حضور رفیقِ ملت دام ظلہ العالی نے شیخ محمد اسلم نبیل ازہری کو اجازت و خلافت سے نوازا
نیپال اردو ٹائمز
مارہرہ شریف/ایٹہ(پریس ریلیز)
گذشتہ روز 6 رجب المرجب 1447ھ، بمطابق 27 دسمبر 2025ء بروز ہفتہ، بعد نمازِ مغرب، فارغینِ جامعہ احسن البرکات کے زیرِ اہتمام ایک پُروقار و روح پرور فاتحہ خوانی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں جامعہ کے جملہ اساتذہ، طلبہ، فارغین اور شہر کے معززینِ کرام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
محفل اپنے عروج پر تھی اور فضا ذکر و فکر سے معطر ہو چکی تھی کہ اسی نورانی ماحول میں تاجدارِ مارہرہ، سیدی سرکار حضور رفیقِ ملت دامت برکاتہم العالیہ نے نہایت شفقت آمیز انداز میں ارشاد فرمایا:"اب میں جامعہ کے نہایت عزیز اور محترم استاد، حضرت مولانا محمد اسلم نبیل ازہری صاحب کو طلب کرتا ہوں”،
اور پھر بنفسِ نفیس ان کے سر پر عمامۂ خلافت باندھ کر انہیں سلسلۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ نوریہ اور سلسلۂ عالیہ چشتیہ برکاتیہ نوریہ کی اجازت و
خلافت سے سرفراز فرمایا، نیز تمام ادعیۂ خاندانی، اذکار و اوراد، وظائف و اشغال کی بھی اجازت مرحمت فرمائی۔ حضرت والا نے مزید ارشاد فرمایا کہ:"اب جو بھی آپ کے پاس آئے، آپ اسے جس نسبت میں چاہیں، سلسلۂ قادریہ برکاتیہ نوریہ یا سلسلۂ عالیہ چشتیہ برکاتیہ نوریہ میں بیعت لے سکتے ہیں۔" اس تاریخی و روحانی اعلان کے بعد حضرت مولانا محمد اسلم نبیل ازہری صاحب نے اپنے مرشدِ اجازت کے قدموں کو بوسہ دیا اورفیوض و برکاتِ روحانیہ سے فیضیاب ہوئے۔ بعدہ عمامۂ خلافت ان کے سر پر سجایا گیا، اور عرسِ نوری برکاتی کے مبارک موقع پر مجمعِ عام میں دستارِ خلافت سجانے کا اعلان فرمایا گیا، جس پر نعرۂ تکبیر و نعرۂ رسالت سے پوری فضا گونج اٹھی۔
اس موقع پر مبارکبادیوں کا ایک پُرکیف اور پُرمسرت سلسلہ شروع ہوا، جو تادَمِ تحریر جاری ہے۔ حاضرینِ محفل نے شوق و عقیدت کے ساتھ مصافحہ کیا اور اپنی خوشیوں کا اظہار کیا۔بعد ازاں حضرتِ والا، یعنی میرے استاذ گرامی حضرت علامہ شیخ اسلم نبیل صاحب ازہری دام ظلہ العالی ،شمسُ السالکین، سراجُ العارفین، سلالۂ خاندانِ برکات، نورِ دیدۂ آلِ رسول احمدی امام ابو الحسین احمد نوری علیہ الرحمہ کے آستانۂ پاک پر حاضر ہوئے، فاتحہ خوانی کی اور ان مقدس نسبتوں کے صدقے خصوصی دعائیں مانگیں۔ پھر آستانۂ عالیہ کو بوسہ دیا اور خانقاہ شریف میں موجود اکابرینِ قدس سرہم کے مزارات پر حاضری دے کر اپنے لیے، اپنے تلامذہ، متعلقین اور بالخصوص اس بندۂ ناچیز کے حق میں بھی دعائے خیر فرمائی۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے استادِ گرامی قدر کی دعاؤں کو میرے، ان کے تمام تلامذہ و متعلقین کے حق میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اور اللہ تعالیٰ حضرت کو ہمیشہ سلامت، باکرامت اور دین و ملت کا سچا خادم بنائے رکھے۔ آمین۔
رپورٹ:نعمان واحدی احسنی مصباحی
