سلطان الہندخواجہ غریب نواز : احترام و عقیدت اور اعلیٰ حضرت
غلام مصطفیٰ رضوی:نوری مشن مالیگاؤں
اللہ کے ولیوں کی بارگاہوں میں چین ہے۔ ان کی یادوں میں چین ہے۔ ان کے تذکروں میں چین ہے۔ اولیاے کرام نے سنت رسول ﷺ کا اہتمام کیا۔ قناعت و استقامت کا نظارہ پیش کیا۔ ان کی عملی زندگیاں تقویٰ و طہارت کی مظہر ہوا کرتی تھیں۔ جن سے صالح انقلاب برپا ہوتا تھا۔ شرک و کفر کے داغ دُھل جاتے تھے۔دل و دماغ نورِ ایمان سے روشن روشن ہو جاتے تھے۔ سلطان الہند خواجہ غریب نوازمعین الدین حسن چشتی سجزی رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ ایسی ہی ہے۔
ہند میں یوں تو اسلام پہلی صدی ہجری میں ہی پہنچ چکا تھا۔ کیرلا و شمال مغربی علاقوں کو اسلام کی کرنیں منور کر رہی تھیں۔ وسطِ ہند کے اکثر علاقے شرک کا مسکن بنے ہوئے تھے۔ ایسے ماحول میں سلطان الہند خواجہ غریب نواز ہند کی سرزمین پر تشریف لاتے ہیں۔ آپ کی اُجلی و نکھری حیاتِ مبارک سے لاکھوں زندگیوں میں وہ انقلاب آیا کہ وادی ہند ایمان کی بارانِ فیض سے جل تھل ہو گئی، بقول برادر اعلیٰ حضرت علامہ حسن رضا خان بریلوی ؎
گلشن ہند ہے شاداب کلیجے ٹھنڈے
واہ! اے ابرِ کرم زور برسنا تیرا
اللہ تعالیٰ نے سلطان الہند کو ایسا نوازا کہ ہند کا روحانی تاج و تخت آپ سے منسوب ہوا۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں لیکن مملکت ہند کے روحانی تاج دار حضور غریب نواز ہیں۔ بہت سے تاج و تخت سوئے اجمیر شریف جھکے ہوئے ہیں۔ تاج دارِ روحانیت کی شہنشہی قائم ہے اور اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کی اشاعت کا جو دریا خواجہ غریب نواز نے بہایا تھا وہ ا ب بھی جاری و ساری ہے۔ امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری برکاتی بریلوی (رحلت ۱۳۴۰ھ/۱۹۲۱ء)؛ عظیم اسلامی محقق، مصلح، مدبر، مصنف اور مملکت علم کے تاج ور گزرے ہیں۔ آپ کی خدمات کے طفیل وادیِ عشق رسول ﷺ میں بہاروں کا ہجوم ہے۔محبت رسول ﷺ کا جو درس آپ نے دیا اس سے بزمِ دل میں رونق و احترام کی فضا قائم ہے- دل و جاں وجد کناں جھک گئے بہر تعظیم- آپ نے بارگاہِ رسالت ﷺ کا احترام سکھایا۔ اولیاے کرام اور ان کی بارگاہوں کا ادب بھی سکھایا۔ آپ نے قبولیتِ دعا کے مقامات میں خواجہ غریب نواز کی بارگاہ کا خصوصی ذکر کیا ہے۔ آپ نے محض اجمیر کہنے سے منع فرمایا اور ’’اجمیر شریف‘‘ کہنے کا درس دیا۔ حضور غوث اعظم کی دستگیری و سلطان الہند کی فیض رسانی و غریب نوازی کے ضمن میں اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:
