Mar 15, 2026 02:35 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
مرکزی سرخی: مسلم سماج کی ترقی کا واحد راستہ تعلیم، اتحاد اور معاشی خود کفالت ہے

مرکزی سرخی: مسلم سماج کی ترقی کا واحد راستہ تعلیم، اتحاد اور معاشی خود کفالت ہے

12 Mar 2026
1 min read

مرکزی سرخی: مسلم سماج کی ترقی کا واحد راستہ تعلیم، اتحاد اور معاشی خود کفالت ہے 

Javed Jamaluddin, Editor In Chief ./HOD Contact :9867647741. 02224167741

ذیلی سرخی:

 اسلام جمخانہ ممبئی کے صدر اور سماج وادی پارٹی کے کارگزار صدر ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی کی صاف گوئی — رمضان، سیاست اور قوم کے مستقبل پر خصوصی گفتگو ممبئی، 14 مارچ: ممبئی کی سیاسی اور سماجی زندگی میں کئی ایسی شخصیات موجود ہیں جنہوں نے طویل عرصے تک عوامی خدمت، سماجی سرگرمیوں اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے اپنی ایک الگ شناخت قائم کی ہے۔ ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی انہی نمایاں اور تجربہ کار شخصیات میں شمار کیے جاتے ہیں۔ وہ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے سابق کارپوریٹر رہ چکے ہیں، مہاراشٹر میں مہاڈا کے چیئرمین کے طور پر بھی اہم ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں اور گزشتہ تقریباً چار دہائیوں سے فعال سیاست میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اپنی سیاسی زندگی کے آغاز میں وہ مسلم لیگ (بناتے والا گروپ) سے وابستہ رہے اور اسی جماعت کے پلیٹ فارم سے کارپوریٹر منتخب ہوئے۔ وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے سیاست کے مختلف مراحل دیکھے اور آج وہ اسلام جمخانہ ممبئی کے صدر اور سماج وادی پارٹی کے کارگزار صدر کے طور پر سرگرم ہیں۔ ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی کو ممبئی کے سماجی حلقوں میں ایک متوازن، سنجیدہ اور باوقار رہنما کے طور پر جانا جاتا ہے جو نہ صرف سیاسی معاملات بلکہ سماجی مسائل پر بھی کھل کر اظہار خیال کرتے ہیں۔ ماہ رمضان المبارک کے موقع پر ان سے ایک تفصیلی گفتگو کی گئی جس میں انہوں نے رمضان کی روحانی فضا، اپنی روزمرہ مصروفیات، بچپن کی یادوں، مسلمانوں کی موجودہ صورتحال، سیاسی چیلنجز اور قوم کے مستقبل کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ذیل میں اس گفتگو کے اہم نکات کو ایک رواں انٹرویو کی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ رمضان میں معمولاتِ زندگی میں تبدیلی ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی کے مطابق رمضان المبارک کا مہینہ ان کی زندگی میں ایک خاص روحانی کیفیت لے کر آتا ہے۔ اس دوران ان کے روزمرہ معمولات میں بھی واضح تبدیلی آ جاتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ بچپن سے ہی ان کی عادت رہی ہے کہ وہ سحری تک جاگتے ہیں۔ 

