Feb 7, 2026 10:48 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
حضور فقیہ ملت کی شخصیت، سیرت اور خدمات کا اجمالی جائزہ

حضور فقیہ ملت کی شخصیت، سیرت اور خدمات کا اجمالی جائزہ

21 Nov 2025
1 min read

حضور فقیہ ملت کی شخصیت، سیرت اور خدمات کا اجمالی جائزہ

 از قلم : حشمت اللہ ماتریدی علیمی امام ماتریدی انسٹی ٹیوٹ مالیگاؤں

حضور فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی صاحب قبلہ کی ذات بابرکت بر صغیر کی علمی ،دینی، فکری ،اصلاحی اور فقہی تاریخ میں ایک نمایاں حیثیت رکھتی ہے آپ ایسی شخصیت کے حامل تھے کہ جن کی علمی گہرائی فقہی بصیرت اور اخلاقی پاکیزگی نے آپ کو اپنے معاصر علماء میں ایک ممتاز اور معتمد عالم دین بنا دیا آپ نے اپنی پوری زندگی علم دین کی نشر و اشاعت،امت مسلمہ کی رہنمائی اور لوگوں کی اصلاح میں صرف کردی آئیے ہم ان کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں ۔

 دلادت با سعادت : آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت ١٣٥٢ ھ مطابق ١٩٣٣ ء میں ضلع بستی کی مشہور و معروف آبادی اوجھاگنج میں ہوئی۔

 اسم گرامی : آپ رحمتہ اللہ علیہ کا نام جلال الدین احمد

 نام و نسب : جلال الدین احمد بن جان محمد بن عبدالرحیم بن غلام رسول بن ضیاء الدین احمد بن محمد سالک بن محمد صادق بن عبدالقادر بن مراد علی غفر الله تعالى لهم ولسائر المسلمين

 القابات حسنہ : فقیہ ملت،نازش اہل سنت،مرجع فتاوی،استاذ الفقہاء

:دینی تعلیم کا آغاز :

 آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم کے شاگرد مولوی زکریا صاحب مرحوم سے حاصل کی سات سال کی عمر میں قرآن مجید ناظرہ مکمل کیا جبکہ ١٣٦٣ ھ مطابق ١٩٤٤ ء میں ساڑھے دس سال کی عمر میں حفظ قرآن مکمل کیا ۔ فارسی آمد نامہ مولانا عبدالرؤف صاحب سے پڑھی اور فارسی کی چھوٹی بڑی ١٢ کتابوں کی تعلیم حضرت مولانا عبدالباری سے حاصل کی اور عربی کی ابتدائی کتابیں بھی انہیں سے پڑھیں ۔ آپ حمتہ اللہ علیہ تکمیل حفظ کے قریب تھے کہ آپ کے برادر اکبر محمد نظام الدین ١٣٦٣ھ میں انتقال ہو گئے (انا للہ و انا الیہ رجعون ) ابھی ایک مصیبت کا بادل چھنٹا ہی نہ تھا کہ تقریبا آٹھ یا دس ماہ کے درمیان گھر میں دو بار ایسی چوری ہوئی کہ گھر میں کچھ سامان نہ بچا حتی کہ پانی پینے کے لیے گلاس تک نہ بچا ۔ بعد ازاں ٣٠ رمضان المبارک ١٣٦٣ ھ ١٩٤٥ ء کو آپ کی چھتری پر ایسی زبردست بجلی گری کہ فورا تین آدمی انتقال کرگئے اور آپ کے والد محترم اگرچہ بچ گئے تھے لیکن باقی زندگی حالت معذوری میں گزاری اس وقت آپ زیادہ کام کے قابل نہیں رہ گئے تھے ۔ غربت و افلاس کا دور دورہ تھا اور آمدنی کا کوئی ذریعہ نہ تھا آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ التفات گنج ضلع فیض آباد کے رئیس حاجی محمد شفیع صاحب مرحوم کے وہاں ١٠ روپیہ ماہانہ پر ملازمت اختیار کر لی۔ التفات گنج کے مدرسے کے تکمیلِ نصاب کے بعد آپ نے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ناگپور کا رخ کیا دن بھر کام کرتے تھے جس کی وجہ سے ماہانہ ٢٥ / ٣٠ روپیہ ملتا تھا جس کو والدین اور اپنی تعلیمی امور پر خرچ کرتے تھے اور بعد مغرب اپنے ١٠ ساتھیوں کے ساتھ تقریبا ١٢ بجے تک رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری صاحب قبلہ دامت برکاتہم القدسیہ سے مدرسہ شمس العلوم میں تعلیم حاصل کرتے اسی طرح ناگپور میں مکمل تعلیم حاصل ہوئی یہاں تک کہ ٢٤ شعبان المعظم ١٣٧١ ھ مطابق ١٩ مئی ١٩٥٢ ء حضرت علامہ صاحب قبلہ نے ١٠ ساتھیوں کے ہمراہ ١٨ سال کی عمر مبارک میں آپ کو سند فراغت عطا فرمائی ۔ 

