حقوقِ نسواں کانفرنس ایک تاریخی اور مثالی کامیابی
یہ کامیابی پوری امت کے لیے خوشی اور امید کا پیغام ہے۔ سید غلام حسین مظہری مرکزی صدر علما فاؤنڈیشن نیپال
پریس ریلیز
لمبنی پردیس نول پراسی
بحمدِ اللہ و توفیقِ الٰہی سنول نگر پالیکا، وارڈ نمبر ۹، بنکٹی میں علماء فاؤنڈیشن نیپال، نولپراسی کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی حقوقِ نسواں کانفرنس ہر پہلو سے نہایت کامیاب، بامقصد اور تاریخی ثابت ہوئی۔ یہ کانفرنس نہ صرف خواتین میں دینی و سماجی بیداری کا ذریعہ بنی بلکہ پورے علاقے کے لیے ایک روشن مثال بھی قائم کر گئی۔ اس عظیم اجتماع میں خواتین کی غیر معمولی اور پرجوش شرکت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ معاشرے کی نصف آبادی اپنے حقوق، فرائض اور ذمہ داریوں کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین کی موجودگی نے کانفرنس کی افادیت اور مقبولیت کو دو چند کر دیا۔
کانفرنس میں محترمہ عالمہ فاضلہ مفتیہ قمر جہاں امجدی صاحبہ و محترمہ عالمہ فاضلہ طیبہ شمسی صاحبہ و محترمہ عالمہ فاضلہ تبسم پروین ضیایء صاحبہ نے قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں عورت کے مقام و مرتبہ پر سیر حاصل گفتگو فرمائی۔ واضح کیا گیا کہ اسلام نے عورت کو ماں، بیٹی، بہن اور بیوی ہر حیثیت میں عزت، تحفظ اور حقوق عطا کیے ہیں، جن میں تعلیم کا حق، وراثت کا حق، نکاح میں رضامندی، عزت و عصمت کا تحفظ اور سماجی انصاف شامل ہیں۔ ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اسلامی تعلیمات پر صحیح عمل ہی خواتین کے حقیقی تحفظ اور باوقار زندگی کی ضمانت ہے۔
اس موقع پر معاشرتی بگاڑ، خاندانی نظام کی کمزوری اور خواتین کے ساتھ ناانصافی جیسے مسائل پر بھی روشنی ڈالی گئی اور ان کے حل کے لیے دینی تعلیم، اخلاقی تربیت اور باہمی احترام کو ناگزیر قرار دیا گیا۔ مقررین نے والدین، سرپرستوں اور معاشرے کے تمام افراد کو خواتین کے حقوق کی ادائیگی میں اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی پرزور تلقین کی۔ یہ کامیاب کانفرنس دراصل علماء فاؤنڈیشن نیپال نولپراسی کی مسلسل محنت، اخلاص اور عوامی خدمت کے جذبے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تنظیم کے ذمہ داران، منتظمین، معاونین اور رضاکاروں نے جس نظم و ضبط، خلوص اور حکمت کے ساتھ اس پروگرام کو انجام دیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ خصوصاً سنول نگر پالیکا وارڈ نمبر ۹، بنکٹی کے معزز ذمہ داران اور اہلِ علاقہ کے تعاون نے اس پروگرام کو چار چاند لگا دیے۔
آخر میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ اس عظیم کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، اس کے ثمرات کو عام کرے، اور علماء فاؤنڈیشن نیپال کو مستقبل میں بھی ایسے ہی اصلاحی، تعلیمی اور فلاحی پروگرام منعقد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ماشاءاللہ، ماشاءاللہ —
یہ کامیابی پوری امت کے لیے خوشی اور امید کا پیغام ہے۔
