Feb 7, 2026 10:50 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں ہے

ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں ہے

30 Oct 2025
1 min read

ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں ہے

از۔ وارث علی مصباحی

شہر گورکھپور کے قلب میں واقع میاں صاحب کا امام باڑا اپنی ہندو مسلم رواداری،محرم کے جلوس اور سونے چاندی کے تعزیہ کے لیے مشہور ہے اور اس کی تاریخی حیثیت بھی مسلم ہے لیکن کسی زمانے میں یہ اردو زبان و ادب کا بھی مرکز رہا ہے اور تشنگان معرفت یہاں آکر اپنی تشنہ لبی دور کرتے تھے بقول سلام سندیلوی سرزمین گورکھپور کے سب سے پہلے اردو شاعر حضرت سید احمد علی شاہ اسی امام باڑہ کے دوسرے گدی نشین تھے 

سید احمد علی شاہ کے مورث اعلی حضرت سید عبدالعزیز بخاری اپنے بھائی سید عبدالطیف کے ساتھ مغلیہ دور حکومت میں سرزمین بخارا سے ہجرت کر کے دہلی آئے اور کچھ عرصہ وہیں مقیم رہے پھر وہاں سے ضلع گورکھپور میں بہنے والی گھاگرا ندی کے شمال میں موضںع شاہ پور میں آکر رہائش پذیر ہوئے آپ کی شرافت و نجابت کے چرچے مشہور ہوئے توہندو مسلم سبھی کے دل میں آپ کی عقیدت بس گئی کئی زمینداروں نے جائیداد وقف کی سید عبدالعزیز کے تین فرزند تھے

١.سید روشن علی

 ٢.سید اولاد علی

٣. سید سبحان علی 

  سید روشن علی شاہ نے دینی علوم میں مہارت حاصل کرنے کے بعد مرشد کی تلاش میں مختلف  اسفار کیے آخر میں صوبہ بہار کے ضلع آرا میں آپ کی جستجو پائہ 

تکمیل کو پہنچی (آرا کی وہ کون سی خانقاہ تھی جہاں روشن علی شاہ نے رہ کر معرفت کے سلوک طے کیے تلاش بسیار کے بعد بھی پتہ نہ چل سکا) اور مرشد برحق کے حکم پر ہی واپس گورکھپور تشریف لے

آئے اور داؤد چک میں اپنے ننہال کی طرف سے ملی ہوئی زمین پر امام باڑا کی تعمیر کرائی اور وہیں رہ کر یاد الہی میں مصروف رہنے لگے

اسی اثناء میں نواب آصف الدولہ کا گزر وہاں سے ہوا جو شکار کی غرض سے آیا تھا اس نے سید روشن علی شاہ کی بزرگی کو دیکھ کر امام باڑا کے باہری حصے کی تعمیر کرائی اور اس کے اخراجات کے لیے سولہ گاؤں وقف کیے  واپس جانے کے بعد سونے اور چاندی کے تعزیے بھیجوابۓ سید روشن علی کے زمانے میں ہی ردر پور کے راجا نے بھی کچھ جائیدادیں وقف  کی لیکن سید روشن علی شاہ انتہائی خدا رسیدہ اور دنیا سے لا تعلق رہنے بزرگ تھے اس لیے انھیں ان سب سے کچھ خاص مطلب نہ تھا انہوں نے شادی نہیں کی تھی اس لیے ان کے بھائی سید اولاد علی نے اپنے بیٹےسید احمد علی کو آپ کی خدمت کے لیے وقف کر دیا اور آپ نے بھی انہیں اپنا متبنی بنا لیا ۔روشن علی شاہ کی وفات کے بعد سید احمد علی شاہ نے گدی سنبھالی اور اپنی مرشد کی وراثت کو اگے بڑھایا 

ولادت۔

سید احمد شاہ کی ولادت سن 1800 عیسوی میں ہوئی اور 1805 میں سید روشن علی شاہ کی خدمت کے لیے وقف کر دیے گئے آپ کے والد نے ہبہ نامہ لکھ دیا اور یہ تاکید بھی کر دی کہ میرے وارثین میں کوئی ان کے حق میں دعوی نہیں کرے گا اور اگر کرتا ہے تو وہ باطل محض ہوگا 

حیات اور کارنامے ۔سید روشن علی شاہ کی وفات کے بعد سید احمد علی شاہ گدی نشین ہوئے اپنی مرشد کی طرح آپ بھی شب و روز ذکر الہی میں مشغول رہا کرتے تھے دنیا کے مال و متاع سے کوئی غرض نہ تھی حزب البحر، دلائل الخیرات شریف اور مختلف اوراد وظائف آپ کے معمولات میں شامل تھے تقریبا 17 سال کی عمر میں آپ نے شاعری شروع کی شاعری میں آپ نے کسی کی شاگردی اختیار نہ کی تھی لیکن انتہائی زود نویس تھے اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کی

مثنوی "نور حقیقت" کے معرض وجود میں آنے کا سبب یہ ہوا کہ آپ نے ایک لڑکے کو متبنی بنایا تھا جو گورکھپور میں آنے والے ہیضہ کا شکار ہو گیا آپ کے خادموں نے اس کی بیماری کے بارے میں آپ کو بتایا نہیں ،جب تک آپ کو خبر لگی کافی دیر ہو چکی تھی اور وہ لڑکا فوت ہو گیا اس کا آپ کے دل پر بہت 

گہراثر ہوا اور دنیا کی بے ثباتی دل میں اور راسخ ہو گئی اسی درمیان ایک رات نیند کھلی اور پھر وہی فکر لاحق ہوئی معا یہ خیال آیا کہ کچھ ایسا کام کرنا چاہیے جس سے دنیا میں نیک نامی کے ساتھ یاد کیا جاؤں اور پھر لکھنے بیٹھ گئے اور ایک عظیم مثنوی جو  تقریبا 350صفحات پر محیط ہے معرض وجود میں آئی اس کے علاوہ آپ نے دو کتابیں کشف البغاوت اور محبوب التواریخ کے نام سے لکھی ہیں ڈاکٹر سلام سندیلوی نے آپ کو شہر گورکھپور کا سب سے پہلا شاعر لکھا ہے اور کچھ خامیوں کی نشاندہی بھی کی ہے لیکن میری نظر میں وہ خامیاں کسی کام کے نقش اول میں معیوب نہیں گنی جاتیں  ہاں!  ایک بات ضرور حیرت زدہ کرنے والی ہے کہ گورکھپور کے دیگر شعرا پر جتنا کام ہوا سید احمد علی شاہ پر اس کا ایک فیصد بھی کام نہیں ہوا امام باڑا کے متولیان نے اس پر توجہ نہیں دی تو ان افراد نے بھی کچھ نہیں کیا جو اردو کے نام‌پر  تنظیمیں چلاتے ہیں امید کرتا ہوں کہ گورکھپور  میں اردو شاعری کی بنیاد ڈالنے والے اس مرد قلندر کے "نقوش" کی حفاظت و صیانت میں اردو اکادمیاں  اپنا رول ادا کریں گی 

وفات۔ادب و تصوف کا یہ درخشاں آفتاب سن 1874 عیسوی میں گورکھپور میں غروب ہو گیا 

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383