Feb 7, 2026 06:11 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
فقیہ ملت کے اقوال ذریں

فقیہ ملت کے اقوال ذریں

21 Nov 2025
1 min read

فقیہ ملت کے اقوال ذریں 

جانشین فقیہ ملت حضرت مولانا مفتی ازہار احمد امجدی مصباحی ازہری زید مجدہ

استاذ و مفتی مرکز تربیت افتا و بانی ٹرسٹ فلاح ملت، اوجھاگنج، بستی، یو پی

حامدا و مصلیا و مسلما

حضرت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمۃ کی ذات محتاج تعارف نہیں، ہر کس و ناکس خاص کر پڑھا لکھا طبقہ آپ کی علمی شخصیت سے واقف ہے، آپ کی بے مثال فقہی خدمات کی بنیاد پر آج بھی عوام و خواص آپ کو فقیہ ملت کے لقب سے یاد کرتے ہیں، آپ نے اپنے دینی و ملی تصلب کو برقرار رکھتے ہوئے دو درجن سے زائد کتابیں تصنیف فرمائیں، عوام و خواص کی اصلاح کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، حق گوئی و بے باکی کو اپنا شعار خاص بنایا، عالم و مفتی ہونے کے ساتھ آپ نے اپنے  اندر تقوی و پرہیزگاری کو خاص جگہ دی اور ہمیشہ آپ کی زندگی کا مقصد اصلی، اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رضا رہی؛ یہی وجہ ہے کہ آپ خلوص و محبت کے ساتھ آخری سانس تک دین و سنیت کی بیش بہا خدمت انجام دیتے رہے اور آخری عمر مرکز تربیت کی صورت میں قوم مسلم کو ایک عظیم قلعہ عطا فرمایا۔ جہاں آپ کی پوری زندگی، آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے، وہیں آپ کی جانب سے اقوال کی روشنی میں شاگردوں کو کی گئی وصیت بھی بڑی با معنی خیز اور قابل تقلید ہے، ذیل میں ان کم یاب اقوال کو قدرے تشریح و توضیح کے ساتھ قارئین کے باصرہ نواز کرنے کی سعی مسعود کی جارہی ہے، اللہ تعالی اپنی توفیقات سے نوازے، آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔

(۱)خلوص کے ساتھ خدمت دین کو اپنی زندگی کا مقصد قرار دو، حصول زر کو مقصد زندگی نہ بناؤ۔

            حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ نے ہمیشہ اپنی زندگی کے مقصد کو دین کی خدمت قرار دے کر، آخری عمر تک اسی میں جی جان سے لگے رہے اور کبھی بھی دین کی آڑ میں اپنی زندگی کے مقصد کو حصول زر نہیں بنایا؛ کیوں کہ آپ کا کہنا تھا کہ خلوص کے ساتھ دین کا کام کرو، آخرت بنے گی، نام بھی ہوگا اور ان شاء اللہ  دولت بھی حاصل ہوگی، لیکن اگر دین کی خدمت کے در پردہ، مقصد زندگی، دولت و عزت حاصل کرنی ہوگی؛ تو دولت حاصل تو ہوسکتی ہے اور کبھی نام بھی ہوسکتا ہے مگر

