Aug 11, 2026 04:54 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
جمعیۃ علماء شہر میرٹھ کی چوتھی مجلس عاملہ و تحفظِ مدارس اجلاس منعقد،

جمعیۃ علماء شہر میرٹھ کی چوتھی مجلس عاملہ و تحفظِ مدارس اجلاس منعقد،

11 Aug 2026
1 min read

*جمعیۃ علماء شہر میرٹھ کی چوتھی مجلس عاملہ و تحفظِ مدارس اجلاس منعقد، متعدد تنظیمی، تعلیمی، رفاہی اور اصلاحی فیصلے

 میرٹھ 4 اگست جمعیۃ علماء شہر میرٹھ کی چوتھی مجلس عاملہ اور تحفظِ مدارس کے عنوان سے ایک اہم اجلاس بتاریخ 20/ صفر المظفر 1448ھ مطابق: 4 /اگست 2026ء بروز :منگل ،صبح: 10 بجے ،مدرسہ حسینیہ ولایت الاسلام، لہساڑی روڈ، میرٹھ شہر میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت صدرِ جمعیۃ علماء شہر میرٹھ حضرت مفتی محمد جنید صاحب حقی نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض جنرل سکریٹری مفتی محمد ارشد صاحب قاسمی نے انجام دیے۔ اس موقع پر حضرت مفتی محمد قاسم رضی صاحب(کنوینر اصلاح معاشرہ جمعیت علماء اترپردیش وکنوینر شعبہ تحفظ مدارس صوبہ اتر پردیش و اتراکھنڈ ) بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے،

اجلاس کا آغاز مدرسہ ہٰذا کے ایک طالب علم مولوی مطیع اللہ کی پرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، اس کے بعد ایک دوسرے طالب علم محمد شہادت نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی، جبکہ جمعیۃ علماء کا ترانہ قاری محمد ہاشم صغیر صاحب نے پیش کیا۔

اس کے بعد تمہیدی گفتگو میں اجلاس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی گئی اور گزشتہ (تیسری) مجلس عاملہ سے اب تک کی تنظیمی کارکردگی پیش کی گئی۔ بتایا گیا کہ اس عرصے میں چار تربیت المعلمین ورکشاپ، دو بڑے عوامی پروگرام (1)دینی تعلیمی بیداری (2) ماہِ محرم الحرام کی بدعات و رسومات کے موضوع پر منعقد کیے گئے۔

اس موقع پر کھرکھودہ کی اس مسجد کے دورے کا بھی تذکرہ کیا گیا، جسے زمین کے تنازع کے سلسلے میں نوٹس موصول ہوا تھا۔ بتایا گیا کہ حضرت مولانا حکیم الدین صاحب ناظمِ عمومی جمعیۃ علماء ہند کی ہدایت پر وفد نے مسجد کا دورہ کیا، کمیٹی سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ جمعیۃ علماء ہر مرحلے پر ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی رہے گی اور قانونی و تنظیمی سطح پر ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔

اجلاس میں جمعیۃ علماء کی رفاہی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ حال ہی میں آنکھوں کا طبی کیمپ منعقد کیا گیا، جس میں متعدد مریضوں کا معائنہ ہوا، اور جن افراد کو آپریشن کی ضرورت ہے، ان کے کم سے کم یا بلا معاوضہ علاج کی کوشش کی جائے گی( ان شاء اللہ )

اسی طرح مختلف دینی و سماجی تنظیموں کے اشتراک سے "دینی تعلیمی بیداری کارواں" کے عنوان سے ایک بیداری ریلی نکالی گئی، جس کے ذریعے عوام بالخصوص نئی نسل کو دینی تعلیم کی اہمیت کی طرف متوجہ کیا گیا۔

دینی تعلیمی بورڈ کی رپورٹ 

بعد ازاں کنوینر دینی تعلیمی بورڈ مولانا عبدالملک صاحب قاسمی نےدینی تعلیمی بورڈ کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ دینی تعلیمی بورڈ کا نصاب نہایت منظم اور مفید ہے، اسے وسیع پیمانے پر اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکاتب ملت کی دینی بنیاد اور ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اب تک 19 نئے مکاتب قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ مستقبل قریب میں 60 مکاتب کے قیام کا ہدف مقرر ہے۔

اصلاحِ معاشرہ کی رپورٹ

 اس کے بعد ناظم اصلاحِ معاشرہ مفتی محمد بلال صاحب قاسمی نے شعبہ اصلاحِ معاشرہ کی تفصیلی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ شعبہ 1991 میں باقاعدہ قائم کیا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد معاشرے میں دینی اقدار کا تحفظ اور فروغ ہے

انہوں نے بتایا کہ شعبہ اصلاحِ معاشرہ کے چار بنیادی مقاصد ہیں: 

