Feb 7, 2026 07:41 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
مارہرہ کے افق سے اُبھرنے والی روحانی روشنی

مارہرہ کے افق سے اُبھرنے والی روحانی روشنی

13 Nov 2025
1 min read

مارہرہ کے افق سے اُبھرنے والی روحانی روشنی

از: محمد ہاشم  برکاتی ازہری

 جامعہ ازہر شریف، مصر۔

برصغیر کی روحانی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہیں جو چراغ نہیں، آفتاب ہوتے ہیں۔ جن کی کرنیں نسلوں کے دلوں کو ایمان کے نور سے منور کر جاتی ہیں۔ انہیں آفتابِ ولایت میں ایک درخشاں نام، علومِ عقلیہ و نقلیہ کے سمندر، اصول و فروع میں علماء کے معتمد، شریعت و طریقت کے جامع، معرفت و حقیقت کے حامل، محقق مناظروں کے سردار، مدقق باحثوں کے پیشوا، افضل جہاد کے علم کو بلند کرنے والے، اصحابِ کشف و مجاہدہ کی جائے فخر، اربابِ زہد و تقویٰ کی زینت، ہدایت و ارشاد فرمانے والوں کے امام، عطیات بخشنے والے، خصائل حمیدہ رکھنے والے، سراج السالکین، نور العارفین، حضرت سید شاہ ابوالحسین احمد نوری میاں قاسمی برکاتی علیہ الرحمہ کا ہے۔

مارہرہ  مطہرہ کا وہ مینار نور، جس کی تجلى سے اہل شرق و غرب کے دل جگمگا اٹھے، اور جس کے فیضان نے عقیدت و محبت کی نئی صبح طلوع کی۔

نوری میاں رحمۃ اللہ علیہ مارہرہ کے افق پر طلوع ہونے والا سورج: جب فتنوں کی آندھیاں دین کی شمعیں بجھانے پر تُلی ہوئی تھیں، تب مارہرہ کے آسمان سے ایک نوری کرن پھوٹی،جس نے جہالت کے اندھیروں کو چیر ڈالا۔ یہ کرن سراج السالکین، نور العارفین حضرت نوری میاں قاسمی برکاتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ مبارکہ کی صورت میں پھوٹی۔ آپ کی ولادت باسعادت بمقام مارہرہ مطہرہ بتاریخ ١٩/شعبان المعظم ١٢٥٥ ہجریبمطابق  ٢٦/ دسمبر،١٨٣٩ء بروز پنجشنبہ ہوئی۔