آخرت جو ایک مسلم کی اصل زندگی ہے، وہ بہتر نہیں ہوگی بلکہ برباد ہوجائے گی، آپ اس کی مثال گیہوں اور بھوسا سے دیتے تھے کہ ایک عقلمند آدمی کا مقصد ہمیشہ گیہوں حاصل کرنا ہوتا ہے، بھوسا حاصل کرنا کبھی نہیں ہوتا؛ کیوں کہ اس کے ضمن میں اس کو بھوسا حاصل ہی ہوجاتا ہے؛ اسی وجہ سے  کسی بھی ہوش مند شخص کا کبھی بھی گیہوں کو چھوڑکر، بھوسا حاصل کرنا، مقصد نہیں ہوتا؛ کیوں کہ اسے معلوم ہے کہ بھوسا یہ ضمنی چیز ہے، گیہوں حاصل ہونے کی صورت میں وہ خود بخود حاصل ہوہی جائے گا، اسے مقصد بنانا بے کار ہے، یہ کسی حوش مند کا طریقہ کار نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح خدمت دین کا معاملہ ہے کہ خلوص کے ساتھ خدمت دین کی جائے؛ تو بفضل اللہ تعالی، اصل مقصدِ زندگی یعنی آخرت حاصل ہوتی ہے، ساتھ ہی نام ہوتا ہے، عزت بنتی ہے اور دولت بھی حاصل ہوجاتی ہے، لیکن اگر خدمت دین کی آڑ میں مقصد زندگی، اسی نام و نمود اور دولت کو قرار دے دیا گیا؛ تو یہ چیزیں حاصل ہو بھی سکتی ہیں اور نہیں بھی ہوسکتی ہیں مگر آخرت بہر حال تباہ برباد ہوجاتی ہے اور یہ ایک عالم کی شان نہیں اور نہ ہی عقلمندی کی بات ہے کہ نام و نمود کے چکر میں اصل مقصد کو ہی تباہ و برباد کرکے تاراج کردیا جائے۔ مگر آج خدمت دین کے در پردہ نہ جانے کتنے لوگ، دولت و ثروت اور عزت و شہرت کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے پھر رہے  ہیں اور حد تو یہ ہے کہ دوسروں پر الزام تراشی کرتے نہیں تھکتے، انہیں حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ کے اس قول انمول سے نصیحت حاصل کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنی آخرت کے ساتھ دنیا بھی بہتر و اچھی بناسکیں۔

(۲) مسجد یا مدرسہ کی ملازمت کے معنی میں عالم نہ رہو، نائب رسول کے معنی میں عالم بنو کہ رسول کی طرح ہر وقت اسلام و سنیت کی تبلیغ و اشاعت کی فکر رکھو اور ہر ممکن طریقے سے اس کے لیے کوشش کرتے رہو۔

الحمد للہ حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ پوری زندگی محض بحیثیت ملازمت، عالم نظر نہیں آئے بلکہ ہمیشہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے نقش قدم پر چلنے والے عالم باوقار نظر آئے، ہمہ وقت اسلام و سنیت کی نشر و اشاعت میں سرگرم عمل رہے اور اس کی ترویج و اشاعت کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے رہے۔ مگر آج عموما علماے کرام کا حال بڑا بے حال ہے، ملازت کے معنی ہی میں وہ امام و مدرس و عالم ہوتے ہیں، اپنے نائب رسول ہونے کا انہیں خیال بھی نہیں گزرتا اور نہ ہی دین و سنیت کی نشر و اشاعت کی انہیں کوئی فکر ہوتی ہے، چہ جائے کہ وہ اس کے لیے ہر ممکن کوشش کریں، آج اگر علماے کرام محض ملازمت کے طور پر عالم نہ رہیں بلکہ نائب رسول کے اعتبار سے کام کریں اور ہمیشہ دین و سنیت کی فکر میں رہنے لگیں؛ تو ان شاء اللہ آج دین و سنیت کا نقشہ ہی الگ ہوجائے۔ آج عموما ام و مدرس کا عجیب حال ہے، یہ عموما  اپنی تعلیمی ذمہ داری صحیح سے نہیں نبھاتے، نہ انہیں عوام کے دین و ایمان کی فکر ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے لیے یہ قربانیاں دینے کے لیے تیار ہوتے ہیں، جیسے تیسے پڑھاے اور چلتے بنے، لڑکا سمجھ سکا یا نہیں، اس کی صلاحیت کیا ہے، اسے کیسے پڑھانا چاہیے اور اس کی تربیت کیسے ہونی چاہیے، عوام کا حال کیا ہے، اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہوتا! حقیقت یہ ہے کہ اگر اکثر علما اپنی ذمہ داری کما حقہ نبھادیں؛ تو بعض اوقات پریشانی اگرچہ سامنے آئے مگر انقلاب آنا طے ہے مگر افسوس کہ علما ہی اپنی ذمہ داری سے کوسوں دور نظر آتے ہیں۔

