Feb 7, 2026 10:50 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
فقیہ ملت علیہ الرحمہ ایک نظر میں

فقیہ ملت علیہ الرحمہ ایک نظر میں

21 Nov 2025
1 min read

فقیہ ملت علیہ الرحمہ ایک نظر میں

عمدۃ الفقہا حضرت علامہمفتی شہاب الدین صاحب قبلہ نوری صدر شعبہ افتا فیض الرسوم براؤں شریف

دنیائے سنیت کی نہایت عبقری اور معبتر شخصیت جلالۃ العلم و الفضل حضور سیدی و سندی آقائی و مولائی فقیہ ملت محسن ملت حضرت علامہ الحاج الشاہ مولانا حافظ و قاری مفتی جلال الدین احمد الامجدی علیہ الرحمۃ والرضوان کی ذات بابرکات دنیائے سنیت میں محتاج تعارف نہیں جس نے نہ جانے کتنے اشخاص کے ہم گیسووں کو سنوار کر دنیا و آخرت میں سرخرو ہونے کے قابل بنا دیا ،جس نے بہت سارے تشنگان علوم نبو یہ علیہ التحیۃ والثناء کو علم دین حق کا درس دے کر دنیا و آخرت میں ممتاز بنادیا ،جس نے رسول کریم ﷺ کی شریعت طاہرہ کی پاسبانی کر کے حضور سید عالم ﷺ کی عظمت اقدس لوگوں کے قلوب و اذہان میں ایسا جا گزیں کر دیا کہ وہ اب سارے زمانہ میں عظمت  رسول ﷺ کاپر چم لہرا رہے ہیں اور دشمنان دین حق کے مقابلہ میں کوہ ہمالہ بن کر بددینوں کے دانت کھٹے کر رہے ہیں اور مسلک سیدنا امام اہلسنت اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ کی عظمت کو لوگوں کے دلوں میں جا گزیں کر رہے ہیں، یہی وہ ذات بابرکات ہے جس نے کبھی بھی مسلک رضا کے مخالفین سے سمجھوتا نہیں کیا،جس نے ساری دنیائے سنیت کو بتا دیا کہ دین حق جس پر انبیاء ورسل عظام علیھم  الصلوات والسلام کی بعثت  اطہر ہوئیہے  دورحاضر میں اسی کا خوبصورت نام مسلک رضا ہے اور مسلک رضا سے منحرف ہونے والوں تمہارے انجام آخرت میں اچھے نہ ہوں گے بلکہ کامیاب وہی لوگ ہوں گے جو مسلک  رضا کے پابند ہوں گے ،اور لوگوں کو آپ سمجھاتے اور بتاتے رہےمسلک رضا الگ سے کوئی مسلک نہیں ہے بلکہ شریعت نبوی علیہ التحیۃ  والثناء ہی مسلک رضا ہے۔ آج دنیائے سنیت جس ذات بابرکات کو فقیہ ملت کے نام سے جانتی اور

پہنچانتی ہے ،آپ بیک وقت جید عالم ،محقق بے بدل ،مفتی اور مفتی گر ،صف اول کے ایک مایہ ناز مدرس و استا ذ، خوش بیان ،نکتہ رس خطیب ،متقی، پرہیز گار، عالم حق، نمونہ اسلاف ،مسلک رضا کے سچے پہرہ دار اور نہایت عمدہ اور شاندار جو تقریباً دو درجنوں سے زائد کتابوں اور" فتاوی فیض الرسول" جیسی عظیم و ضخیم  دو جلدوں اور" فتاوی فقیہ ملت" دو جلدوں اور"فتاوی بر کاتیہ" جیسے فتاوی کے مصنف تھے، اتنی ساری خوبیان بیک وقت کسی ایک انسان کے اندر شاذ و نادر ہی اکٹھا ہو پاتی ہیں ۔الغرض اللہ تعالی نے بہت ساری خوبیاں آپ میں جمع فرما دیا تھا ۔

