Feb 7, 2026 06:10 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
فقیہ ملت تعزیتی خطوط کے آئنے میں

فقیہ ملت تعزیتی خطوط کے آئنے میں

21 Nov 2025
1 min read

فقیہ ملت تعزیتی خطوط کے آئنے میں

از :فیض محمد مصباحی امجدی

دارالعلوم رضویہ اہل سنت، رستم پور، سنت کبیر نگر ۔

 

حضور فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمۃ و الرضوان کو اللہ رب العزت نے بے شمار اوصاف و کمالات  اور خوبیوں سے نوازا تھا، آپ ایک بلند پایہ فقیہ، عظیم مصنف، اچھے مدبر، نکتہ رس خطیب، اخلاص و للہیت کے پیکر، فکر امت میں گم رہنے والے ،اسلام و سنیت کی ترویج و اشاعت کے لیے کوشاں ،اپنوں کے لیے ریشم کی طرح نرم اور غیروں پر پتھر کی طرح سخت تھے۔ اصولوں سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا ،باطل کو کبھی حق نہیں کہا، مداہنت سے کوسوں دور رہے، ساری زندگی بلا خوف لومۂ لائم پوری دیانت داری کے ساتھ اسلام و سنیت اور مسلک اعلی حضرت کی خدمت انجام دی، آپ کی حیثیت امت مسلمہ کے لیے ایک ھادی و رہنما اور پیشوائے قوم کی تھی ۔لوگوں کا آپ کے اوپر کافی اعتماد تھا اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ اتنی ساری خوبیوں کے باوجود وہ نام و نمود سے کوسوں دور تھے ،اپنی تعلی کے لیے دوسروں کی ٹانگ کھینچنے، ان پر کیچڑ اچھالنے اور اختلاف و انتشار کا بازار گرم کرنے سے نہ صرف یہ کی بچتے تھے بلکہ اس کے مخالف بھی تھے، کبھی بھی ایسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیا جو جماعت کی خسران کا باعث ہو، اللہ تعالی نے بڑا بنایا تھا دوسروں کو دبا کر خود کو بڑا دکھانے کی انہیں کوئی ضرورت نہیں تھی ۔الحاصل وہ ایک سچے وارث نبی ،مخلص غم خوار قوم  اور سچے ہمدردملت تھے۔ 

یہی وجہ تھی کہ ۴/جمادی الآخرہ ۱۴۲۳ھکی رات جب آپ کا وصال ہوا، اور عالم کو اس روح  فرسا حادثہ کی اطلاع ملی تو سب کے دلوں کی دھڑکنیں رکتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ان پر رنج و علم کا کوہ ہمالہ ٹوٹ پڑا، آنکھیں بھر آئیں، دل بوجھل ہو گئے، زبانوں سے کلمہ ترجیعجاری ہو گئے اور جس کے لیے ممکن تھا وہ اپنے اس محسن کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے دوڑ پڑا  اور جو لوگ دوری، مجبوری،یا لا علمی کی وجہ سے شریک نہیں ہو سکے، انہوں نے وہیں سے بزبان قرطاس و قلم اپنے محسن کو یاد کیا چنانچہ ملک و بیرون ملک سے تعزیتی خطوط کا تانتا بندھ گیا اور آپ کے شہزادگان والا کے نام سے ایسے سیکڑوں خطوط موصول ہوئے جن میں لوگوں نے کلمات تعزیت کے ساتھ ساتھ اس عظیم ذات کی بارگاہ میں خراج عقیدت پیش کیا تھا اور ان کے فضائل و کمالات کو یاد کر کے ان سے محرومی پر اپنے گہرے غم کا اظہار بھی کیا تھا۔

              ذیل میں ہم ایسی ہی چند مخصوص تحریریں پیش کرنے جا رہے ہیں جن میں اصحاب فضل و کمال نے اس حادثہ فاجعہ پر اپنے رنج و غم کے ساتھ ساتھ حضور فقیہ ملت کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار اور ان کے فضائل و کمالات کا اقرار کیا ہے –