(۳) قرآن مجید اور حدیث شریف پڑھنے کے ساتھ فقہ کا زیادہ مطالعہ کرو کہ اللہ و رسول کے نزدیک سب سے بڑا عالم وہی ہوتا ہے جو فقہ میں زیادہ ہوتا ہے، اگرچہ

دوسرا حدیث و تفسیر سے زیادہ اشتغال رکھتا ہو۔ (فتاوی رضویہ، ج۴ص۵۷۲)

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ  اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سب سے بڑا عالم وہی ہوتا ہے، جو فقہ میں مہارت زیادہ رکھتا ہے؛ کیوں کہ جو حقیقت میں فقیہ ہوتا ہے، اس کی تفسیر پر بھی اچھی نظر ہوتی ہے اور اسی طرح احادیث پر بھی اسے ایک حد تک عبور حاصل ہوتا ہے، نیز ایک فقیہ لوگوں کی گتھیاں سلجھاتا ہے، جب کہ محض مفسر و محدث ایسا نہیں کرتے؛ اسی وجہ سے ایک فقیہ کا مرتبہ بہر حال دیگر دینی عہدوں سے بلند و بالا ہوتا ہے۔

(۴) صحیح معنی میں عالم دین بننے کے لیے علماے اہل سنت حضوصا اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ و الرضوان کی تصنیفات کا زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرو۔

ہر دور میں علماے اہل سنت و جماعت کی کتابیں مرجع خلائق تھیں، ہیں اور ان شاء اللہ رہیں گی؛ کیوں کہ یہی ان کے حقیقی رہنما ہیں اور اور یوں ہی ہر دور میں ان میں سے  بھی بعض مخصوص علماے کرام کی کتابیں خاص مرجع خلائق رہی ہیں، انہیں میں سے ایک شخصیت اعلی حضرت مجدد دین و ملت علیہ الرحمۃ و الرضوان کی ہے، ایک صدی سے اب تک مجدد دین و ملت علیہ الرحمۃ و الرضوان کی دلائل سے پر تصنیفات، خاص مرجع خلائق ہیں اور ان شاء اللہ طویل زمانے تک خاص مرجع خلائق بنی رہیں گی اور جب حالت یہ ہے؛ تو ظاہر سی بات ہے کہ ایک اچھا و صحیح عالم بننے کے لیے مجدد دین و ملت علیہ الرحمۃ و الرضوان کی کتابوں کا مطالعہ از حد ضروری ہے، آج عام طور سے سنی سماج اعلی حضرت علیہ الرحمۃ کی کتابوں سے متعلق افراط و تفریط کا شکار ہے، ایک طبقہ ایسا ہے جو آپ کی کتابیں پڑھنا ہی نہیں چاہتا، بس اپنے مطلب کی بات لے کر اُڑا رہتا ہے اور ایک طبقہ ایسا ہے جو پڑھ کر نظر انداز کرنے کا عادی ہوگیا ہے، اللہ تعالی ہمیں توسط و اعتدال اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

(۵) عالم کی سند مل جانے کو کافی نہ سمجھو بلکہ زندگی بھر تحصیل علم میں لگے رہو اور یقین کرو کہ زمانہ طالب علمی میں صرف علم حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا کی جاتی ہے اور حقیقت میں علم حاصل کرنے کا زمانہ فراغت کے بعد ہی ہے۔

