فتاوی فیض الرسول کا اسلوب تحریر و تفہیم
حضرت مولانا مفتی کہف الوری مصباحی زید شرفہ:بانی الحفصۃ گرلس اسکول، جعفر پوروہ، نیپال گنج، نیپال۔
صاحب تصانیف کثیرہ فقیہ ملت حضرت مولانا حافظ وقاری مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ کی مشہور و معروف شخصیت صرف علمی شغف اور تعلیمی و تدریسی ذوق و شوق رکھنے والوں کے درمیان ہی مقبول نہیں بلکہ عوام الناس کے مابین بھی آپ ہر دل عزیز تھے اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ دینی مسائل کے بتانے اور لوگوں کی خطاؤں پر تنبیہ کرنے میں کبھی خلوص و للہیت کا دامن نہ چھوڑتے۔ اور لوگوں کی فہم و فراست اور ان کے علم و زبان کے مطابق بالکل سادہ اور سلیس انداز میں ان کے سوالوں کے جوابات دیتے جس پر ان کی تصنیفات وفتاوے شاہد ہیں۔
مندرجہ ذیل تحریر میں ہم حضور فقیہ ملت کے مشہور زمانہ و مقبول انام مجموعہ فتاوی، فتاوی فیض الرسول کے آئینے میں ان کی صرف دو خوبیوں کا ایک علمی جائزہ پیش کرنے کی کوشش کریں گے ۔ (١) اسلوب تحریر اور (٢) اسلوب تفہیم۔ اب ترتیب وار دونوں کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
اسلوب تحریر: اسلوب تحریر کو ہم چار طریقوں سے مثال کے ساتھ پیش کر رہے ہیں ۔ (الف) سادگی (ب)سنجیدگی (ج) اختصار و جامعیت اور(د) حسب ضرورت تفصیل۔
(الف) سادگی: تحریر و تقریر کا مقصد اولیں یہی ہوتا ہے کہ ناظر و مخاطب محرر ومقرر کی بات سمجھ جائے یہی وجہ ہے کہ اکثر ذی علم حضرات مقام حال اور مخاطب کی رعایت کرتے ہوئے اپنے کلام سادہ و شستہااوراپنے ما فی الضمیرکی ادائیگی کے لیے طرز تعبیر کو نہایت آسان اور سہل انداز میں پیش کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں ۔حضور فقیہ ملت کے فتاوی میں اس طرح کے بے شمار نمونے ملتے ہیں۔ اس کی ایک مثال ملاحظہ کریں:قربانی کا ایک الجھا دینے والا مسئلہ اس طرح ہے کہ اگر چند لوگ مل کر مشترکہ طور پر ایک بکرا خریدیں یا ایک بڑا جانور خریدیں اور مشترکہ طور پر اس میں کا ایک حصہ کسی بزرگ کے نام قربانی کرا دیں تو اس قربانی کا کیا حکم ہے؟ اس قربانی کے عقلا و نقلا جائز ہونے میں کوئی کلام نہیں جس کی تفصیل کی یہاں پر گنجائش نہیں،مگر اول مرحلہ میں اس سوال سے الجھن ضرور پیدا ہوتی ہے کہ چند لوگوں کی یہ مشترکہ قربانی کیسے ہو سکتی ہے؟ اسی طرح کا ایک سوال حضرت فقیہ ملک علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں پیش کیا گیا تو آپ نے بڑے انوکھےاور نرالے انداز میں سادگی کے ساتھ جو جواب دیا و بڑا فرحت بخش و دل کش ہے لکھتے ہیں۔
’’جس طرح یہ جائز ہے کہ چند مسلمان شریک ہو کر ایک بکرا خریدیں اور اس کی قربانی سرکار اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے نام یا کسی دوسرے بزرگ کے نام کریں( اس میں) کوئی قباحت نہیں اسی طرح کچھ مسلمان مشترکہ طور پر بڑا جانور خرید کر ساتواں حصہ کسی بزرگ یا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے نام قربانی کریں، جائز ہے۔ اور جائز ہونے کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ جو لوگ ناجائز اور غلط کہتے ہیں ان پر لازم ہے کہ معتبر کتاب کا جزئیہ پیش کریں‘‘۔ (فتاوی فیض الرسول: ج ۲ص ۴۴۶)