ع  خدا بخشے بہت ہی خوبیاں تھیں مرنے والے میں! یہ کیا پتہ تھا کہ ضلع بستی کے ایک کوردہ گاوں میں علم و عمل کا ایک ایسا ماہتاب پیدا ہو گا جس کے فیضان کرم سے ایک عالم فیض یاب ہوگا جو دین کا سچا علمبردار بن کر دنیائے سنیت کا ایک فرد خاص ہو گا جو باطل پرستوں اور بے دینوں کے لیے کوہ ہمالہ اور ان کے لیے حامض الاسنان ہوگا ۔ ( جن کے دانت کٹھے کرنے والا) انہوں نے اپنے آبائی وطن میں ناظرہ قرآن کریم اس کے بعد ساڑھے دس سال کی عمر میں حفظ مکمل کر لیا، فارسی کی ابتدائی کتابیں مولانا عبدالروف التفات گنجوی سے پڑھی، فارسی کی دوسری بہت ساری کتا بیں اور عربی کی ابتدائی کتابوں کی تعلیم حضرت مولانا عبد الباری ساکن ڈھلمؤ فیض آباد سے حاصل کیا ۔ابھی جب کہ ابتدائی ہی تعلیم تھی گھر کے حالات میں کچھ ایسے حوادثات پیش آئے جن کی وجہ سے تعلیمی سلسلہ منقطع ہونے کے قریب تھا لیکن مشیئت خالق نے منقطع نہیں ہونے دیا،دوران تعلیم ایک دس  روپے پر ایک زمیندارکے یہاں ملازمت بھی کر لی تا کہ سلسلہ تعلیم بند نہ ہونے پائے چنانچہ ۱۹۴۷ء کے ہنگامے کے بعد آپ ناگپور تشریف لے گئے جہاں دن بھر کام کرتے جس سے والدین کریمین کی ضروریات پوری فرماتے اور مغرب سے 12بجے رات تک اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ اپنے انتہائی مشفق استاذ سیاح ایشا و یورپ رئیس التحریر مناظر اہل سنت آفت نجدیت حضرت علامہ مولانا ارشد القادری صاحب قبلہ مد ظلہ العالی سے مدرسہ شمس العلوم ناگپور میں تعلیم حاصل کرتے رہے اور اسی ادارے سے ۲۴/شعبان المعظم ۱۴۷۱ھ مطابق ۱۹/مئی ،۱۹۵۲ء میں سند فراغت و دستار فضیلت سے سرفراز ہوے ،بعد فراغت دبولیا بازار میں اپنے ہی قائم کردہ مدرسہ میں مدرس رہے لیکن وہاں کے حالات کچھ اچھے نہ لگے تو وہاں سے مستعفی ہوکر اپنے مشفق استاذ رئیس التحریر کے ایماء و اشارہ پر ناگپور تشریف لے گئے وہاں مکتب کی ابتدائی تعلیم سے دل برداشتہ ہو کر اپنے استاذ کی اجازت سے وطن معلوف تشریف لاے ،کچھ دنوں بعد مدرسہ قادریہ رضویہ بھاؤ پور ضلع بستی (جو اب سدھارتھ نگر ضلع ميں ہے )وہاں کے لئے استاذ منتخب ہو گئے ،پھر جب شیخ المشائخ گل گلزار قادریت شمع شبستان چشتیت حضور سیدی و سندی آقائی و مولائی الشاہ صوفی محمد یار علی لقد رضی المولی عنہ نے فیض الرسول براؤں شریف کے لئے طلب فرمایا چنانچہ شعبۂ عربی و فارسی کے استاذ کی حیثیت سےتشریف لائے اور چمن شعیب الاولیاء میں پہونچ کر تعلیم و تدریس میں یکم ذی الحجہ ۱۳۷۵ھ مطابق ۱۰/جولائی ۱۹۵۶ء سے دار العلوم اہل سنت فیض الرسول میں مسروف کار ہو گئے،کچھ دنوں بعد دور و نزدیک کے بہت سے بڑے بڑے اداروں نے اونچے عہدوں اور بہت زیادہ مشاہروں کی پیش کش 

