Feb 7, 2026 09:16 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
غیروں کی نقالی! ایک لمحۂ فکریہ: محمد حسنین رضا برکاتی علیمی مصباحی

غیروں کی نقالی! ایک لمحۂ فکریہ: محمد حسنین رضا برکاتی علیمی مصباحی

04 Dec 2025
1 min read

غیروں کی نقالی! ایک لمحۂ فکریہ

از قلم:

 محمد حسنین رضا برکاتی علیمی مصباحی  

آج دنیا جس برق رفتاری سے ترقی کی نئی راہیں ہموار کر رہی ہے، اسے دیکھ کر انسانی عقل و خرد دنگ ہے،چونکہ انسانی آنکھ ایسے ایسے انقلابات دیکھ رہی ہے جو انسانی فکر کو ترقی کا راز تلاش کرنے پر زور دے رہی ہے، اور یہ معاملہ انسان کے سامنے ایک عظیم سوالیہ نشان بن کر ابھرتا ہے کہ آخر اس بے مثال ترقی کا راز کیا ہے؟اور یہ حیرت انگیز ارتقاء کن بنیادوں پر قائم ہے؟۔حیرت اس وقت ہوتی ہے  جب اس سوالیہ نشان کا مرکز و محور اہل اسلام خود کو محسوس کرتے ہیں۔ 

یار! جس قوم میں تہذیب و تمدن کی خوشگوار فضا قائم ہو، تعلیم و تعلم جس قوم کا حسین شعار ہو، جس مذہب نے اپنی قوم کو ہمیشہ امن و امان کا خوبصورت پیغام دیا ہو، کامیابی و ترقی جس کے دامن میں پنہاں ہو، جو قوم ہمیشہ اپنی حقانیت کی وجہ سے تمام مذاہب عالم پر غالب رہی ہو،آج اسی اسلام کی اتباع کرنے والے لوگ چند ترقی یافتہ اشیاء اور کچھ حیرت کن مناظر کو دیکھ کر خود کو احساس کمتری کا شکار سمجھتے ہیں اور اس رازِ تریاق کے فہم و ادراک میں خوب پریشان ہوتے ہیں!! 

ذرا سا غور کرنے پر یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ اس کی سب بڑی وجہ اسلام کی تعلیمات اور اس کی تہذیب و ثقافت سے دوری اور غیروں کی نقالی ہے  یعنی مغربی تہذیب و ثقافت کو  بلا تأمل قبول کر لینا  جوکہ تمام جہات سے قوم مسلم کے لیے خطرناک اور مضر ہے، دنیا میں سب سے بڑی فتنہ پرور اور تباہ کن قوم کوئی ہے تو وہ یہودی قوم ہے جس کا بنیادی مشن لوگوں کو اسلام سے دور کر کے اپنے غلیظ کلچر اور رذیل ثقافت سے جوڑنا ہے، یہی کِیا ہے ان اسلام دشمن طاقتوں نے اسلام کے ساتھ، ان دشمنان اسلام نے نونہالان اسلام کو بڑی آسانی سے اپنے چنگل میں لے کر انہیں دھیرے دھیرے تعلیمات اسلام سے دور کرنے کی بھر پور کوشش کی، آج ہماری قوم کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں جو بے راہ روی نظر آتی ہے وہ انہیں کی تبلیغ کردہ تہذیب و تمدن کا خاص اثر ہے، آپ ان بیہودہ جماعتوں کا گہرائی سے تجزیاتی مطالعہ کریں تو پتہ چلے گا کہ اس قوم نے ہمیں زمینی اعتبار سے کس قدر نقصان پہنچایا ہے؟ آپ غور کریں کہ ان باطل قوتوں نے ہمارے لباس، کھانے پینے کی اشیاء، سلام و کلام، رہنے سہنے کے مزاج میں کس طرح تبدیلی پیدا کی ہے؟۔

             میرا اپنا خیال ہے کہ مخالفین نے سب سے پہلے اسلام کا اچھی طرح سے مطالعہ کیا ہے اس کے بعد انہوں نے سمجھ لیا کہ اگر ہمیں کامیاب ہونا ہے تو اسلام کے خلاف کچھ ایسا کرنا ہوگا جو دھیرے دھیرے اس کے ماننے والوں کو اسلامی تہذیب و ثقافت سے دور کر دے، پس اس قوم یہود نے  پوری دنیا خصوصا اہل اسلام کو اپنے فریب کا شکار بنانے کے لیے ایسا نظریہ پیش کیا جو بہت ساری خرابیوں کے ساتھ اسلامی نظریے سے متصادم ہے، چنانچہ  انہوں نے مسلمانوں کی سب سے بڑی طاقت مذہبی تعلیم میں اپنی تہذیب و ثقافت کو دھیرے دھیرے داخل کرنے کی کوشش کی اور اس میں بہت حد تک کامیاب بھی ہوئے، جیسا کہ مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ آج بہت سے اسلامی گھروں میں چھوٹے چھوٹے بچے اسلامی الفاظ میں سلام و کلام کے بجائے انگریزی کے چنندہ الفاظ کا استعمال کرتے ہیں جس سے بچپن میں ہی  ان کی فکری کشش انگریزی ماحول کی طرف بڑھ جاتی ہے   اور وہ   رفتہ رفتہ اسلامی تہذیب سے متنفر ہو جاتے ہیں اور بڑے ہو کر مزید غیروں کے مکر و فریب کا شکار ہو جاتے ہیں جس کی سیکڑوں مثالیں ہمارے گرد و پیش میں دیکھی جا سکتی ہیں،