آپ کا ہر کام روحِ شریعت وعینِ طریقت تھا، آپ کی ذات میں حضور صاحب البرکات کا رنگ تھا، تربیت و سلوک میں استاذ المحققین سیدنا‌ شاہ آل محمد قدس سرہ کی شان تھی۔ معلومات و وسعتِ نظر میں حضرت اسد العارفین سید شاہ حمزہ قدس سرہٗ کا پرتو تھا،ایثار و عطا، اور مخلوق کی حاجت روائی میں حضرت برکات ثانی سیدنا شاہ حقانی قدس سرہ کا انداز تھا،تصرف و حکمت میں حضور شمس العارفین سیدنا شاہ ابوالفضل آل أحمد اچھے میاں صاحب قدس سرہ کے یادگار تھے، آپ نے اپنے جدِّ امجد حضرت سید شاہ آلِ رسول احمدی علیہ الرحمہ، سید شاہ برکت اللہ قدس سرہ، اور دیگر مشائخِ مارہرہ کے فیضان کو اپنے وجود میں سمو کر روحانیت کا ایک نیا باب رقم کیا۔ آپ ایسی عظیم المرتبت و جلیل القدر شخصیت کے مالک تھے  کہ جن کی جرأت و شجاعت کا زمانہ نے اعتراف کیا،حقیقت و صداقت آپ کی فطرت میں اس طرح رچ بس گئی تھی کہ دین متین کی حفاظت کے معاملے میں آپ کبھی بھی مداہنت یا مصالحت کے قائل نہ ہوئے، مخالفین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کلمۂ حق بلند کرنا، آپ کا شعار بن چکا تھا۔ آپ کے اقوال و افعال اور سیرت و کردار نے علمائے اہل سنت اور عوام دونوں کے دلوں میں باطل کے خلاف صدائے حق بلند کرنے کا حوصلہ پیدا کیا، اپ نے اپنے علم و فیض سے ایسی نسلِ علم و عمل تیار فرمائی جو آج بھی آفتابِ ہدایت کی کرنیںبکھیر رہی ہیں۔آپ کے تیار کردہ شاگرد آپ ہی کے فیضانِ نور کے مظہر بن کر جہاں بھی گئے، وہاں کے افق کو ایمان، علم، اخلاص و صداقت کے نور سے منور کردیا۔ہاں ہاں! وہ آپ ہی کی ذات بابرکت ہے،جس نے اہل سنت کو  مجددِ دین و ملت، امام اہل سنت، امام عشق و وفا الشاہ امام احمد رضا خان قادری برکاتی فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ، ہم شبیہ غوث اعظم، نازشِ علم و حکمت، الشاہ مصطفی رضا خان قادری برکاتی علیہ الرحمہ جیسی عظیم شخصیات سے مالا مال فرمایا۔ اور ان شخصیات نے آپ ہی کے فیضانِ نور سے نہ جانے کتنے گمراہ دلوں کو نورِ ایمان عطا کیا،اور  مارہرہ مطہرہ سے طلوع ہونے والے فیضانِ نوری سے منور و مجلی فرمایا۔ اور ان کے علاوہ بھی آپ نے علماء و فقہاء کی ایک لمبی ٹیم، اور علم و فضل کے ایسے ایسے لعل و گوہر اہل سنت کی جھولی میں ڈالے کہ جن کی دینی خدمات کے تذکروں کے لیے ایک دفتر بھی ناکافی ہے۔ یقیناً آپ کی نوری نظر نے کسی کو ممبر و محراب کا تاج پہنایا، کسی کو درس و تدریس کی عمارت عطا فرمائی، کسی کو وعظ و نصیحت کی سلطنت بخشی، تو کسی کو رشد و ہدایت کے میدان میں قوم کا رہنما بنا دیا۔

تقویٰ و طہارت کی قندیلیں: 

آپ کے تقوی و طہارت کا عالم یہ تھا کہ نہ جانے کتنے گنہگار آپ کے دستِ حق پرست پر تائب ہو کر راہ ہدایت پر آگئے، نہ جانے کتنے دلوں میں آپ نے عشقِ مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم کے چراغ روشن کیے، نہ

جانے کتنے افراد نے آپ کے زہد و تقوی اور خلوص و للّہیت کو دیکھ کر اپنی زندگی بدل ڈالی، جن کی گنتی کرنا گویا آسمان کے ستارے شمار کرنے کے مترادف ہے۔ آپ تقوی و طہارت کے ایسے پیکر تھے کہ دیکھنے والا اللہ کی یاد میں گم ہو جاتا، اور ملنے والا اپنے باطن کو آئینہ محسوس کرتا، آپ کا ظاہر نورِ شریعت سے منور تھا، اور باطن معرفت و طہارت کا گلدستہ تھا۔آپ کی نگاہ میں زہد کی چمک تھی، گفتار میں حکمت کی شیرینی، اور کردار میں ولایت کی روشنی۔ آپ تصوف میں شیخ اکبر محی الدین ابن العربی رحمۃ اللہ علیہ کے مکاشفات کے امین اور فقر و درویشی میں حضرت خواجہ ابراہیم بن ادھم کے مظہر تھے، آپ میں خوشبوئے سیّد الطائفہ جنید بغدادی اور عکس بایزید بسطامی نمایاں تھا، آپ اپنے وقت کے بہلول دانا تھے جو ریت پر خلد بنا کر تصلب فی الدین کے عوض بیچ دیتے تھے۔ آپ پر حضور غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ کا فیضان ٹوٹ کر برسا، آپ مسندِ قادریت کی زینت تھے۔

علم و عرفان کی قندیلیں:

