Feb 7, 2026 06:10 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
حضور فقیہ ملت کی انفرادیت

حضور فقیہ ملت کی انفرادیت

21 Nov 2025
1 min read

حضور فقیہ ملت کی انفرادیت

جانشین حضور فقیہ ملت   مفتی محمد ابرار احمد امجدی برکاتی حفظہ اللہ

فقیہ ملت،استاذ العلما و الفقہا، نازش اہل سنت، مرجع فتاوی حضرت علامہ مولانا مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمۃ و الرضوان یوں تو حق گوئی، بیباکی، تقوی و پرہیزگاری، وقت کی پابندی،سفر و حضر میں نمازوں کی وقت پر ادائیگی،دین کو دنیا پر ترجیح جیسے بہت سے اعلی صفحات و کمالات کے جامع تھے مگر کچھ خوبیاں آپ کے اندر ایسی تھیں جو آپ کی شخصیت کو معاصرین علمائے کرام سے کئی جہت سے منفرد و ممتاز بنا دیتی ہیں۔

مشتے از خروارے کے طور پر چند ملاحظہ فرمائیں۔

اگر آپ کا زمانہ طالب علمی دیکھا جائے تو وہ بالکل منفرد اور ممتاز ہے، کون ایسا طالب علم ہوگا جو زمانہ طالب علمی میں دن بھر کام کر کے اپنے والدین کی بھی خدمت کرتا ہو اور اپنے اخراجات کا بھی انتظام کرتا ہو، مگر حضور فقیہ ملت اپنے زمانہ طالب علمی کے بارے میں  تحریر فرماتے ہیں : " ١٩٤٧ء ہنگامہ کے فوراً بعد میں تحصیل علم کے لیے ناگپور چلا گیا، دن بھر کام کرتا جس سے پچیس تیس روپیہ ماہانہ اپنے والدین کی خدمت کرتا اور اپنے کھانے پینے کا انتظام بھی کرتا اور بعد مغرب اپنے دس ساتھیوں کے ہمراہ تقریباً ١٢ بجے رات تک حضرت علامہ ارشد القادری صاحب قبلہ دامت برکاتہم العالیہ سے... درس نظامیہ کی تعلیم حاصل کرتا"۔(خطبات محرم، ص٤٧٦) علم فتوی نویسی ایسا علم ہے جس سے کسی بھی زمانہ میں بے اعتنائی نہیں برتی جاسکتی، ہر زمانہ میں اسے خاص اہمیت حاصل رہی ہے کیونکہ ہر دن زمانہ کے بدلتے ہوئے حالات اور نئی نئی ایجادات کے سبب ایسے مسائل در پیش آتے رہتے ہیں جن میں شرعی رہنمائی کے لیے عوام و خواص دار الافتا کا رخ کرتے ہیں، لہذا اس ضرورت کا لحاظ کرتے ہوئے، حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ و الرضوان نے اس زمانہ میں جس زمانہ میں مدارس کے اندر باقاعدہ فتوی نویسی کی مشق اور تدریب افتا کا کوئی اہتمام نہیں ہوتا تھا،سب سے پہلے اپنی نوعیت کا منفرد و مفتی ساز ادارہ بنام " مرکز تربیت افتا دار العلوم امجدیہ اہل سنت ارشد العلوم" قائم کر کے ایک منفرد اور تاریخ ساز کام انجام دیا۔

مبلغ اسلام حضرت علامہ قمر الزماں صاحب قبلہ اعظمی فرماتے ہیں :

" تربیت افتا کا یہ مرکز بر صغیر ہند و پاک میں سب سے پہلا ادارہ ہے جو مفتیان کرام کی تربیت کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جہاں متخصصین فی الافتاء تیار کیے جاتے ہیں۔ کم از کم میری نظر میں اس ادارے سے پہلے کوئی اور ادارہ ان خطوط پر قائم نہیں کیا گیا۔ یقیناً یہ ایک تاریخ ساز اقدام ہے"۔( مرکز تربیت افتا، ص ٣٣) بھولے بھالے مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور اپنے دام تزویر میں پھنسانے کے لیے جس وقت بد مذہب ہر طرح کا لٹریچر عام کر رہے تھے، اس وقت آپ نے اپنے سنی بھائیوں کے ایمان و عقیدہ کی حفاظت کے لیے بزرگوں کے عقیدے، بد مذہبوں سے رشتے،محققانہ فیصلہ، اور بچوں میں دینی تعلیم کو فروغ دینے کے جذبہ سے نورانی تعلیم چار حصے، انوار شریعت، فقہی پہیلیاں جیسی دو درجن سے زائد کتب لکھ کر تصنیف و تالیف کے میدان میں لوگوں کو اپنی انفرادیت کا لوہا ماننے پر مجبور کر دیا۔

حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ و الرضوان کو یہ چیز بھی منفرد و ممتاز بناتی ہے کہ جب اللہ عزوجل نے آپ کو خوشحالی عطا فرمائی تو آپ نے اپنا پیسہ دنیا کمانے کے بجائے دین کو فائدہ پہچانے والے کاموں میں لگایا اس لیے کہ آپ کو اس بات کا بہت قلق رہتا تھا کہ بد مذہب اپنی بدمذہبی کو پھیلانے کے لیے جگہ جگہ کتب خانہ قائم کیے ہوئے ہیں مگر ہمارے سنیوں کی اس طرف کوئی توجہ نہیں تھی۔ اپنے اس درد کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں : " بد مذہب اپنی بد مذہبی پھیلانے کے لیے تقریباً ہر شہر میں کتب خانہ قائم کئے ہوئے ہیں اور اس کے ذریعہ ہر گھر میں اپنی کتابیں پہنچا کر لوگوں کو گمراہ کر رہے مگر اہل سنت و جماعت کے لوگوں کی توجہ اس طرف نہیں، اسی لیے پورے ملک میں سنیوں کا کوئی ایسا کتب خانہ نہیں جو قابل ذکر ہو... بد مذہب مولویوں کے پاس جب پیسہ ہوتا ہے تو وہ پریس و کتب خانہ قائم کر کے اپنا مذہب پھیلاتا ہے اور سنی مولوی جب خوش حال ہوتا ہے اور اس کے پاس رقم پسماند ہوتی ہے تو وہ سمجھانے کے باوجود اس طرف توجہ نہیں کرتا بلکہ بینک میں جمع کر کے اس کو فائدہ پہنچاتا ہے.... خدائے تعالی کا شکر ہے کہ اس نے اگر ہم کو کچھ پیسہ عطا فرمایا تو اپنے دین کی تقویت اور اس کی نشر و اشاعت کیلئے ہمیں کتب خانہ امجدیہ قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائی جو اپنی بساط کے مطابق دین کی ہر ممکن خدمت کر رہا ہے"۔( خطبات محرم) اور اپنے شاگردوں کو بھی وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :" اپنے روپئے کو بینک میں رکھنے اور دوسرے کاروبار میں لگانے کی بجائے دینی کاموں میں لگاؤ۔ کتابیں تصنیف کرو اور انھیں چھپوا کر اسلام و سنیت کی زیادہ سے زیادہ نشر و اشاعت کرو اور یقین رکھو کہ جو لوگ دین کا کام نہیں کرتے بلکہ اللہ و رسول کی مخالفت کرتے ہیں جب انھیں کھانے کو ملتا ہے تو کبھی تم بھوکے نہ رہو گے۔

مذکورہ چیزوں کے علاوہ آپ کی حق گوئی و بیباکی بھی آپ کو معاصرین سے منفرد و ممتاز بناتی ہے،آپ نے ہمیشہ حق گوئی کا دامن تھامے رکھا اور اس بارے میں کبھی بھی نذرانہ کم ہوجانے یا حلقۂ اثر کے روٹھ جانے کا کوئی لحاظ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ بلا خوف لومۃ لائم بر ملا احقاق حق و ابطال باطل کا فریضہ انجام دیتے رہے اور اپنے شاگردوں کو نصیحت فرما گیے :" دین میں کبھی مداہنت نہ اختیار کرو، حق گوئی و بیباکی اپنی زندگی کا شعار بناؤ"۔( خطبات محرم، ص ٥٤٣)

حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ و الرضوان کا طریقۂ تدریس بھی دوسروں سے منفرد و ممتاز تھا، اس لیے کہ آپ محض تنخواہ حلال کرنے اور ڈیوٹی پوری کرنے کے لیے نہیں پڑھاتے تھے بلکہ مکمل تیاری اور مطالعہ کے ساتھ درسگاہ میں حاضر ہوتے اور پورا وقت دیتے، اور طلبہ پر مناسب سختی بھی کرتے، مکتب کے بچوں کو ابتدا ہی سے حروف کی مخرج سے ادائیگی پر پوری توجہ دیتے اور جب تک ادائیگی درست نہ ہو جاتی آگے سبق نہ بڑھاتے ۔چنانچہ آپ مکتب کے بچوں کے طریقۂ تدریس کے بارے میں فرماتے ہیں:" مکتب کے چھوٹے بچوں کے بارے میں ہمارا طریقۂ تدریس یہ رہا کہ قاعدہ پڑھنے والے کو ذ، ز، اور ظ کو ج کی آواز سے ہم ہرگز نہیں پڑھنے دیتے تھے، شروع ہی میں درست کرا دیتے تھے۔ اردو کے اعتبار سے جب تک حرفوں کی ادائیگی صحیح نہ ہو جاتی آگے نہیں بڑھنے دیتے تھے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا کہ پھر حرفوں کو صحیح آواز سے پڑھنے کیلئے کبھی ٹوکنا نہیں پڑتا تھا"۔( خطبات محرم، ص٤٨٠) اور درس نظامی کے طلبہ کی عبارت خوانی درست کرانے کے لیے خصوصی توجہ فرماتے باری باری ہر ایک طالب علم سے عبارت پڑھواتے اور اگر کوئی طالب علم اعرابی غلطی کرتا تو پوچھتے یہ اعراب کیوں پڑھا ،غرضیکہ  وجہ اعراب بتائے بغیر آگے نہیں بڑھنے دیتے۔   بڑے طلبہ کے ساتھ اپنا انداز تدریس بیان کرتے ہوئےفرماتے ہیں :" دار العلوم کے طلبہ کو ہمارے پڑھانے کا طریقہ یہ ہے کہ تسہیل المصادر، نحو میر اور میزان بلکہ پنج گنج، علم الصیغہ اور فصول اکبری تک کے لڑکوں کا پچھلا سبق سننے کے بعد ہی آگے پڑھاتے ہیں اور جو یاد نہیں کرتا اسے مناسب سزا دیتے ہیں جس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ دوسرے روز سبق یاد کر لاتا ہے۔ ہم چھوٹی کتابیں پڑھنے والے طلبہ کو بھی چالیس پچاس منٹ کی پوری گھنٹی پڑھاتے ہیں، صرف چند منٹ نہیں پڑھاتے بلکہ گھنٹی کے ختم ہونے تک پوچھتے رہتے ہیں اور مختلف مصادر سے فعلوں کی گردان کراتے ہیں، البتہ نحو میر پڑھنے والوں کو کافیہ و شرح جامی کی بحث اور منطق کے ابتدائی بچوں کو قطبی اور ملا حسن کی باتیں نہیں بتاتے..... ہم نے یہ طریقہ ایجاد کر رکھا تھا کہ پوری جماعت کے ہر طالب علم کو کم زیادہ تعداد کے اعتبار سے دو دو یا ایک ایک سطر عبارت روزانہ پڑھنی پڑے گی اور اول و آخر یا درمیان میں جہاں جس سے چاہیں گے پڑھوائیں گے، اس صورت میں ہر لڑکے کو عبارت پڑھنے کے لیے روزانہ محنت کرنی پڑتی، اس لیے کہ جو ایسا نہ کرتا وہ بہت برا بھلا کہا جاتا اور سزا بھی پاتا۔ یہ طریقہ بے انتہا مفید ثابت ہوا.... اور عام طور پر جو یہ دستور ہے کہ عبارت پڑھنے میں اگر لڑکا غلطی کرتا ہے تو فوراً اسے بتا دیا جاتا ہے، یہ طریقہ بھی صحیح نہیں ہے، میرا دستور یہ ہے کہ بتاتا نہیں ہوں بلکہ صرف آگے پڑھنے سے روک دیتا ہوں، پھر اگر وہ درست کر لیتا ہے تو اسے وجہ بھی بتانی پڑتی ہے کہ ایسا کیوں پڑھا، اس لیے کہ بسا اوقات بغیر سمجھے ہوئے صرف اندازے سے عبارت صحیح کر لیتا ہے یا ضمہ روک دیا تو فتح پڑھ دیتا ہے اور وہ بھی صحیح نہیں ہوا تو کسرہ پڑھ دیتا ہے اور جب وجہ بتانی پڑتی ہے تو اس کے ذہن کو کام کرنا پڑتا ہے جس سے استعداد بڑھتی ہے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے"۔(أیضا، ٤٨٣)یہ چند ایسے اوصاف ہیں جو آپ کو میدان تدریس میں بھی دوسروں سے منفرد و ممتاز بناتے ہیں۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383