Feb 7, 2026 09:15 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
مشاق قاریوں کی ضرورت اور قرأتِ صحیحہ کی اہمیت

مشاق قاریوں کی ضرورت اور قرأتِ صحیحہ کی اہمیت

30 Oct 2025
1 min read

مشاق قاریوں کی ضرورت اور قرأتِ صحیحہ کی اہمیت

از انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف

استاد و ناظم تعلیمات جامعہ خوشتر رضائے فاطمہ گرلس اسکول سوار ضلع رامپور یوپی

مکرمی 

قرآنِ کریم وہ الٰہی کتاب ہے جو انسانیت کے لیے ہدایت، رشد و صلاح، اور فلاحِ دارین کا مکمل منشور ہے۔ اس کے الفاظ محض حروف کا مجموعہ نہیں بلکہ نورِ الٰہی کے مظاہر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کی قرأت، تلفظ، اور تجوید کے ساتھ صحیح ادائیگی نہ صرف دینی فریضہ ہے بلکہ روحانی ترقی کا زینہ بھی ہے۔ زمانے کے بدلنے سے قرآن کی ضرورت کبھی کم نہیں ہوتی، بلکہ ہر دور میں اس کی صحیح تلاوت کی اہمیت مزید بڑھتی جاتی ہے۔

آج جب دنیا تعلیم و ٹیکنالوجی میں عروج پر ہے، ہر فن میں ماہرین تیار ہو رہے ہیں، مگر افسوس کہ قرآنِ کریم کی صحیح قرأت اور تجوید کے میدان میں کمی واقع ہو چکی ہے۔ مدارس و درسگاہوں میں جہاں ہر فن کے ماہر موجود ہیں، وہاں "مشاق قاری" کا فقدان بڑھتا جا رہا ہے۔ یہی کمی ایک بڑی اصلاحی توجہ کی طالب ہے۔

قرآن کی صحیح قرأت 

قرآنِ کریم کی صحیح قرأت محض صوتی حسن نہیں، بلکہ ایک شرعی ذمہ داری ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:زَیِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ

(قرآن کو اپنی آوازوں سے آراستہ کرو۔) یہ آراستگی محض نغمگی یا خوش آہنگی نہیں بلکہ تجوید، مخارج، صفاتِ حروف، اور قواعدِ قرأت کی رعایت کے ساتھ ہے۔ اگر کسی عالم، فقیہ یا محدث کو قرأت و تجوید کے اصولوں پر دسترس نہیں تو اس کی علمی وقعت میں ایک کمی رہ جاتی ہے۔ علمِ دین کی تمام شاخیں قرآن کے گرد گھومتی ہیں، اور جب اصل ہی کمزور ہو تو عمارت کی پائیداری کہاں باقی رہ سکتی ہے؟

ہر دارالعلوم اور دینی ادارے میں اگر فقہ، حدیث، تفسیر، نحو و صرف کے ماہرین کی ضرورت مسلم ہے، تو "مشاق قاری" کی موجودگی اس سے کم اہم نہیں۔ایک مشاق قاری دراصل وہ استاذ ہوتا ہے جو طلبہ کو قرآن کی ادائیگی کے فن میں پختہ بناتا ہے۔ وہ مخارجِ حروف، صفات، ادغام، اخفاء، اقلاب، غنہ، مدود وغیرہ کے عملی پہلو سکھاتا ہے، تاکہ قرآن کی ہر آیت صحیح تلفظ اور صحیح ادا کے ساتھ پڑھی جا سکے۔