صحیح معنوں میں جو عالم ہوگا، وہ کبھی عالم کی سند مل جانے کو کافی نہیں سمجھے گا؛ کیوں کہ اس کو کافی سمجھنے والا کبھی مقصد تک نہیں پہنچ سکتا،اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جسے مقصد تک پہنچنے کے لیے راستہ نہیں معلوم، مگر جب اسے راستہ معلوم ہوا؛ تو اس نے اسی کو کافی سمجھ لیا؛ جس کی وجہ سے وہ کبھی اپنی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکا، اسی طرح جس نے عالم و فاضل کی سند حاصل کرنے کو سب کچھ سمجھ لیا اور مزید علم حاصل کرکے علم و عمل میں پختلگی لانے کی کوشش نہیں کی،؛ تو وہ کبھی بھی اپنی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتا؛ کیوں کہ راستے یا طریقہ کار کبھی منزل نہیں ہوسکتے بلکہ منزل تک پہنچنے کا ذریعہ چھوڑنے سے دوسرے واجب کے چھوڑنے کا حکم نہیں دیا جائے گا؛ لہذا اگر کوئی صرف عمل کی ترغیب دلائے اور خود عمل نہ کرے؛ تو  جس کو عمل کی ترغیب دلائی جارہی ہے، اسے عمل کرنا چاہیے اور یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ خود عمل کی ترغیب دلانے والا، عمل نہیں کر رہا ہے؛ تو میں عمل کیوں کروں؟! حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ و الرضوان اس کی مثال یوں دیا کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص کسی بیماری کا علاج کرنے کے لیے کسی ڈاکٹر کے پاس جائے اور وہ ڈاکٹر بھی اسی بیماری میں مبتلا ہومگر وہ اپنا علاج نہ کرے، البتہ جو شخص آیا اس کو اس بیماری کا علاج بتائے؛ تو یہاں وہ شخص یہ نہیں کہتا کہ ڈاکٹر صاحب، آپ تو خود اپنی بیماری کا علاج کر نہیں رہے ہیں؛ اس لیے میں آپ کے علاج کو قبول نہیں کروں گا اور نہ ہی آپ کی دوا کھاؤں گا۔ اسی طرح ایک عالم اگر خود نہ کرے اور لوگوں کو ترغیب دلائے؛ تو لوگوں کو اسے قبول کرلینا چاہیے کہ اگر وہ عمل کریں گے؛ تو فائدہ انہیں کا ہوگا، اگر عالم عمل نہیں کرے گا؛ تو خود وہی نقصان اٹھائے گا، جس طرح ڈاکٹر اپنا علاج نہ کرے؛ تو خود اسی کا نقصان ہوگا۔

            مگر چوں کہ دوسروں کو عمل کی ترغیب دلانا اور خود عمل نہ کرنا، قرآن مجید اور احادیث نبویہ کے مطابق سخت ناپسندیدہ ہے اور لوگ ایسے شخص کی بات بھی جلدی قبول  نہیں کرتے؛ اس لیے ایک عالم دین کو پہلے خود باعمل ہونا چاہیے اور اس کے بعد ساتھ ہی دوسروں کو عمل کی ترغیب بھی دلانا چاہیے، یہی قرآن پاک اور سنت نبوی سے ہمیں  درس ملتا ہے اور یہی طریقہ کار نتیجہ خیز بھی ہے؛ لہذا بھلائی کا حکم دینے کے ساتھ، خود  بھی بھلائی کرنے کا بھر پور خیال رکھنا چاہیے، آج کل خود باعمل ہونے کا وصف عام طور سے علما میں مفقود نظر آتا ہے؛ جس کی وجہ سے نقصانات روز بروز بڑھتے جارہے ہیں، اس کی تلافی کے پیش نظر حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ و الرضوان نے خود باعمل ہونے کے ساتھ دوسروں کو باعمل بنانے کی ترغیب دلائی، دور حاضر کےلوگ اس فکر کو غنیمت سمجھیں، ان شاء اللہ دنیا و آخرت میں کامیاب رہیں گے۔