حضرت علامہ عبدالحکیم شرف قادری علیہ الرحمہ پاکستان فرماتے ہیں: ’’۲۵/؍اگست کو برسٹن میں سنی دعوت اسلامی کے اجلاس میں شریک ہوا اسی موقع پر کسی دوست نے یہ روح فرسا اطلاع دی کہ فقیہ ملت عالم جلیل ،پیکر علم و تقوی، مجسمہ محبت و شرافت حضرت مولانا جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ علیہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے انا للمولی تعالی وانا الیہ راجعون، ابھی مارہرہ مقدسہ میں عرس قاسمی میں راقم 

حضرت علامہ ارشد القادری مدظلہ کے کمرے میں حاضر ہوا تو ایک بزرگ بڑی سرعت سے آکر مجھ سے لپٹ گئے فوری طور پر مجھے معلوم نہ ہو سکا کہ یہ کون بزرگ ہیں لیکن جلد ہی وجدان نے کہا کہ یہ علامہ امجدی کے علاوہ کوئی بزرگ نہیں ہو سکتے، وہ لمحات مجھے کبھی فراموش نہیں ہوں گے، جب حضرت نے اپنی نوازشات بے تحاشہ مجھ پر نچھاور کر دی یہ فقیر کی ان سے پہلی اور آخری ملاقات تھی‘‘۔

حضرت علامہ قمر الحسن بستوی صاحب ہوسٹن امریکہ فرماتے ہیں: ’’علم شریعت کا جبل شامخ ،حقانیت کی دلیل قاطع قناعت پسندی کا مجموعہ، وقار علمی کا جوہر آبدار ،تحقیق کا شہسوار بے باک ایسا کی بڑے بڑوں کو خاطر میں نہ لائے ،رحم دل اتنا کہ چھوٹوں کو سینے سے لگائے، اپنی ذات میں علم و فضل کی انجمن ،اپنے علم میں کوہ شکن، صاحب تصانیف باہرہ ،آبرو فتوی ،منظر تقوی حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ اس قحط الرجال دور میں اسلاف کی ایسی جاذب تصویر تھے جن کا ہر زاویہ معتدل متوازن اور مستوی تھا،یہ کس قدر غمناک حادثہ ہے کہ ہمارا ضلع بستی سونا ہو گیا ،کتنا سکون اور اعتماد تھا کہ محسوس ہوتا تھا اگر کوئی شرعی الجھاؤ ہوگا تو کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں بلکہ یہیں سے تشفی مل جائے گی اور اپنا حال تو یہ تھا کہ میں ۲۰ہزار میل دور رہ کر بھی اتنا ہی قریب تھا جتنا بستی میں رہ کر ہوتا ،ان کی زندگی تعمیرات سے تعبیر ہے صرف علمی تعمیر ۔ان کی فطری ارشاد کا زمانے نے اعتراف کیا ان کی علمی فوقیت کو لوگوں نے تسلیم کیا اور ان کے تفقہ فی الدین کو لوگوں نے دل سے مانا، وہ اگرچہ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے مگر ان کی علمی کاوش ،فکری جولانیاں اور فقہی بصیرت ان کی کتابوں میں انہیں ہمیشہ زندہ رکھے گی ،وہ ایک انمٹ نقش بن چکے ہیں ان کے کارنامے ان کو قرنوں زندہ رکھیں گے۔ مرکز تربیت افتا ان کا وہ شاہکار ہے جو شرق و غرب اور شمال و جنوب میں ان کی انفرادیت کا سورج غروب نہ ہونے دے گا‘‘۔

