جب تعلیم مزاحمت بن گئی تحریکِ آزادی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ
پروفیسر محسن علی صدر شعبہ فارسی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی
15 اگست 2026ء
ہندوستان کی آزادی کی تاریخ صرف سیاسی تحریکوں، جلسوں، جلوسوں، جیلوں اور قربانیوں کی تاریخ نہیں ہے. یہ ایک ایسی ہمہ گیر جدوجہد کی داستان بھی ہے جس میں قلم نے تلوار کا کام کیا، درس گاہوں نے مزاحمت کے مراکز کی حیثیت اختیار کی اور تعلیم نے قومی خود اختیاری کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا. اگر آزادی کی تحریک کو صرف سیاسی تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو اس کے کئی اہم پہلو ہماری نگاہ سے اوجھل رہ جاتے ہیں. ان ہی پوشیدہ مگر نہایت اہم پہلوؤں میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کا کردار بھی شامل ہے.
15 اگست 2026ء کو جب ہندوستان اپنا 80واں یومِ آزادی منا رہا ہے تو جامعہ کی تاریخ کو محض ایک قدیم تعلیمی ادارے کی تاریخ کے طور پر یاد کرنا کافی نہیں. جامعہ کی پیدائش ہی اس سوال کے جواب میں ہوئی تھی کہ ایک محکوم قوم اپنی آزادی کے لیے کس طرح تعلیم کو ایک مؤثر وسیلہ بنا سکتی ہے. 1920ء میں علی گڑھ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام اسی قومی اضطراب، نوآبادیاتی نظام سے اختلاف اور قومی تعلیم کی ضرورت کے ماحول میں ہوا. جامعہ کی سرکاری تاریخ کے مطابق اس کے قیام میں خلافت اور عدمِ تعاون کی تحریکوں، قومی جذبے اور نوآبادیاتی تعلیمی اداروں کے بائیکاٹ نے بنیادی کردار ادا کیا. یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے. آخر تعلیم مزاحمت کیسے بن سکتی ہے. عام طور پر مزاحمت سے ہماری مراد سیاسی احتجاج، مظاہرے، بائیکاٹ یا جیل کی صعوبتیں ہوتی ہیں. لیکن استعمار صرف زمین پر حکومت نہیں کرتا وہ ذہنوں، نصاب، زبان، علم اور تاریخ پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا ہے. اس لیے نوآبادیاتی نظام کے خلاف ایک آزاد تعلیمی ادارہ قائم کرنا بھی ایک گہری فکری مزاحمت تھی. جامعہ کا قیام اسی تصور کی عملی تعبیر تھا. 1920ء کا ہندوستان سیاسی بیداری کے ایک اہم مرحلے سے گزر رہا تھا. جلیانوالہ باغ کے سانحے، رولٹ ایکٹ، خلافت کے مسئلے اور برطانوی حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی بے چینی نے قومی سیاست کو نئی سمت دی. مہاتما گاندھی نے عدمِ تعاون کی تحریک کے ذریعے برطانوی حکومت کے زیرِ انتظام اداروں کے بائیکاٹ کی اپیل کی. اسی ماحول میں ایسے قومی رہنماؤں اور اہلِ علم کا ایک گروہ سامنے آیا جو یہ سمجھتا تھا کہ آزادی کی جدوجہد صرف سیاسی اداروں کے بائیکاٹ تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ متبادل قومی ادارے بھی قائم کیے جانے چاہئیں. جامعہ ملیہ اسلامیہ اسی سوچ کا نتیجہ تھی.

شیخ الہند مولانا محمود حسن، مولانا محمد علی جوہر، حکیم اجمل خان، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، عبدالمجید خواجہ اور دوسرے قومی رہنماؤں نے جامعہ کے قیام اور اس کی ابتدائی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا. 29 اکتوبر 1920ء کو جامعہ کی بنیاد رکھی گئی اور حکیم اجمل خان اس کے پہلے امیرِ جامعہ منتخب ہوئے. مولانا محمد علی جوہر اس کے پہلے وائس چانسلر بنے. لیکن جامعہ کا اصل انقلابی پہلو
اس کی عمارت یا انتظامی ڈھانچے میں نہیں تھا اس کی اصل قوت اس کے تصورِ تعلیم میں تھی. جامعہ کا مقصد ایسی تعلیم فراہم کرنا تھا جو ہندوستانی سماج کی ضرورتوں سے ہم آہنگ ہو، جو اپنی زبانوں اور تہذیبی روایت سے جڑی ہو اور جو طلبہ میں محض ملازمت حاصل کرنے کی خواہش نہیں بلکہ قومی اور سماجی ذمہ داری کا احساس بھی پیدا کرے. جامعہ کے تاریخی وژن میں قومی تعلیم، ہندوستانی زبانوں، کثرت پر مبنی قومیت اور نوآبادیاتی اثرات سے فکری آزادی کو اہم مقام حاصل تھا. یہی وہ مقام ہے جہاں جامعہ کی تاریخ آزادی کی تحریک کی ایک وسیع تر تعبیر پیش کرتی ہے.