(ب) سنجیدگی: جن لوگوں کا فتوی نویسی سے تعلق ہے ان کو شب و روز سائلین کے بارے میں نیا نیا تجربہ ہوتا رہتا ہے کبھی غیر ضروری اور بے ڈھنگا سوال، کبھی انداز تخاطب و طرز تکلم جہالت اور نادانیوں سے مالا مال وغیرہ وغیرہ۔
ایسے موقع پر کسی بھی مفتی کا برانگیختہ ہونا فطری بات ہے۔ بالخصوص حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ کو بر انگیختگی تو ایک لا بدی امر ہے کہ ان کے جلال باکمال سے ہر شخص واقف ہے،مگر اس جلالت شانکے باوجود بہت سارے مواقع پر جس سنجیدگی اور متانت کے ساتھ اپنے سائلین کو اپنے علمی و فقہی جام سے تشنا کام کیا ہے وہ قابل دید ہے۔ ایک صاحب نے حضرت اسماعیل کی جگہ قربان کیے گئے دنبہ کے بارے میں سوال کیا کہ وہ جنت میں کہاں سے لایا گیا تھا، ذبح کے بعد اس کا گوشت اور کھال کا کیا ہوا؟ ظاہر ہے کہ یہ سوال سائل کے لیے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ یہ اس کی عملی زندگی میں پیش آنے والے مسائل میں حرام و حلال سے دور کا بھی تعلق نہیں رکھتا ہے مگر آپ نے سائل کے نہ جانے کس دینی جذبے کا لحاظ رکھتے ہوئے بڑی سنجیدگی کے ساتھ اس کے سوال کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے۔
’’وہ منڈھا جنت سے آیا تھا اور یہ وہی مینڈھا تھا کہ جس کو حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کے صاحبزادے ہابیل نے قربانی میں پیش کیا تھا اور بعض مفسرین کا قول یہ ہے کہ وہ پہاڑی بکرا تھا روح البیان کی تفسیر سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ سر کے علاوہ باقی اجزاء کو آگ جلا کر چلی گئی لیکن ساوی و جمل میں ہے کہ ام بقیاجزاء کو درندوں اور پرندوں نے کھایا اس لیے کہ جنتی چیزوں میں آگ مؤثر نہیں ہوتی‘‘۔ ملخصا ۔(فتاوی فیض الرسول: ج:۲،ص۴۶۵)
(ج) اختصار و جامعیت: حضور فقیہ ملت کی ذات اپنے زمانے کی ایک مصروف ترین شخصیت تھی، تعلیم، تدریس تحریر، تصنیف یہ سب ان کی زندگی کی سانسیں تھیں۔ اور اسی کثرت کار اور سائلین کو جلد سے جلد حکم شرح سے آگاہ کرنے کے خالص جذبہ دینی کی وجہ سے آپ کی اکثر فتاوی مختصر ہیں، مگر اختصار میں بھی وہ کمال کی جامعیت کہ گویا "سمندر کو کوزے میں بھر دیا گیا ہو‘‘۔
اس کی مثال آپ کو ان کے مجموعہ فتاوی میں جگہ جگہ ملے گی۔ بطور نمونہ ایک مثال پیش خدمت ہے۔ علم غیب مصطفی اور حیات النبی کا مسئلہ ایک تفصیل طلب مسئلہ ہے مگر آپ نے دو تین سطر میں اس سوال کا ایک مختصر اور جامع جواب یوں تحریر فرمایا ہے۔
’’حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم عالم غیب یعنی غیب دان ضرور ہیں لیکن عالم الغیب کا اطلاق حضور پر جائز نہیں یہ تو۔ هكذا قال العلماء لاهل السنة والجماعة۔ اور بے شک حضور علیہ الصلوۃ والسلام حی یعنی زندہ ہیں۔ حدیث شریف میں ہے: ((ان الله حرم على الارض اجساد الانبياء فنبي الله حي يرزق )) ( مشکوۃ)‘‘۔ (فتاوی فیض الرسول، ج:۱،ص۲۴(
(د) حسب ضرورت تفصیل: آپ کی اکثر فتاوے مختصر ہیں جس کی وجہ میں نے ابھی ذکر کر دی ہے، مگر بعض فتاوے کافی طویل اور اعلی تحقیق و تنقیح پر مشتمل ہیں جو کئی کئی صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ان تحقیقات بدیعہ سے لطف اندوز ہونے کے لیے آپ ان کی مجموعہ فتاوی ہی کا مطالعہ کیجئے۔ یہاں پر ہم صرف ان کی تعداد جلد و صفحات کے ساتھ ذکر کرنے پر اکتفا کر رہے ہیں۔