- برائیوں کا خاتمہ -

 خواتین کے حقوق کا تحفظ 

- دینی تعلیم و تربیت کا فروغ

 - نکاح میں سادگی 

انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک شعبہ اصلاحِ معاشرہ کے تحت: -

 کل پروگرام: 385 - 

مردوں کے پروگرام

: 309 - مستورات کے پروگرام: 

76 منعقد کیے جا چکے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ آئندہ ربیع الاول میں تقریباً 100 پروگرام منعقد کرنے کا منصوبہ ہے اور ہر یونٹ کو کم از کم دو چھوٹے اور ایک بڑا پروگرام منعقد کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

 درسِ قرآن کی رپورٹ

 اس کے بعد مفتی محمد عمیر صاحب نے درسِ قرآن کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ میرٹھ شہر میں اس وقت 57 مقامات پر باقاعدہ درسِ قرآن جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر مسجد میں روزانہ، ہفتہ واری یا ماہانہ ترجمۂ قرآن و تفسیر کا مستقل سلسلہ شروع کیا جائے۔ اس سلسلے میں واضح ہدایات بھی جاری کی گئیں کہ: - درسِ قرآن ایسے علماء کرام دیں جو معتبر دینی اداروں کے فارغ التحصیل، صاحبِ استعداد اور اکابر کی فکر کے پابند ہوں۔ - ترجمۂ شیخ الہند، تفسیر عثمانی اور معارف القرآن کو بنیادی مراجع بنایا جائے۔ - اگر پڑھ کر سنایا جائے تو تفسیر عثمانی سے استفادہ کیا جائے۔ -

 درس مختصر، عام فہم اور باقاعدگی کے ساتھ جاری رکھا جائے۔ درسِ حدیث کی رپورٹ مفتی محمد قربان صاحب نے درسِ حدیث کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اس شعبے میں ابھی کچھ کمزوری موجود ہے، تاہم ان شاء اللہ جلد ہی اس کو منظم اور فعال بنا دیا جائے گا۔ تربیتی ورکشاپ کا اہم فیصلہ اجلاس میں تفصیلی غور و خوض کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ جمعیۃ علماء شہر میرٹھ کے زیر اہتمام ایک تربیتی ورکشاپ (ان شاء اللہ) 6 /ربیع الاول 1448ھ مطابق :20 /اگست 2026ء بروز جمعرات ،شہر میرٹھ میں منعقد ہوگا بتایا گیا کہ جمعیۃ علماء ہند اس وقت ملک بھر میں 34 متحرک شعبوں پر کام کر رہی ہے، جن میں سے اہم شعبوں کا تعارف، ان کی پریزنٹیشن اور عملی طریقۂ کار اس ورکشاپ میں پیش کیا جائے گا تاکہ ذمہ داران ہر شعبے میں مؤثر انداز سے خدمات انجام دے سکیں۔ یوتھ کلب کے آغاز کا فیصلہ اجلاس میں یوتھ کلب کے حوالے سے بھی اہم فیصلہ کیا گیا کہ تربیتی ورکشاپ کے موقع پر تمام ذمہ داران کا خصوصی مشاورتی اجلاس منعقد ہوگا تاکہ جمعیۃ علماء ہند کے اس اہم شعبے کا باقاعدہ آغاز کیا جا سکے۔

 اس موقع پر مولانا سلیم نعمانی نے شعبے کا تعارف اور اس کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ مجلسِ منتظمہ کی تاریخ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ جمعیۃ علماء شہر میرٹھ کی دوسری مجلس منتظمہ ان شاء اللہ 15 /ربیع الثانی 1448ھ مطابق :27/ ستمبر 2026ء بروز اتوار منعقد ہوگی۔ شعبۂ خیر (ملت فنڈ) جمعیۃ علماء ہند کے اہم شعبہ شعبۂ خیر (ملت فنڈ) پر بھی گفتگو ہوئی۔ طے پایا کہ اس شعبے کی مضبوطی کے لیے ایک کل وقتی کارکن تیار کیا جائے، جسے پہلے مرکزی دفتر بھیج کر تربیت دلائی جائے گی، بعد ازاں میرٹھ میں اس کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ اس مقصد کے لیے کم از کم دو افراد کے انتخاب کی ذمہ داری مفتی محمد یامین صاحب کے سپرد کی گئی۔ سدبھاؤنا سمیلن اور شعبہ Jeem کمیٹی اجلاس میں سدبھاؤنا سمیلن کے انعقاد پر بھی غور کیا گیا، جس کا مقصد فرقہ پرست طاقتوں کے مقابلے میں سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف مذاہب کے افراد پر مشتمل کمیٹی پہلے ہی تشکیل دی جا چکی ہے۔