اگر استعمار یہ طے کرنا چاہتا تھا کہ ہندوستانی نوجوان کیا پڑھیں، کس زبان میں پڑھیں، اپنے ماضی کو کس نظر سے دیکھیں اور مستقبل کے بارے میں کیا سوچیں تو جامعہ نے اس کے مقابل ایک متبادل راستہ اختیار کیا. اس نے تعلیم کو ہندوستانی سماج کے اندر سے تشکیل دینے کی کوشش کی. یوں جامعہ کی جدوجہد سیاسی آزادی کے ساتھ ساتھ فکری آزادی کی جدوجہد بھی تھی. جامعہ کی تاریخ کا ایک اور اہم پہلو اس کے اساتذہ اور طلبہ کی عملی شرکت ہے. جامعہ کے سرکاری تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس کے اساتذہ اور طلبہ نے آزادی کی تحریک میں حصہ لیا، ملک کے مختلف حصوں میں رضاکار بھیجے اور قومی بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی. نوآبادیاتی حکومت نے جامعہ سے وابستہ متعدد اساتذہ اور طلبہ کو گرفتار بھی کیا. یہ حقیقت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جامعہ میں تعلیم اور سیاست دو الگ دنیائیں نہیں تھیں. تعلیم خود ایک سیاسی اور اخلاقی عمل بن گئی تھی. کلاس روم میں پڑھایا جانے والا سبق اور کلاس روم سے باہر کی قومی جدوجہد ایک دوسرے سے مربوط تھے. یہی وجہ ہے کہ جامعہ کا تصور صرف ایک مسلم تعلیمی ادارے کے طور پر نہیں بلکہ ایک قومی ادارے کے طور پر تشکیل پایا. اس کے نام میں موجود لفظ ”ملیہ“ یعنی ”قومی“ اس کے بنیادی تصور کی طرف اشارہ کرتا ہے. جامعہ کے وژن میں ایسی قومی ثقافت کی تشکیل شامل تھی جو ہندوستان کی مختلف مذہبی اور ثقافتی روایتوں کو ایک وسیع تر قومی فریم میں دیکھتی تھی.
اس سلسلے میں رابندر ناتھ ٹیگور کا جامعہ کو ہندوستان کے ترقی پسند تعلیمی اداروں میں شمار کرنا خاص اہمیت رکھتا ہے. جامعہ کی تاریخ میں گاندھی اور ٹیگور جیسے رہنماؤں کی دلچسپی اس بات کی علامت تھی کہ اس ادارے کو صرف ایک محدود طبقے کی تعلیمی ضرورت نہیں بلکہ ہندوستان کے وسیع قومی مستقبل کے ایک تجربے کے طور پر دیکھا جا رہا تھا. جامعہ کی بقا بھی اپنی جگہ ایک داستان ہے. عدمِ تعاون اور خلافت کی تحریکوں کے خاتمے کے بعد 1920ء کی دہائی کے وسط میں جامعہ شدید مالی اور انتظامی بحران سے دوچار ہوئی. ایسا محسوس ہونے لگا کہ شاید یہ ادارہ اپنے ابتدائی مقصد کی تکمیل کے بعد ختم ہوجائے گا. لیکن جامعہ کے رہنماؤں نے اسے ختم ہونے نہیں دیا. حکیم اجمل خان نے مالی مشکلات کے باوجود جامعہ کی حمایت جاری رکھی جبکہ ڈاکٹر ذاکر حسین نے 1926ء سے 1948ء تک اپنی طویل قیادت کے دوران جامعہ کو ایک مضبوط تعلیمی ادارے میں تبدیل کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا. یہاں جامعہ کی تاریخ ہمیں مزاحمت کے ایک اور مفہوم سے روشناس کراتی ہے. مزاحمت صرف حکومت کے خلاف کھڑے ہونے کا نام نہیں بعض اوقات مشکل حالات میں ایک نظریے کو زندہ رکھنا بھی مزاحمت ہوتا ہے. ڈاکٹر ذاکر حسین اور ان کے رفقا نے جامعہ کو ایک ایسے تعلیمی ادارے میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جہاں تعلیم زندگی سے مربوط ہو. بعد میں جامعہ میں بنیادی تعلیم، اساتذہ کی تربیت، دستکاری پر مبنی تعلیم اور عملی تربیت جیسے تصورات کو فروغ ملا. 1938ء میں ڈاکٹر ذاکر حسین کی قیادت میں ٹیچر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا قیام بھی اسی وسیع تعلیمی وژن کا حصہ تھا. یہ تصور آج بھی حیران کن طور پر جدید محسوس ہوتا ہے. کیونکہ آزادی کا سوال صرف یہ نہیں تھا کہ ہندوستان پر حکومت کون کرے گا سوال یہ بھی تھا کہ ہندوستانی شہری کس طرح کے انسان بنیں گے. ایک ایسی تعلیم جو انسان کو اپنے معاشرے، تاریخ، زبان اور اخلاقی ذمہ داری سے کاٹ دے سیاسی آزادی کے باوجود ذہنی غلامی پیدا کرسکتی ہے. اس کے برعکس وہ تعلیم جو سوال کرنا، سوچنا، اختلاف کرنا، مکالمہ کرنا اور اپنے معاشرے کے لیے ذمہ داری محسوس کرنا سکھائے حقیقی آزادی کی بنیاد بن سکتی ہے. اسی لیے جامعہ کی داستان ہمیں آج بھی یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آزادی کا تعلق صرف سیاسی اقتدار سے نہیں بلکہ علم کی آزادی، فکر کی آزادی اور تعلیم کی خودمختاری سے بھی ہے.