            یار !! ذرا سوچیں! جس اسلام نے ہمیشہ اپنے ماننے والوں کو عمدہ اور پر سکون زندگی گزارنے کے لیے اچھی تعلیم کے ساتھ حسن تربیت کی طرف رہنمائی کیا اور نمونہ کے طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکت کو پیش کیا، ہدایت کے لیے انقلاب آفریں کتاب قرآن عظیم عطا کیا ،   آج وہی لوگ مغربی تہذیب کے چنگل میں پھنس کر دھیرے دھیرے اسلامی ثقافت سے دور ہو کر غیروں کی نقالی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، اسلام نے  تو مشتبہات سے بھی بچنے کا حکم دیا ہے لیکن  آج اس کے ماننے والے اکثر نوجوان طبقے کے لوگ بلا تحقیق و تفتیش غیروں کے یہاں خورد و نوش میں ذرہ برابر بھی جھجھک نہیں محسوس کرتے،  نیز  اسلام نے اپنے ماننے والوں کو تہذیب و ثقافت کے اعلی معیار پہ کھڑا کر کے استعمال کے لیے خوبصورت زبان (عربی) عطا کیا (جو کہ جنتیوں کی زبان ہے) آج اس کے ماننے والے اسے چھوڑ کر انگرزی تہذیب کے چپیٹ میں آکر اس شیریں زبان کو بھول بیٹھے ہیں، میں انگریزی زبان کو برا نہیں کہتا البتہ اسی کلچر میں گھل مل کر اسلامی تہذیب و ثقافت کو یکسر نظر انداز کر دینا کہیں نہ کہیں اسلام سے دوری کا سبب ہے، اہل خرد سمجھ سکتے ہیں ! مذکورہ کلچر کا ہی گہرا اثر ہے کہ لوگ اس کی طرف بڑی تیزی سے بھاگ رہے ہیں۔                نیز اسی تعلیم و تربیت کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ  وہ (مذہب اسلام) مرد و خواتین کو ان کی عزت و ناموس کے تحفظ، اخلاقی بہتری اور کردار میں حسن پیدا کرنے کے لیے بہترین، مہذب اور خوبصورت لباس زیب تن کرنے کی بھی ہدایت کرتا

ہے جس کی وجہ سے بہت ساری برائیوں کا خاتمہ ہوتا ہے ساتھ ہی معاشرہ خوب خوشگوار ہو جاتا ہے، کیا آج نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اسلامی تہذیب و ثقافت کے برخلاف مغربی کلچر کے فریب کا شکار نہیں ہیں ؟کیا فیش کے نام عریانت کو پھلنے پھولنے کا موقع نہیں مل رہا ہے  ؟ ہاں ایسا ہی ہے ! وجہ ظاہر ہے!  وہ یہی غیروں کی نقالی اور جدید فیشن کو قبول کرنا، آج دنیا یہود کی سازش کو نہیں سمجھ رہی ہے اور ان کے بنائے ہوئے غیر مہذب اور عریاں قسم کے لباس پہننے میں مست ہے یقینا اس کا نقصان آنے والی نسلوں کو بھی ہوگا۔

 یار! مقامِ افسوس کہ آج بازاروں میں تہذیب کا لباس بڑی مشکل سے ملتا ہے، یہ سب کیا ہے ؟ یہی ہے اسلام دشمن عناصر کی چال !  کہ ان کا مقصد قومِ مسلم کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنی ثقافت کے چپیٹ میں لا کر اسلام و سنیت سے دور کیا جائے، یہ ایک لمحہ فکریہ ہے، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلام کو پڑھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی کوشش کریں، سیرت نبوی کو اپنے لیے نمونہ عمل بنائیں، اور ہاں! ہمیں یہ کرنا ہوگا کہ ہم اس مغربی تہذیب کو پس پشت ڈال دیں، اسلامی تعلیمات کو اپنے لیے مشعل راہ بنا لیں، اپنے گھروں، خاندانوں، رشتہ داروں اور معاشرہ کو دامن اسلام کی مہکتی ہوئی خوش گوار فضا سے معطر کریں، یقین جانیں!! اگر مسلمان آج بھی اپنی حیثیت سمجھ جائے تو وہ پوری دنیا سے زیادہ طاقت ور ہے، ذرا دلی کی گہرائیوں سے سوچیں!! دنیا میں سب سے زیادہ اہمیت تعلیم کو حاصل ہے، کامیابی و ترقی کی بنا اچھی تعلیم اور حسن تربیت پر ہے، اگر ہم افضل الکتب" القرآن "کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ہمارے مذہب (اسلام) کا سب سے پہلا درس " اقرا (پڑھو) ہے ، اور ہمارا حال یہ کہ ہم تعلیمی میدان میں بہت اسفل مقام رکھتے ہیں، پتہ چلا کہ کمی و کوتاہی ہماری طرف سے ہے، کمزوری ہماری طرف سے ہے، تساہلی و عدم توجہی کے ذمہ دار ہم خود ہیں، آج اسلامی تعلیمات کو پڑھنے اور اس پر عمل کی سخت ضرورت ہے جبھی معاشرہ سے برائیوں کا اچھی طرح سے خاتمہ ممکن ہے، ہمیں غیروں کو دیکھ کر نہیں بلکہ تعلیمات اسلام کی روشنی میں خوش گوار زندگی گزارنے کی فکر کرنی چاہیے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری زندگی کو اپنے لیے نمونہ عمل بنا کر عشق مصطفی میں زندگی گزارنے کی سعی کرنی چاہیے۔

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383