حضرت علامہ مفتی ولی محمد صاحب باسنی ناگور فرماتے ہیں: ’’افسوس علم و ادب کا ماہر، معقولات و منقولات پر دور بیں نگاہ رکھنے والا، فقہ میں گہرائی وگیرائی رکھنے والا، تصانیف و تالیفات کی دنیا میں بلند مقام رکھنے والا ،بیان و خطاب میں علم کے موتی لٹانے والا ،طلبہ کو جفا کشی کے ساتھ زیور علم سے آراستہ کرنے والا خطاب میں ملت اسلامیہ کا ہمدرد و خیر خواہ، باطل کے لیے شمشیر برہنہ بن کر ان کی صفوں کو دلائل سے کاٹنے والا،مدبر ہم سے رخصت ہو گیا ۔حضور صاحب فضیلت و عزت عالم اہل سنت مفتی قدر و منزلت فقیہ ملت حضرت علامہ مولانا مفتی جلال الدین احمد امجدی صاحب قبلہ علیہ الرحمہ نوع بنوع خوبیوں و خصلتوں کے مالک تھے ،اپنے تمام اوقات دین و سنیت کی خدمت کے لیے مشغول و مصروف رکھتے تھے جہاں جاتے دین و سنیت کے پرچم اور مسلک اعلی حضرت کی شان کو دو بالا فرماتے، ان کی زندگی کے کارنامے لائق تقلید و قابل تعریف ہیں، جہد مسلسل کے وہ پیکر جمیل تھے، حق گوئی میں وہ اپنی مثال آپ تھے ملت اسلامیہ ان کی مثالی قربانیوں پر ناز کرے گی وہ اپنے لیے نہیں دین و سنت کی فروغ کے لیے زندہ تھے اور جو دین و سنیت پر قربان ہونے والا کبھی نہیں مرتا وہ مر کر بھی زندہ رہتا ہے‘‘۔ 

حضرت علامہ مفتی اشفاق حسین صاحب قبلہ، مفتی اعظم راجستھان اور استاذ: دارالعلوم اسحاقیہ، جودھ پور، اپنے ایک مشترکہ مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں: ’’فقیہ ملت کے سانحہ ارتحال نے نہ صرف آپ 

حضرت علامہ ارشد القادری مدظلہ کے کمرے میں حاضر ہوا تو ایک بزرگ بڑی سرعت سے آکر مجھ سے لپٹ گئے فوری طور پر مجھے معلوم نہ ہو سکا کہ یہ کون بزرگ ہیں لیکن جلد ہی وجدان نے کہا کہ یہ علامہ امجدی کے علاوہ کوئی بزرگ نہیں ہو سکتے، وہ لمحات مجھے کبھی فراموش نہیں ہوں گے، جب حضرت نے اپنی نوازشات بے تحاشہ مجھ پر نچھاور کر دی یہ فقیر کی ان سے پہلی اور آخری ملاقات تھی‘‘۔

حضرت علامہ قمر الحسن بستوی صاحب ہوسٹن امریکہ فرماتے ہیں: ’’علم شریعت کا جبل شامخ ،حقانیت کی دلیل قاطع قناعت پسندی کا مجموعہ، وقار علمی کا جوہر آبدار ،تحقیق کا شہسوار بے باک ایسا کی بڑے بڑوں کو خاطر میں نہ لائے ،رحم دل اتنا کہ چھوٹوں کو سینے سے لگائے، اپنی ذات میں علم و فضل کی انجمن ،اپنے علم میں کوہ شکن، صاحب تصانیف باہرہ ،آبرو فتوی ،منظر تقوی حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ اس قحط الرجال دور میں اسلاف کی ایسی جاذب تصویر تھے جن کا ہر زاویہ معتدل متوازن اور مستوی تھا،یہ کس قدر غمناک حادثہ ہے کہ ہمارا ضلع بستی سونا ہو گیا ،کتنا سکون اور اعتماد تھا کہ محسوس ہوتا تھا اگر کوئی شرعی الجھاؤ ہوگا تو کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں بلکہ یہیں سے تشفی مل جائے گی اور اپنا حال تو یہ تھا کہ میں ۲۰ہزار میل دور رہ کر بھی اتنا ہی قریب تھا جتنا بستی میں رہ کر ہوتا ،ان کی زندگی تعمیرات سے تعبیر ہے صرف علمی تعمیر ۔ان کی فطری ارشاد کا زمانے نے اعتراف کیا ان کی علمی فوقیت کو لوگوں نے تسلیم کیا اور ان کے تفقہ فی الدین کو لوگوں نے دل سے مانا، وہ اگرچہ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے مگر ان کی علمی کاوش ،فکری جولانیاں اور فقہی بصیرت ان کی کتابوں میں انہیں ہمیشہ زندہ رکھے گی ،وہ ایک انمٹ نقش بن چکے ہیں ان کے کارنامے ان کو قرنوں زندہ رکھیں گے۔ مرکز تربیت افتا ان کا وہ شاہکار ہے جو شرق و غرب اور شمال و جنوب میں ان کی انفرادیت کا سورج غروب نہ ہونے دے گا‘‘۔