خاندانی حالات : 

حضور فقیہ ملت قدس سرہ کا خاندان بڑہر ٹانڈا ضلع امبیڈکر نگر کے مشہور و معروف راجپوت خاندان سے تعلق رکھتاتھا جنہیں مراد سنگھ کے نام سے جانا جاتا تھا وہ اسلام کی خوبیوں سے اس طرح متاثر ہوئے کہ ان کےباطن سے کفر کی تاریکی چھنٹ گئی اور قلب نورایمان سےمنور ہوگیا اور مراد علی کے نام سے موسوم ہوئے ۔ خاندان والوں نے ان پر دباؤ ڈال کر اسلام سے برگشتہ کرنا چاہا جس سے عاجز آکر انہوں نے اسلام کے نام پر اپنی زمینداری وغیرہ چھوڑ کر ضلع امبیڈکر نگر کےمشہور مسلم آبادی شہزاد پور میں سکونت اختیار کی انہیں کی اولاد میں سے ضیاء الدین مرحوم تجارت کی غرض سے بستی آتے تھے اوجھا گنج ضلع بستی کے لوگوں سے اچھی دوستی ہو گئی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے شہزاد پور چھوڑ کر اوجھاگنج بستی میں سکونت اختیار کرلی۔

 والد محترم :

 آپ کے والد محترم جان محمد مرحوم عرصئہ دراز تک فی سبیل اللہ بچوں کو مذہبی تعلیم دیتے رہے اور زندگی بھر بلا تنخواہ جامع مسجد میں امامت کے فرائض کو انجام دیتے آپ کے تقوی و پرہیزگاری کا چرچہ آبادی میں زبان عام وخاص تھا ٢٠ ذی الحجہ ١٣٧٠ ہجری مطابق ١٩٥٠ کو آپ اپنے فرزند ارجمند کے سرپردستارعلم وفضل سجنےسےقبل ہی دنیاسےرخصت ہو گئے ۔

 والدہ مکرمہ :

 بی بی رحمت النساء جو کہ ایک نہایت ہی دیندار گھرانے سے تعلق رکھتی تھی نماز پنج گانہ و تلاوت کلام اللہ کی بے حد پابند تھیں دعائے گنج العرش انہیں زبانی یاد تھی جسے وہ روزانہ بلا ناغہ پڑھا کرتی تھی۔

 شرف بیعت : 

حضور فقیہ ملت ارشاد فرماتے ہیں "چونکہ مجھے شروع ہی سے مسائل شرعیہ جاننے کا بڑا شوق تھا،اس لیے ابتدا ہی سے بہار شریعت اور اس کے مصنف حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان سے میں بڑی عقیدت رکھتا تھا پھر جب حضرت علامہ ارشد القادری صاحب قبلہ دامت برکاتہم القدسیہ سے معلوم ہوا کہ حضرت صدر الشریعہ اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی رضی اللہ عنہ کے خلیفہ ہیں تو ٢٩ جمادی الاولی ١٣٦٧ ھ مطابق ١٩٤٨ ء میں حضرت سے شرف بیت حاصل کیا اور سلسلہ رضویہ میں داخل ہو گیا۔"( خطبات محرم ٤٣٣ )

 شادی خانہ آبادی : 

حضورفقیہ ملت صاحب کی دو شادیاں ہوئیں پہلی شادی وطن مالوف اوجھا گنج ہی میں جناب دلدار حسین صاحب کی صاحبزادی سے ہوئی ان کے بطن سے ایک صاحبزادی اور ایک صاحبزادے تولد ہوئے صاحبزادی بچپن میں ہی داغ مفارقت دے گئیں اور صاحبزادے کو آپ نے حفظ و قرأت کے بعد با صلاحیت عالم دین بنایا جو مولانا اعجاز احمد نوری کے نام سے جانے جاتے ہیں اور فی الحال دین کی خدمت میں مصروف عمل ہیں ۔ پہلی اہلیہ محترمہ کے انتقال کے بعد آپ نے مرسٹھوا گنیش پور ضلع بستی کے ایک دیندار گھرانے میں محترم عبدالرحمن صاحب (م ٢٠١١) کی دختر نیک اختر سے عقد کیا جن سے تین صاحبزادے اور تین صاحبزادیاں پیدا ہوئیں ۔(انوار فقیہ ملت ٣٧)