کی مگر آپ نے شعیب الاولیاء جیسے محسن کا آستانہ چھوڑناکسی قیمت پر گوارہ نہ کیا ۔بچپن ہی سے آپ کو مسائل شرعیہ جاننے کا بڑا شوق تھا ،اورارباب ادارہ نے جب آپ میں فقہ سے دل چسپی کا عنصر نمایاں پایاں تو آپ کو خدمت افتا کی انجام دہی کے لئے منتخب فرما دیا۔ یہی وہ زمانہ ہے کہ حضور سیدی شعیب الاولیاء علیہ الرحمۃ والرضوان کی صحبت اقدس اور ان کے سایۂ کرم اور نظر کیمیا نے صرف آپ کو ہی نہیں بلکہ بہتروں کو علم و عمل اور شریعت طاہرہ کا تاج دار بنا دیا ، جن کی صحبت میں آپ رہ کر علم و عمل کا کوہ ہمالہ بنن گئے، اور آپ کی صحبت اقدس نے انہیں ایسا نکھارا کہ آج دنیائےسنیت نے آپ کو فقیہ ملت اور قبلہ عالم کو ایوارڈ سے  نواز کر اپنا مقتدا مان لیا، اور آپ کی ذات بابرکات اب سند و دلیل کی حیثیت رکھ رہی ہے۔ 

اساتذہ و تلامذہ :اساتذہ کی تعداد بہت کم ہے،ابتدائی تعلیم کے علاوہ بقیہ سبھی تعلیم ر‏ئیس التحریر سے حاصل کی ۔اور تلامذہ کی تعداد تو اتنی طویل ہے جس کے شمار کے لئے ایک دفتر درکار ہے ،آپ کے تلامذہ ملک و بیرون ملک میں خدمت دین حق کر رہے ہیں اور آپ کی تعلیمات پر عمل کر کے خود بھی روشن ہیں اور دوسروں کو بھی منور کر رہے ہیں اور مسلک رضا کی تبلیغ و اشاعت میں مصروف کار ہیں ۔ جزاک المولی احسن لجزاء۔

انداز درس و تدریس : حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کا انداز درس و تدریس بھی بہت نرالا تھا، آپ کا یہ معمول تھا کہ آپ طلبہ ہی سے عبارت خوانی کرواتے اور غلط عبارت خوانی پر آپ خود نہیں بتاتے بلکہ جو طالب علم عبارت پڑھ رہا ہوتا اسی سے اس کی اصلاح کرواتے اگر صحیح کر لیتا فبھا ورنہ جماعت کے دوسرے طالب علم سے اصلاح کرواتے ۔اگر با لفرض کسی نے نہیں اصلاح کی تواس پر سبھی جماعت والے طلبہ  کو زجرو توبیخ کے ساتھ مناسب سزا بھی دیتے۔مثلا اگر نحوی غلطی ہے تو ضرور نحو کے متعلق سوال کرتے اور اگرصرفی غلطی ہے تو اس کے متعلق سوال کرتے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ یہاں جو کتابیں زیر درس ہوتی تھیں ،ان کا مطالعہ ہر طالب علم کرتا اور ذہین و فطین طلبہ آپ کے یہاں کی کتابوں کا نہایت دلچسپی سے مطالعہ کرتے اور وہ جاہتے بھی تھے کہ ہماری کوئی نہ کوئی کتاب ضرور آپ کے درس میں رہے ۔جب طلبہ عبارت خوانی سے فارغ ہو جاتے  تو اس کے بعد آپ اس طرح نپے تلے جملے اور ایسا ترجمہ فرماتے کہ کتاب کا مفہوم بالکل واضح اور ظاہر ہو جاتا اور پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑتی اور ترجمہ لفظ کے اعتبار سے فرماتے اور اسی سے مفہوم کتاب ظاہر ہو جاتا، ایسا نہیں کر صرف با محاورہ ترجمہ کرتے اور لفظ کا اعتبار نہیں ہوتا ۔ کتاب خواہ چھوٹی ہو یا بڑی چالیس پچاس منٹ کی گھنٹی ہوتی تھی ،پوری گھنٹی پڑھاتے تھے، اور درس میں ادھر ادھر کی کوئی بات نہیں فرماتے بلکہ طلبہ جیسے ہی درسگاہ میں پہنچ جاتے فورا کتاب کی عبارت خوانی شروع ہو جاتی اور عبارت خوانی کے بعد فورا تعلیم میں مصروف ہو جاتے اور کبھی اگر طلبہ درس میں کسی وجہ سے کچھ تاخیر میں آتے تو فرماتے تھے کہ جلدی کر و وقت ختم ہو رہا ہے ۔درس کے وقت میں اپنا کوئی کام نہیں کرتے، فرماتے تھے کہ یہ مدرسہ کا وقت ہے اس میں اپنا ذاتی کام کرنا درس کے علاوہ روا نہیں ، گویا آپ نے اپنے اس عمل سے یہ بتایا کہ جو جائز پابندیاں مشروط ہوں ان کے خلاف کرنا حرام ہے۔ 