حضرت علامہ مفتی ولی محمد صاحب باسنی ناگور فرماتے ہیں: ’’افسوس علم و ادب کا ماہر، معقولات و منقولات پر دور بیں نگاہ رکھنے والا، فقہ میں گہرائی وگیرائی رکھنے والا، تصانیف و تالیفات کی دنیا میں بلند مقام رکھنے والا ،بیان و خطاب میں علم کے موتی لٹانے والا ،طلبہ کو جفا کشی کے ساتھ زیور علم سے آراستہ کرنے والا خطاب میں ملت اسلامیہ کا ہمدرد و خیر خواہ، باطل کے لیے شمشیر برہنہ بن کر ان کی صفوں کو دلائل سے کاٹنے والا،مدبر ہم سے رخصت ہو گیا ۔حضور صاحب فضیلت و عزت عالم اہل سنت مفتی قدر و منزلت فقیہ ملت حضرت علامہ مولانا مفتی جلال الدین احمد امجدی صاحب قبلہ علیہ الرحمہ نوع بنوع خوبیوں و خصلتوں کے مالک تھے ،اپنے تمام اوقات دین و سنیت کی خدمت کے لیے مشغول و مصروف رکھتے تھے جہاں جاتے دین و سنیت کے پرچم اور مسلک اعلی حضرت کی شان کو دو بالا فرماتے، ان کی زندگی کے کارنامے لائق تقلید و قابل تعریف ہیں، جہد مسلسل کے وہ پیکر جمیل تھے، حق گوئی میں وہ اپنی مثال آپ تھے ملت اسلامیہ ان کی مثالی قربانیوں پر ناز کرے گی وہ اپنے لیے نہیں دین و سنت کی فروغ کے لیے زندہ تھے اور جو دین و سنیت پر قربان ہونے والا کبھی نہیں مرتا وہ مر کر بھی زندہ رہتا ہے‘‘۔ 

حضرت علامہ مفتی اشفاق حسین صاحب قبلہ، مفتی اعظم راجستھان اور استاذ: دارالعلوم اسحاقیہ، جودھ پور، اپنے ایک مشترکہ مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں: ’’فقیہ ملت کے سانحہ ارتحال نے نہ صرف آپ کے شہزادگان و اعزہ کو مضطرب کیا بلکہ پوری ملت اسلامیہ آج اپنے مقتدی و رہبر شریعت و طریقت کے وصال پر اشکبار ہے۔حضرت کے دینی و ملی خدمات زریں حروف میں لکھے جانے کے لائق ہیں آپ کی پوری زندگی ۱۹۵۳ سے لے کر ۲۰۰۱تک فروغ مسلک حقہ و اشاعت دین میں گزری، آپ کی فقہی تحقیقات و فقہی جزیات و کلیات پر عمیق نظر نے آپ کو معاصرین میں ایک ممتاز مقام عطا فرمایا ہے ،فتاوی فیض الرسول و دیگر اہم تصنیفات آپ کے علمی کاوشوں کے تابندہ نمونے ہیں جن سے علماء و طلبہ ہمیشہ فیضیاب ہوتے رہیں گے‘‘۔