بدقسمتی سے آج بہت سے طلبہ حفظ مکمل کرنے کے باوجود تجوید میں کمزور نظر آتے ہیں۔ ان کے حروف میں لحن جلی (ظاہر غلطی) پائی جاتی ہے، جس سے قرأت کا حسن مجروح ہوتا ہے۔ یہی کمزوری آگے چل کر مساجد کے منبروں اور محرابوں میں بھی منتقل ہو جاتی ہے، اور عوام کے دلوں سے قرأت کا ذوق ختم ہوتا چلا جاتا ہے۔اس لیے ہر دارالعلوم میں ایک مشاق قاری کا ہونا ناگزیر ہے۔ یہ قاری محض "قرأت" نہیں سکھاتا، بلکہ قرآن سے وابستگی، خشوع، تدبر اور احترام کا جذبہ بھی منتقل کرتا ہے۔جہاں قرأت کا فن پڑھایا جاتا ہے، وہاں مسابقاتِ قرأت (قرأت کے مقابلے) طلبہ کے شوق کو دوبالا کرتے ہیں۔ ایسے مواقع طلبہ میں مسابقت، حسنِ ادا، اور تجوید کے عملی استعمال کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔ وہ درسگاہیں اور خانقاہیں جہاں ہر سال مسابقہ قرأت کا اہتمام ہوتا ہے، دراصل وہی ادارے قرآن کے عملی فروغ کے حقیقی مراکز ہیں۔ ایسے اساتذہ اور منتظمین صد مبارکباد کے مستحق ہیں جو اس ذوق کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ہر مدرسہ اس روایت کو فروغ دے، تاکہ نئی نسل میں قرآن کے ساتھ محبت اور اس کے آداب  کی صحیح آگاہی پیدا ہو۔ یہ بات ہمیشہ ذہن میں رہنی چاہیے کہ قرآن کی قرأت صرف لحن و نغمہ نہیں، بلکہ قلب و روح کی طہارت سے تعلق رکھتی ہے۔جو قاری تجوید کے ساتھ قرآن پڑھتا ہے، وہ دراصل رسولِ اکرم ﷺ کے طریق پر قرآن ادا کرتا ہے۔

علمِ تجوید دراصل اس سنتِ نبوی کی حفاظت کا ذریعہ ہے، جو تلاوت کی صورت میں امت تک پہنچی ہے۔ لہٰذا عالمِ دین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علمی شناخت کے ساتھ ساتھ قرآنی قرأت میں بھی مہارت رکھے۔ یہی جامعیت اس کے علم کو وزن بخشتی ہے اور اس کی شخصیت کو اعتماد عطا کرتی ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام میں قرأت اور تجوید کو محض ایک ضمنی فن نہ سمجھیں بلکہ اسے مرکزی حیثیت دیں۔

ہر دارالعلوم میں کم از کم ایک مشاق قاری کا تقرر لازم قرار دیا جائے، اور حفظ یا درسِ نظامی کے ہر طالب علم کو قرآن کی صحیح قرأت سکھانے کا اہتمام کیا جائے۔یہ صرف علمی تقاضا نہیں بلکہ شرعی ضرورت بھی ہے۔اگر ہم نے اس پہلو کو نظرانداز کیا تو ہمارے فضلاء خواہ کتنا ہی علم رکھتے ہوں، مگر قرأت میں کمزوری ان کے علم کی چمک کو مدھم کر دے گی۔عوام الناس جب کسی عالم یا امام کو سنتے ہیں تو سب سے پہلے قرآن کی قرأت سنتے ہیں۔ اگر وہ قرأت درست اور پراثر ہو تو دل متاثر ہوتا ہے، ورنہ اثر زائل ہو جاتا ہے۔ قرآنِ کریم کی صحیح قرأت امتِ مسلمہ کا روحانی سرمایہ ہے۔

ہر دور میں اس کے لیے مشاق قاریوں کی ضرورت رہی ہے، اور آئندہ بھی رہے گی۔ دینی درسگاہوں کو چاہیے کہ وہ تجوید و قرأت کو اپنے نصاب کا بنیادی جزو بنائیں، تاکہ آئندہ نسل ایسے علماء و ائمہ پیدا کرے جو قرآن کو نہ صرف سمجھتے ہوں بلکہ حسنِ قرأت کے ساتھ امت کے سامنے پیش بھی کر سکیں۔اگر ہم نے اس فریضہ کو مضبوطی سے تھام لیا تو ان شاءاللہ وہ زمانہ پھر آئے گا جب قرآن کی تلاوت سے دل زندہ، سماعتیں محظوظ، اور امت متحد ہوگی۔اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو صحیح پڑھنے، سمجھنے، اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383