سحری کے بعد فجر کی نماز ادا کرتے ہیں اور اس کے بعد کچھ دیر آرام کرتے ہیں۔ ظہر سے پہلے بیدار ہو کر وہ اپنے روزمرہ کاموں اور ملاقاتوں کا آغاز کرتے ہیں۔ ان کے بقول یہ معمول کئی دہائیوں سے جاری ہے اور رمضان کے بابرکت ماحول میں عبادت اور سماجی خدمت دونوں پہلو نمایاں ہو جاتے ہیں۔ “رمضان المبارک ایسا مہینہ ہے جس میں انسان کی زندگی کا انداز بدل جاتا ہے۔ عبادتیں بڑھ جاتی ہیں، نیک کاموں کی طرف رغبت پیدا ہوتی ہے اور انسان اپنے اعمال کا جائزہ لینے لگتا ہے۔” وہ کہتے ہیں کہ رمضان میں نہ صرف عبادات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ سماجی اور فلاحی سرگرمیوں میں بھی تیزی آ جاتی ہے۔ افطار کی دعوتیں، لوگوں سے ملاقاتیں اور ضرورت مندوں کی مدد جیسے کام اس مہینے میں زیادہ ہوتے ہیں۔ بچپن کی یادیں اور روزے کا پہلا احساس رمضان کی یادوں کا ذکر کرتے ہوئے ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی ماضی کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق بچپن میں رمضان کا انتظار ایک خاص خوشی اور جوش کے ساتھ کیا جاتا تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس زمانے میں ان کے آبائی علاقے میں روزہ کھولنے کے لیے ایک دلچسپ نظام تھا جسے مقامی طور پر “ہری بتی اور لال بتی” کہا جاتا تھا۔ جب افطار کا وقت قریب آتا تو ایک مخصوص اشارے کے ذریعے لوگوں کو اطلاع دی جاتی کہ روزہ کھولنے کا وقت ہو گیا ہے۔ بعض مقامات پر توپ کے دھماکے یا کسی بلند آواز کے ذریعے بھی افطار کا اعلان کیا جاتا تھا۔ “جب ہم چھوٹے تھے تو افطار کے وقت کا انتظار بہت دلچسپ ہوتا تھا۔ جیسے ہی اشارہ ملتا کہ روزہ کھولنے کا وقت ہو گیا ہے تو پورا ماحول خوشی سے بھر جاتا تھا۔” بعد میں جب وہ ممبئی منتقل ہوئے تو یہاں انہوں نے دیکھا کہ اذان کے ساتھ ہی روزہ کھولا جاتا ہے، اور یہ روایت آج بھی جاری ہے۔ ان کے مطابق رمضان کی یہ یادیں ان کے دل میں آج بھی تازہ ہیں اور ہر سال یہ مہینہ انہیں ماضی کی خوبصورت یادوں کی طرف لے جاتا ہے۔ 

مسلمانوں کی بدلتی ہوئی صورتحال مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی کا کہنا ہے کہ گزشتہ بیس سے پچیس برسوں میں کچھ مثبت تبدیلیاں ضرور آئی ہیں، خاص طور پر تعلیم کے میدان میں۔ ان کے مطابق آج مسلمانوں میں تعلیمی شعور پہلے سے زیادہ بڑھا ہے اور نئی نسل تعلیم حاصل کرنے کے لیے زیادہ سنجیدہ نظر آتی ہے۔ تاہم وہ اس بات پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی اور سیاسی سطح پر مسلمان اب بھی کمزور ہیں۔ “تعلیم کے میدان میں یقیناً بہتری آئی ہے، لیکن معاشی اور سیاسی اعتبار سے ہم ابھی بھی کمزور ہیں۔ جب تک معاشی مضبوطی نہیں ہوگی، ہماری اجتماعی طاقت بھی مضبوط نہیں ہو سکتی۔” ان کے مطابق قوم کو معاشی خود کفالت کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے تاکہ سماجی اور سیاسی میدان میں مضبوطی حاصل کی جا سکے۔ سیاسی انتشار اور قیادت کا مسئلہ ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی کے مطابق مسلمانوں کی سیاسی کمزوری کی ایک بڑی وجہ ان کا بکھراؤ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلمان مختلف سیاسی جماعتوں میں بٹے ہوئے ہیں اور کسی ایک مشترکہ قیادت یا پلیٹ فارم پر متحد نہیں ہیں۔ “جب قوم بکھر جاتی ہے تو اس کی سیاسی طاقت بھی بکھر جاتی ہے۔ اسی وجہ سے ہم اپنی بات مؤثر طریقے سے منوا نہیں پاتے۔” ان کے مطابق اگر مسلمان اپنی اجتماعی طاقت کو سمجھیں اور ایک واضح حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھیں تو وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ موجودہ سیاسی ماحول اور چیلنجز ملک کے موجودہ سیاسی ماحول کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی کہتے ہیں کہ گزشتہ چند برسوں میں حالات مزید پیچیدہ ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق بعض مواقع پر مسلمانوں کو ناانصافی اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ “آج کے حالات میں مسلمانوں کو کئی چیلنجز درپیش ہیں۔ ہمیں ان حالات کا مقابلہ صبر، دانشمندی اور اتحاد کے ساتھ کرنا ہوگا۔” وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ قوم کو صرف شکایت کرنے کے بجائے اپنی کمزوریوں کا بھی جائزہ لینا چاہیے اور اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ قوم کی ترقی کا راستہ: تعلیم قوم کی ترقی کے بارے میں سوال کے جواب میں ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی واضح طور پر کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے لیے ترقی کا سب سے مؤثر راستہ تعلیم ہے۔ ان کے مطابق اگر نئی نسل تعلیم یافتہ ہوگی تو وہ نہ صرف اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکے گی بلکہ سماج میں مثبت تبدیلی بھی لا سکے گی۔ “میں ہمیشہ قوم کو یہی پیغام دیتا ہوں کہ تعلیم حاصل کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ہم آگے بڑھ سکتے ہیں اور اپنے حقوق کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہو سکتے ہیں۔” ان کا ماننا ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان ہی مستقبل میں قوم کی قیادت سنبھال سکتے ہیں۔ دینی ذمہ داریوں کی اہمیت ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ مسلمانوں کو اپنی دینی ذمہ داریوں پر پوری سنجیدگی سے عمل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق نماز کی پابندی، زکوٰۃ کی درست ادائیگی اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر زکوٰۃ صحیح طریقے سے مستحقین تک پہنچائی جائے تو معاشرے کے کمزور طبقات کو بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔ ائمہ اور مؤذنین کے مسائل گفتگو کے دوران ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی نے ایک اہم سماجی مسئلے کی طرف بھی توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ مساجد کے ائمہ اور مؤذنین اکثر محدود وسائل میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں، جبکہ ان کی ذمہ داریاں بہت اہم ہوتی ہیں۔ “میں کئی برسوں سے یہ بات اٹھا رہا ہوں کہ ائمہ اور مؤذنین کے ہدیے میں اضافہ ہونا چاہیے۔

