May 10, 2026 05:26 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
لپولیک تنازع پر سفارتی کشیدگی میں اضافہ: نیپال کا بھارت اور چین کو دوٹوک پیغام

لپولیک تنازع پر سفارتی کشیدگی میں اضافہ: نیپال کا بھارت اور چین کو دوٹوک پیغام

03 May 2026
1 min read

لپولیک تنازع پر سفارتی کشیدگی میں اضافہ: نیپال کا بھارت اور چین کو دوٹوک پیغام 

مولانا مشہود خاں نیپالی 

لمبنی پردیش نیپال اردو ٹائمز

 لپولیک کے متنازع سرحدی علاقے کو شامل کرتے ہوئے بھارت اور چین کی جانب سے کیلاش مانسروور یاترا کے انعقاد کے معاہدے کے بعد نیپال نے سخت سفارتی ردعمل دیتے ہوئے اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا واضح اعلان کیا ہے۔ حکومت نیپال نے اتوار کے روز دونوں ہمسایہ ممالک کو باضابطہ سفارتی مراسلہ ارسال کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ نیپال کی پیشگی اجازت کے بغیر اس کی سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ہوگا۔ معتبر ذرائع کے مطابق مراسلہ ارسال کرنے سے قبل حکومت نے ملک کی اہم سیاسی جماعتوں سے مشاورت کر کے ایک متفقہ قومی مؤقف اختیار کیا، جسے قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے عزم کا عملی اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔ ادھر بھارت کی جانب سے جون تا اگست 2026 کے لیے جاری کردہ کیلاش مانسروور یاترا کے شیڈول میں ریاست اتراکھنڈ کے راستے لپولیک درے کے استعمال کا ذکر کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ پیش رفت دسمبر 2024 میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی اور بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال کے درمیان ہونے والی مفاہمت کے بعد سامنے آئی۔ نیپال میں اس اقدام کو اپنی سرزمین کو نظرانداز کرتے ہوئے کیا گیا یکطرفہ فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے، جس پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ نیپال نے اپنے مؤقف میں 1816 کے معاہدۂ سوگولی اور دیگر تاریخی و دستاویزی شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دریائے مہاکالی کے مشرقی علاقے، بشمول لپولیک، کالاپانی اور لمپیادھورا، نیپال کی خودمختار حدود کا حصہ ہیں۔ مزید برآں، سن 2020 (2077 وکرم سمبت) میں جاری کردہ نئے سرکاری نقشے کو بھی اپنے دعوے کے مضبوط ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ سفارتی مراسلے میں نیپال نے اپنے موقف کو تین واضح نکات میں بیان کیا ہے: نیپال کی رضامندی کے بغیر لپولیک میں کسی بھی قسم کی سرگرمی ناقابل قبول ہوگی؛ تاریخی معاہدات اور شواہد کی روشنی میں نیپال کا دعویٰ مکمل طور پر جائز ہے؛ سرحدی تنازع کے حل کے لیے قائم سفارتی و تکنیکی ذرائع کے تحت بامعنی مذاکرات کو فوری آگے بڑھایا جائے۔ یہ مراسلہ وزیراعظم بلیندر شاہ ‘بالن’ کی قیادت میں قائم حکومت کی جانب سے ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی سشیل کوئرالا اور کے پی شرما اولی کی حکومتیں اس معاملے پر اپنے تحفظات اور اعتراضات ریکارڈ کرا چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق بھارت اور چین کے باہمی تعاون کے تناظر میں لِپولیک کا معاملہ ایک بار پھر نیپال، بھارت اور چین کے سہ فریقی تعلقات میں حساسیت پیدا کر رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ مسئلہ سفارتی مذاکرات، سرحدی تکنیکی کمیٹیوں اور اعلیٰ سطحی رابطوں میں کس رخ اختیار کرتا ہے، اس پر خطے کی گہری نظر برقرار ہے۔

Nepal#

balenshah#

lepolak#

lumbini#

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)