دل کی بنجر زمین
تحریر۔ گلشن انصاری
شہر کے پرانے حصے میں ایک تنگ سی گلی تھی، جہاں سورج کی روشنی بھی بڑی مشکل سے اترتی تھی۔ اسی گلی کے آخری کمرے میں رہتی تھی مہر ایک ایسی عورت جس کے دل کی زمین برسوں سے بنجر پڑی تھی۔ نہ کوئی پھول کھلتا تھا، نہ کوئی خوشبو ٹھہرتی تھی۔ جیسے جذبات کا موسم اس کے اندر ہمیشہ کی سردی میں جکڑا رہا ہو۔
دن بھر وہ لوگوں کے بچوں کو پڑھاتی۔ لفظوں کی دنیا اس کی اپنی دنیا سے ہمیشہ کہیں بھرپور تھی۔ وہ بچوں کو لفظوں کی نرم گرہیں کھولنا سکھاتی مگر خود کے اندر بند کسی دروازے کی کنڈی کھول نہ پاتی تھی۔
شام ڈھلتی تو وہ کھڑکی کے پاس رکھے مٹی کے گملے پر ہاتھ پھیرتی، جس میں کبھی ایک پودا تھا۔ایک یاد، ایک وعدہ، اور ایک جدائی کی خاموش نشانی۔ اس پودے کی طرح اس کے دل کی مٹی میں بھی نمی باقی نہ رہی تھی۔ وہ کبھی سوچتی، اگر کوئی اچانک دروازہ کھول کر کہہ دے کہ “میں آگیا ہوں، دیر ہوگئی پر لوٹ آیا ہوں” تو کیا اس کی بنجر زمین پر بارش ہوگی؟ کیا کوئی سبزہ پھر سے اگے گا؟لیکن زندگی نے وہ جملہ کبھی اس کے حصے میں نہ رکھا۔
ایک دن شہر میں ایک نئی کتابوں کی دکان کھلی۔ اس کے باہر ایک چھوٹی سی تختی آویزاں تھی:
“لفظوں کی لوٹ کر آنے والی رونقیں یہاں ملتی ہیں”یہ جملہ عجیب سا اپنا لگا۔ شاید اس لیے کہ لفظ ہی وہ واحد چیز تھے جو اسے کبھی دھوکہ نہ دیتے تھے۔
اتوار کی شام وہ وہاں پہنچی۔ دکان چھوٹی مگر خوشبو سے بھری ہوئی تھی۔کاغذ، سیاہی، اور وقت کی مہک۔ دکان کا مالک ایک ادھیڑ عمر شخص تھا جس کی آنکھوں میں پڑھ لینے کی صلاحیت تھی۔ اس نے مسکرا کر کہا:
“آپ پہلی بار آئی ہیں۔ کوئی خاص کتاب ڈھونڈ رہی ہیں؟”
مہر رکی، سوچا، پھر دھیرے سے بولی:“ایک ایسی کتاب۔ جس میں دل کی بنجر زمین کے لیے کوئی لفظ مل جائے۔ کوئی بارش جیسا جملہ۔ کوئی ہوا جیسی دعا۔”
وہ شخص ہلکے سے ہنسا،
“ایسی کتابیں لفظوں سے زیادہ لوگوں میں ملتی ہیں۔ مگر پھر بھی… آئیے، کچھ دکھاتا ہوں۔”
اس نے اسے ایک شیلف کے پاس لے جا کر ایک سنہری کناروں والی کتاب تھمائی۔
عنوان تھا: “جن دلوں پر رُتیں لوٹتی ہیں”
مہر نے کتاب کھولی تو اس کے اندر پہلی سطر تھی:
“دل کبھی ہمیشہ بنجر نہیں رہتا… کبھی کبھی دیر سے صحیح، مگر ایک بیج ضرور اگتا ہے۔"