 حج و زیارت : حج بیت اللہ ١٣٩٦ ہجری مطابق ١٩٧٦ عیسوی میں حج بیت اللہ و مدینہ طیبہ کی حاضری سے مشرف ہوئے واپسی پر حج و زیارت نام کی ایک عام فہم کتاب لکھی جو عوام و خواص کے درمیان بہت مشہور ہوئی۔ 

مناصب : صدر شعبہ افتاء فیض الرسول براؤں شریف،مہتم و بانی مرکز تربیت افتا او جها گنج ، صدر شعبہ افتا ،رکن فیصل بورڈ مجلس شرعی مبارکپور، قاضی شریعت ، ضلع بستی وسنت کبیر نگر ، متعدد اداروں کے سر پرست۔(انوار فقیہ ملت ٢٥)

 تصانیف : آپ نے متعدد کتاب و رسائل تصنیف فرمائیں جن میں سے کچھ قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہیں فتاوی فیض الرسول ،فتاوی فقیہ ملت، فتاوی برکاتیہ،انوار الحدیث،خطبات محرم،عجائب الفقہ یعنی فقہی پہیلیاں،بزرگوں کے عقیدے،علم اور علما،محققانہ فیصلے،خلفائے راشدین ،حج و زیارت،ضروری مسائل،اسلامی تعلیم، تعظیم نبی ،معارف القرآن،آٹھ مسئلے کا محققانہ فیصلہ،انو ار شریعت، نورانی تعلیم۔ ان کتابوں کے علاوہ بھی حضرت کی دوسری کتابیں جیسے سید الاولیا سید احمد کبیر رفاعی قدس سرہ، گلدستہ مثنوی اور باغ فدک اور حدیث قرطاس وغیرہ بھی مقبول عام و خاص ہوئیں، آپ کی تصنیفات سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور ان شاء اللہ تاقیام قیامت لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔ فتوی نویسی کا آغاز : آپ نے ٢٤ صفر المظفر ١٣٧٧ ھ مطابق ١٩٥٧ ء کو ٢٤ سال کی عمر شریف میں پہلا فتوی لکھا پھر ٢٥ سال تک مسلسل ملک اور بیرون ملک وغیرہ سے آئے ہوئے استفتاء کا نہایت ہی محنت وعرق ریزی سے جواب دیا جو کہ علمائے کرام کے مابین بڑی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے ۔ بعض لوگوں نے مدینہ منورہ سے بھی فتوی کے لیے فقیہ ملت صاحب کی بارگاہ میں رجوع کیا جن کا مدلل و مفصل جواب لکھ آپ نے کر روانہ کیا ۔

 فتوی نویسی کےدرمیان احتیاط کے چند واقعات :

 ایک شخص آپ کی بارگاہ میں آکر یہ بیان دیا کہ لوگ کہتے ہیں میں اپنی بیوی کو تین طلاق دیا ہوں مگر مجھے اس کی کوئی خبر نہیں ہے کہ میں نے یہ کام کیا ہے اس لیے کہ میں غصے کی حالت میں اپناہوش و حواس کھو بیٹھتا ہوں تو کیا میری بیوی پر طلاق پڑے گی یا نہیں ؟ آپ نے اس کے اس بیان سے فرمایا کہ ہمیں ہرگز یہ بات قبول نہیں کہ تم نے ایسی حرکت کی اور تمہیں خبر بھی نہیں جس کے ثبوت کے لیے وہ شخص بڑی بے باکی سے کہا کہ ہم سات قرآن شریف اپنے سر پر رکھ کر قسم کھانے کے لیے تیار ہیں کہ یہ ہمارا بیان صحیح ہے ۔ حضور فقیہ ملت صاحب نے اس سے فرمایا کیا تم حضور شعیب الاولیاء حضرت شاہ محمد یار علوی صاحب قبلہ علیہ الرحمۃ والرضوان کےمزار پر ہاتھ رکھ کر قسم کھا سکتے ہو و ہ اس بات پر راضی ہو گیا ۔ پھر آپ نے اس کو وضو کرنے کا حکم دیا وضو کے بعد اسے مزار شریف پر لے گئے اور یہ فرمایا کہ اگر تم جھوٹی قسم کھا کر کوڑھی یا اندھے ہو گئے تو زندگی تمہاری تباہ ہو جائے گی پھر بھی وہ اپنے وعدے پر ڈٹا رہا یہاں تک کہ آپ اسے مزار شریف کے اندر لے گئے اور آپ نے فرمایا کہ مزار شریف پر ہاتھ رکھ کر قسم کھا کر کہو کہ میں نے ہوش و حواس کی حالت میں طلاق نہیں دی ہے اگر میرا یہ بیان غلط ہو تو میں کوڑھی اور اندھا ہو جاؤں یہ بات سن کر وہ گھبرا گیا اور کانپنے لگا مزار شریف پر ہاتھ رکھ کر جھوٹا بیان دینے کی ہمت نہ کر سکا بالآخر وہ باہر آکر اقرار کیا کہ میں نے ہوش و حواس کی درستگی میں یہ طلاقیں دی ہیں۔ ضلع گونڈہ کا ایک شخص تلسی پور کے علاقے سے ایک عورت بھگا لایا اور آپ کی بارگاہ میں آیا اور اس نے کہا کہ اس کا شوہر وہابی و مرتد ہو گیا ہے اس کا نکاح آپ میرے ساتھ پڑھا دیجئے یا کسی دوسرے کو پڑھانے کی اجازت دیجئے آپ نے اس سے انکار کیا اور اس کی تفتیش کے لیے دو آدمی جو بظاہر پرہیزگار تھے بھیج دیا وہ لوگ واپس آکر یہ بیان دئےکہ واقعی اس کا شوہر وہابی و مرتد ہو گیا ہے مگر پھر بھی آپ نے نہ تونکاح پڑھایا اور نہ ہی نکاح پڑھانے کی اجازت دی کافی تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ یہ بات سراسر غلط ہے اس کا شوہر وہابی و مرتد نہیں ہے بلکہ اہل سنت و جماعت سے تعلق رکھتا ہے اور ضروریات اہل سنت کابھی اعتقاد رکھتا ہے ۔

