خانقاہِ عالیہ برکات احمدیہ مارہرہ مطہرہ علم و روحانیت کا آفتابِ تاباں
محمد شاہ زماں نیر، حیدرآباد انڈیا
خانقاہِ عالیہ برکات احمدیہ مارہرہ مطہرہ برِصغیر کی اُن عظیم خانقاہوں میں سے ہے جنہوں نے علم، عرفان، تصوف، ادب اور خدمتِ خلق کے میدان میں تاریخ رقم کی۔ اس کی بنیاد حضرت سیدنا شاہ احمد سعید کاظمی محدث مارہروی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1860ء) نے رکھی۔ آپ سلسلۂ قادریہ کے جلیل القدر بزرگ، محدث اور فقیہ تھے۔ آپ نے اپنے مرشد حضرت سیدنا شاہ غلام علی دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے روحانی اشارے پر مارہرہ تشریف لائے اور اس خانقاہ کی بنیاد رکھی۔ یہ سلسلۂ طریقت براہِ راست حضرت شاہ غلام علی دہلوی سے ہوتا ہوا حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمہ اللہ تک پہنچتا ہے۔
روحانی نسبت، یہ سلسلۂ برکاتیہ دراصل سلسلۂ قادریہ کی ایک روشن شاخ ہے، جو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے روحانی فیضان سے وابستہ ہے۔ یوں یہ نسبت براہِ راست نبی کریم ﷺ کی روحانی تعلیمات سے جڑتی ہے۔ یہی نسبت اس خانقاہ کی بنیاد اور فیضان کا سرچشمہ ہے، جس نے صدیوں سے لاکھوں دلوں کو عشقِ رسول ﷺ اور معرفتِ الٰہی کی روشنی بخشی ہے۔
مرکزِ علم و عرفان، اللہ تعالیٰ نے اس خانقاہ کو قبولیت و عظمت کا وہ درجہ عطا فرمایا کہ یہ جلد ہی علمِ حدیث، فقہ، تصوف اور روحانی تربیت کا مرکز بن گئی۔ یہاں ہزاروں طالبانِ علم نے علومِ دینیہ حاصل کیے، اور بیسیوں خلفاء و مشائخ نے روحانی فیض پایا۔ مارہرہ شریف کا فیضان آج بھی دنیا کے مختلف خطوں میں پھیلا ہوا ہے۔
سلسلۂ برکاتیہ اور حضرت سید شاہ آلِ رسول مارہروی رحمۃ اللہ علیہ
سلسلۂ برکاتیہ کی بنیاد، حضرت سید شاہ آلِ رسول احمدی مارہروی رحمۃ اللہ علیہ کے ذریعے قائم ہوا۔ آپ علم و تصوف کے درخشاں آفتاب تھے۔ آپ نے شریعت و طریقت کے حسین امتزاج سے ایک ایسا روحانی نظام قائم کیا جس نے برصغیر کے علمی و صوفی ماحول پر گہرے اثرات ڈالے۔
آپ کے شاگردوں اور خلفاء نے پورے ہندوستان میں اصلاحِ اخلاق، تبلیغِ دین اور تعلیمِ شریعت کا پیغام عام کیا۔ حضرت آلِ رسول رحمہ اللہ نے ہی سلسلۂ طریقت کو “سلسلۂ برکاتیہ” کے نام سے منظم کیا، جو آج دنیا کے مختلف ممالک میں روحانیت و محبت کا علمبردار ہے۔
نمایاں شخصیات، حضرت سید شاہ آلِ رسول مارہروی: آپ علم و عمل، زہد و تقویٰ اور عشقِ الٰہی میں اپنی مثال آپ تھے۔ علومِ دینیہ میں آپ کی مہارت مسلم تھی، اور آپ نے بے شمار شاگردوں کی علمی و روحانی تربیت فرمائی۔ تصوف کی روشنی کو عوامی زندگی تک پہنچانے میں آپ کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔
حضرت سید محمد امین میاں قادری برکاتی: آپ خانقاہِ عالیہ برکات احمدیہ کے موجودہ سجادہ نشین اور عالمی روحانی رہنما ہیں۔ عربی، فارسی اور اردو پر گہری بصیرت رکھتے ہیں۔ روحانیت، تعلیم اور تنظیم — تینوں میدانوں میں آپ نے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ آپ کی قیادت میں خانقاہ کا فیضان عالمی سطح پر پھیل چکا ہے، اور متعدد مدارس، فلاحی ادارے اور دینی تنظیمیں آپ کے زیرِ اہتمام کامیابی سے چل رہی ہیں۔
سید محمد اشرف: آپ اردو ادب کے ممتاز افسانہ نگار، منفرد اسلوب کے حامل ادیب اور بلند پایہ سول آفیسر ہیں۔ آپ کے افسانوں میں انسان دوستی، سماجی بیداری اور روحانی شعور کا حسین امتزاج ملتا ہے، جو خانقاہی تربیت اور اخلاقی فضا کی جھلک پیش کرتا ہے۔ آپ کی تحریریں خانقاہی فکر و اقدار کی ادبی نمائندگی کرتی ہیں۔
خانقاہ کا علمی، روحانی اور سماجی کردار
روحانیت کا سرچشمہ: خانقاہِ برکات احمدیہ صدیوں سے فیضانِ ولایت و برکت کا مرکز ہے۔ یہاں کے مشائخ نے ہمیشہ یہ پیغام دیا کہ عبادت صرف ظاہری حرکات کا نام نہیں بلکہ دل کی نرمی، مخلوقِ خدا سے محبت، اور اخلاقِ حسنہ کا مظہر ہونا ہی حقیقی بندگی ہے۔
علم و ادب کی خدمت: یہ خانقاہ اردو، فارسی اور عربی علوم کی ترویج کا سنگِ بنیاد رہی ہے۔ یہاں کے مشائخ کی تصانیف، بیانات اور مجالس نے اردو ادب میں روحانیت، اخلاق اور نرمی کے نئے رنگ پیدا کیے۔ مارہرہ شریف کے فیض سے ہی برکاتی فکر نے ادب میں انسان دوستی اور روحانی سوز کو دوام دیا۔
خدمتِ خلق اور معاشرتی اصلاح: اس خانقاہ کی روایت خدمتِ خلق، عدل، اخوت اور ایثار پر قائم ہے۔ یہاں کے مشائخ نے ہمیشہ سکھایا کہ اگر عبادت اخلاق کے بغیر ہو تو ادھوری ہے۔
خانقاہ کے زیرِ اہتمام کئی دینی و عصری تعلیمی ادارے قائم ہیں، جہاں طلبہ کو نہ صرف علومِ اسلامیہ کی تعلیم دی جاتی ہے بلکہ کردار سازی، اخلاقِ حسنہ اور روحانی تربیت پر بھی زور دیا جاتا ہے۔ یہی امتزاج اس خانقاہ کو محض ایک درسگاہ نہیں بلکہ انسان سازی کا ادارہ بنا دیتا ہے۔
عالمی اثرات اور فیضانِ عام
آج کے دور میں خانقاہِ برکات احمدیہ کا فیضان سرحدوں سے ماورا ہو چکا ہے۔ یورپ، افریقہ، امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کے خلفاء و وابستگان محبت، امن، اتحادِ امت اور خدمتِ انسانیت کا پیغام عام کر رہے ہیں۔ اس خانقاہ نے امتِ مسلمہ میں روحانی وحدت اور فکری بیداری کا ایک نیا شعور پیدا کیا ہے۔
خلاصہ یہ کہ خانقاہِ عالیہ برکات احمدیہ مارہرہ مطہرہ علم و عرفان، روحانیت، ادب، اور خدمتِ انسانیت کا وہ مینار ہے جس کا نور آج بھی عالمِ اسلام کے گوشے گوشے کو منور کر رہا ہے۔ یہ نہ صرف ایک خانقاہ بلکہ ایک روحانی تحریک ہے جو عشقِ رسول ﷺ، محبتِ اہلِ بیت، اور خدمتِ خلق کے ذریعے انسانیت کی تربیت کر رہی ہے۔
اللہ تعالیٰ اس خانقاہ کے بزرگانِ دین کے مزاروں کو اپنی رحمتوں سے بھر دے، ان کے علمی و روحانی فیضان کو تا قیامت جاری رکھے، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ۔
