اقوال فقیہ ملت ،حکمت، بصیرت اور صالح رہنمائی کے آفاقی اصول
از: مولانامحمد شمیم احمد نوری مصباحی
ناظم تعلیمات: دارالعلوم انوار مصطفیٰ سہلاؤ شریف،باڑمیر (راجستھان)
فقیہِ ملت حضرت علامہ حافظ وقاری مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ برصغیر کے اُن ممتاز، عظیم المرتبت اور باوقار اکابر علمائے اہل سنت مفتی ساز مفتیان کرام میں سے ہیں جن کی پوری زندگی علم و عمل، اخلاص و استقامت، اور فقہی بصیرت و روحانی سچائی کا حسین مجموعہ تھی۔1253ھ مطابق 1933ء میں اوجھا گنج، بستی (یوپی) کی سرزمین پر پیدا ہونے والے اس مردِ حق نے وہ علمی چراغ روشن کیا جس کی روشنی سے نہ جانے کتنے دلوں کو ہدایت نصیب ہوئی، اور آج بھی آپ کے تلامذہ، تصانیف اور اقوال اس روشنی کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
آپ نے قرآنِ کریم سے دوستی اور سنتِ رسول ﷺ کی پیروی کو بچپن ہی سے اپنا شعار بنا لیا تھا۔24 شعبان 1371ھ مطابق19 مئی 1952ء میں قائدِ اہل سنت حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کے زیرسایہ مدرسہ شمس العلوم ناگپور سے فراغت حاصل کی، پھر ایک مردِ مومن کی طرح پوری زندگی تدریس، افتا، تصنیف، تبلیغ اور دعوت و اصلاح میں گزار دی۔ فتاویٰ فیض الرسول،فتاویٰ فقیہ ملت، فتاویٰ برکاتیہ،انوارِ شریعت، محققانہ فیصلہ،عجائب الفقہ اور دیگر کئی اہم کتب آپ کی علمی عظمت کی زندہ نشانیاں ہیں۔
آپ کے چند مبارک اقوال ایسے اصول عطا کرتے ہیں جنہیں اگر امت اور اہلِ سنت کے علماء مضبوطی سے اپنا لیں تو دین و ملت کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
ذیل میں انہی اقوال کو تشریح و توضیح کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے-
خلوصِ نیت،دین کی خدمت کا بنیادی اصول:
حضرت فقیہِ ملت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "خلوص کے ساتھ خدمتِ دین کو اپنی زندگی کا مقصد قرار دو،حصولِ زر کو مقصدِ زندگی نہ بناؤ۔"یہ قول راستہ بھی بتاتا ہے اور منزل بھی۔
آج دین کی خدمت بعض لوگوں کا ذریعۂ معاش بن گئی ہے، مگر مقصدِ حیات بن جانا نصیب والوں کا حصہ ہے۔
خلوص کیا ہے؟
نیت سے ریا، شہرت اور مفاد کو نکال کر صرف ’’رضائے الٰہی‘‘ کو باقی رکھ دینا۔
جو عالم، داعی یا خطیب خالص نیت کے ساتھ اٹھتا ہے، اللہ اس کے عمل میں قبولیت بھی رکھتا ہے اور برکت بھی۔
فقیہِ ملت کی اپنی زندگی خلوص کی روشن مثال تھی۔ نہ شہرت کا لالچ، نہ دنیا کی خواہش۔۔صرف دین، دین اور دین کی خدمت-
علم کی ملازمت نہیں، منصبِ نیابتِ رسول ﷺ:آپ نے فرمایا:"مسجد یا مدرسہ کی ملازمت کے معنی میں عالم نہ رہو؛ نائبِ رسول کے معنی میں عالم بنو۔"یہ قول ہر عالم کے لیے آئینہ ہے۔ملازم ہونا انسان کو حد تک محدود کردیتا ہے، مگر نائبِ رسول ﷺ ہونا اُس کے دل و دماغ میں غیرمعمولی وسعت، ذمہ داری اور عظمت پیدا کرتا ہے۔