 ان کا پروگرام ہونا باقی ہے، جو جلد ہی منعقد کیا جائے گا ۔ اسی طرح Jeem کمیٹی کے قیام اور اس کے آئندہ پروگراموں کے حوالے سے بھی ضروری مشاورت کی گئی۔ رفاہی سرگرمیوں کے لیے مالی تعاون اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کوئی بھی تنظیم مالی تعاون کے بغیر مؤثر انداز میں خدمات انجام نہیں دے سکتی۔ لہٰذا ہر یونٹ میں ایسے افراد کو جمعیۃ علماء شہر میرٹھ کا معاون رکن بنانے کی مہم چلائی جائے جو تنظیمی اور رفاہی سرگرمیوں میں مالی تعاون کر سکیں۔ مختلف حلقوں کی نگرانی تنظیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مختلف حلقوں کی نگرانی درج ذیل ذمہ داران کے سپرد کی گئی: 

• حلقہ کھتہ روڈ ،گلزار ابراھیم: مفتی ارشد صاحب قاسمی • 

حلقہ رشید نگر شیام نگر: مفتی محمد بلال صاحب -

 حلقہ احمد نگر و علی باغ کالونی: مفتی محمد قربان صاحب - 

حلقہ سہراب گیٹ و اسلام آباد: مولانا عبدالملک صاحب - 

حلقہ باغپت گیٹ و گھنٹہ گھر: مفتی محمد فہیم صاحب - 

حلقہ ماہی گیران و لال کرتی: مفتی محمد مرتضیٰ صاحب -

 حلقہ ذاکر کالونی: مفتی محمد عمیر صاحب -

 حلقہ لہساڑی و مغربی بائی پاس: مفتی محمد جنید صاحب -

 حلقہ مقبرہ ابو: مفتی ذکاء الرحمن صاحب

 یومِ آزادی پروگرام اجلاس میں 15/ اگست یومِ آزادی کے موقع پر ایک عظیم الشان پروگرام منعقد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا، جو مدرسہ حسینیہ ولایت الاسلام، لہساڑی روڈ میں منعقد ہوگا، جس میں جمعیۃ علماء کے تمام ذمہ داران، اراکین اور شہر کی ممتاز شخصیات کو مدعو کیا جائے گا۔ اجلاس میں تحفظِ مدارس پر تفصیلی غور و خوض چونکہ حالیہ دنوں میں بعض مدارس کو نامعلوم فون کالز کے ذریعے ہراساں کیا جا رہا ہے اور اکاؤنٹس و دیگر دستاویزات طلب کی جا رہی ہیں، اس لیے مجلس عاملہ کے ساتھ تحفظِ مدارس کا خصوصی اجلاس بمشورہ ناظم عمومی حضرت مولانا حکیم الدین صاحب رکھا گیا،جس میں حضرت مولانا مفتی قاسم رضی صاحب قاسمی فیروز آبادی نے بحیثیت کنوینر تحفظ مدارس شرکت فرمائی اس موقع پر وکیل ریاست علی صاحب صدر وکلاء پینل جمعیۃ علماء شہر میرٹھ نے قانونی رہنمائی کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی مدرسے کو اس نوعیت کی کال موصول ہو تو پہلے متعلقہ افسر سے تحریری نوٹس طلب کیا جائے، اس کا نام اور نمبر محفوظ کیا جائے اور پھر فوری طور پر جمعیۃ علماء سے رابطہ کیا جائے تاکہ قانونی رہنمائی اور تعاون فراہم کیا جا سکے۔ بعد ازاں مہمان خصوصی حضرت مولانا مفتی محمد قاسم رضی صاحب نے تفصیلی خطاب کرتے ہوئے اصلاحِ معاشرہ اور تحفظِ مدارس کے موضوع پر قیمتی رہنمائی فرمائی۔ انہوں نے اصلاحِ معاشرہ کے میدان میں عملی کام کو وسعت دینے، تربیتِ زوجین ورکشاپ کے انعقاد، ہر ماہ اصلاحی لٹریچر کی اشاعت، نوجوان نسل کو سیرتِ نبوی ﷺ، سیرتِ صحابۂ کرامؓ اور اسلامی تاریخ سے روشناس کرانے اور تربیت ائمہ ورکشاپ پر زور دیا۔

