مدارس کے استحکام میں اساتذہ و سفراء کا کردار
اور ذمہ داران کی ذمہ داریاں
تحریر:
ڈاکٹر مولانا محمد عبد السمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج، اورنگ آباد
موبائل: 9325217306
دینی مدارس صدیوں سے اسلام کے مضبوط قلعوں کی حیثیت رکھتے آئے ہیں۔ یہی وہ ادارے ہیں جہاں قرآن و حدیث کی تعلیم دی جاتی ہے، جہاں سے علماء، ائمہ اور مبلغین تیار ہو کر امت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں، اور جہاں سے دین کی روشنی نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔ اگر تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی علمی روایت اور دینی شناخت کے تحفظ میں مدارس کا کردار بنیادی اور ناقابلِ فراموش رہا ہے۔
مدارس کی عمارتیں، نصاب اور انتظامی ڈھانچہ اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن درحقیقت ان اداروں کی اصل قوت وہ اساتذہ اور خدام ہوتے ہیں جو خلوص اور قربانی کے ساتھ ان کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ انہی میں ایک اہم طبقہ ان اساتذہ اور نمائندگان کا ہے جو مدارس کے لیے چندہ اور عطیات جمع کرنے کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک معمولی ذمہ داری محسوس ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہی وہ جدوجہد ہے جس پر مدارس کے مالی استحکام کا بڑا دار و مدار ہوتا ہے۔
یہ حضرات گلی گلی، محلہ محلہ، گاؤں گاؤں اور شہر شہر جا کر لوگوں سے مدارس کے لیے عطیات، صدقات اور زکوٰۃ کی رقوم جمع کرتے ہیں۔ وہ ہر دروازے پر جا کر مدارس کی ضروریات بیان کرتے ہیں اور اہلِ خیر کو اس کارِ خیر میں شریک ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ ان کی محنت دراصل اس دینی تعلیمی نظام کی بنیادوں کو مضبوط رکھنے کا ذریعہ بنتی ہے جس سے ہزاروں طلبہ علمِ دین حاصل کرتے ہیں۔
رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ان لوگوں کی قربانیاں اور زیادہ نمایاں ہو جاتی ہیں۔ جب عام لوگ اس بابرکت مہینے میں اپنے گھروں میں عبادت، راحت اور اہل و عیال کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، اسی وقت مدارس کے یہ خدام اپنے گھر بار، بیوی بچوں اور آرام و سکون کو چھوڑ کر دور دراز علاقوں کا سفر کرتے ہیں۔ گرمی، تھکن، اجنبیت اور مختلف مشکلات کے باوجود وہ دین کی خدمت کے اس فریضے کو پوری لگن کے ساتھ
انجام دیتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ چندہ جمع کرنے کا یہ عمل بظاہر آسان نظر آتا ہے، لیکن دراصل یہ صبر، حوصلے اور اپنی انا کو قربان کرنے کا نام ہے۔ ہر شخص کے دروازے پر جا کر دستک دینا، اپنی ضرورت بیان کرنا اور کبھی انکار سننے کے باوجود صبر و تحمل کے ساتھ آگے بڑھ جانا، یہ سب ایک عظیم اخلاقی قوت کا تقاضا کرتا ہے۔
اسی موقع پر وہ حضرات جو صاحبِ ثروت ہیں اور جن پر زکوٰۃ فرض ہے یا جو زکوٰۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں، ان سے نہایت ادب و احترام کے ساتھ یہ گزارش کی جاتی ہے کہ اگر مدارس کے معلمین یا سفراء زکوٰۃ و عطیات کی رقم کے لیے آپ کے پاس آئیں تو ان کے ساتھ خاطر تواضع اور اعزاز و اکرام کا معاملہ کریں۔ ان کا آپ کی خدمت میں آنا اپنے لیے باعثِ رحمت سمجھیں، کیونکہ درحقیقت وہ آپ کی زکوٰۃ کی ادائیگی کو آسان بنا رہے ہیں۔ جب آپ انہیں زکوٰۃ کی رقم دیں تو اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ آپ اپنا ایک شرعی فریضہ ادا کر رہے ہیں، کوئی احسان نہیں کر رہے۔
اگر خدانخواستہ مدارس کے یہ کارکن اپنی ہمت کھو بیٹھیں اور چندہ جمع کرنے کی یہ جدوجہد رک جائے تو مدارس کے بہت سے شعبے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ نہ جانے کتنے نادار اور یتیم طلبہ کی تعلیم رک جائے، کتنے مدارس کے اخراجات پورے نہ ہو سکیں اور کتنے علمی چراغ بجھنے کے خطرے سے دوچار ہو جائیں۔ اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مدارس کے استحکام میں ان اساتذہ اور نمائندگان اور سفراء کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
اسی کے ساتھ مدارس کے ذمہ داران پر بھی ایک بڑی اخلاقی اور دینی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ جو افراد اپنے اداروں کے لیے اتنی مشقت برداشت کرتے ہیں، ان کے ساتھ حسنِ سلوک، ہمدردی اور انصاف کا معاملہ کرنا نہایت ضروری ہے۔ اسلام کی تعلیمات ہمیں یہی درس دیتی ہیں کہ جو لوگ
ہمارے ساتھ کام کرتے ہیں ان کے حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے۔
اگر کوئی کارکن دن رات محنت کر رہا ہو، اپنی راحت اور سکون کو قربان کر رہا ہو اور اس کے باوجود اس
کے ساتھ سختی، بے توجہی یا ناانصافی کا رویہ اختیار کیا جائے تو یہ یقیناً ایک افسوسناک بات ہے۔ احادیث میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب بنے گا۔ اس لیے اداروں کے ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ اپنے ماتحتوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کریں اور ان کی محنت و مشقت کی قدر کریں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ مدارس کے کارکنان اور نمائندگان کی اجرت، معاوضہ اور تنخواہوں کے حوالے سے بھی خصوصی توجہ دی جائے۔ جب کسی ادارے کے کارکنان کو مناسب تعاون، عزت اور اطمینان حاصل ہوتا ہے تو وہ زیادہ خلوص اور دلجمعی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے ہیں، جس کا فائدہ بالآخر ادارے اور معاشرے دونوں کو پہنچتا ہے۔
درحقیقت مدارس کے وہ اساتذہ اور خدام جو رمضان کے مقدس مہینے میں چندہ کے لیے در در جاتے ہیں، وہ اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ دینِ اسلام کی بقا اور امت کے بچوں کے مستقبل کے لیے یہ مشقت برداشت کرتے ہیں۔ ان کی کوششوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مدارس کے اندر علم کے چراغ روشن رہتے ہیں اور آنے والی نسلیں دینی تعلیم سے بہرہ مند ہوتی رہتی ہیں۔
یہ لوگ دراصل دین کے وہ گمنام سپاہی ہیں جو بغیر کسی شہرت یا دنیاوی مفاد کے اللہ کے دین کی خدمت میں مصروف ہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی قدر کریں، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مدارس کے تمام اساتذہ، خدام اور نمائندگان کی قربانیوں کو قبول فرمائے، ان کی محنتوں کو امت کے لیے نافع بنائے اور انہیں دنیا و آخرت میں بہترین اجر عطا فرمائے۔ آمین۔
