کلاسیکی و جدید ادب کا فکری محاکمہ
غلام جیلانی قمر
خیرا،بانکا (بہار)
ادب انسانی شعور کا آئینہ ہے، اور ہر دور کا ادب اپنے عہد کی فکری، تہذیبی اور نفسیاتی کیفیت کا ترجمان ہوتا ہے۔ جب ہم کلاسیکی اور جدید ادب کا موازنہ کرتے ہیں تو دراصل ہم دو مختلف زمانوں کی روح، ان کے زاویۂ فکر اور ان کے طرزِ احساس کا تقابل کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ تقابل محض اسلوب یا زبان کا نہیں بلکہ ایک مکمل فکری نظام کا تقابل ہے، جس میں مقصد، نظریہ، اخلاق اور اظہار سب شامل ہیں۔
کلاسیکی ادب ایک ایسی مستحکم روایت کا امین ہے جو صدیوں کے تجربات، تہذیبی ارتقا اور فکری پختگی سے گزر کر ہم تک پہنچی ہے۔ اس میں ایک خاص توازن، وقار اور سنجیدگی پائی جاتی ہے۔ میر، غالب، سودا اور اقبال جیسے شعرا کا کلام اس بات کی روشن دلیل ہے کہ کلاسیکی ادب محض جذبات کا اظہار نہیں بلکہ ایک گہری فکری اور روحانی وابستگی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس ادب میں عشق محض ایک ذاتی کیفیت نہیں رہتا بلکہ وہ ایک آفاقی حقیقت کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جیسا کہ میر تقی میر کے ہاں کائنات اور انسانی وجود کی بے ثباتی کا ملاپ نظر آتا ہے:
جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا
کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا
آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت
اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا
کلاسیکی ادب کی زبان اپنے اندر ایک خاص شائستگی، لطافت اور بامحاورہ پن رکھتی ہے۔ الفاظ کا انتخاب ہو یا تراکیب کی بندش، ہر چیز ایک باقاعدہ اصول اور معیار کے تحت ہوتی ہے۔ اس میں ایک ایسا اعتدال ہوتا ہے جو اسے ہر دور کے لیے قابلِ قبول بنا دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کلاسیکی ادب میں ایک اخلاقی دائرہ اور اجتماعی شعور بھی موجود ہوتا ہے۔ یہاں تصوف اور روحانیت کے پردے میں زندگی کے بڑے حقائق بیان کیے جاتے ہیں۔ خواجہ میر درد کے ہاں اس مابعد الطبیعیاتی شعور کی جھلک ملاحظہ ہو:
جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
جان سے ہو گئے بدن خالی جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا
کلاسیکی شعرا کے ہاں جہاں تصوف تھا، وہیں انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں کو بھی بڑے سلیقے سے بیان کیا گیا، خاص طور پر مرزا غالب اور مومن خان مومن کے ہاں فکری بلندی اور نازک خیالی کا جو نمونہ ملتا ہے، وہ آج بھی بے مثال ہے:
ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسد
عالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے
(غالب)
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
(مومن)
اس کے برعکس جدید ادب ایک ایسے دور کی پیداوار ہے جہاں انسان نے روایت کی بندشوں سے نکل کر اپنی ذات کو مرکزِ کائنات بنا لیا ہے۔ صنعتی انقلاب، دو عالمی جنگوں کے اثرات اور سائنسی ترقی نے انسانی نفسیات میں جو انتشار پیدا کیا، جدید ادب اسی کا عکاس ہے۔ جدید ادب میں فرد کی داخلی کیفیت، اس کی تنہائی، اس کا اضطراب اور اس کی نفسیاتی الجھنیں زیادہ نمایاں ہوتی ہیں۔ یہاں موضوعات کی کوئی حد مقرر نہیں، اور ادیب کو مکمل آزادی حاصل ہے کہ وہ جس طرح چاہے اپنے خیالات کا اظہار کرے۔ ن م راشد
کی شاعری میں فرد کا یہی داخلی احتجاج اور فکری جستجو نمایاں ہے:
زندگی سے ڈرتے ہو؟
زندگی تو تم بھی ہو،
زندگی تو ہم بھی ہیں!
آدمی سے ڈرتے ہو؟
آدمی تو تم بھی ہو، آدمی تو ہم بھی ہیں! جدید ادب کی زبان بھی اس کے مزاج کی طرح آزاد اور غیر مقید ہوتی ہے۔ کہیں یہ حد درجہ سادہ ہو جاتی ہے اور کہیں اس قدر علامتی کہ عام قاری اس کے مفہوم تک رسائی حاصل نہیں کر پاتا۔ تاہم جدید ادب کا یہ کمال ہے کہ اس نے زندگی کو اس کے تمام تر بھدے پن اور تلخی کے ساتھ قبول کیا اور معاشرتی ناانصافیوں کو بے نقاب کیا۔ فیض احمد فیض اور فراق گورکھپوری نے کلاسیکی رچاؤ کو جدید سماجی و نفسیاتی شعور کے لیے جس
خوبصورتی سے استعمال کیا، وہ جدید ادب کا ایک روشن پہلو ہے:
مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
(فیض)
ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
(فراق)
اگر اثر انگیزی اور بقا کے اعتبار سے دیکھا جائے تو کلاسیکی ادب کو ایک واضح برتری حاصل ہے۔ لیکن یہ کہنا بھی ناانصافی ہوگی کہ جدید ادب بے وقعت ہے۔ اس نے ادب کو نئی جہتیں عطا کیں اور اسے درباروں سے نکال کر کوچہ و بازار کی زندگی سے جوڑ دیا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ادب کی صحت مند ترقی اسی وقت ممکن ہے جب اس میں روایت اور جدت کا حسین امتزاج پایا جائے۔ اگر ہم مکمل طور پر کلاسیکی روایت سے وابستہ رہیں تو جمود کا شکار ہو سکتے ہیں، اور اگر مکمل طور پر جدیدیت کی طرف جھک جائیں تو اپنی جڑوں سے کٹ سکتے ہیں۔
حکیم الامت علامہ اقبال نے اسی امتزاج کی بہترین صورت پیش کی، جہاں قدیم فکری اثاثہ جدید شعور کے ساتھ مل کر ایک نئی توانائی پیدا کرتا ہے۔ اقبال کے نزدیک جدت دراصل "تخلیقِ نو" ہے، جو روایت کے بطن سے جنم لیتی ہے۔ ایک سچا ادیب وہی ہے جو اپنے عہد کے مسائل کو محسوس کرے، لیکن ان کا حل ماضی کی حکمت اور روایت کی روشنی میں تلاش کرے۔ میر کی سادگی، غالب کی فکری گہرائی اور اقبال کی بلندی اگر جدید شعور کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے تو ایک ایسا ادب وجود میں آتا ہے جو وقت کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشعلِ راہ بنتا ہے۔ اسی فکری شعور کی ترویج کی تمنا اقبال نے ان الفاظ میں کی تھی:
جوانوں کو مری آہِ سحر دے
پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
خدایا آرزو میری یہی ہے
مرا نورِ بصیرت عام کر دے
