"شبِ قدر" جود و کرم و انعامات خسروانہ کی شبِ تابندہ
غلام مصطفیٰ رضوی نوری مشن مالیگاؤں
شبِ قدر کی مبارک ساعتیں سایہ فگن ھیں... یہ رحمت کی گھڑی ھے...برکت کی ساعت ھے... عنایات کریمانہ کی رات ہے... مانگنے کی رات ھے... مرادیں بَر آنے کی گھڑی ہے... ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فدا کاری کا جذبۂ صادق مانگ لیجئے... اپنی حیات کی تابندگی مانگ لیجئے... قومی وجود کی زندگی مانگ لیجئے... گناہوں سے تائب ھو کر محبوبِ پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سچی محبت کی سوغات مانگ لیجئے...
درِ قبولیت کھلا ھوا ھے... فلسطین کی بازیابی، شام و دیگر تباہ حال مملکتوں کی غاصبوں سے آزادی کی دُعائیں کیجئے... غزہ کی باز آباد کاری کی دعا کیجئے... یہود و انگریز کی اسیری و غلامی
میں مبتلا عرب شاہانِ مملکت کی اصلاح کی دعا کیجئے... مسلم مملکتوں کے تحفظ کی عرض کیجئے... عہدِ رواں میں فتنہ ہاے باطلہ سے تحفظ کی دُعا کیجئے... صلیبیوں اور یہودیوں کی یلغار ہے...کئی مسلم ممالک تاراج کیے گئے... غزہ لہولہان ہے... ہزاروں شہادتیں ہیں... سہاگ لُٹ رہا ہے. لاکھوں گھر تاراج ہیں.چمن اجڑ چکے، گلیاں لہولہان ہیں... مساجد شہید کر دی گئیں تعلیمی مراکز مٹا دیے گئے.. علوم اسلامی کے سرچشمے خشک کر دیے گئےتہذیب اسلامی کے آثار چن چن کر مٹا دیے گئے....نسل کشی کی بدترین تاریخ فلسطین میں لکھی جا رہی ہے.... دنیا کے وہ اشرافیہ جو انسانیت کے تحفظ کے دعویدار ہیں وہ انسانیت کی دھجیاں بکھرتی دیکھ رہے ہیں اور خاموش ہیں... ہزاروں زخمی ہیں اور علاج سے محروم... مشرکینِ ہند نے الگ سازشیں رچی ہوئی ہیں... وجودِ مسلم مِٹانے کے لیےاقتدار کے ذریعے آئینِ ہند بدل رہے ہیں...دستِ دُعا دراز کیجئے... کہ ان کے وار انہیں پر اُلٹ جائیں...ان کی سازشیں بکھر جائیں...
شبِ قدر؛ شبِ انعام ہے... عطا کے دھارے چل رھے ھیں...سخا کے تارے کھل رھے ھیں...نور کی سوغات تقسیم ھو رھی ھے...دامن بھر بھر دیے جا رھےھیں...یقیں کے توشے بٹ رہے ہیں... اُمیدوں کی بزمِ نور آراستہ ہے... عطا بھی، سخا بھی اور عنایتوں کی صبحیں بھی ہیں... کرم کے دریا موجزن ہیں... انعاماتِ خسروانہ تقسیم ہو رہے ہیں.... اللہ تعالیٰ کا عطا کیا ہوا واقعی بہت ہوتا ہے... شبِ قدر جس کی عظمتوں پر کتاب و سنت کے مبارک اوراق گواہ ہیں... جن کی شوکت کے نغمے الاپے جا رہے ہیں... شبِ تاباں؛ ہزار مہینوں سے افضل
مِرے غنی نے جواہر سے بھر دیا دامن
گیا جو کاسۂ مہ لے کے شب گدائے فلک
واہ کیا جود و کرم ھے شہِ بطحا تیرا
نھیں سنتا ھی نھیں مانگنے والا تیرا
(اعلیٰ حضرت)شبِ قدر کا احترام کریں... نزول قرآن کی ساعتوں میں دستِ دعا دراز کریں... ان شاء اللہ دامن امید بھر بھر جائے گا... یقین کی دولت پختہ ہو گی... عقائد مضبوط ہوں گے اور عمل کی بزم آراستہ ہوگی تو من کی دنیا مہک مہک اُٹھے گی...خداے قدیر! شب قدر کی عظمتوں کے تصدق ہمیں سچا بندۂ مومن بنا، یقیں کی دولت سے مالا مال فرما... فلسطین کے مسلمانوں پر فضل و کرم فرما، دشمنانِ اسلام کو نیست و نابود فرما... شریعتِ مطہرہ سے حسد میں مبتلا مشرک اقتدار کو شکست سے دوچار فرما...اماکنِ اسلامی کی حفاظت فرما....فدایان یہود آل سعود کو امریکی اسیری سے نکل کر مقدسات اسلامی کے تحفظ کی توفیق عطا فرما-
***
