Feb 7, 2026 06:11 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
جھوٹ پھیلانے میں میڈیا کا اہم کردار

جھوٹ پھیلانے میں میڈیا کا اہم کردار

05 Jan 2026
1 min read

جھوٹ پھیلانے میں میڈیا کا اہم کردار

از محمد عادل ارریاوی

محترم قارئین آج  کے جدید دور میں میڈیا معلومات کا بڑا ذریعہ بن چکا ہے مگر اس میں سچ اور جھوٹ کی آمیزش عام ہے اس لیے ہر خبر کو بلا تحقیق قبول کرنے کے بجائے اس کی تصدیق ضروری ہے موجودہ دور میں اکثر لوگ مختلف ذرائع ابلاغ اور میڈیا کے ساتھ اس قدر وابستہ ہو چکے ہیں کہ دنیا بھر کے حالات واقعات اور معلومات سے آگاہی کا انحصار بڑی حد تک بلکہ اکثر و بیشتر میڈیا ہی پر ہو گیا ہے ٹی وی اور انٹرنیٹ ہر گھر تک پہنچ چکے ہیں روز مرہ کے اخبارات اپنی جگہ موجود ہیں اس کے علاوہ موبائل فون کے ذریعے بھی بے شمار خبری ذرائع فعال ہیں لیکن ذرائع ابلاغ اور میڈیا میں پائی جانے والی دیگر خرابیوں اور منکرات سے قطع نظر خبر رسانی واقعات کی ترسیل اور حالات کے تجزیے میں ان کا کردار اور طرز عمل عموماً نہایت نامناسب مایوس کن اور خلطِ مبحث پر مبنی ہو چکا ہے جو اکثر مکر و فریب اور دجل و تلبیس کی صورت اختیار کر لیتا ہے مختلف مادی اور مالی مفادات اور پست اغراض کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے سچ کو جھوٹ جھوٹ کو سچ حق کو باطل باطل کو حق مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا کر پیش کرنا میڈیا کے ان سامری جادوگروں اور شعبدہ بازوں کا پیشہ اور معمول بن چکا ہے ان کے شب و روز کے مشاغل کا بڑا حصہ اسی عمل پر مشتمل ہوتا ہے اور ان کی آمدنی کا بڑا حصہ بھی اسی باطل طرزِ عمل کا نتیجہ ہوتا ہے بسا اوقات پوری دنیا کے سامنے کھلے عام جھوٹ بولا جاتا ہے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ خبر جھوٹ اور پروپیگنڈے پر مبنی ہے لوگ اس میں دلچسپی لیتے ہیں اور اس سے وابستہ رہتے ہیں پھر بے باکی کے ساتھ اپنی نفسانی دنیاوی اور جاہ و منصب کی خواہشات کی بنیاد پر جھوٹ بولنا اور جھوٹی و مصنوعی خبریں نشر کرنا اب صرف بین الاقوامی یا سرکاری میڈیا تک محدود نہیں رہا بلکہ نجی میڈیا بھی اس میدان میں پیش پیش ہے اسی وجہ سے دنیا اور ملک میں پھیلے ہوئے انتشار خلفشار اور فتنہ و فساد کا ایک بڑا سبب بھی یہی میڈیا بن چکا ہے ایسے حالات میں میڈیا سے وابستگی رکھنے کے باوجود انسان کا حق اور سچ پر قائم رہنا نہایت مشکل ہو گیا ہے مسلسل تجربات اور مشاہدات سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ موجودہ دور کے مروجہ ذرائع ابلاغ پر سچ

اور جھوٹ کے معاملے میں مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا دوسری جانب عام لوگوں کے مزاج میں کسی خبر کی تصدیق یا تردید کے لیے تحقیق کرنے کا صحیح ذوق بھی باقی نہیں رہا جس کی وجہ سے یہ توقع کرنا بھی مشکل ہے کہ جھوٹ کی آسانی سے تردید اور سچ کی تصدیق ہو سکے اور انسان جھوٹے پروپیگنڈے فریب اور حق و باطل کی آمیزش سے محفوظ رہ سکے لہٰذا حق اور باطل کو سمجھنے اور سچ و جھوٹ میں فرق کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان میڈیائی دنیا سے کچھ فاصلے پر رہ کر اپنی عقل و فہم کا درست استعمال کرے اور حقائق اور غیر حقائق نیز حق و باطل کے درمیان امتیاز کرنے کی کوشش کرے یہ اسی وقت ممکن ہے جب انسان کسی حد تک میڈیا کے اثرات سے خود کو بچائے اور شریعت کی طرف سے بتائے گئے تصدیق و تکذیب کے اصولوں کو اختیار کرے اس سلسلے میں قرآنِ مجید کا واضح حکم یہ ہے يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ

(سورۃ الحجرات 6)

 اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی 

خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو جاؤ۔قرآنِ مجید کے اس حکم سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فاسق کی خبر پر اس وقت تک اعتماد نہیں کرنا چاہیے جب تک مکمل تحقیق اور چھان بین کے بعد اصل حقیقت واضح نہ ہو جائے کیونکہ ممکن ہے کہ کسی فاسق نے کسی فاسد مقصد کے تحت جھوٹی بات بیان کر دی ہو جب فاسق کی بات کی بھی تحقیق کا حکم دیا گیا ہے تو کافر کی بات تو بدرجۂ اولیٰ زیادہ کمزور ہے اس کی خبر کی تحقیق کیوں ضروری نہ ہوگی؟ عام طور پر اگرچہ میڈیا کے ذمہ دار کافر نہ بھی ہوں تو ان میں فاسقوں کی کثرت سے انکار بھی ممکن نہیں اس کے باوجود تعجب کی بات یہ ہے کہ میڈیا اور ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والی ہر سچی یا جھوٹی خبر پر فوراً یقین کر لیا جاتا ہے اور دن رات اس کے چرچے ہونے لگتے ہیں پھر بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ خبر سراسر جھوٹ کا پلندا تھی۔ لہٰذا موجودہ میڈیا اور ذرائع ابلاغ سے نشر ہونے والی ہر خبر کو بلا تحقیق قبول کرنے اور اس پر فوری یقین کرنے کے رویے سے خود کو بچانا چاہیے اور تحقیق کے بغیر کسی قسم کا فیصلہ یا حکم لگانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔اے اللہ ربّ العزت ہمیں سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ پہچاننے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں ہر قسم کے فتنہ و گمراہی سے محفوظ رکھ 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383