May 10, 2026 05:27 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
فرانس کا امریکی 'پروجیکٹ فریڈم' میں شرکت سے انکار،  آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے مذاکرات پر دیا زور

فرانس کا امریکی 'پروجیکٹ فریڈم' میں شرکت سے انکار، آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے مذاکرات پر دیا زور

07 May 2026
1 min read

فرانس کا امریکی 'پروجیکٹ فریڈم' میں شرکت سے انکار، آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے مذاکرات پر دیا زور

پیرس:(ایجنسیاں) 

فرانس کے صدر ایمانویئل میکرون نے امریکہ کے مجوزہ فوجی اقدام 'پروجیکٹ فریڈم' میں شامل ہونے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ اپنی سکیورٹی حکمت عملی خود تیار کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے طاقت کے بجائے سفارتی مذاکرات ہی واحد پائیدار حل ہیں۔ آرمینیا کے دارالحکومت یریوان میں منعقدہ یورپی سیاسی برادری کے آٹھویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میکرون نے واضح کیا کہ یورپی یونین دفاع اور سلامتی کے شعبے میں خودمختاری کی طرف بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ نہ صرف اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کر رہا ہے بلکہ مشترکہ سکیورٹی حل بھی تیار کر رہا ہے تاکہ عالمی سطح پر خود کو مضبوط بنا سکے۔پروجیکٹ فریڈم' سے دوری میکرون نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اعلان کردہ 'پروجیکٹ فریڈم' میں شامل ہونے سے انکار کرتے ہوئے اسے ایک ''غیر واضح فریم ورک'' قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانس کسی ایسے فوجی آپریشن کا حصہ نہیں بنے گا جس کی نوعیت اور حدود واضح نہ ہوں۔ انہوں نے کہا: ''ہم کسی ایسی کارروائی میں شریک نہیں ہوں گے جو واضح نہ ہو۔'' ان کے مطابق، فرانس آبنائے ہرمز کو کھولنے کی حمایت کرتا ہے، لیکن یہ عمل کسی منظم اور شفاف عالمی فریم ورک کے تحت ہونا چاہیے۔

آبنائے ہرمز کے لیے سفارتی حل پر زور فرانسیسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان مربوط اور باہمی مذاکرات ضروری ہیں۔ ان کے مطابق،  یہی طریقہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی تجارت کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بغیر کسی رکاوٹ اور ٹول ٹیکس کے آزادانہ جہاز رانی کو یقینی بنانا عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہے، اور یہ صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ میکرون نے بتایا کہ 2022 کے بعد یورپی سکیورٹی پالیسی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جس میں یورپی سیاسی برادری، ''کوالیشن آف دی ولنگ'' ممالک اور دیگر اقدامات  شامل ہیں۔ ان کے مطابق، یہ تمام کوششیں یورپ کو عالمی سطح پر ایک مضبوط اور خودمختار کردار ادا کرنے کے قابل بنا رہی ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش فرانسیسی صدر نے لبنان میں جاری جنگ بندی کی پاسداری کی اہمیت پر بھی زور دیا اور تمام فریقین سے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ 28 فروری کے بعد سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر اس وقت جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد تہران نے بھی جوابی کارروائیاں کیں۔ میکرون کا کہنا تھا کہ فرانس عالمی سطح پر امن و استحکام کے قیام کے لیے متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فرانس کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت کرے گا جو بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہو اور خطے میں دیرپا امن قائم کرنے میں مدد دے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی تجارت، خاص طور پر تیل کی ترسیل، شدید متاثر ہو رہی ہے اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)