جامعہ عربیہ مدینتہ العلوم کے زیرِ اہتمام قرآن کی مقدس تعلیم اور عظمت،، پر پروگرام کا انعقاد
خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو قرآن جیسی مقدس کتاب کی تعلیم دیتےہیں ۔ مولانا اظہر الدین قادری
نیپال اردو ٹائمز
پریس ریلیز
سنت کبیر نگر (اخلاق احمد نظامی)
تحصیل خلیل آباد حلقہ کے مشہور ومعروف قصبہ پچپوکھری بازار میں واقع جامعہ عربیہ مدینتہ العلوم کے زیرِ اہتمام ،،قرآن کی مقدس تعلیم اور عظمت،، پر ایک اہم پروگرام منعقد ہوا جس کی صدارت فخر القراء حافظ و قاری غلام نبی احمد نظامی صدر شعبہ حفظ و قراءت جامعہ ہٰذا و نظامت مولانا مجیب الرحمٰن علیمی نے کی پروگرام کو خطاب کرتے ہوئے معروف خطیب مولانا اظہر الدین قادری نے اپنی گفتگو کا آغاز حدیث مبارکہ سے کیا اور کہا ،،تم میں سب سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے،،
مولانا قادری نے کہا کہ قرآن کریم دنیا کی مقدس عظیم اور سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ جو فرشتوں کے سردار حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعہ پیغمبر اسلام نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر تھوڑا تھوڑا 23 سال تک نازل ہوا، تمام آسمانی کتابوں میں قرآن مجید ہی واحد کتاب ہے۔ جو اب تک حرف بہ حرف زبر زیر پیش مد جزم تشدید میں کبھی اضافہ یا اس میں کمی نہیں ہوئی ہے۔ کیونکہ اس کتاب کی حفاظت کا ذمہ خود خالقِ کائنات نے لیا ہے۔مولانا قادری نےکہا کہ قرآن مجید پڑھنا، پڑھانا، سننا، دیکھنا، چومنا، عبادت باعث ثواب دنیا میں عزت و عظمت اور جنت میں داخل ہونے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس لیے یہ کتاب کوئی عام کتاب نہیں ہے۔ اس کتاب کو نازل کرنے والا رب العالمین اور جس پر نازل ہوا وہ رحمةاللعالمین ہے۔مولانا قادری نے کہا کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کی تلاوت کیا کرو کیونکہ بروز قیامت یہ تلاوت کرنے والوں کی سفارش کرے گا۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو قرآن جیسی مقدس کتاب کی تعلیم دیتےہیں ۔ اور اپنی دنیا وآخرت سنوارتے ہیں۔ مولانا قادری نے کہا سید المرسلین خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرما تے ہیں کہ جس کسی نے قرآن مجید کی ایک آیت سکھائی۔ جب تک اس کی تلاوت ہوتی رہے گی، اس کے لئے ثواب جاری رہے گا۔ معلوم ہوا کہ اگر کسی نے کسی شخص کو قرآن مجید کی تعلیم دی۔ وہ دنیا میں رہے یا نہ رہے جب تک قرآن کریم کی تلاوت ہوتی رہے گی اس شخص کو اس کا ثواب ملتا رہے گا۔ اور ثواب میں کچھ کمی نہ ہوگی۔
مولانا قادری نے کہا کہ افسوس آج مسلمانوں کے دلوں سے قرآن مجید کی وہ محبت، پڑھنے کا ذوق و شوق، جو ہمارے اکابر و اسلاف کا طریقہ اور خاصہ ہوا کرتا تھا۔ آج وہ محبت اور پڑھنے کا ذوق و شوق نہ رہا۔ امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق آعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب قرآن مجید کی کوئی آیت سنتے تو خوف سے بے ہوش جاتے تھے۔ آج مسلمانوں کو نہ قرآن کریم پڑھنے کا شوق وجذبہ ہے۔ اور قرآن نے جو ہمیں پیغام دیا اس کو سمجھنے کی فکر ہے۔مولانا قادری نے کہا کہ آج اگر مسلمان اپنا کھویا ہوا وقار عزت و عظمت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے قرآن کریم سے محبت کرنا ہوگا۔ قرآن کریم کے حکم کے مطابق زندگی گزارنی ہوگی۔ آج مسلمانوں نے قرآن سے جو دوری بنالی۔ ذلیل وخوار اور تباہی و بربادی کی وجہ یہی ہے کہ قرآن کریم سے ہمارا رشتہ منقطع ہوگیا۔
مولانا نے کہا کہ قرآن کریم میں سب کچھ موجود ہے بس ہمیں اس مقدس کتاب کو پڑھ کر سمجھنے کی ضرورت ہے۔مولانا قادری نے کہا کہ مسلمانوں جب رب العالمین نے یہ فرمادیا کہ قرآن پاک میں ہر چیز کا ذکر ہے تو ہمارا ایمان و اعتقاد ہے کہ یقینا اس کے اندر سب کچھ موجود ہے۔ یہ اور بات ہے آج ہمارے علمی و ذہنی کوتاہی کی وجہ سے ہماری رسائی وہاں تک پہنچ نہیں پائی۔ مگر آج غیر اس مقدس کتاب کو پڑھ کر سمجھ کر چاند پر چلے گئے، سورج پر جانے کی تیاری ہورہی۔ اور نئی چیزوں کا وہ لوگ ایجاد کررہے ہیں۔ اگر آج ہمیں اپنے اکابر و اسلاف کی زندگی کا مطالعہ کرنے کی اشد ضرورت ہے
مولانا قادری نے کہاکہ آج ہمارا معاشرہ بچوں کی ابتدائی تعلیم انگریزی میڈیم سے کرتاہے۔ آپ اپنے بچوں کو انجنئیر، ڈاکٹر، پروفیسر، لکچرر سب کچھ بنائیں۔مگر سب سے پہلے اسے ایک سچا اور اچھا مسلمان بنائیں۔ اس لیئے کہ اگر بچہ عصری تعلیم حاصل نہ کیا تو دنیا میں ناکام ہوگا مگر دین و قرآن سے دور رہا تو دنیا میں ناکام ہوگا اور قبر و آخرت میں بھی ناکام رہے گا۔
اس سے قبل پروگرام کا آغاز حافظ مقصود عالم نظامی نے تلاوت کلام اللہ سے کیا اس کے بعد نصف درجن سے زائد شعراء و نعت خواں نے بارگاہ رسالت میں نعت پاک کا نذرانہ پیش کیا درایں اثناء پروگرام میں ایک طالب علم عبد الشاہ ابن امتیاز مقام و پوسٹ بھینسا معافی مہنداول کو علماء و مشائخ اور قراء نےقرآن پاک کی چند ابتدائی آیتوں کو پڑھا کر اس کا حفظ شروع کرایا اور ڈھیروں دعاؤں سے نوازا ۔اس موقع پر مولانا جرار علی اشرفی ،مولانا امام الدین نظامی،ماسٹر احمد رضا،کلیم اللہ خان ناظم اعلی،حاجی عبدالقیوم پر دھان،حاجی حامد حسین سرپرست اعلی،مفید خان، محمد عمران،حافظ محمد مسعود نظامی اور مولانا ابو طالب کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگ موجود تھے پروگرام کا اختتام صلاۃ و سلام اور قاری غلام نبی احمد نظامی کی دعا سے ہوا