یہ ہے حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کا تقویٰ اور پرہیز گاری کہ اوقات درس میں درس ہی کا کام کرتے یا جو بھی دین کے شعبے سے متعلق ہوتا دور حاضر میں اتنا محتاط عالم دین حق ملنا محال تو نہیں لیکن مشکل اور کمیاب ہے یہ اس پایہ کے عالم دین اور نادر شخصیت تھی جس نے ان کو قریب سے دیکھا اور بنظر دیکھا تو برجستہ یہی کہا کہ یہ عالم ربانی ہیں اسلاف کے مظہر اتم واکمل ہیں ۔ ذٰلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء۔

مرید و شا گرد :  مرید کامل وہی ہے جو مرشد کا مراد بن جائے اور شاگرد کام وہی ہے جو استاد

کے لیے سرمایہ آخرت بن جائے جیسے کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کے خانوادۂ اطہارکے ایک پھول حضور آقائی مولائی سیدآل رسول احمدی ما رہروی علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں کہ اے لوگوں تم احمد رضا کو کیا جانو یہ فرما کر رونے لگے اور فرمایا کہ قیامت کے دن رب تبارک و تعالی ارشاد فر مائے گا کہ آل رسول تو دنیا سے کیا لایا ؟ تو میں احمد رضا کو پیش کر دوں گا اور فرمایا یہ چشم و چراغ خاندان برکات ہیں اسی طرح آپ کے استاذ معظم حضرت علامہ ارشد القادری صاحب علیہ الرحمۃ والرضوان نے آپ کو کھلے الفاظ میں مظہر اسلاف اور آخرت کی پونجی فرمایا ۔تحریر فرمائے” خدائے قدیر آپ کو اسلاف کا مظہر بنادے میرا خیال ہے کہ آج کے علماء میں ام الامراض کی حیثیت سے پیسے کی لالچ گھس گئی ہے ،یہ بیماری تنہا نہیں بے شمار نقائص و علل کو اپنے ساتھ لاتی ہے۔ تو کل، ایثار اور استغناء اسلاف کا طرۂامتیاز رہا ہے اور ماشاء المولی تعالی آپ بھی اسی راہ پر چل رہے ہیں لیکن  اور استحکام و پختگی کی ضرورت ہے آپ کو میں اپنی نجات اخروی کی پونجی سمجھتا ہوں۔ میں تو سیاہ کا رکا سیاہ کار ہی رہا ( علامہ کا یہ جملہ تواضع پر مبنی ہے ) لیکن آپ نے مرضیات الہی کو پالیا، آپ کی ذات سے دین کو جو تقویت حاصل ہوئی ہے وہ میرے لیے باعث افتخار ہے۔ الدال علی الخیر کفاعلہ “جزاکم المولیٰ تعالی احسن الجزاء۔ یہ ہیں حضور فقیہ ملت جواستاذ کے لیے نجات اخروی کی پونچھی ہیں ۔یہی علامہ رئیس التحریر اپنے ایک مکتوب میں یوں تحریر فرماتے ہیں” عزیز گرامی حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی دامت برکاتہم العالیہ کو خداوند کریم نے بہت سی خوبیوں سے نوازا ہے، وہ بلند پایا اور راسخ العلم مدرس بھی ہیں ،حاضر دماغ اور بالغ نظر مفتی بھی ، خوش بیان نکتہ رس خطیب بھی ہیں اور فکر و انگیز وحقائق نگار مصنف بھی ہیں اور ان ساری خوبیوں کے ساتھ ساتھ متواضع، شریف النفس اور عالم با عمل بھی، ان کے بے شمار تلامذہ ان کے دینی تصلب اور ان کی تقوی شعار زندگی کا آئینہ ہیں “۔