(۷) بد مذہب اور دنیادار مولوی سے دور بھاگو جیسے شیر سے بلکہ اس سے بھی زیادہ کہ وہ جان لیتا ہے اور یہ ایمان برباد کرتا ہے۔

شیر سے جان بچانے کے لیے جس طرح انسان کو بھاگنا چاہیے، اسی طرح بدمذہب اور دنیا دار مولوی سے بھی دور بھاگنا چاہیے بلکہ شیر کی بنسبت کہیں زیادہ ان سے دور بھاگنا چاہیے کہ شیر تو صرف جان لیتا ہے مگر یہ بدمذہب و دنیادار مولوی ایک مسلم کی سب سے قیمتی چیز ایمان کو برباد کرتا ہے۔ بدمذہب کی بات آگئی تو بدمذہب کسے کہتے ہیں، یہ بھی جان لینا ضروری ہے ، بدمذہب وہ نہیں جو فروعی مسائل میں اہل سنت و جماعت سے اختلاف رکھتا ہو بلکہ بدمذہب وہ ہے جو عقائد میں اہل سنت و جماعت سے اختلاف رکھتا ہو، اسی طرح دنیا دار کی بھی وضاحت ہوجانی چاہیے، بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ دنیا کا حاصل کرنا دنیا داری ہے حالاں کہ یہ صحیح نہیں؛ کیوں کہ مطلقا دنیا کا حاصل کرنا دنیا داری نہیں بلکہ شریعت کے خلاف جانا دنیا داری ہے، نماز پڑھتا ہے مگر اللہ تعالی کی رضا کے لیے نہیں بلکہ دکھاوے کے لے پڑھتا ہے؛ تو یہ دنیا داری ہے، ناجائز طریقے سے مال کماتا ہے تو یہ دنیا داری ہے، کسی کا مال ہڑپ لیتا ہے، تو یہ دنیا داری ہے، اب دنیا میں کام کرنے والا عام آدمی یا جبہ و دستار والا ہو، اگر شریعت کی پاسداری کرتا ہے؛ تو وہ دنیا دار نہیں اور اگر شریعت کی پاسداری نہیں کرتا ہے؛ تو وہ پکا دنیا دار ہے،

معلوم ہوا کہ دنیا دار جہاں عام آدمی ہوسکتا ہے وہیں جبہ و دستار والا بھی ہوسکتا ہے۔ آپ کے پاس یہ شریعت اسلامیہ کا میزان ہے، آپ خود اپنے یا غیر کے بارے میں منصفانہ جائزہ لیں گے؛ تو آپ کو واضح جواب مل جائے گا کہ کون دنیا دار ہے اور کون نہیں، بہر حال بدمذہب یا دنیا دار ہو، دونوں سے دور و نفور رہنا چاہیے؛ کیوں کہ ان کا حملہ ایک مسلم کی سب سے قیمتی چیز ایمان پر ہوتا ہے اور یہ حملہ سب سے زیادہ سخت ہے، عام طور سے اس جملہ کا دفاع، ان سے دور رہ کر، کرنے میں ہی بھلائی ہے۔

(۸) الحاق کہ جس سے اکثر دینی مدارس دنیادار ہوگئے اور ان کی تعلیم برباد ہوگئی۔ اس سے بچو اور مکر و فریب سے گورنمنٹ کا بھی پیسہ نہ حاصل کرو کہ غدر و بدعہدی مطلقا سب سے حرام ہے۔

