابتدا مخالفین کی کرشمہ سازی کے نتیجہ میں ہوئی ، تو اس دور کے ہمارے اکابر نے اسے کلیتاً رد کیوں نہ کیا؟ اور کیوں نہ اپنے ناموں کے ساتھ اور  اداروں اور تحریکوں کے تحت"سنی" یا "اہلِ سنت" کی نسبت کو زیادہ مضبوطی سے اور خوب زور و شور کے ساتھ عام کیا؟ اگر ہر سمت یہ شعورو شور  پیدا کیا جاتا کہ ہماری اصل شناخت "سنی" ہے، ہماری جماعت "اہلِ سنت" ہے اور ہمارے علمی و روحانی انتسابات اسی کے تابع ہیں،بریلی شریف ہمارا مرکز عقیدت ضرور ہے مگر بریلویت ہمارا نہ مذہب ہے اور نہ الگ کوئی جماعت و فرقہ، تو شاید آج صورتِ حال کسی قدر مختلف ہوتی۔ اسی لیے آج بھی وقت ہے کہ ہم اپنی اصل، مستند اور تاریخی شناخت کو از سرِ نو زندہ  کریں۔ کتابوں میں، مقالات میں، اداروں کے تعارف میں، منبروں اور اسٹیجوں پر اور عوامی سطح پر "اہلِ سنت و جماعت" اور "سنی" کی نسبت کو زیادہ نمایاں کیا جائے۔ اس قدر اپنا تعارف اس نام سے کرایا جائے کہ باطل فرقوں کے لیے اس نام کو غصب کرنا دشوار ہو جائے اور لوگ سمجھ جائیں کہ "اہلِ سنت" کوئی مبہم اصطلاح نہیں بلکہ ایک واضح علمی، اعتقادی اور تاریخی جماعت کا نام ہے۔ البتہ افسوس یہ ہے کہ موجودہ اسٹیج کلچر، جذباتی خطابت اور گروہی نعروں کے ماحول کو دیکھ کر فوری طور پر یہ امید کم دکھائی دیتی ہے کہ ہم سنجیدگی کے ساتھ اس حقیقی شناخت کی طرف لوٹنے پر آمادہ ہوں گے۔

الغرض ضرورت اس امر کی ہے کہ ضمنی نسبتوں کو اصل اور جامع عنوان پر غالب نہ آنے دیا جائے اور اسی فکر کو مزید وسعت دیتے ہوئے مناسب ہوگا کہ اس موضوع پر عربی زبان میں علمی رسائل و مقالات تیار کیے جائیں، جامعاتی

سطح پر تحقیق ہو، حتیٰ کہ پی ایچ ڈی جیسے تحقیقی کام بھی اس پر کیے جائیں تاکہ یہ حقیقت  محض مقامی حلقوں تک محدود نہ رہے بلکہ علمی دنیا میں باقاعدہ طور پر متعارف ہو اور ساتھ ہی عرب علماء و اساتذہ سے علمی روابط بڑھا کر انہیں یہ مواد پیش کیا جائے اور موقع بہ موقع انہیں اپنے علمی اجتماعات و کانفرنسوں میں مدعو بھی کیا جائے تاکہ براہِ راست مکالمہ و ملاقات سے فکری وضاحت اور بہتر ہم آہنگی پیدا ہو سکے۔

ابوالعطر محمد عبدالسلام امجدی برکاتی

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)