Feb 7, 2026 06:11 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
خود احتسابی: سید بختیار چشتی

خود احتسابی: سید بختیار چشتی

05 Jan 2026
1 min read

خود احتسابی:سید بختیار چشتی

وقت اپنی رفتار سے گزرتا ہے، اور اس کی رفتار پر کسی کا اثر نہیں۔ سال بدلتے رہیں گے، مگر انسان اکثر وہیں کھڑا رہ جاتا ہے۔ ایک اور سال ختم ہو گیا، مگر یہ صرف تاریخ کا بدل جانا کافی نہیں ہوتا، اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اس دوران اپنے آپ کو پہچاننے کی کتنی کوشش کی اور کتنا بہتر بن سکے۔

ہم زندہ ہیں، سانس لے رہے ہیں، چل پھر رہے ہیں یہ ہماری طاقت نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ مہلت ہے۔ اسی مہلت میں کچھ لوگ ہم سے جدا ہو گئے، اور کچھ کو رک کر سوچنے کا موقع ملا کہ زندگی کتنی عارضی اور ناپائیدار ہے۔ جیسا کہ امام شافعی نے کہا:

"خود کی اصلاح کرو، دنیا کی اصلاح خود بہ خود ہوگی"۔یہ گزرا ہوا سال ہماری زندگی کے حالات کا آئینہ بن کر سامنے آیا۔ کہیں خوشی ملی، کہیں صبر کی آزمائشیں ہوئیں، کہیں نعمتوں کی فراوانی رہی، اور کہیں محرومی نے آنکھیں کھولیں۔ مگر افسوس کہ ہم نے اکثر حالات کا تجزیہ کیا، اپنے کردار کا نہیں۔ ہم نے دوسروں کے رویّوں پر بات کی، مگر اپنے اعمال اور اپنی کوتاہیوں پر خاموشی اختیار کی۔

قرآن ہمیں ایک واضح اصول سمجھاتا ہے:

إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ

(ترجمہ: اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت کو نہ بدل لے)

یہ آیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ تبدیلی باہر سے نہیں، اندر سے شروع ہوتی ہے۔ سال کا بدل جانا کافی نہیں، سوچ کو بدلنا ضروری ہے۔ وقت کا گزر جانا کامیابی نہیں، اپنے آپ کو سنبھال لینا اصل کامیابی ہے۔

انسان کو خود سے کچھ سخت سوال پوچھنے پڑتے ہیں: کیا ہم واقعی بہتر ہوئے؟ یا صرف عمر میں اضافہ ہوا؟ کیا ہمارے دل نرم ہوئے؟ یا صرف تجربے بڑھ گئے؟ کیا ہم نے کسی کا بوجھ ہلکا کیا؟ یا ہر بار اپنے حق کا مطالبہ کیا؟ آج کا معاشرہ اسی لیے بوجھل نظر آتا ہے کہ ہر شخص اپنے دکھ پر بولتا ہے، مگر دوسروں کے درد پرخاموش رہتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

"اپنے نفس کو پہچانو، باقی سب پہچان خود بخود ہو جائے گی

زندگی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، مگر اس نعمت کا حق صرف لفظوں سے ادا نہیں ہوتا۔ یہ نعمت ہمیں دوسروں کے لیے آسانی اور خوشی بانٹنے کا موقع دیتی ہے۔ ہم یہاں ہمیشہ کے لیے نہیں ہیں۔ چند دن، چند سانسیں، چند لمحات اور پھر واپسی۔ اگر ہم نے ان دنوں میں کسی کا دل دکھایا، کسی کی خاموشی کو نظر انداز کیا، یا کسی کی امید توڑی، تو سال بدلنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

اصل بہتری وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں انسان اپنی غلطی مان لے۔ جہاں وہ پچھلے دنوں کی کمیوں کو تسلیم کرے اور آنے والے دنوں میں اپنے رویّوں کو درست کرے۔ خوشیاں بانٹنا صرف جذباتی نعرہ نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار رویّہ ہے۔ معاف کرنا کمزوری نہیں، 

یہ بلند ظرفی کی علامت ہے۔

اور کسی کے لیے آسانی بن جانا عبادت ہے، جو خاموش رہ کر بھی دلوں میں روشنی اور امید جگا دیتی ہے۔

یا اللہ! ہمیں اپنی غلطیوں کو پہچاننے، ماننے اور اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرما ہمارے دل نرم کر، دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے والے انسان بنا، اور اپنی رضا میں ہمیں مضبوط رکھ

آمين يارب العالمين بجاه سيد المرسلين ﷺ

*سید بختیار چشتی* 

 

خانقاہ عالیہ قادریہ چشتیہ سہروردیہ

 

 شاہ خلیل پور چفری، الہ آباد (پریاگراج)

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383