حضور احسن العلماء اور اعلیٰ حضرت
از: انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ
استاذ و ناظم تعلیمات جامعہ خوشتر رضائے فاطمہ گرلز اسکول سوار، ضلع رامپور (یوپی)
اسلامی تاریخ اپنے دامن میں ایسے انوار و تجلیات سمیٹے ہوئے ہے جن کی روشنی سے ہر دور کے اندھیرے کافور ہوتے رہے۔ جب جب امتِ مسلمہ فکری و اعتقادی زوال سے دوچار ہوئی، اللہ رب العزت نے اپنے فضل و کرم سے ایسے مردانِ باصفا کو ظاہر فرمایا جو گمراہی کے دھندلکوں میں مشعلِ ہدایت بنے۔ وہ اہلِ علم و عرفان نہ صرف زمانے کی اصلاح کے ضامن بنے بلکہ ایمان کی بقا اور عشقِ رسول ﷺ کے احیا کے لیے اللہ کے برگزیدہ نمائندہ قرار پائے۔
یہ تاریخ کا مسلمہ اصول ہے کہ امت کے علمی و روحانی زوال کے زمانے میں حق تعالیٰ ایسے نفوسِ قدسیہ پیدا فرماتا ہے جو تجدیدِ دین کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ ان کے وجود سے علم کی برکت، عمل کی حرارت، اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی تابانی بحال ہوتی ہے۔ ان کے قلم سے امانتِ شریعت محفوظ رہتی ہے، ان کی زبان سے عقائدِ صحیحہ کی صدا گونجتی ہے، اور ان کے دلوں سے محبتِ رسول ﷺ کی خوشبو پھیلتی ہے۔ انہی مجددانہ شخصیات کے تسلسل نے اسلامی تاریخ کو ہمیشہ زندہ و تابناک رکھا۔انہی درخشاں چہروں میں وہ نام بھی شامل ہے جو برصغیر ہی نہیں، بلکہ پورے عالمِ اسلام کے لیے ایمان، عشق اور علم کا استعارہ بن چکا ہے امام احمد رضا محدثِ بریلوی علیہ الرحمۃ۔
آپ کا عہد فکری و سیاسی انتشار کا زمانہ تھا۔ انیسویں صدی کے اواخر میں جب مغربی تہذیب کی فکری یلغار اور استعماری سازشوں نے امتِ مسلمہ کے عقائد، افکار اور تشخص کو متزلزل کرنے کی کوشش کی، تو امام احمد رضا بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے علم، عشق، اور بصیرت سے دینِ مصطفیٰ ﷺ کی ایسی حفاظت فرمائی جو تاریخ میں مثال بن گئی۔
اس وقت نہ صرف مغربی فلسفہ اپنے جال پھیلا رہا تھا بلکہ امت کے اندر بھی مختلف فرقوں اور تحریکوں کے ذریعے عقیدے کی جڑیں کاٹی جا رہی تھیں۔ امام احمد رضا نے اپنی قلمی و روحانی قوت کے ذریعے ایک ایسا حصار قائم کیا جو آج بھی ایمان و عقیدہ کے محافظ کے طور پر قائم ہے۔ آپ کی تحریریں، فتاویٰ، اور شاعری، ہر ایک میں ایک ہی پیغام ہے — عشقِ رسول ﷺ ہی ایمان کی روح ہے، اور شریعتِ محمدی ﷺ ہی نجات کا واحد راستہ۔
امام احمد رضا کی فکر محض علمی نہیں بلکہ احیائی تحریک کی حیثیت رکھتی ہے — جس کا مرکز عشق، اتباعِ سنت، اور اولیاء کرام کے فیضانِ روحانی سے منور ہے۔ مگر دین کی یہ خدمت کسی ایک فرد تک محدود نہیں رہتی۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ایسے رجالِ حق کو پیدا کرتا ہے جو مجددین کی فکر کو آگے بڑھاتے ہیں، ان کے علم کو زمانوں تک پھیلنے دیتے ہیں، اور ان کے فیضان کو زندہ رکھتے ہیں۔ یہی تسلسل ہمیں خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ کے خانوادے میں نظر آتا ہے، جہاں علم و عشق کے وارث احسن العلماء حضرت سید مصطفیٰ حیدر حسن میاں برکاتی مارہروی رحمۃ اللہ علیہ نے امام احمد رضا کی فکر کو اپنے خون میں شامل کر کے اسے نئی زندگی عطا کی۔