 ضلع بستی کا ایک شخص آپ کی بارگاہ میں آیا اور مصافحہ کے ساتھ پانچ روپیہ نذرانے کے طور پر پیش کیا اور آپ کی بارگاہ میں ایک فتوی دکھایا جس پر ضلع بستی اور تلسی پور ضلع گونڈہ کے مفتیوں کی تصدیق تھی جس فتوے کا ماحصل یہ تھا کہ اگر کوئی شخص جنون کی حالت میں طلاق دے طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ حالت جنون میں کسی فعل پر شرعی حکم نافذ نہیں ہوتا ہے اس شخص نے بتایا کہ یہ ہمارے ساتھ ہوا ہے پھر اس نے اپنے پاگل پن ہونے کا ثبوت گورکھپور کے ایک مشہور ڈاکٹر کا سرٹیفیکیٹ دکھایا پھر حضور فقیہ ملت صاحب نے اس سے پوچھا کہ جب تمہیں فتوی مل گیا تو یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی تو اس نے کہا کہ میری بیوی اس وقت تک نہیں مانے گی جب تک آپ فتوی نہیں دیں گے پھر آپ نے فرمایا اگر یہ بات ہے تو ہم فتوی لکھ دیتے ہیں آپ اس طرح لکھنا شروع کیا کہ اگر زید نے حالت جنون میں طلاق دی ہے تو واقع نہیں ہوگی اور اگر ہوش و حواس کی حالت میں دی ہے تو واقع ہو جائے گی ۔ اس شخص نے کہا کہ جب میں نے آپ کو اپنے پاگل ہونے کے بارے میں سرٹیفیکیٹ دکھا دیا تو آپ کو اس طرح لکھنا چاہیے کہ جب زید نے حالت جنون میں طلاق دی ہے تو نہیں واقع ہوگی اس پر آپ نے کہا اس طرح وہ لوگ لکھتے ہیں جنہیں فتوی نویسی کا تجربہ نہیں ہے ہم ایسا ہرگز نہیں کر سکتے رہی پاگل ہونے کی سرٹیفیکیٹ تو یہ فرضی بھی بنوایا جا سکتا ہے ۔ جب وہ شخص دیکھا کہ پانچ روپیہ نذرانہ دینے کے باوجود بھی کام نہیں بنا تو اس نے اس کا تین گنا وصول کرنے کے لیے پندرہ روپیے کی کتابیں ادھار لی اور بار بار تقاضا کے باوجود کئی برس تک ادا نہیں کیا یہاں تک کہ اس کے بچے عاجز آ کر اپنی طرف سے دےگئے۔ 

وصال : آپ رحمتہ اللہ علیہ کا وصال ٣ جماد الآخر ١٤٢٢ ھ کو ہوا ۔ مزار مقدس اوجھاگنج بستی میں مرجع خلائق ہے ۔آپ نے اپنی پوری زندگی شریعت مطہرہ کی کامل پاسداری کے لیے وقف کر دی اللہ کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ مولا تعالی آپ کی ان خدمات کے صدقے و طفیل میں آپ کے مراتب میں مزید اضافہ فرمائے اور ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق و رفیق عطا فرمائے (آمین یارب العالمین)

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383