فقیہ ملت علیہ الرحمۃ کی نگاہیں جو چیزیں کئی دہائیوں پہلے دیکھی تھیں، آج وہ بالکل صاف اور واضح نظر آرہی ہیں، اچھے خاصے مدرسے الحاق کی نظر ہوکر، دنیا دار ہوگئے؛ کیوں کہ قرآن و حدیث کے درس دینے والے، انہیں الحاقی مدارس میں رشوت عام ہوگئی، حقدار کو حق دینے کا جذبہ نہ رہا، رشتہ داری کو فوقیت دی جانے لگی اور پیسہ پھینک تماشا دیکھ کا ننگا ناچ ناچا جانے لگا، یہاں تک کہ مکر و فریب اور غدر و بد عہدی، جو ہر کسی سے حرام ہے، اسے ارتکاب کرنے میں کوئی باک نہیں رہا، حکومت کی آنکھ میں دھول جھونک کر، صرف دستخط کر رہے ہیں اور تنخواہ لے رہے ہیں، پرائمری پڑھارہے ہیں اور فوقانیہ و عالیہ کی تنخواہ لے رہے ہیں، شرم ان کو مگر نہیں آتی! اب ایسی صورت میں اکثر مدارس کا حال کیا ہوگا اور نتائج کیا ہوں گے، اس کے بیان کرنے کی شاید چنداں ضرورت نہیں۔

(۹) دین میں کبھی مداہنت نہ اختیار کرو، حق گوئی و بے باکی اپنی زندگی کا شعار بناؤ۔

دنیا کے لیے دین کو چھوڑنا یا اس کے احکام کو پس پشت ڈالنا، ناجائز و حرام اور بہت بڑا جرم ہے؛ اس لیے ایک عالم دین کو اپنا شعار احقاق حق اور ابطال باطل ہی بنانا  چاہیے، لیکن ہر بات کا ایک محل و مقام ہوتا ہے اور اسی طرح چھوٹے بڑے کی اصلاح کا طریقہ الگ الگ ہوتا ہے؛ اس لیے احقاق حق اور ابطال باطل کے وقت ان چیزوں کا خیال از حد ضروری ہے  نیز موجودہ دور میں حاکمیت و آمریت والے مزاج کے بجائے تبلیغی مزاج کو اپنانا چاہیے اور یوں ہی کسی کو ہرانا یا زیر کرنا پیش نظر نہیں ہونا چاہیے بلکہ صحیح رہنمائی مد نظر ہونی چاہیےتاکہ  ہدایت کی صورت میں بہترین نتیجہ سامنے آسکے اور مقصد اصلی پورا ہوتا ہوا دکھائی دے۔

(۱۰) اپنے روپئے کو بینک میں رکھنے اور دوسرے کاروبار میں لگانے کے بجائے، دینی کام میں لگاؤ۔ کتابیں تصنیف کرو اور انہیں چھپواکر اسلام و سنیت کی زیادہ سے زیادہ نشر و اشاعت کرو اور یقین رکھو کہ جو لوگ دین کا کام نہیں کرتے بلکہ جو اللہ و رسول کی مخالفت کرتے ہیں، جب انہیں بھی کھانے کو ملتا ہے؛ تو کبھی تم بھوکے نہ رہو گے۔

بہت سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دین کا کام کریں گے؛ تو ترقی نہیں ہوپائے گی یا پھر کھانے پینے کے لالے پڑجائیں گے یا ان کی نسل مشکلات سے دو چار ہوں گی، حالاں کہ حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں، آج نہ جانے کتنے لوگ دین کی خدمت کرنے کے باوجود ہر سہولیات سے آراستہ و پیراستہ نظر آتے ہیں۔ اسی طرح عام طور سے لوگوں کا نظریہ بینک میں روپیے جمع کرنے یا پھر کتاب وغیرہ کی نشر و اشاعت کے بجائے، دوسرے کار و بار میں صرف کرنا ہے، حالاں کہ یہ روپیے ایسے کام میں بھی لگائے جاسکتے ہیں جس میں دین و سنیت کے کار کے ساتھ اپنی مالی پوزیشن بھی اچھی ہو جائے، حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ نے دینی مکاتب کی صورت میں اس کی طرف اشارہ کیا اور میں آج کے ماحول کے اعتبار سے دینی و ماڈر ایجوکیشن والے مدارس کھولنے کی طرف اشارہ کرتا ہوں، ساری قومجگہ جگہ اسکول کھول کر اپنے مذہب کی ترویج و اشاعت کر رہی ہے  اور ساتھ میں اپنے معاش کو بھی مضبوط سے مضبوط تر کر رہی ہے مگر ایک ہمارا سنی معاشرہ ہے کہ اسے اس جہت کوئی خاص فکر نظر نہیں آتی ہے، اگر ہمارے سنی سماج کے لوگ اس کی طرف کما حقہ متوجہ ہوجائیں؛ تو ان شاء اللہ دین و سنیت کا کام بھی ہوگا اور ساتھ ہی ان کا معاش بھی مضبوط اور پختہ ہوگا۔ 

