جنگ میں ایران کلسٹر بم استعمال کر رہا ہے: اسرائیل
تل ابیب:(ایجنسیاں ) اسرائیل نے کہا ہے کہ ایران گزشتہ 10 دن سے جاری جنگ کے دوران مسلسل کلسٹر بم استعمال کر رہا ہے۔ اسرائیل کے مطابق ایران کے اس اقدام نے اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام کے لیے ایک پیچیدہ اور مہلک چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ کلسٹر بم فضا میں اونچائی پر پھٹتا ہے اور اس سے کئی چھوٹے چھوٹے بم (بم لیٹس) نکل کر بڑے علاقے میں پھیل جاتے ہیں۔یہ چھوٹے بم رات کے وقت نارنجی رنگ کے آگ کے گولوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں اور انہیں فضا میں روکنا یا ان کا بروقت پتا لگانا کافی مشکل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کلسٹر بم انتہائی خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ اسرائیل عام طور پر ایران کے حملوں اور ان سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات عوام کے سامنے ظاہر نہیں کرتا، لیکن حالیہ دنوں میں اسرائیلی حکام نے عوام کو ان یہ بم زمین پر بغیر پھٹے بھی پڑے رہ سکتے ہیں اور بعد میں کسی بھی وقت پھٹ سکتے ہیں۔ منگل کے روز وسطی اسرائیل میں ایک تعمیراتی مقام پر ہونے والے دھماکے میں دو افراد سمیت کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے۔ کلسٹر
بم کے استعمال پر عالمی سطح پر پابندی عائد ہے اور 120 سے زائد ممالک اس کے استعمال نہ کرنے کے بین الاقوامی معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں، تاہم اسرائیل، امریکہ اور ایران نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ اس ہتھیار کا استعمال اس سے پہلے ہتھیاروں کے خطرات کے بارے میں آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ بھی مختلف تنازعات میں ہو چکا ہے، جن میں 2006 میں ایران کے حمایت یافتہ لبنانی عسکریت پسند گروہ حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی جنگ بھی شامل ہے۔ اسرائیلی فوج کے ایک اہلکار نے نام
ظاہر نہ کرنے کی شرط پر منگل کو بتایا کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر داغے جانے والے تقریباً آدھے بم کلسٹر بم تھے۔
اسرائیل کے قومی سلامتی مطالعاتی ادارے کے سینئر محقق یہوشوعا کالیسکی کے مطابق اسرائیل کا فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم کم فاصلے اور کم اونچائی سے داغے گئے چھوٹے راکٹوں کو روکنے کے لیے بنایا گیا ہے، لیکن یہ کلسٹر بم کو روکنے کے لیے مؤثر نہیں کیونکہ یہ فضا میں پھٹنے کے بعد درجنوں چھوٹے بم چھوڑ دیتے ہیں جو بڑے علاقے میں پھیل جاتے ہیں