 یہ ذمہ داری محلے کے لوگوں کو لینی چاہیے۔” ان کے مطابق اگر رمضان کے مہینے میں محلے کے لوگ مل کر ائمہ کی مدد کریں تو اتنی رقم جمع ہو سکتی ہے جس سے وہ پورا سال بہتر انداز میں گزار سکیں۔ اتحاد کا پیغام گفتگو کے اختتام پر ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی نے مسلمانوں کو اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو چاہیے کہ وہ اختلافات کو پس پشت ڈال کر مشترکہ مفادات کے لیے متحد ہو جائے۔ “میری خواہش ہے کہ پوری قوم ایک آواز بن جائے، ایک جھنڈے کے نیچے جمع ہو جائے اور ایک واضح قیادت کے ساتھ آگے بڑھے۔ اگر ہم متحد ہوں گے تو ہماری طاقت بھی بڑھے گی۔” مختصر تعارفی باکس ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی — ایک نظر میں سابق کارپوریٹر، ممبئی میونسپل کارپوریشن سابق چیئرمین، مہاراشٹر ہاؤسنگ اینڈ ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (مہاڈا) سابق رکن مسلم لیگ (بناتے والا گروپ) صدر، اسلام جمخانہ ممبئی کارگزار صدر، سماج وادی پارٹی چار دہائیوں سے زیادہ عرصے سے فعال سیاست اور سماجی خدمات اختتامیہ ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی کی گفتگو اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ رمضان المبارک صرف عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ خود احتسابی، سماجی خدمت اور اجتماعی شعور بیدار کرنے کا بھی ایک اہم موقع ہے۔ ان کے خیالات میں جہاں مسلمانوں کے مسائل کی نشاندہی ہے وہیں ان کے حل کے لیے واضح راستہ بھی دکھائی دیتا ہے—تعلیم، اتحاد، معاشی خود کفالت اور دینی اقدار کی پابندی۔ ممبئی کی سیاسی اور سماجی زندگی میں چار دہائیوں سے سرگرم اس تجربہ کار شخصیت کا پیغام یہی ہے کہ اگر قوم سنجیدگی کے ساتھ اپنے اندر اصلاح پیدا کرے اور متحد ہو کر آگے بڑھے تو آنے والا مستقبل یقیناً زیادہ روشن اور مضبوط ہو سکتا ہے۔ 

Javed Jamaluddin, Editor In Chief ./HOD Contact :9867647741. 02224167741

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383