’’حضور سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ضرور، دست گیرہیں اور حضرت سلطان الہند معینُ الحقِ وَالدین، ضرور غریب نواز۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ،اعلیٰ حضرت، رضا اکیڈمی ممبئی،جلد ۱۱،ص۴۳)
’’غلام معین الدین‘‘ اور’’اجمیرشریف‘‘ نہ لکھنے والے(وہابیہ) کے خلاف اعلیٰ حضرت کا قلمی جلال دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے، جس میں بارگاہِ سلطان الہند سے عقیدت کا جمال بھی ہے۔ملاحظہ فرمائیں:
’’اجمیرشریف کے نامِ پاک کے ساتھ، لفظ شریف نہ لکھنا اوران تمام مواقع میں اس کاالتزام نہ کرنا، اگر اِس بناپر ہے کہ حضور سیدنا خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیجلوہ افروزیِ حیاتِ ظاہری ومزارِ پُرانوارکو (جس کے سبب مسلمان اجمیرشریف کہتے ہیں) وجہِ شرافت نہیں جانتا،توگمراہ، بلکہ عدُوُّاللہ ہے۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ، اعلیٰ حضرت،رضااکیڈمی ممبئی،جلد۶،ص ۱۸۸)
حضرت خواجہ غریب نواز اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے فیوض و برکات اور منکرین فیضانِ خواجہ غریب نواز کا ذکر کرتے ہوئے ایک مجلس میں اعلیٰ حضرت ارشاد فرماتے ہیں:
’’حضرت خواجہ کے مزارسے بہت کچھ فیوض وبرکات حاصل ہوتے ہیں۔ مولانا برکات احمد صاحب(بریلوی) مرحوم جو میرے پیربھائی اور میرے والدماجد رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد تھے، انھوں نے مجھ سے بیان کیاکہ:
میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھاکہ ایک ہندو،جس کے سرسے پیرتک پھوڑے تھے۔اللہ ہی جانتاہے کہ کس قدر تھے۔ ٹھیک دوپہر کو آتا اور درگاہ شریف کے سامنے گرم کنکروں اور پتھروں پر لوٹتااور کہتا کہ :خواجہ! اَگنْ لگی ہے۔تیسرے روز میں نے دیکھاکہ بالکل اچھاہوگیا۔
بھاگل پور سے ایک صاحب ہرسال اجمیر شریف حاضر ہوا کرتے تھے۔ایک وہابی رئیس سے ملاقات تھی۔اس نے کہا: میاں!ہر سال کہاں جایا کرتے ہو؟بے کاراتنا روپیہ صَرف کرتے ہو۔ انھوں نے کہا: چلو اور انصاف کی آنکھ سے دیکھو۔ پھر تم کو اختیار ہے۔ خیر! ایک سال وہ ساتھ میں آیا، دیکھاکہ:ایک فقیر سونٹا لیے روضہ شریف کاطواف کر رہا ہے۔ اور یہ صدا لگا رہا ہے: ’’خواجہ! پانچ روپے لوں گا۔ اور ایک گھنٹہ کے اندر لوں گا اور ایک ہی شخص سے لوں گا۔‘‘جب اس وہابی کو خیال ہواکہ اب بہت وقت گزر گیا۔ ایک گھنٹہ ہو گیا ہوگا اور اب تک اسے کسی نے کچھ نہ دیا۔جیب سے پانچ روپے نکال کراس کے ہاتھ پر رکھے اور کہا: لو میاں! تم خواجہ سے مانگ رہے تھے، بھلا خواجہ کیادیں گے؟ لو ہم دیتے ہیں۔ فقیر نے وہ روپے تو جیب میں رکھے اور ایک چکر لگا کے زور سے کہا: خواجہ! تورے بلہاری جاؤں۔ دِلوائے بھی تو کس خبیث منکر سے۔‘‘ (الملفوظ،حصہ سوم، رضا اکیڈمی ممبئی،ص۴۴)