خانقاہِ برکاتیہ: فیضانِ علم و عرفان کا مرکز
مارہرہ شریف کا نام سنتے ہی روحانی نسبتوں اور علمی عظمتوں کی ایک پوری تاریخ ذہن میں تازہ ہو جاتی ہے۔ برصغیر کی اس مقدس خانقاہ نے ہمیشہ دینِ اسلام کے حقیقی پیغام محبت، اخوت، اعتدال، اور اتباعِ سنت کو عام کیا۔ حضرت میر ابوالقاسم سید اسماعیل حسن شاہ رحمہ اللہ سے لے کر حضور احسن العلماء رحمۃ اللہ علیہ تک یہ خانوادہ فیضانِ نبوت ﷺ کے امانت داروں کی مانند امت کی راہنمائی کرتا رہا۔
خانقاہِ برکاتیہ صرف خانقاہ نہیں بلکہ ایک روحانی جامعہ ہے، جہاں علم و عرفان کے چراغ عشقِ رسول ﷺ کے تیل سے فروزاں ہیں۔ یہ وہ مکتب ہے جہاں شریعت و طریقت ایک دوسرےکے ہم معنی قرار پاتے ہیں۔ اسی مقدس ماحول میں احسن العلماء مارہروی رحمۃ اللہ علیہ نے پرورش پائی، اور بچپن ہی سے ان کے دل میں امام احمد رضا کے لیے ایسی غیر معمولی عقیدت پیدا ہوئی جو عمر بھر ان کی زندگی کا محور بنی رہی۔
احسن العلماء: فکرِ رضا کے امین و ترجمان
احسن العلماء حضرت سید مصطفیٰ حیدر حسن میاں برکاتی رحمۃ اللہ علیہ کی حیاتِ مبارکہ کا مطالعہ کیا جائے تو ایک ہی نکتہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے — عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے ذریعے مسلکِ اعلیٰ حضرت کی ترویج و بقا۔
ان کا علم، ان کی خطابت، ان کی خانقاہی مجالس سب اسی ایک مقصد کے گرد گردش کرتے تھے:
اسلام، سنیت اور عشقِ رسول ﷺ کی خدمت۔
یہی خلاصہ خود ان کے جانشین، حضرت ڈاکٹر سید امین میاں قادری مارہروی دامت برکاتہم العالیہ، نے اپنے الفاظ میں بیان فرمایا:
ان کا مشن ایک نکاتی پروگرام تھا اسلام، سنیت، اور مسلکِ اعلیٰ حضرت کی خدمت
احسن العلماء رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی اولاد اور مریدین کو یہ وصیت فرمائی کہ:مسلکِ اعلیٰ حضرت پر قائم رہنا، اگر کوئی اس راہ سے ہٹ جائے تو میں اس کا ذمہ دار نہیں
یہ وصیت ان کی فکر کا خلاصہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک امام احمد رضا کی فکر کسی مخصوص فقہی وابستگی کا نام نہیں بلکہ عشقِ رسول ﷺ اور شریعتِ مصطفیٰ ﷺ کا عملی اظہار تھی۔
عشق و عقیدت کی دنیا
احسن العلماء رحمۃ اللہ علیہ کا قلب امام احمد رضا کے عشق سے لبریز تھا۔ وہ امام احمد رضا کے کلام کو محض شاعری نہیں بلکہ وحیِ عشق سمجھتے تھے۔ ان کے فرزند حضرت شرفِ ملت سید محمد اشرف میاں مارہروی فرماتے ہیں:میرےوالد ماجد کو اعلیٰ حضرت کے کلام سے والہانہ عشق تھا۔ اکثر فرمایا کرتے: ‘سنو، میرے اعلیٰ حضرت کیا فرما گئے ہیں!’ کبھی کہتے: ‘سنو، بریلی والا کیا کہہ رہا ہے!’ یہ محبت ان کے لیے عبادت بن چکی تھی
ان کی تقاریر میں، ان کے دروس میں، ان کے ملفوظات میں امام احمد رضا کی خوشبو پھیلی رہتی تھی۔ وہ فکرِ رضا کے سچے شارح اور عاشقِ رسول ﷺ کے حقیقی نمائندہ تھے۔
