فقیہ ملت ایک انقلاب آفریں شخصیت
از:حضرت مولانا قاری رضی الدین احمد قادری فیضی استاذ: الجامعۃ الغوثیہ، غریب نواز،کھجرانہ، اندور، ایم پی
اس جہاں نے آب گل کی ابتدائے افرینش سے لے کر آج تک نہ جانے کتنے لوگ پیدا ہوئے اور مر گئے ان کے جاہ و اقتدار عظمت و ستوت کا چرچہ ہمیشہ ہمیش کے لیے مٹ گیا لیکن اس فانی دنیا میں کچھ ایسے بھی لوگ پیدا ہوتے ہیں جنہیں موت کی آغوش میں پہنچیں صدیاں بیت جاتی ہیں بے شمار ادوارو ازمنہ ایک دوسرے سے لپٹ کر بچھڑ جاتے ہیں مگر ان کی شخصیت کا تذکرہ اور کارناموں کا چرچہ روز بروز چڑھتے ماہ و خورشید کی طرح مدار ترقی پر ہوتا ہے انہیں خوش نصیب اور ماہوب من اللہ ہستیوں میں ایک انقلاب آفری ہستی نمونۂ اسلاف ،آبروئےفقاہت استاذی واستاذ العلماء والفقہاءصاحب تصانیف کثیرہحضرت علامہ الحاج الحافظ المفتی جلال الدین احمد امجدی قدس سرہ العلیم القوی کی بھی ہے جن کے تفقہ فی الدین اور راسخ فی العلم ہونے کا آوازہ چہار دانگ عالم میں بج رہا ہے۔
فقیہ ملت قدس سرہ کی ذات ستودہ صفات کسی تعارف وبیان کی محتاج نہیں ہے ۔آپ کی عظمت و رفعت ،فضیلت و برتری اور تفقہ فی الدین ایک ناقابل انکار حقیقت ہے۔ آپ کی پاکیزہ حیات مستعار حال و استقبال ہر دور والوں کے لیے بلا شبہ نمونۂعمل ہے۔ اتباع شریعت ،رشد و ہدایت، عبادت و ریاضت، زہدوورع،تقوی و تدیناورعلم و فضل میں آپ کی ذات پاک اپنے معاصرین میں ممتاز و منفرد اور قابل صد رشک تھی ۔اور سلف صالحین ،بزرگان دین، ائمہ مجتہدین اور انبیاء سابقین کی حیات طیبہ سے ملتی جلتی صاف ستھری سچی تصویر تھی ،آپ کی نشست و برخاست کتاب و سنت کی عین مظہر تھی ۔گویاآپ کا اٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا اور کھانا پینا جملہ حرکات و سکنات علمائے امت اور احکام شریعت کی آئینہ دار تھی۔ خدا ےعزوجل نے آپ کو تمام علوم اسلامیہ عقلیہ ونقلیہ سے بھرپور نوازا تھا ۔آپ کا شمار ملک کے صف اول کے مفتیان اسلام میںہوتا تھا، آپ کو نہ صرف روح فتوی نویسی کا مکمل درکحاصل تھا بلکہ فقہ کے غامض مسائل اور جزئیات پر کامل عبور بھی حاصل تھا ۔کتاب و سنت، حدیث و تفسیر، منطق و فلسفہ، صرف و نحو اور اصول حدیث وتفسیر پر آپ کو مہارت تامہ و قدرت کاملہ حاصل تھی۔ بالخصوص فقہ اور اصول فقہ تو آپ کا محبوب و مرغوب فن تھا ۔ فتاوی رضویہ بہار شریعت ،عالمگیری ،بحر الرائق اور درمختار و شامی وغیرہ کے اکثر جزیات فقہیہپر آپ کی بالغ نظر حاوی تھی۔ آپ کی ذات بابرکات اپنے ہم عصر علماء میں تقوی و طہارت ،عدل وثقاہت ،ذہانت و فطانت ،بیدار مغزی ،معاملہ فہمی ،اعلی تدبیر،فکر کی بلندی ،دقت نظری اور بہت سے علوم و فنون کے اعتبار سے امتیازی شان کی حامل تھی، نیز فتاوی کی طرز تحریر و انداز ترتیب اور تصنیفات مبارکہ کی حقائق نگاری پھر جزئیات فقہیہ پر استحضار ونظائر سے استشہاد آپ کی ممتاز فقہی بصیرت پر غماز ہیں۔