(١) لاڈ سپیکر پر نماز کا مسئلہ: ج ۱ ، ص ٣٥٧۔
(٢) افضلیت حضرت صدیق اکبر: ج ۱ ، ص ٨٤۔
(٣) مسئلہ باغ فدک: ج ۱، ص ٩٠۔
(٤) مسئلہ حدیث قرطاس: ج ١، ص ١٠٤۔
( ٥) ذبیح اللہ کون؟حضرت اسماعیل یا حضرت اسحاق ؟ ج ١ ، ص ٣٢۔
(٦) مسئلہ عصمت انبیاء: ج ۱ ، ص ١٤٦۔
(٧) وسیلہ کی تحقیق: ج ۲، ص ٤٨٢۔
(٨) غیر صحابہ کو 'رضی اللہ عنہ' کہنا: ج ۲، ص ٤٩١۔
(٩) سجدہ تعظیمی: ج ۲، ص ٤٩٦۔
ان کے علاوہ بعض دوسرے فتاوے بھی اپنے حال و مقام کے لحاظ سے تحقیقی بھی ہیں اور طویل بھی ہیں۔
(٢) اسلوب تفہیم: اس باب کو ہم نے دو حصوں میں تقسیم کیا ہے: (١) مسائل کی تفہیم اور (٢)متعارض دلائل کی تفہیم۔
(۱)مسائل کی تفہیم: کسی مسئلے کو خود سمجھ لینا جتنا آسان کام ہے اتنا ہی مشکل دوسرے کو سمجھانا ہے نہ تو ہر سائل اعلی ذہن وفکر کا ہوتا ہے اور نہ ہی ہر مسئلے کو سمجھانا حلوہ کی طرح آسان ہوتا ہے۔ اس کا اندازہ اسی کو ہو سکتا ہے جس نے اس مغز خور میدان میں کبھی قدم رکھا ہو۔ ع:
لذت سے نہ شناسی بخدا تانہ چشی
حضور فقیہ ملت نے اس پر پیچ مرحلے کو بھی بڑی آسانی کے ساتھ طے کیا ہے جسے آپ کی فقاہت وذکاوت ، فہم و فراست اور کوہ ہمالیائی بلندیوں اور رفعتوں کا بھرپور اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس کی صرف دو مثالیں پیش کی جا رہی ہیں:
(الف) شادی میں عورتوں کے گانے کا مسئلہ: حضرت مولانا عبدالمین نعمانی قادری صاحب قبلہ مد ظلہ العالی کی شخصیت مثل شمس و قمر اجاگر ہے ان کے پاس حبیب نام کے کسی شخص نے ایک سوال پیش کیا، اس سوال کو حضرت نعمانی صاحب نے حضرت فقیہ ملت کی بارگاہ میں پیش کیا جس میں پوچھا گیا تھا کہ:
’’مومنات خواص و عوام دونوں تکمیل مسرت کے لیے شادی کی تقریبات میں نغمہ سرائی کرتی ہیں۔ مسلمانوں کے بعض حلقے اس فعل کو معصیت، کفر و شرک اور بدعت قرار دیتے ہیں، جبکہ اس کا جواز موجود ہے۔ خود آں حضرت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت عمر کی مداخلت کے باوجود شادی(عید) کے موقع پر لڑکیوں کو دف بجانے کی اجازت دی ہے صرف اس قدر نہیں بلکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ساتھ بیٹھ کر سماعت فرمایا اس حدیث کو اور اس کے راوی کو آپ صحیح اور مستند تسلیم فرماتے ہیں یا نہیں؟ خواتین زیادہ تر امیر خسرو کے نغمے گاتی ہیں۔ اور یہی نغمے عرس کے موقع پر قوال ساز پر گاتے ہیں، اجمیر شریف، پھلواری اور متعدد مقامات پر میں نے خود سنا ہے۔ ایسی حالت میں خواتین پر کس حد تک پابندی لگائی جا سکتی ہے اور شریعت انہیں کس حد تک اجازت دیتی ہے؟ آپ ازراہ کرم واضح اور شافی جواب دیں تاکہ غلط فہمیاں دور ہوں"۔ (فتاوی فیض الرسول: حظر و اباحۃ، ج۲ ، ص ٤٨٦، ٤٨٧)
