سیدنا ابوبکر صدیق کی زندگی سے وفا،ایثار اور انفاق فی سبیل اللہ کا درس ملتا ہے: مولانا سراقہ
نوری مسجد کھجوریہ سے محمد حسن سراقہ رضوی کا خطاب
پریس ریلیز
روپندیہی نیپال (نیپال اردو ٹائمز)
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب سے پہلے بلا تردد اسلام قبول کرنے والے اور اسلام کے پہلے خلیفہ ہیں حدیث رسول کا مفہوم ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں میں جب کسی کو اسلام پیش کیا تو ہر کسی نے تردد کیا پھر بعد میں اسلام لایا لیکن ابو ابکر صدیق کو میں نے اسلام پیش کیا تو انہوں نے بلا تردد اسلام قبول کر لیا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نام عبد اللہ ابو بکر کنیت جب کہ صدیق و عتیق آپ کا لقب ہے۔ آپ شروع ہی سے بت پرستی سے دور رہتے تھے۔ اسلام لانے کے وقت آپ کے پاس تقریبا چالیس ہزار دینار تھے سب کے سب آپ نے اللہ کی بارگاہ صدقہ و خیرات کردیا۔ حضرت عمر فاروق اعظم فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایک دن ہم لوگوں کو اللہ تعالی کی راہ میں صدقہ اور خیرات کا حکم دیا اور اتفاق سے اس وقت میرے پاس بہت مال تھا۔ میں نے اپنے دل میں خیال کیا کہ اگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے نیکی میں آگے بڑھ جانا کسی دن میرے لئے ممکن ہوگا تو وہ دن آج کا دن ہوگا۔ میں بہت زیاد و مال اللہ تعالی کی راہ میں دے کر ان سے نیکی میں آگے بڑھ جاؤں گا۔ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں کل دولت کا آدھا مال لے کر حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا۔ اپنے گھر والوں کے لئے تم نے کتنا چھوڑا۔
حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا کہ آدھا مال گھر والوں کے لئے چھوڑ دیا ہے پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعال نے جو کچھ ان کے پاس تھا ساری دولت کل سرمایہ حتی کہ کھانے پکانے کا برتن، کپڑے سلنے کی سوئی پہننے کا کپڑا بھی سامان میں شامل فرمالیا اور پھٹا پرانا پہن کر شان کے ساتھ شرف حضوری سے مشرف ہوئے۔ پھٹا کمبل اوڑھے ہوئے اور بٹن کی جگہ ببول کا کانٹا لگاے ہوے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنے عاشق حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا۔ اے ابو بکر ۔ اپنے گھر والوں کے لئے کیا چھوڑ آئے ہو؟ حضرت ابو بکرعاشق حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا۔ اے ابو بکر ۔ اپنے گھر والوں کے لئے کیا چھوڑ آئے ہو؟ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا کہ گھر والوں کے لئے اللہ ورسول کو چھوڑ آیا ہوں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ایثار کا اندازہ اس واقعہ سے بھی لگایا جاسکتا ہے ۔ امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو بہت زیادہ قیمت پر خرید کر آزادفرمایا، کافروں کو اس پر حیرت ہوئی اور یہ کہنے لگے کہ صدیق اکبر رض للہ تعالی عنہ نے ایسا اس لئے کیا کہ ان پر بلال کا کوئی بڑا احسان ہوگا جو بڑی قیمت دے کر بلال کو خرید کر آزاد کر دیا۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔وَسَيُجَنَّبُهَا الانقى الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّى ) وَمَا لِأَحَدٍ عِنْدَهُ مِنْ نِعْمَةٍ تُجْرَى إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَى ، وَلَسَوْفَ يَرْضَى )ترجمہ: اور بہت اس سے دور رکھا جائے گا
( دوزخ سے ) جو سب سے بڑا پر ہیز گار، جو اپنا مال دیتا ہے کہ ستھرا ہو اور کسی کا اس پر کچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے ، صرف اپنے رب کی رضا چاہتا ہے جو سب سے بلند
ہے اور بے شک قریب ہے کہ وہ راضی ہوگا۔ (کنز الایمان ) اس آیت مبارکہ میں ظاہر فرمایا گیا کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ کام صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے تھا کسی کے احسان کا بدلہ نہیں اور نہ ہی ان پر حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کا احسان ہے۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ اور بہت سے غلاموں کو خرید کر آزاد کرایا ہے۔لہذا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زندگی سے ہمیں ایثار قربانی اور انفاق فی اللہ سیکھنے کی ضرورت ہے آج ہم صرف نعروں تک ہی محدود رہ جاتے ہیں اگر اللہ کی راہ میں صدقہ اور خیرات کرنے کی بات آتی ہے تو لوگ بگلیں جھانکنے لگتے ہیں اور انفاق فی سبیل اللہ سے دور رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ہم کامیاب ہو جائیں جب کہ کامیابی کے لیے انفاق فی سبیل اللہ ضروری امر ہے اللہ تعالیٰ قرآن مقدس سے ارشاد فرماتا ہے لن تنالواالبر حتی تنفقوا مما تحبون۔بھلائی کو اس وقت نہیں پہونچ سکتے جب تک اپنی محبوب چیز اللہ کی بارگاہ میں خرچ نا کرو ۔ یمین ضرورت ہے اس بات کی اللہ کی راہ میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے کوشش کریں ۔