’’اَحْسَنُ الْوِعاء لآِدَاب الدُّعَا‘‘(ازمولانا نقی علی خان قادری بریلو ی) کی شرح ’’ذَیْلُ الْمُدَّعَا لِاَحْسَنِ الْوِعَا‘‘ میں اعلیٰ حضرت تحریر فرماتے ہیں؛ وہ چوالیس مقامات جہاں دُعا زیادہ قبول ہوتی ہے، ان میں ایک مزارِ حضرت خواجہ غریب نواز اجمیری بھی ہے۔چنانچہ ،آپ لکھتے ہیں:’’سی ونہم۳۹:مَرقدِ مبارک ،حضرت خواجہ غریب نواز معین الحق والدین، چشتی قدس سرہ۔‘‘ (احسن الوعا مع شَرحِہٖ ذیل المدعا، مکتبۃ المدینہ کراچی،ص۵۹)
حاضری دربار سلطان الہند:بارگاہ سلطان الہند خواجہ غریب نواز اجمیری رحمۃ اللہ علیہ میں اعلیٰ حضرت کی حاضری اہتمام کے ساتھ ہواکرتی تھی۔ اعلیٰ حضرت کے دوسرے سفر حج (۱۳۲۳ھ/۱۹۰۵ء) سے واپسی پر خلیفۂ اعلیٰ حضرت برہان ملت مفتی برہان الحق رضوی جبل پوری اور ان کے والد ماجد مولانا عبدالسلام جبل پوری ممبئی میںسفر جبل پور کی دعوت دی، مفتی برہان الحق جبل پوری لکھتے ہیں: ’’اعلیٰ حضرت نے بمبئی سے بریلی شریف کا قصد کیا۔ والد ماجد نے جبل پور تشریف لے جانے کے لیے عرض کیا۔ فرمایا: ابھی تو اجمیر شریف حاضری دیتا ہوا بریلی جاؤں گا۔ ان شاء اللہ۔ پھر کبھی جبل پور آؤں گا۔‘‘ (اکرام امام احمدرضا، مجلس رضا لاہور ۱۴۰۱ھ/۱۹۸۱ء،ص۸۲)
اس سفر اجمیر شریف کے ضمن میں خلیفۂ اعلیٰ حضرت خادم دربارِ اجمیر مقدس مولانا سید حسین علی چشتی اجمیری (رحلت:۲۵؍ نومبر ۱۹۶۷ء) لکھتے ہیں:
’’(اعلیٰ حضرت) حج و زیارت کی سعادت حاصل کر کے جب ساحل ہندُستان پر اُترے تو آپ کے فدائی مختلف بلاد و امصار سے آپ کو لینے بمبئی پہنچ گئے تھے، علاوہ وطن کے اور بھی کئی جگہ سے تار دیے گئے کہ آپ ہمارے وطن کو اپنے قدوم والا سے منور فرما دیں۔ آپ نے کسی کی نہ سنی، آپ سیدھے غریب نواز خواجہ کے آستانہ پر حاضر ہوئے اور خواجہ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی درباری حاضری کے بعد آپ نے ان کے شاہزادے حضرت خواجۂ ہند کے دربار میں حاضری دی۔ یہ حاضری ایسی عقیدت و محبت کی حامل تھی کہ ہم خدام آستانہ اور تمام مسلمانانِ اجمیرکے دلوں پر نقش ہو گئی۔ آج تک ہم خدام میں اس حاضری کے چرچے ہوتے ہیں۔ ‘‘(دربارِ چشت، مولانا سید حسین علی اجمیری، ص۶۰)
دربار سلطان الہند میں اعلیٰ حضرت کی قدر و منزلت کا اندازہ اس ایک جملے سے بخوبی ہوتا ہے: ’’یہ حاضری ایسی عقیدت و محبت کی حامل تھی کہ ہم خدام آستانہ اور تمام مسلمانانِ اجمیرکے دلوں پر نقش ہو گئی۔ آج تک ہم خدام میں اس حاضری کے چرچے ہوتے ہیں۔‘‘
gmrazvi92@gmail.com