نائبِ رسول ﷺ کون ہوتا ہے؟ وہ جو:علم رکھے،عمل کرے،دین کی غیرت رکھے،غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ رکھے اور ہر جگہ اپنے کردار سے مصطفوی نسبت کا نور دکھائے-فقیہِ ملت علیہ الرحمہ کے نزدیک عالم وہ نہیں تھا جو صرف درس دے کر واپس گھر چلا جائے-
بلکہ درحقیقت عالم وہ ہے جو 24 گھنٹے دینِ مصطفوی کی فکر میں رہے۔
فقہ کا علم،عالم کی اصل بنیاد:
فقیہِ ملت کا ارشاد: "قرآن و حدیث کے ساتھ فقہ کا زیادہ مطالعہ کرو، کہ سب سے بڑا عالم وہ ہے جو فقہ میں زیادہ ہو۔"اگرچہ حدیث، تفسیر، لغت، بلاغت—all are essential، لیکن عملی زندگی میں مسلمان کو جن احکام کی ضرورت پڑتی ہے وہ ’’فقہ‘‘ فراہم کرتی ہے۔
فقہ ہی وہ علم ہے جوحلال و حرام بتاتا ہے،عبادات، معاملات، اخلاق اور اجتماعی زندگی کا نظام واضح کرتا ہے اور عملی فیصلوں میں امت کی رہنمائی کرتا ہے-لہٰذا فقیہِ ملت علیہ الرحمہ نے نوجوان علماء کو خصوصیت کے ساتھ نصیحت کی کہ ’’فقہ‘‘ کو اپنا علمی میدان اور محور بنائیں۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری کی تصنیفات،حق کا چراغ:
آپ نے فرمایا "صحیح معنیٰ میں عالم بننے کے لیے علمائے اہل سنت خصوصاً اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کی تصنیفات کا زیادہ مطالعہ کرو۔"کیوں؟کیونکہ: اعلی حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن و سنت کو زمانے کے فتنوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ مضبوطی سے پیش کیا،آپ نے عقائدِ اہل سنت کو علمی دلائل سے روشن کیا،جدید و قدیم مسائل کا ایسا حل دیا جس کی نظیر مشکل ہے-
فقیہِ ملت خود بھی اعلیٰ حضرت کے عاشق، شارح اور ترجمان تھے۔
اسی لیے علماء کو نصیحت فرماتے کہ ’’امام احمد رضا کی کتابیں پڑھو، تمہیں علم بھی ملے گا، ادب بھی، عقیدہ بھی اور عشقِ رسول ﷺ بھی۔‘‘
زندگی بھر علم حاصل کرتے رہو:
فقیہِ ملت نے فرمایا: "عالم کی سند کافی نہ سمجھو، اصل تعلیم تو فراغت کے بعد شروع ہوتی ہے۔"
یہ وہ اصول ہے جس پر پوری علمی زندگی کھڑی ہے۔سند مل جانا صرف ’’صلاحیت پیدا ہونے‘‘ کا اعلان ہے-حقیقت میں ’’تحصیلِ علم‘‘ تب شروع ہوتی ہے جب عالم میدانِ دین میں قدم رکھتا ہے۔فقیہِ ملت کی زندگی اس اصول کی عملی شہادت تھی:روزانہ مطالعہ،روزانہ درس،روزانہ تصنیف،روزانہ فتاویٰ نویسی-
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ’’فقیہ ملت‘‘ کا عظیم لقب عطا فرمایا-
علم کے ساتھ عمل،عالم کی شان:
فقیہِ ملت کا ایک اہم قول:
"خود بھی باعمل رہو اور دوسروں کو بھی باعمل بنانے کی کوشش میں دن رات لگے رہو۔"
علم بغیر عمل بےروح ہے، اور عمل بغیر دعوتِ خیر نامکمل۔
فقیہِ ملت نے اپنی پوری حیات اس اصول پر گزاری-نماز، طہارت، اخلاق، سنت اور تقویٰ میں آپ کامل نمونہ تھے، اور آپ شاگردوں میں صرف علم نہیں بلکہ ’’عمل کی عادت‘‘ منتقل کرتے تھے۔
بدمذہب مولوی سے شیر سے بڑھ کر بچو:
آپ فرماتے ہیں:"بدمذہب اور دنیا دار مولوی سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے-بلکہ اس سے بھی زیادہ، کہ شیر جان لیتا ہے اور یہ ایمان برباد کرتا ہے۔"کتنی سخت، واضح اور غیر مبہم نصیحت!