عقیدت کا تاج
احسن العلماء رحمۃ اللہ علیہ نے امام احمد رضا کی شان میں جو منقبت کہی، وہ ان کے عشق و عرفان کا مظہر ہے۔ اس کے ہر شعر میں محبت، عقیدت، اور روحانی نسبت کا نور جھلکتا ہے:
چہرۂ زیبا ترا احمد رضا
آئینہ ہے حق نما احمد رضا
علم تیرا بحرِ ناپیدا کنار
ظلِ علمِ مرتضیٰ احمد رضا
اپنے برکاتی گھرانے کا چراغ
تجھ کو نوری نے کہا احمد رضا
سُنیت کی آبرو دم سے ترے
اب بھی قائم ہے شہا احمد رضا
یہ اشعار محض مدح نہیں بلکہ دو روحانی مراکز — مارہرہ اور بریلی — کے باہمی فیضان کی زبانی تصویر ہیں۔
فیضانِ مارہرہ اور فکرِ رضا کا روحانی رشتہ
امام احمد رضا محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے کلام اور فکر میں جو نورانی تاثیر ہے، اس کی ایک جہت خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ کے فیضان سے وابستہ ہے۔ امام احمد رضا خود اس نسبت کو فخر کے ساتھ تسلیم کرتے ہیں، جیسا کہ ان کا مشہور شعر ہے:
اے رضا یہ احمد نوری کا فیضِ نور ہے
ہو گئی میری غزل بڑھ کر قصیدۂ نور کا!”
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ امام احمد رضا نے اپنی تصانیف اور مکاتیب میں بارہا ساداتِ مارہرہ کی محبت و عقیدت کا اظہار فرمایا۔ ان کی کتاب حدائقِ بخشش میں اگر کسی خانوادے پر سب سے زیادہ نعتیہ اشعار ہیں تو وہ مارہرہ شریف کے ساداتِ کرام کی شان میں ہیں۔یہ تعلق محض محبت کا نہیں بلکہ روحانی فیضان کا رشتہ ہے۔ امام احمد رضا کی فکر میں جو روحانی جلال و جمال ہے، وہ دراصل مارہرہ شریف کے علمی و عرفانی ماحول کی جھلک بھی ہے۔
اسلام کی تاریخ دراصل عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے تسلسل کی تاریخ ہے۔ جب بھی یہ عشق کمزور ہوا، فتنوں نے سر اُٹھایا؛ اور جب بھی اس عشق نے دلوں کو گرمایا، ایمان نے نئی زندگی پائی۔ امام احمد رضا بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اس عشق کے مجدد تھے، اور حضور احسن العلماء رحمۃ اللہ علیہ اس عشق کے امین۔خاندانِ برکات نے مسلکِ اعلیٰ حضرت کو نہ صرف محفوظ رکھا بلکہ اس کے نور کو نسلوں تک منتقل کیا۔ آج بھی خانقاہِ برکاتیہ اسی عشق و علم کے پیغام کو عام کر رہی ہے۔یہی فیضانِ رضا اور فیضانِ مارہرہ کا وہ روحانی رشتہ ہے جو صدیوں سے امت کے دلوں کو منور کر رہا ہے۔یہ کہنا بجا ہے کہ مارہرہ شریف اور بریلی شریف دو جداگانہ مراکز نہیں بلکہ ایک ہی نور کے دو آئینے ہیںایک میں عشق کی حرارت ہے، دوسری میں علم کی روشنی۔ان دونوں کے امتزاج سے ہی ایمان کا چراغ ہمیشہ فروزاں رہے گا۔حضور احسن العلماء رحمۃ اللہ علیہ نے فکرِ رضا کو صرف بیان نہیں کیا بلکہ اپنی حیات کے ہر لمحے میں جیا۔
یوں گویا ان کی ذات امام احمد رضا کے پیغام کا عملی مظہر بن گئی۔
اللہ تعالیٰ ان کے فیوض و برکات سے ہمیں بھی حصہ عطا فرمائے،
اور ہمیں ان عاشقانِ رسول ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق بخشے۔
آمین۔