اردو کے شاعر اکبر الہ آبادی کا مشہور شعر اس تناظر میں نہایت معنی خیز محسوس ہوتا ہے:
دنیا میں ہوں دنیا کا طلبگار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
جامعہ کی ابتدائی روح میں بھی یہی خود اعتمادی نظر آتی ہے نوآبادیاتی نظام سے مکمل فکری انحصار کے بجائے اپنے تعلیمی راستے کی تلاش.
فارسی شاعر سعدی کا یہ شعر بھی تعلیم کے اخلاقی مقصد کی یاد دلاتا ہے:
علم چنداں کہ بیشتر خوانی
چون عمل در تو نیست نادانی
یعنی اگر علم بہت حاصل کرلو لیکن اس کے مطابق عمل نہ ہو تو محض علم انسان کو دانا نہیں بناتا.
جامعہ کے لیے تعلیم اسی لیے محض کتابی علم نہیں تھی. تعلیم کا مقصد انسان بنانا، ذمہ دار شہری تیار کرنا اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کی صلاحیت پیدا کرنا تھا. آج جب ہندوستان آزادی کے 80ویں یومِ آزادی کا جشن منا رہا ہے. جامعہ کی یہ تاریخ ایک نئے سوال کے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہے. کیا آج ہماری تعلیم ہمیں واقعی آزاد ذہن بنا رہی ہے. یہ سوال کسی ایک ادارے تک محدود نہیں. ہر یونیورسٹی، ہر استاد اور ہر طالب علم کو اس پر غور کرنا چاہیے. اگر تعلیم صرف امتحان، ڈگری اور ملازمت تک محدود ہوجائے تو وہ آزادی کی اس روح کو کمزور کردیتی ہے جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے جدوجہد کی تھی. لیکن اگر تعلیمتنقیدی فکر، سائنسی مزاج، سماجی انصاف، انسانی وقار، ثقافتی شعور اور قومی ذمہ داری کو فروغ دے تو وہ آج بھی مزاحمت کی ایک طاقتور شکل بن سکتی ہے. جامعہ کی تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ آزادی کا سفر 15 اگست 1947ء پر ختم نہیں ہوا تھا. سیاسی آزادی کے بعد بھی ایک قوم کو جہالت، غربت، تعصب، عدم مساوات اور فکری غلامی کے خلاف مسلسل جدوجہد کرنا ہوتی ہے. اس لیے 15 اگست 2026ء کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طرف دیکھنا دراصل ہندوستان کی آزادی کے ایک اہم مگر کم زیرِ بحث پہلو کی طرف دیکھنا ہے.
جامعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کبھی کبھی سب سے طاقتور نعرہ کلاس روم میں بلند ہوتا ہے، کبھی سب سے گہری مزاحمت نصاب کی تشکیل میں ہوتی ہے، کبھی قومی آزادی ایک نئی درس گاہ قائم کرنے سے شروع ہوتی ہے اور کبھی ایک استاد کا اپنے طلبہ کو آزادانہ سوچنے کی تربیت دینا بھی آزادی کی جدوجہد بن جاتا ہے.
جامعہ ملیہ اسلامیہ اسی تاریخی شعور کی ایک زندہ علامت ہے. یہ اس یقین کی علامت ہے کہ قلم بھی مزاحمت کرسکتا ہے، تعلیم بھی آزادی کی بنیاد بن سکتی ہے اور ایک درس گاہ بھی قوم کی تعمیر کا محاذ بن سکتی ہے. آج آزادی کے 80ویں سال میں ہمیں شاید یہی عہد تازہ کرنے کی ضرورت ہے کہ تعلیم کو صرف معاشی ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ آزاد فکر، قومی تعمیر اور انسانی ترقی کا وسیلہ بنایا جائے. کیونکہ سیاسی غلامی سے آزادی ایک قوم کو آزاد ملک دیتی ہے لیکن فکری آزادی اسے ایک آزاد قوم بناتی ہے. اور یہی وہ مقام ہے جہاں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاریخ آج بھی ہمارے لیے زندہ، متعلق اور معنی خیز ہوجاتی ہے.
