ماہِ رجب کی فضیلت و عظمت.
ابو علی معاویہ
"آصف جمیل امجدی"
رجبُ المرجب کا نورانی چاند طلوع ہو چکا ہے اور برکتوں، رحمتوں اور مغفرتوں سے بھرپور اس عظیم مہینے کا آغاز ہو گیا ہے۔ رجب اسلامی سال کا ساتواں مہینہ ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے خاص عظمت و احترام عطا فرمایا ہے۔
لفظ رجب، ترجیب سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں تعظیم کرنا، بزرگی دینا۔ یہی وجہ ہے کہ اس مہینے کو حرمت والا مہینہ قرار دیا گیا۔ زمانۂ جاہلیت میں بھی اس ماہ میں جنگ و جدال ترک کر دیے جاتے تھے، اسی لیے اسے رجب الاصم کہا جاتا تھا یعنی وہ مہینہ جس میں ہتھیاروں کی آوازیں سنائی نہیں دیتیں۔
رجب شریف کو رجب الاصب بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس مہینے میں اللہ عزوجل اپنے بندوں پر اپنی رحمت و مغفرت کے خصوصی فیوض و برکات نازل فرماتا ہے۔ اس ماہ میں کی گئی عبادات توبہ و استغفار اور دعائیں بارگاہِ الٰہی میں خصوصی قبولیت رکھتی ہیں۔
اسی بابرکت مہینے کی ستائیسویں شب کو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب خاتم النبیین ﷺ کو معراج کا عظیم الشان معجزہ عطا فرمایا آسمانوں کی سیر کرائی اور قربِ خاص سے نوازا۔ یہ واقعہ ماہِ رجب کی عظمت و رفعت کا روشن ترین ثبوت ہے۔ تاریخِ اسلام میں بھی رجب شریف کو خاص مقام حاصل ہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے 583ھ (1187ء) میں اسی مقدس مہینے میںبیت المقدس فتح فرمایا اور مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر عاجزانہ سجدۂ شکر ادا کیا جو اس ماہ کی روحانی عظمت کا زندہ نمونہ ہے۔حدیثِ مبارکہ میں بھی ماہِ رجب کے روزوں کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے۔ الجامع الصغیر میں منقول ہے کہ"رجب کے پہلے دن کا روزہ تین سال، دوسرے دن کا دو سال، اور تیسرے دن کا ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ اور اس کے بعد ہر دن کا روزہ ایک مہینے کا کفارہ ہے۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اس مقدس مہینے کو غفلت میں نہ گزاریں بل کہ عبادت، ذکر، درود شریف، روزہ اور نیک اعمال میں اضافہ کریں اور اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمتوں سے بھرپور فائدہ حاصل کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں ماہِ رجب کی برکتوں کو سمیٹنے اور اس کے فیوض سے مالا مال ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
آصف جمیل امجدی
نامہ نگار شان سدھارتھ انڈیا