یہ بظاہر ایک ہی استفتا ہے مگر سائل نے اس ایک ہی استفتے میں مندرجہ ذیل امورکا جواب پوچھا ہے: (١) عورتوں کا شادی کے موقع پر گانا کیسا ہے؟ (٢) اس کا جواز حدیث ثابت ہے ۔ (٣) مزید یہ کہ عورتیں جو نغمے گاتی ہیں وہ لغو قسم کے شعرا کے اشعار نہیں ہیں؛ بلکہ وہ اشعار حضرت امیر خسرو کے ہیں۔ (٤) یہی نغمے عرس کے موقع پر قوال حضرات بھی ساز پر گاتے ہیں۔ (٥) اجمیر شریف اور پھلواری وغیرہ بہت سے مقام پر یہی نغمہ گایا جاتا ہے۔ (٦) ان سارے امور سے عورتوں کے گانے کا جواز تو ثابت ہوتا ہی ہے اس سے بڑھ کر ثبوت جواز یہ ہے کہ خود حدیث بھی اس کے جواز پر شاہد و ناطق ہے۔ (٧) لہذا ایسی صورت حال میں عورتوں کے گانے کو ناجائز و گناہ اور کفرو شرک کہنا کیسا ہے؟ (٨) ایک طرف جواز کی حدیث ہے اور دوسری طرف عدم جواز وہکفر کے احکام ہیں جس کی وجہ سے غلط فہمی کا ہونا یقینی ہے، لہذا ہماری یہ غلط فہمی دور کی جائے ۔
حضرت فقیہ ملت نے سائل کے ان تمام شکوک و سکوق کا بھرپور علمی جلالتوں سے مامور جواب دیا اور ابتدا ہی میں فرمایا کہ عورتوں کا کسی بھی تقریب میں گانا ناجائز و گناہ ہے پھر اس کا ثبوت بھی دیا اس کے بعد فرمایا کہ اسے کفر و شریک کہنے والے بھی سخت غلطی پر ہیں اور حدیث سے اس کا جواز بتانے والے بھی مفتی مخطی ہیں اور اصل واقعہ کچھ اور ہی ہے اب حضرت کا جواب لاجواب پڑھیے سارے شبہات خود بخود تار عنکبوت کی طرح تار تار ہو جائیں گے۔ فرماتے ہیں:
’’الجواب بے شک عورتوں کو شادی وغیرہ کسی بھی تقریب میں گانا معصیت ہے، ہرگز جائز نہیں کہ ان کا گانا آواز کے ساتھ ہوتا ہے اور فتنہ ہے، یہاں تک کہ اسی فتنہ کے سبب ان کو اذان بھی کہنا جائز نہیں ۔ بحر الرائق جلد اول ص ٢٦٣ میں ہے: ’’أما أذان المراة فلأنها منهية عن رفع صوتها لأنه يؤدي الى الفتنة‘‘۔ اور گانے میں عموما وصال و ہجر کے اشعار ہوتے ہیں اورایسا گانا بہرحال برا ہے کہ وہ زنا کا منتر ہے، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے: ’’الغناء رقية الزنا، وهو مرويى عن ابن مسعود رضي الله تعالى عنه‘‘۔ ( مرقاۃ شرح مشکوٰۃ جلد ثانی ص ٢٤٩)
لیکن جو لوگ کہ عورتوں کے گانے کو کفر و شرک کہتے ہیں وہ کھلیہوئی غلطی پر ہیں اور جو لوگ اس کا جواز حدیث شریف سے مانتے ہیں وہ بھی غلطی پر ہیں اس لیے کہ (مشکاۃ شریف ص ٢٧١ باب اعلان النكاح) کی وہ حدیث جس میں یہ ذکر ہے کہ لڑکیوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دف بجا کر گایا، اس کی شرح میں امام المحدثین حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: تلك البنات لم تكن بالغات حد الشهوة. یعنی دف بجا کر گانے والی لڑکیاں حد شہوت کو پہنچی ہوئی نہیں تھیں ۔(مرقاۃ شرح مشکوٰۃ جلد سوم ص ٤١٩)
اور مشکوٰۃ شریف صفحہ ١٢٦ پر باب صلوٰۃ العیدین کی وہ حدیث جس میں یہ مذکور ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا دف کے ساتھ لڑکیوں کا گانا سن رہی تھیں اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اپنے چہرے اقدس پر کپڑا ڈالے ہوئے آرام فرما رہے تھے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ تشریف لائے اور انہوں نے لڑکیوں کو گانے سے منع کیا تو حضور نے فرمایا: ’’دعهما يا ابا بكر فانها أيام عيد‘‘۔ یعنی اے ابوبکر لڑکیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو کہ یہ عید کا دن ہے اس حدیث شریف کی شرح میں حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ ' عندھا جاریتان' کے تحت فرماتے ہیں: ’’أي بنتان صغيرتان‘‘۔ یعنی دس بجا کر گانے والی دو چھوٹی بچیاں تھیں۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ جلد ثانی ص ٢٤٩)