(۱۱) اساتذہ کے  حقوق کو تمام مسلمانوں کے حقوق سے مقدم رکھو اور کسی طرح کی ایذا ان کو نہ پہنچاؤ ورنہ علم کی برکت سے محروم ہوجاؤگے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ استاذ کا حق تمام رشتوں، یہاں تک کہ ماں باپ کے حقوق سے بھی مقدم ہے اور ہمیں یہ معلوم ہے کہ ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا اور انہیں ایذا دینے والا، علم  بلکہ پوری زندگی کی برکت سے محروم ہوجاتا ہے، لاکھ ہاتھ پاؤں مارنے کے باوجود، عزت و وقار حاصل نہیں ہوپاتا اور در در کی ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے؛ تو پھر اساتذہ، جن کا مرتبہ ان سے بلند و بالا ہے، اگر کوئی شخص ان کی نافرمانی کرے، ان کو ایذا پہنچائے اور ان کی رعایت نہ کرے؛ تو وہ کیوں کر عزت و وقار کی زندگی گزار سکتا ہےاور وہ کیوں کر علم کی برکت سے محروم نہیں ہوگا؟! استاذ کا مقام ہر حال میں بہت بلند ہے؛ اس لیے ان کی ایذا رسانی، نقصان کے سوا کچھ نہیں دے گی، آج ہمارے سامنے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ وہ اپنے استاذ کی بے عزتی کرتے ہیں اور ان کو ایذا پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے مگر جب ان کے شاگرد، انہیں کوئی ایذا پہنچاتے ہیں؛ تو مگر مچھ کے آنسو بہانا شروع کردیتے ہیں، میں کسی صورت میں اس امر کی موافقت نہیں کرتا مگر یہ بات بھی پورے طور سے ذہن نشیں ہونی چاہیے کہ جیسی کرنی ویسی بھرنی بھی ایک حقیقت ہے؛ اس لیے اساتذہ کو ایذا پہنچانے سے بہر حال بچنا چاہیے، کوئی بات کہنا، لکھنا یا ان کے ساتھ کسی طرح کا تعامل کرنا ہے؛ تو بہر صورت ادب ملحوظ رہنا چاہیے، ورنہ زندگی تو گزار لیں گے مگر وہ کسی کام کی نہ ہوگی۔

            دعا ہے کہ خداے عز و جل ہمارے شاگردوں کو ان وصیتوں پر عمل کرنے کی توفیق رفیق بخشے، ہماری دینی خدمات کو قبول فرمائے، ایمان پر خاتمہ ہو اور قیامت کے دن حضور پر نور، شافع یوم النشور جناب احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کی شفاعت نصیب ہو، آمین۔

اللہ تعالی ہم سب خاص کر علما کو حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ و الرضوان کے ان انمول موتی جیسے اقوال و وصیت پر عمل کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے، 

آمین

 بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔

۲؍جمادی الآخرۃ ۱۴۴۲ھ مطابق ۶؍جنوی ۲۰۲۲ء

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383