نور العارفین حضرت سیدنا شاہ ابو الحسین احمد نوری قدس سرہ نہ صرف زہد و تقویٰ کے پیکر تھے، بلکہ علم و عرفان کے دریا بھی تھے۔ آپ نے سادہ لوح مسلمانوں، اور متزلزل افراد کے ایمان و یقین کی حفاظت کے لیے عقائد پر مشتمل بیشمار کتابیں تصنیف فرمائیں۔ جن میں "دلیل الیقین من کلمات العارفین" اور "العسل المصطفیٰ فی عقائد ارباب التقی"۔ شہرہ آفاقہیں۔آپ کے دستِ مبارک سے لکھی جانے والی کتابیں، دلائل کی چمک اور عشق و عقیدت کی حرارت سے معمور ہیں۔آپ کی تصنیف کردہ ان کتب کے مطالعہ سے اہلِ ذوق پر   نوری و ایمانی اور وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ ان میں آپ کا اندازِ تبلیغ ایسا ہے کہ عقل مطمئن ہو جاتی ہے۔ اور دل عاشق بن جاتا ہے۔ گویا زبان سے الفاظ نہیں، بلکہ آپ کی نوری ذات سے نور کے موتی جھڑ رہے ہیں ۔آپ نے علم و عرفان کی جو قندیلیں روشن کیں اور شریعت و طریقت کے جو چراغ جلائے ان سے سنیت تاقیامت روشن ہوتی رہے گی۔

اصلاح و تربیت کا نوری نظام:

حضرت نوری میاں علیہ الرحمہ نے خانقاہی نظام کو صرف ذکر و فکر تک  محدود نہ رکھا ۔ بلکہ اسے ایک جامع تربیتی درسگاہ بنا دیا۔ جہاں علم بھی تھا، ادب بھی، اور عشق بھی۔آپ نے بتایا کہ:جو محبتِ رسول ﷺ کے در سے جُڑ گیا، وہ کبھی محروم نہیں رہتا۔ آپ کی نگاہ میں وہ تاثیر تھی کہ جو سینوں کے غبار کو بھی چمکا دیتی تھی۔

نوری فیضان کا تسلسل مارہرہ کی افق سے آج بھی جاری ہے:حضرت نوری میاں قدس سرہٗ کے بعد بھی یہ نوری مشعل بجھی نہیں ہے،بلکہ آپ کے خلفاء، اور ہر دور کے سجادگانِ باصفا نے اسے زمانے کے ہر دور میں روشن وتابناک رکھا۔آج بھی جب مارہرہ کا نام لیا جاتا ہے تو دل سے صدا آتی ہے کہ یہی وہ آستانہ ہے جہاں دلوں کو ایمان کی روشنی ملی، اور روحوں کو عشقِ مصطفیٰ ﷺ کا سرور نصیب ہوا۔ حضرت نوری میاں قدس سرہ نے ہمیں علم و عشق کی وہ متوازن راہ دکھائی جو قیامت تک اہلِ سنت کی پہچان رہے گی۔یہ چند سطور میں نے اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بارگاہِ سرکار نوری میاں قدس سرہ میں بطورِ خراج عقیدت پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے، اس تحریر کو طول دینے سے فقط اس خیال نے روکا کہ سرکار نوری میاں علیہ الرحمہ کی ذاتِ ستودہ صفات وہ بحرِ بے کنار ہے، جس کی گہرائیوں تک رسائی مجھ جیسوں کے بس کا روگ نہیں، ان کا عالم تو یہ ہے کہ ان کے محض ایک شاگرد، مجدد دین و ملت، امام اہل سنت، الشاہ امام احمد رضا خاں قادری برکاتی فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی مثال پیش کرنے میں دنیا آج تک حیران و ششدر ہے، تو پھر خود سرکار نوری میاں علیہ الرحمہ کی مثال کہاں سے پیش کی جا سکتی ہے۔

بس میں اپنے اس ناقص مضمون کا اختتام سرکار اعلی حضرت قدس سرہٗ کے ان اشعار پر کر رہا ہوں۔

بر تر قیاس سے ہے مقامِ ابو الحسین

سدرہ سے پوچھو رفعتِ بام ابو الحسین

وارستہ پائے بستۂ دامِ ابو الحسین

آزاد نار سے ہے غلامِ ابو الحسین

خطِّ سیہ میں نورِ الٰہی کی تابشیں

کیا صبحِ نور بار ہے شام ابوالحسین

ساقی سنادے شیشۂ بغداد کی ٹپک

مہکی ہے بوئے گل سے مدامِ ابوالحسین

ہاں طالعِ رؔضا تِری اللہ رے یاوری

اے بندۂ جُدودِ کرامِ ابو الحسین

آپ کی نوری ذات سے نور کے موتی جھڑ رہے ہیں ۔آپ نے علم و عرفان کی جو قندیلیں روشن کیں اور شریعت و طریقت کے جو چراغ جلائے ان سے سنیت تاقیامت روشن ہوتی رہے گی۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383