فتوی نویسی کی شان امتیاز : فتوی نویسی کوئی آسان کام نہیں ہے جیسا کہ اہل افتاء پر ظاہر ہے، در حقیقت یہ بہت اہم اور مشکل کام ہے ۔اس کے لیے علوم دینیہ کے تمام شعبوں میں مہارت و مزاولت کی ضرورت ہے ،خصوصاً علم تفسیر وحدیث پر مکمل عبور کے ساتھ ساتھ اصول فقہ ا ور جزئیاتکا استحضار، کتب معتبرہ، مستندہ کے جزئیات پر گہری نظر، وغیرہ وغیرہ ۔اس کام کے لیے بہت سارے اہم شرائط درکار ہیں ( جو فقہ کی کتابوں میں مذکور ہیں ) مزید برآں کسی ماہر، جامع شرائط مفتی کی  خدمت میں رہ کر جد و جہد کا خوگر بنے اور جن امور کا افتاء کے لیے ضرورت ہے اس میں مہارت حاصل کرلے تو فتوی نویسی اور ناقل فتوی کا کام انجام دے سکتا ہے ورنہ ٹھوکروں پر ٹھوکریں کھاتا رہے گا اور اس علم سے کما حقہ واسطہ نہ رہے گا ،البتہ اگر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم کسی بندے کے ساتھ ہو جائے تو کوئی بات نہیں ،کیونکہ پر ور دگا رجسے چاہے جب چاہے جیسے چاہے علم و حکمت اور فقہ کی دولت سے سرفراز فرما دے” ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء “( قرآن ) اور حدیث شریف میں ہے:” من یرد اللہ بہ خیر ایفقہ فی الدین “یعنی اللہ تعالیٰ جس بندے کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے اسے دین کا فقیہ بناتا ہے اور دین کی اسےسمجھ عطا فرماتا ہے۔ تو حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃوالرضوان کی ذات بابرکات بھی انہیں مخصوص بندوں میں سے ہے کہ آپ نے بھی کسی ماہر جامع شرائط مفتی کی خدمت میں رہ کر فتوی نویسی سیکھی ہو ایسا نہیں ہے بلکہ کہئے فضل خداوندی ہی کچھ آپ پر یوں ہے، گویا آپ کی ذات برکات اس وصف میں بھی اور وں سے منفرد و ممتاز ہے، جب آپ کی ذات کو غور سے دیکھا جائے تو” ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء “ منہ سے نکل جاتا ہے ۔

تفصیل کے لیے فتاویٰ مرکز تربیت افتا کا مطالعہ کریں۔

اللہ کریم حضور فقیہ ملت کے فیوض و برکات سے ہم سب کو مالا مال فرمائے آمین یار 

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383