ڈاکٹر غلام یحیی انجم بستوی صدر شعبہ علوم اسلامیہ ہمدرد یونیورسٹی دہلی تحریر فرماتے ہیں: ’’مفتی صاحب ضلع بستی کے سربر آوردہ علماء میں سے تھے، انہوں نے ضلع سدھارتھ نگر کی مرکزی درسگاہ دارالعلوم فیض الرسول میں برسہا برس تدریس کے فرائض انجام دیے اور ساتھ ہی مسند افتا کے صدر نشین بھی رہے ملک و بیرون ملک سے آئے جن فتاوی کے آپ نے جوابات دیے ان کی تعداد ہزاروں میں ہے ،مرکز تربیت افتا کے علاوہ مفتی صاحب کئی دینی مدرسوں کے سرپرست اعلی بھی تھے، وہ سماج کے تئیں بڑے مخلص تھے اور سماج کے ہر فرد کو تعلیم سے آراستہ دیکھنا چاہتے تھے، اسی لیے انہوں نے اپنی دینی کتابیں لکھیں اور دینی ادارے قائم کئے ،ایسی علمی دینی اور مذہبی شخصیت کی رحلت پر  شعبۂ علوم اسلامیہ اظہار غم کرتا ہے‘‘۔

حضرت علامہ بدرالقادری صاحب ہالینڈ اپنے تعزیتی مکتوب میں لکھتے ہیں: ’’حضرت فقیہ ملت یوں تو شروع ہی سے جب سے علمی میدان میں قدم رکھا اپنی مخلصانہ علمی و فقہی خدمات کے ذریعہ اہل سنت میں اپنا ایک مقام پیدا کر لیا ،مگر تدریسی جدوجہد کے ساتھ تصنیفی میدان میں جب وہ اترے اور ان کی مایہ ناز کتابیں منظر عام پر آئیں اور لوگوں نے ان سے فیوض پائے تو ان کا شمار ملک کے چند مخصوص افاضل گرامی میں ہونے لگا ۔اوجهاگنج میں جب دارالعلوم امجدیہ اور مرکز تربیت افتا قائم فرمایا، اس وقت وہ مسلمانان اہل سنت کے دلوں کی دھڑکن بن چکے تھے۔ ۲۹ /اپریل ۲۰۰۱ کو دستار مفتیان اسلام کے سلسلے میں انہوں نے جو عظیم الشان جلسہ منعقد کیا اور اس کا اشتہار  ہالینڈ پہنچا تو اس اشتہار ہی کو دیکھ کر ہیان کی کل ہند مقبولیت و پذیرائی کا ایک واضح نقش ذہن و دماغ پر مرتب ہوا، کسے معلوم تھا کہ تربیت افتا کی دوسری فصل بہار کا جشن ہی ان کا جشن الوداع بن جائے گا، ابھی تو اہل سنت کو ان کی سخت ضرورت تھی ابھی تو ان کے ذریعہ ملک و ملت کی پیشانی پر کئی قابل افتخار جھومر سجنا تھا ،افسوس کی درجنوں کتابیں تصنیف فرمانے والا قلم اب رک چکا ہے ،مسائل فقہیہ میں اسلاف کرام مفتیان عظام کی روش پر نہایت احتیاط و دیانت سے چلنے والا آسودۂ گور غریباں ہو چکا ہے ،شائقین افتا کو گھر بیٹھے رموز شریعت سمجھانے والا شہر خاموشاں میں لیٹ چکا ہے‘‘۔ 

حضرت مفتی محمد حنیف صاحب قبلہ جامعہ نوریہ رضویہ بریلی شریف تحریر فرماتے ہیں: ’’حضرت فقیہ ملت کا وصال عظیم سانحہ ہے اور ہم سب اہل سنت کا اجتماعی نقصان مگر مرضی مولا از ہمہ اولی، جامعہ میں ایصال ثواب کی مجلس منعقد ہوئی مدرسین و طلبہ بالخصوص صدر العلماء مفتی محمد تحسین رضا خان صاحب قبلہ محدث بریلوی نے شرکت کی حضرت کی خردہ نوازی سے میں بہت متاثر تھا، جب ملاقات ہوتی میری کاوشوں کو بہت سراہتے اور دینی کاموں پر برانگیختہ کرتے‘‘۔

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383