فقیہ ملت قدس سرہ نے بڑے غربت و افلاس اورعسرت و تنگدستی کے ماحول میں آنکھ کھولا تھا، اس وقت لوگ انتہائی پریشانی اور پسماندگی میں اپنی زندگی بسرکرتے تھے۔آپ کے گھر کی بھی حالت کچھ اچھی نہیں تھی ،جب آپ تحصیل علم کی خاطر ناگپور پہونچے تو دن بھر بڑي محنت و فشانی کے ساتھ کسی کارخانے میں کام کرتے اورمغرب کے بعد رات بارہ بجے تک جاں فشانی کے ساتھ کسی کارخانے میں کام کرتے اورمغرب کے بعد رات بارہ بجے تک رئیس القلم والتحریر حضرت علامہ الحاج ارشد القادری علیہ الرحمۃوالرضوان کی درسگاہ عالیہ میں حاضر ہو کر تحصیل علم میں مصروف ہو جاتے اور علومو معارف کے گوناگوں جام و عرفان سے اپنے علم کی تشنگی بجھاتے ،اور کارخانے سے جو پیسہ ملتا اس سےاپنا روزینہ خرچ پورا کرتے ،ساتھ ہی پچیس تیسروپے ماہانہ سے اپنے والدین کریمینکی خدمت بھی انجام دیتے اور ان کی گھریلو آمدنی میں ایک نئے باب کا اضافہ کر کے ان کی پریشانی دور کرنے کی حتی الوسیعکوشش کرتے ۔فقیہ ملت علیہ الرحمۃ الرضوان کہ اس تعلیمی سفر سے آپ کی محنت و مشقت، والدین کے ساتھ آداب مشقت اور حصول علم دین کی غایت درجہ محبت وشفقت کا اندازہ ہوتا ہے ،اس طرح فقیہ ملت علیہ الرحمۃ الرضوانکی زندگی پاک کا ہر ہر گوشہ اور ہر ہر لمحہ طالبان علم دین و عالمان شرع متین کے لیے قابل درس و عبرت ہے ۔
فقیہ ملت قدس سرہ نے اپنی عظیم و مستند اوروقیع تصنیفات کی شکل میں قوم کو بیش بہا علمی سرمایہ عطا کیا ہے۔ علماء فرماتے ہیں تقریر ،تدریس، تصنیف اور درس افتاء میں سب سے آسان و سہل تقریر کا فن ہے پھر اس سے مشکل تدریس ہے پھر تصنیف پھر سب سے مشکل و دشوار درس افتاء ہے۔اور فقیہ ملت قدس سرہ نے ہر میدان علم و عمل میں طبع آزمائی کی ہے اور گوے سبقت بھی حاصل کیے ہیں آپ بیک وقت ایک جید عالم، عمدہ محقق، نقطہ رس مفتی، دقت نظر فقیہ، مایہ ناز مدرس ،خوش بیان مقرر اور شاندار حقائق نگار مصنف تھے ۔اس طرح آپ نے خطابت دراست ،نیابت و فقاہت اورتصنیف و تالیف ہر لحاظ سے اسلام و سنیت کی خوب خوب ترویج و اشاعت کی ہے ۔
فقیہ ملت قدس سرہکی مقدس ذات بے شمار خوبی و خصائص کی حامل تھی جہاں اللہ اللہ تعالی نے آپ کوتقوی و تدین، تعلیم و تربیت، تقریر و تدریس اور فقہ و افتاءمیں یکتائے روزگار وگوہر آبداربنایا تھا، وہیں تصنیفوتالیف کی دنیا میں عروج و ارتقا کی عظیم منزل پر گامزن فرمایا تھا۔
بلا شک و ارتیاب آپ نے دو درجن سے زائد کتابیں تصنیف فرمائی ہیں ان میں کچھ تصانیف تو اپنے فن کے اعتبار سے عدیم النظیر و فقید التمثیل بھی کہی جا سکتی ہیں ۔آپ کی جملہ تصانیف مبارکہ مسلک اہل سنت کے لیے متاع بیش بہا ہیں، اور گم گشتگان راہ ہدایت کے لیے بالیقین سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں ۔فتاوی فیض الرسول، انوار شریعت ،انوار الحدیث ،عجائب الفقہ)فقہی پہیلیاں( بزرگوں کے عقیدے اور نورانی تعلیم وغیرہ ایسی معرکۃ الآرا تصنیفات ہیں جن کی افادیت واہمیت ایام ماضیہ میں علماء ثقات تسلیم کر چکے ہیں۔ اور اس علمی انحطاط وکساد بازاری کےدور کو مد نظر رکھتے ہوئے بڑے وثوق سے یہ کہا جا سکتا ہے کہحال و استقبال میں بھی لوگ ان کی حاجت و ضرورت سے قطعاانحراف نہیں کر سکیں گے ۔کیونکہ اس جہالت اور بے راہ روی کے ظلمت و تاریک ماحول میں آپ کی تصنیفات مینارۂ نور کی حیثیت رکھتیہیں بایں ہمہ فقیہ ملت قدس سرہقلم و قرطاس کا یہ اثر ہے کہ آپ پامال راہوں سے گریز کرتے ہوئے نئی نئی راہیں تلاش کرتے ہیں اور کامرانی و ارجمندی کے جھنڈے نصب کر دیتے ہیں پھر قوم کو ان کی ضرورت کے مطابق علمی سرمایہ عطا کرتے ہیں ۔علم الفتوی )تفقہ فی الدین ( علوماسلامیہ میں سب سے مشکل اور دشوار فن ہے، اسلامی علوم میں اس کی حیثیت روح کی سیہے، اس علم کی بدولت ایک فقیہ و مفتی اپنے معاصرین میں فضل و کمال، علم و آگہی ،مخلوق خدا کی افادیت کو مرجعیت کے اعتبار سے منفرد و ممتاز شان کا حامل ہو جاتا ہے، علاوہ ازیں آپ جب فقیہ ملت قدس سرہ کے علمی و قلمی جواہر پاروں کا معائنہ کریں گے اور آپ کے وقیعفتاوی کےمجموعوں کے مطالعہ سے مستفیض ہوں گے توفقیہ ملت کیفقہی بصیرت اور جزئیات پر کامل عبور کا بخوبی اندازہ ہوگا اور آپ برملا یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ فقیہ ملت قدس سرہ کو فقہ اسلامی میں جو ایک خاص ممارست و مناسبت اور ہم عصر علماء وفقہاء کے مابین شان امتیاز حاصل ہے وہ آپ کے گرا قدر ومایہ ناز فتاوی کی ترتیب سے آفتاب نیم روز کی طرح عیاں ہے اور شرق و غرب میں آپ کے تفقہ فی الدین اور راسخ فی العلم ہونے کی دھوم مچی ہوئی ہے۔
فقیہ ملتقدس سرہ کا طریقۂ تدریس نہایت عمدہ اور فکر انگیز تھا عصر حاضر کے اساتذہ ومدرسین میں وہ طریقہ کہیں شاذو نادر ہی محسوس کیا جا سکتا ہے آپ کے افہام و تفہیم کا طرز و اسلوب بہت سادہ اور سہل ہوتا تھا، جس کا صحیح اندازہ آپ کی تصنیفات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے، درس نظامی کے ابتدائی طلبہ کو بڑی محنت اور کامل توجہ سے پڑھاتے، ناغہ قطعا پسند نہ فرماتے،نحو،صرف، منطق وغیرہ کی ابتدائی کتابیںرٹا کر خوب ذہن نشیں کراتے، ہر ہر لفظ کی تشریح اور اجراء کی خاص اہتمام فرماتے ، ہر طالب علم سے سبق کے دوران آموختہ کے اسباق بار بار پوچھتے رہتے ،قواعد کی کتابیں عموما لکھا کر ہی درس دیتے تھے۔رہےمتوسط اور منتہی طلبہ تو وہ آپ کی درسگاہ میں بلا مطالعہ حاضر ہونے کی قطعی طور پر جرات نہیں کر سکتے تھے کیونکہآپ کی درسگاہ میں ادنی سے ادنی طالب علم کو عبارت خوانی کرنی پڑتی اور غلط حرکات استعمال کرنے پر نحو و صرف کےقواعد سے خود اس کی اصلاح بھی کرنی ہوتی ،اگر عبارت خاں خود اپنی اصلاح نہیں کر پاتا تو دوسرےطالب علم سے اس کی اصلاح کرواتے ہیں جب وہ بھی عاجز رہ جاتا تو خود آپ اصلاح فرماتے ہیں اور استشہاد میں نحو وصرف کے قواعد پیش کر کے مقتدی کو مکمل طور پر مطمئن فرماتے ۔
اللہ کریم آپ کے مرقد انور پر رحمت و نور کی موسلادھاربارش فرماے ۔اور ہمیں ہر گام آپ کے فیوض و برکات سے مستفیض و مستنیر ہونے کی توفیق مرحمت فرماے، آمین