اور حضرت شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی بخاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں: دو دخترک بودند از دخرکان انصار۔ یعنی دف بجانے اور گانے والی انصار کی لڑکیوں میں سے دو چھوٹی لڑکیاں تھیں ۔ ( اشعۃ اللمعات جلد اول ص ٥٩٩) اور چھوٹی لڑکیاں غیر مکلفہوتی ہیں لہذا ان کے گانے سے عورتوں کے گانے کا جواز ثابت کرنا کھلی ہوئی غلطی ہے۔ اور جبکہ فتنہ کے سبق عورتوں کو اذان کہنا جائز نہیں تو انہیں امیر خسرو وغیرہ کے نغمے گانا کیوں کر جائز ہوگا۔ اور قوال وغیرہ کا اچھے سے اچھے اشعار کے ساتھ بھی ساز کا ملانا حرام ہے جیسا کہ حضرت محبوب الہی سیدنا نظام الدین سلطان الاولیاء رحمتہ اللہ تعالی علیہ فوائد الفوائد شریف میں فرماتے ہیں: مزامیر حرام است ۔ اور مزامیر جب کہ حرام و ناجائز ہے تو وہ ہر جگہ حرام و جائز رہے گا چاہے اجمیر شریف میں ہو یا مکہ معظمہ میں۔ خواتین کو گانے کے لیے پورے طور پر پابندی ہے ان کو کسی بھی درجہ میں گانے کی اجازت دینا فتنہ کا دروازہ کھولنا ہے۔ وهو سبحانه وتعالى عالم بالصواب‘‘. ( فتاوی فیض الرسول: حظر و اباحۃ، ج ٢، ص ۴۸۷،۴۸۸)
ایک قابل غور بات یہ ہے کہ سائل نے بچیوں کے گانے کے سلسلے میں حضرت عمر کی مداخلت کا ذکر کیا ہے حالانکہ وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے جیسا کہ خود حضرت مفتی صاحب قبلہ نے تحریر کیا ہے۔ مگر اپنی عادت کریمہ کے مطابق آپ نے سائل کو تنبیہ نہیں کی۔ میری ناقص فہم کے مطابق بظاہر اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت عمر کے بجائے حضرت صدیق اکبر کے نام صراحت کر دینا ہے خود ہی سائل کے قول کی تردید اور اس کی غلطی پر تنبیہ ہے لہذا سائل کے فہم و فراست پر اعتماد کر کے کھلے لفظوں میں اس پر تنبیہ کی ضرورت نہیں محسوس کی۔ مزید یہ کہ سائل خود ہی ایک ذی علم شخص ہے لہذا وہ آپ کے فتوی کو پڑھ کر سمجھ جائے گا کہ یہاں پر مجھ سے خطا ہوئی اور اپنی اصلاح کر لے گا گویا یہ چشم پوشی بھی چشم کشا ہے اور سادگی میں یہ ایک ایسا ضرب ہے جس کا احساس صرف مضروب ہی کو ہو سکتا ہے کسی صاحب دل نے ایسے ہی موقع کے لیے کہا تھا۔ ع:
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
کرتے ہیں قتل ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
(ب) عید میں نو تکبیروں کا مسئلہ: احناف کے نزدیک عیدین کی کل نو تکبیریں ہیں۔پہلی رکعت میں چار تکبیریں قبل قرأت مع تکبیر تحریمہ اور ایک تکبیر بعد قرأت رکوع کے لیے۔ اور دوسری رکعت میں چار تکبیریں بعد قرأت ہیں جن کی مجموعی تعداد نو ہے۔ اور یہ تعداد و شمار تقریبا سبھی کو معلوم ہے، مگر یہ مسئلہ سائل کے لیے پیچیدہ اور الجھن کا باعث اس وقت بن گیا جب کہ سائل نے امام ترمذی کی بیان کردہ سیدنا حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی یہ حدیث پڑھی جس میں یہ لفظ ہے: "في الركعة الأولى خمس تكبيرات قبل القرأة"۔جس کا مطلب یہ ہوا کہ پہلی رکعت میں پانچ تکبیریں قبل رکوع ہیں حالاں کہ معاملہ ایسا نہیں ہے جیسا کہ تقریبا ہر خاص و عام کو معلوم ہے کہ پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کو لے کر چار تکبیریں قبل قرأت ہوتی ہیں اور ایک تکبیر بعد قرأت ہوتی ہے۔ اسی لیے حضرت مولا علی قاری نے مرقاۃ شرح مشکوۃ میں بحوالہ امام ترمذی قول مذکور کو ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے کہ:" ففي تعبيره خمس تكبيرات قبل القرأة نوع مساحمة"۔ یعنی قبل قرأت پانچ تکبیر کہنا امام ترمذی کا تسامح ہے۔
اس سوال کو پیش کرنے والے مدرسہ اہل سنت اجمل العلوم سنبھل ضلع مراد آباد کے ایک عالم حضرت مولانا اختصاص الدین صاحب ہیں انہوں نے اس مسئلے کی تحقیق و تنقیح اور متعارض اقوال فقہا کے مابین تطبیق کے لیے آپ سے استفسار کیا ہے اور یہ بھی دریافت کیا ہے کہ مذکورہ حدیث ابن مسعود احناف کے نزدیک قابل حجت واستدلال ہے کہ نہیں؟ اس سوال نامے میں انہوں نے مختلف حدیثیں، فقہا کی عبارتیں، سلطان المناظرین حضرت علامہ شاہ مفتی محمد اجمل سنبھلی علیہ الرحمہ کے ایک رسالے کے ساتھ ہی دو عالم کے بیانات کو ملا کر تقریبا پانچ صفحے کا یہ استفتا تیار کیا ہے۔
مذکورہ دونوں عالموں میں سے دوسرے عالم نے امام ترمذی کے قول مذکور کی یہ توضیح کی تھی کہ: ’’خمس تكبيرات قبل القرأة‘‘۔ کا مطلب وہی ہے جو احناف کرتے ہیں یعنی چار تکبیریں قبل قرأت اور ایک تکبیر بعد قرأات مگر چوں کہ قرأت سے پہلے کی چار تکبیریں زیادہ ہیں اور قرأت کے بعد ایک ہی ہے جو چار سے بہت کم ہے اس لیے زیادہ کو غلبہ دیتے ہوئے کم کو مغلوب قرار دیا اور قبل قرأت جو چار تھی انہیں سے اس کو بھی ملا دیا اور فرما دیا: ’’خمس تكبيرات قبل القرأة‘‘۔ اور ان تکبیروں کی ادائیگی کی کیفیت چوں کہ احناف کے درمیان معروفمشہور ہے اس لیے علاحدہ علاحدہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں محسوس کی اور یوں ہی فرما دیا کہ: ’’في الركعة الأولى خمس تكبيرات قبل القرأة‘‘۔
حضرت فقیہ ملت نے اس پورے تفصیلی سوال کا جو مختصر اور جامع جواب دیا ہے اس کا تھوڑا سا حصہ جو تکبیر سے متعلق ہے، وہ ذیل میں مرقوم ہے حضرت دوسرے عالم کی تائید کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’شارح ترمذی اور حضرت ملا علی قاری علیہ رحمتہ الباری نے حدیث ترمذی میں خمسا قبل القرأۃ کے متعلق جو مسامحہ تحریر فرمایا ہے اس کے وہی معنی صحیح ہیں جو دوسرے عالم نے فرمایا‘‘۔( فتاوی فیض الرسول ج ۱،ص٤٣٦، باب العیدین، کتاب الصلاۃ)
دیکھنے میں یہ بظاہر بہت ہی آسان معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے صرف یہ کہہ دیا کہ دوسرے عالم کی بات صحیح ہے ۔اس میں کون سی خوبی اور لیاقت ہے؟ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس طرح تطبیق و تائید اور رفع شبہات کا منصب جلیل کتنی مشقتوں، کلفتوں اور دقتوں کے مراحل طے کرنے کے بعد حاصل ہوتا ہے یہ وہی بتا سکتا ہے جس نے اس شجرۂ تطبیق و تحقیق کی آبیاری اپنے خون و پسینے سے کی ہو۔ بقول شاعر، ع:
وہی گلشن کی حقیقت کو سمجھ سکتا ہے
جو بہاروں سے چلے اور خزاں تک پہنچے
(٢) متعارض دلائل کی تفہیم: حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ کی یہ عادت کریمہ ہے کہ آپ عموما جواب مختصر اور جامع دیتے ہیں جیسا کہ اوپر بیان ہوا، مگر جہاں تحقیق و تفصیل کی طلب یا ضرورت ہوتی وہاں تفصیل کے ساتھ پوری تحقیق پیش کر کے حق تحقیق ادا کیا ہے۔ہر تشنہ طلب گوشے کو اجاگر کر کے سائل کی الجھن دور کر دی ہے۔ یوں ہی جن جزئیات میں بظاہر باہم تعارض ہوتا ان کی تفتیش و تحقیق کے بعد اس تعارض کو دفع فرما کر حقیقت حال کو آشکارا کر دیا ہے ۔جہاں سے غلط وہم کو راہ مل رہی تھی اس کا سد باب کیا ہے یہ ساری چیزیں اس بات کی غمازی کر رہی ہیں کہ حضور فقیہ ملت کی جزئیات پر کافی گہری نظر تھی اور وہ تحقیق و تنقیح کے اعلی مقام پر فائز تھے اس کی چند مثالیں ناظرین بھی دیکھ لیں ۔
(الف)بیع سلم کے ایک جزیہ پر شبہ اور اس کا ازالہ: دارالعلوم حنفیہ جنک پور دھام ملک نیپال کے مفتی، شیر نیپال حضرت مولانا مفتی جیش محمد صدیقی برکاتی صاحب قبلہ کو بیع سلم کے ایک جزئیے کے بارے میں شبہ ہو گیا۔شبہ یہ ہے کہ بیع سلم کے شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ وقت عقد سے ختم میعاد تک مسلم فیہ کا پایا جانا ضروری ہے۔ لہذا اگر کسی نے نئے گیہوں میں سلم کیا جو بھی پیدا نہیں ہوا ہے تو یہ بیع جائز نہ ہوگی۔ یہی حکم ہدایہ، قدوری، عالم گیری اور بہار شریعت وغیرہ میں بھی ہے مگر انوار الحدیث مصنفہ حضور فقیہ ملت میں صفحہ ٣٢٤/ پر بیع سلم کے بیان میں اس طرح ہے: ’’یعنی ایسی خرید و فروخت کہ جس میں قیمت نقد اور مال ادھار ہو جائز ہے۔ مثلا زید نے فصل تیار ہونے سے پہلے بکر سے کہا کہ آپ سو روپیہ ہمیں دے دیجئے ہم فی روپیہ چار کلو گیہوں آپ کو فلاں تاریخ میں دے دیں گے تو خواہ اس وقت یا ادائیگی کے وقت بازار کا بھاؤ فی روپیہ تین کلو ہو زید پر فی روپیہ چار کلوگیہوں دینا واجب ہوگا، اس لیے کہ یہ بیع شرعا جائز ہے"۔الخ
اس سے بظاہر یہ شبہ ہوتا ہے کہ حضرت نے جو لکھا ہے کہ فصل تیار ہونے سے پہلے اس میں سلم جائز ہے یہ حکم مذکورہ دوسری کتابوں کے معارض ہے کہ ان میں وقت عقد سے ختم معیاد تک مال دستیاب ہونا مصرح ہے لہذا آپ سے اس اشکال کے دفع کرنے کی درخواست پیش کی گئی آپ نےجوابا جو فرمایا ہے اس کی تلخیص ملاحظہ کریں:
’’بے شک بیع سلم کی صحت کے شرائط میں سے ہے کہ مسلم فیہ وقت عقد سے ختم معیاد تک برابر دستیاب ہوتا رہے اس لیے کہ پورے معیاد میں مسلم فیہ کے تسلیم پر بائع کا قادر ہونا ضروری ہے اور یہ بھی صحیح ہے کہ پیدا ہونے سے پہلے نئے گیہوں اور دھان میں بیع سلم ناجائز ہے مگر اس کا مطلب یہ ہے کہ گیہوں یا دھان جب تک قابل انتفاع نہ ہو ان کی بیع سلم جائز نہیں اور جب قابل انتفاع ہو گئے تو جائز ہے اگرچہ وہ بھی کھیت سے نہ کاٹے گئے ہوں اس لیے کہ بائع مسلم فیہ کے تسلیم پر قادر ہے اور انوار الحدیث میں جو لکھا ہے کہ: ’’زیدنے فصل تیار ہونے سے پہلے" الخ، تو اس سے مراد یہ ہے کہ قابل انتفاع ہونے کے بعد اور کاٹنے سے پہلے‘‘ ۔ ملخصا ۔ ( فتاوی فیضالرسول ج ۲، ص ٤٠٧ ، ٤٠٨ ، باب السلم)
حضور فقیہ ملت نے حضرت مفتی جیش محمد صاحب کے اس اشکال کو تو دور فرما دیا مگر اس کے بعد ایک دوسرا معاملہ پیش آگیا، گویا، ع:
کٹ گیا دن تو شب ہجر کا ڈر باقی ہے
ایک سفر ختم ہوا ایک سفر باقی ہے
ہوا یوں کہجب یہ فتوی حضرت مفتی جیش محمد صاحب کو ملا تو اس فتوی اور باب سلم ہی سے متعلق بہار شریعت کے ایک دوسرے جزئیے کی وجہ سے ان کی الجھن پھر بڑھ گئی اور انہیں بہار شریعت کے جزئیے اور اس فتوی کے درمیان تعارض معلوم ہونے لگا اب وہ تعارض حضرت مفتی جیش محمد صاحب قبلہ ہی کی زبانی سنیے فرماتے ہیں:
مطالعہ کے بعد ایک شبہ کا ازالہ ہوا اور ایک کا اضافہ وہ یوں کہ اگر کھیت کی قابل انتفاع شی کو (جو ابھی بازار میں نہیں ملتی ہے) بازار میں موجود ہونے کا حکم دیا جائے جیسا کہ حضرت کے فتوی سے مفہوم ہوتا ہے تو جو شئ گھر میں موجود ہے اور بازار میں نہیں ملتی ہے اسے بدرجۂ اولی بازار میں موجود ہونے کا حکم دیا جا سکتا ہے کہ مقدور التسلیم ہے حالاں کہ بہار شریعت حصہ یازدہم صفحہ ١٧٥ پر موجود ہونے کا یہ معنی بیان فرمایا ہے کہ: ’’بازار میں ملتا ہو اور اگر بازار میں نہ ملتا ہو اور گھروں میں ملتا ہو تو موجود ہونا نہ کہیں گے‘‘۔ تو فتوی اور بہار شریعت کی اس عبارت میں ٹکراؤ مفہوم ہوتا ہے، اندفاع کی صورت تحریر فرمائیں "۔ (نفس مصدر: ص ٤٠٩)
یہ تعارض بظاہر بڑا زبردست ہے، مگر حضور فقیہ ملت نے جس سنجیدگی اور آسانی سے اسے دفعہ کر کے سائل کو اطمینان بخشا ہے وہ یقینا آپ ہی کا حصہ ہے۔ ہدایہ اور فتح القدیر سے حوالہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’کھیت کی قابل انتفاع کو بازار میں موجود ہونے کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ جب وہ قابل انتفاع ہے تو بائع اس کی تسلیم پر قادر ہے اور بہار شریعت کی عبارت بازاروں میں نہ ملنے اور گھروں میں پائے جانے کا معنی یہ ہے کہ وہ فروخت نہ ہوتی ہے، اور بازاروں میں ملنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ فروخت ہوتی ہو لہذا گھروں میں جو شئ موجود ہے اگر فروخت ہوتی ہے تو بے شک اسے بھی بازاروں میں ملنا ہی کہیں گے اس لیے کہ وہ مقدور التسلیم ہے۔ اور اگر بازاروں میں ہے، مگر فروخت نہیں ہوتی ہے تو اسے بازاروں میں ملنا نہ کہیں گے اس لیے کہ بائع اس کی تسلیم پر قادر نہیں۔
اصل یہ ہے کہ بیع سلم کے صحیح ہونے کی ایک شرط قدرت علی التحصیل ہے اور قدرت اور علی التحصیل سے مراد عدم انقطاع ہے ، لہذا جب مسلم فیہ کھیت، بازار یا گھر کہیں سے حاصل ہو سکے تو عدم انقطاع کی شرط پائی گئی، بیع سلم صحیح ہے۔ اور اگر کہیں سے نہ مل سکے تو صحیح نہیں‘‘۔ وهو تعالى أعلم۔ (نفس مصدر: ص ٤٠٩)
یہاں حضرت فقیہ ملت نے سائل کی الجھن کا ازالہ بھی کیا اور بظاہر دو دلائل میں جو تعارض تھا اس کو رفع بھی کیا مزید یہ کہ کسی شئ کے بازار میں ملنے کا سیدھا،سادھا اور آسان مطلب بیان کر کے جزئیات پر غائرانہ نظر اور دقت نظر فقہی کی اعلی مثال پیش کی ہے اور اس سے بھی اہم کارنامہ یہ ہے کہ صورت مسئلہ کو حسب سابق بعینہ برقرار رکھتے ہوئے انوار الحدیث کی جو یہ عبارت تھی ’’یعنی فصل تیار ہونے سے پہلے‘‘ اسے حذف کر دیا تاکہ آئندہ اس طرح کے شبہ کا دروازہ ہی بند ہو جائے ۔
اس طرح کی تطبیقیں آپ کے فتاوی میں جگہ جگہ موجود ہیں جن کی قدرے تفصیل ہم نے اپنے مقالہ "حضور فقیہ ملت کی فقہی بصیرت" میں ذکر کی ہے۔ فتاوی فیض الرسول کے اسلوب تحریر و تفہیم سے متعلق یہ چند باتیں بطور نمونہ ہم نے یہاں پیش کر دی ہیں تفصیلی کے لیے حضرت کا مجموعہ فتاوی ملاحظہ فرمائیں۔ ہم نے اپنے علمی بساط کے مطابق جو کچھ بیان کیا ہے اس سے کروڑوں درجہ آپ انہیں بلند وبالا پائیں گے۔ مولا کریم حضور فقیہ ملت کا فیضان ہم سب پر جاری و ساری رکھے۔آمین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