اس نے اس سطر پر انگلی پھیرتے ہوئے محسوس کیا کہ اس کے اندر بہت دنوں بعد کوئی حرکت ہوئی ہے۔ جیسے سوئی ہوئی مٹی کا پہلا ذرا سا لرزنا۔
اگلے کئی ہفتوں تک وہ ہر شام دکان پر آتی۔ کبھی خاموش، کبھی کھوئی ہوئی، کبھی سوال لے کر، کبھی صرف سانسیں بحال کرنے کے لیے۔ لفظ اس کے دل کی زمین میں بیٹھ کر جیسے آہستہ آہستہ نرم ہو رہے تھے۔
ایک شام جب بارش پہلے پہل ہو رہی تھی، دکان کا مالک، رضوان، اسے دیکھ کر بولا:
“آپ کے اندر کچھ بدل رہا ہے۔”مہر نے حیرت سے اسے دیکھا،“اتنی آسانی سے؟”
“تبدیلی کبھی آسانی سے نہیں آتی، لیکن خاموشی سے ضرور آتی ہے۔ آپ کی آنکھوں کی سطح ہموار نہیں رہی۔ڈولتی ہے۔ یہ زمین جاگ رہی ہے، مہر صاحبہ۔”
مہر چند لمحے چپ رہی، پھر بادلوں سے باہر جھانکتی روشنی کو دیکھ کر بولی:
“اگر زمین جاگ رہی ہے تو کیا فصل بھی اگے گی؟”رضوان نے دھیرے سے مسکرا کر کہا:
“فصل محبت کی ہو یا سکون کی… اسے اگانے کے لیے کسی ساتھ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بس دل کے اندر تھوڑی سی ہمت بوئی جاتی ہے۔”
اس رات گھر لوٹتے ہوئے اس نے برسوں بعد کھڑکی کا پردہ ہٹایا۔ گلی میں بارش ٹپک رہی تھی۔ اس نے گملے کی خشک مٹی پر پہلی دفعہ پانی ڈالا۔ ہاتھوں میں لرزش کے ساتھ جیسے کسی پرانے وعدے کی معافی مانگ رہی ہو۔مہینے گزرے۔ پودا نہیں اگا، مگر مہر کی آنکھوں میں نمی آنے لگی۔
وہ رونے لگی۔بے آواز، لیکن پہلی بار بغیر ڈر کے۔
یہ رونا اس کی زمین کی پہلی بارش تھی۔
زندگی بدلتی ہے، مگر آہستہ آہستہ۔
ایک دن دکان جانے سے پہلے اس نے اپنا چہرہ آئینے میں دیکھا۔ اسے لگا جیسے کہیں بہت دور سے کوئی موسم اس کے اندر اتر رہا ہے۔ وہ اپنے بارے میں سوچنے لگی۔محبت سے، مایوسی سے نہیں۔
وہ دکان پہنچی تو وہاں رضوان نہ تھا۔ کاؤنٹر پر ایک خط رکھا تھا:
“لفظوں کو پر لگ جاتے ہیں،کبھی دکان، کبھی شہر، کبھی لوگ بدل جاتے ہیں۔پر جو بدلتی زمینیں ہوتی ہیں،وہ کبھی دوبارہ بنجر نہیں ہوتیں۔
آپ کے لیےایک بیج،ایک رات،ایک دعا،رضوان”خط کے ساتھ ایک چھوٹا سا پیکیٹ تھا۔
اس میں بیج تھے۔جب وہ گھر پہنچی تو گملے میں بیج ڈالتی ہوئی اسے لگا جیسے وہ پہلی بار خود کے لیے کچھ کر رہی ہو۔ جیسے دل کی بنجر زمین میں وہ پہلی، نرم، ہچکولے کھاتی امید رکھ رہی ہو۔
وہ جانتی تھی پودا اگے یا نہ اگے۔
پر وہ خود ضرور اگ رہی تھی۔
اور یہی سب سے ضروری تھا۔