 انہوں نے مطالعے کے لیے حضرت مفتی سعید احمد صاحبؒ کی کتابیں "رحمۃ اللہ الواسعۃ"، "تحفۃ الألمعی" اور "ہدایۃ القرآن" کا خصوصی مطالعہ کرنے کی بھی تلقین فرمائی نیز درس قرآن اور درس حدیث شروع کرنے کا آسان اور سہل طریقہ بھی بتایا ،جسے بہت پسند کیا گیا تحفظِ مدارس کے حوالے سے انہوں نے تاکید کی کہ مدارس کی اراضی ذمہ داران کے ذاتی ناموں کے بجائے سوسائٹی یا ادارے کے نام پر رجسٹرڈ ہو،یا 31/ سالہ کرایہ نامہ کی نوٹری کرالیں، مدارس کے مالی معاملات مکمل شفاف ہوں، ذاتی اور ادارہ جاتی اخراجات کو ہرگز باہم نہ ملایا جائے، اور تمام حسابات باقاعدگی کے ساتھ محفوظ رکھے جائیں تاکہ کسی بھی قانونی یا انتظامی مرحلے پر دشواری پیش نہ آئے۔نیز اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں اپنی انکم سے زائد لین دین ہرگز نہ کریں اور اگر ممکن ہوسکے تو ہر سال انکم ٹیکس ضرور بھریں،ادارے کے تمام اخراجات آنلائن اور چیک کے ذریعہ کریں ،کیش لین دین سے بچنے کی کوشش کریں مہتمم حضرات اپنا کاروبار کریں ،جی ایس ٹی نمبر لیں اور اپنی آئی ٹی آر ضرور بھریں اگر آپ کے ادارے کی تین منزلہ عمارت ہے تو اس میں فائر کا ضرور انتظام کریں اور اگر دو منزلہ ہے تو آگ بجھانے والے سیلنڈر ضرور لگوائیں اور اہل مدارس تحفظ مدارس کے لئے متفقہ طور پورے شہر میں ایک ذمہ دار متعین فرمالیں جو ہر معاملات میں اسی سے رابطہ کریں 

اجلاس کے اختتام پر جمعیۃ علماء شہر میرٹھ کے سرپرست حاجی محمد حنیف صاحب (میٹرو) نے ذمہ داران کی خدمات کو سراہا اور تنظیمی سرگرمیوں میں مزید اخلاص اور محنت کے ساتھ کام کرنے کی تلقین کی۔ آخر میں صدرِ اجلاس حضرت مفتی محمد جنید صاحب حقی نے تمام مہمانان، علماء کرام اور ذمہ داران کا شکریہ ادا کیا، غیر فعال یونٹوں کو متوجہ کرتے ہوئے تنظیمی سرگرمیوں میں تیزی لانے کی تاکید فرمائی، اور ان کی دعا پر اجلاس کا اختتام ہوا۔

 اجلاس میں صدر جمعیۃ علماء شہر میرٹھ حضرت مفتی محمد جنید صاحب حقی، جنرل سکریٹری مفتی محمد ارشد صاحب قاسمی، مہمانِ خصوصی حضرت مفتی محمد قاسم رضی صاحب، وکیل ریاست علی صاحب، سرپرست جمعیۃ علماء شہر میرٹھ حاجی محمد حنیف صاحب (میٹرو)، مولانا عبدالملک صاحب قاسمی ، مفتی محمد بلال صاحب قاسمی، مفتی محمد فہیم صاحب، مفتی محمد قربان صاحب، مفتی محمد عمیر صاحب، مفتی مرسلین صاحب، مولانا سلیم نعمانی، مفتی محمد شعیب صاحب، مولانا محمد خبیب صاحب، مولانا محمد جمیل صاحب، قاری محمد ہاشم صغیر صاحب، مفتی محمد ذکاء الرحمن صاحب، مولانا ثوبان صاحب، مفتی محمد جنید قاسمی ،مولانا سراج صاحب،مولانا راشد صاحب،مولانا عبد الرزاق صاحب،قاری انتظار صاحب،مولانا ناصر صاحب،مفتی وزارت صاحب،محمد ثمیر ،گلبہار یامین ،مفتی شاھجہاں صاحب،مولانا عبید اللہ صاحب،مولانا انیس صاحب،مولانا ارشاد صاحب،مولانا سہیل صاحب،قاری شعبان صاحب،قاری اسعد صاحب،مولانا رحمت الہی صاحب،مولانا شاداب صاحب، مولانا اسامہ صاحب،مولانا مبین صاحب،مفتی جنید ذاکر کالونی ،مفتی سرتاج صاحب،مولانا ریحان صاحب ،مفتی طالب صاحب،قاری شہزاد صاحب،مفتی مرسلین صاحب، سمیت جمعیۃ علماء شہر میرٹھ کے اراکینِ مجلس عاملہ، مختلف شعبہ جات کے ذمہ داران، علماء کرام، ائمہ مساجد،اہل مدارس، مدرسین اور دیگر معزز حضرات نے شرکت کی۔ *

✍️: مفتی حفظ الرحمن رشیدی امام و خطیب زکریا مسجد دہلی روڈ میرٹھ یوپی

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)