بدمذہب عالم وہ ہوتا ہے جو گمراہی کو علم کا لباس پہنا کر دین کی بنیادیں ہلا دیتا ہے۔
شیر جسمانی نقصان پہنچاتا ہے،مگر گمراہ عالم روح، عقیدہ اور آخرت کو برباد کر دیتا ہے۔
اسی لیے فقیہِ ملت ہمیشہ فرماتے کہ:
دین صرف اہلِ حق سے سیکھو، عقیدہ ہمیشہ مضبوط ہاتھوں سے لو اور ایمان کی حفاظت سب سے بڑی ذمہ داری ہے-
اساتذہ کا ادب،علم کی کنجی:
ارشاد مبارک: "اساتذہ کے حقوق کو تمام مسلمانوں کے حقوق سے مقدم رکھو، ورنہ علم کی برکت سے محروم ہو جاؤ گے۔"یہ قول بتاتا ہے کہ فقیہِ ملت کی تربیت اصل میں ’’ادب‘‘ پر قائم تھی۔کیونکہ ادب ہی سینوں میں علم اتارتا ہے،اور دلوں میں توفیق بساتا ہے،اور علم کو نور بناتا ہے-جو شاگرد اپنے استاد کا ادب نہیں کرتا وہ علم کی حقیقت سے فیض نہیں پاتا۔
فقیہِ ملت علیہ الرحمہ خود بھی اپنے اساتذہ کا بےمثال احترام کرتے تھے، اسی لیے اللہ تعالٰی نے آپ کو غیر معمولی مقام عطا کیا۔حق گوئی و بےباکی،جرأتِ ایمانی:
آپ کا قول:"دین میں کبھی مداہنت اختیار نہ کرو، حق گوئی اور بے باکی اپنا شعار بناؤ۔"
یہ قول آپ کی زندگی کا خلاصہ ہے۔
آپ نے کبھی مصلحت کے نام پر حق کو چھپایا نہیں،دباؤ کے تحت فیصلہ تبدیل نہیں کیا،
دنیا کی خاطر دین کا سودا نہیں کیا-
اسی لیے آپ کے قلم سے نکلنے والا ہر فتویٰ، ہر تحریر اور ہر فیصلہ آج بھی اہل حق کے لیے دلیل و روشنی ہے-
مال کو دین کے لیے خرچ کرو:
فقیہِ ملت نے فرمایا:"اپنے روپے کو بینک یا کاروبار میں لگانے کے بجائے دینی کام میں لگاؤ، کتابیں لکھو، چھپواؤ اور اسلام کی اشاعت کرو۔"
یہ قول دین کی مالی خدمت کا بہترین اصول ہے۔
فرد ہو یا عالم!جو شخص اپنا مال اللہ کے دین پر لگاتا ہے، اللہ رب العزت اس مال میں ایسی برکت رکھ دیتا ہے جو نسلوں تک فائدہ پہنچاتی ہے۔
فقیہِ ملت نے اپنی زندگی میں یہی کیا:
تدریس وتبلیغ،تصنیف و اشاعت،مدارس کی سرپرستی، غریب طلبہ کی مدد،دینی اداروں کا قیام-یہی وجہ ہے کہ آپ کے چھوڑے ہوئے آثار آج بھی زندہ ہیں۔
حاصل کلام یہ ہے کہ حضرت فقیہِ ملت علیہ الرحمہ کے اقوال ہمیں یہ راستہ دکھاتے ہیں کہ:
دین کی خدمت خلوص مانگتی ہے،عالم نائبِ رسول ہوتا ہے،
فقہ علم کا تاج ہے،امام احمد رضا قادری کی تصنیفات روشنی کا منبع ہیں،علم کی زندگی ’’بعد فراغت‘‘ شروع ہوتی ہے،بدمذہب مولوی سے بچنا ایمان کی حفاظت ہے،استاد کا ادب علم کا نور ہے،حق گوئی عالم کی شان ہے اور مال کو دین پر لگانا سب سے مبارک سرمایہ کاری ہے-
اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت فقیہِ ملت علیہ الرحمہ کے اقوال کو سمجھنے، اپنے دلوں میں اُتارنے اور اپنی زندگیوں میں جاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔
