سوشل میڈیا اور ہم
`مفتیہ غزالہ پروین امجدی رضوی بلیاوی
` آج سے تقریباً دس سال پہلے ہمارے معاشرے کا یہ حال تھا کہ ہر گھر میں ماؤں کا کردار بڑا انوکھا ہوا کرتا تھا ،ہمارے معاشرے کے ماؤں کا مذہب چاہے جو بھی ہو لیکن وہ اپنے بچوں کے لیے اہم کردار ادا کرنے والی تھیں۔لیکن میری فکر دین اسلام سے تعلق رکھنے والی ماؤں کے بارے میں ہے۔جن کا یہ معمول ہوا کرتا تھا کہ دن بھر کی ذمہ داری اور تھکن کے بعد جب رات کا اندھیرا آسمان پر چڑھنے لگتا،اس وقت مائیں اپنے بچوں کو یہ عمل سیکھانے میں مشغول ہو جاتی کہ جلدی جلدی باہر کھیلتے بچوں کو اندر بلاتی اور ہاتھ،پیر،منھ دھلاتی اور ان کو دیا یا لالٹین کی روشنی میں پڑھنے کے لیۓ مشغول کر دیتی تھیں۔
بعده ہر ماں کا خاص عمل یہ ہوا کرتا تھا کہ جب بستر استراحت پر جاتی تو ہمارے بزرگوں کے قصّے سناتی،نصیحت آموز کہانیاں سناتی اور آنے والے کل کی فکر سکھاتی اور ان سب کے بعد ان کا سب سے اہم و ضروری عمل جو ہوتا تھا وہ یہ تھا کہ وہ اپنے بچوں کو شش کلمہ،درود و سلام،اوراد و وظائف اور مسنون دعائیں خود بڑھاتی اور یاد کرواتی تھیں اور اوقات فراغت میں ان سب کا اجراء بھی کرواتی تھیں۔ یہ حال تھا ہمارے معاشرے کے ماؤں کا مگر جوں جوں وقت گزرتا گیا زمانے نے ترقی کر لی اور اطوار و اخلاق حسنہ پیچھےہوتا گیا۔
وہ کچھ یوں کہ دور جدید نے سوشل میڈیا کو ہی اپنا رہبر و راہنما بنا لیا۔اور جن بچوں کی ماؤں نے ان کی تربیت کلمہ و درود پڑھا پرھا کر کی تھیں،اس سوشل میڈیا نے ان کی تربیت پر ایسا پانی پھیرا کہ آج وہی بچے بھول چکے ہیں کہ کلمہ کیا ہے؟،درود کیا ہے؟،دین کیا ہے؟،اسلام کیا ہے؟،ایمان کیا یے؟،توحید کیا ہے؟حتی کہ وہ تو یہ بھی بھولتے جا رہے ہیں کہ اللہ کون ہے،رسول کون ہے؟۔ اور آخر کار وہی بچے اب لذت ایمان سے بھی محروم ہوتے جا رہے ہیں۔۔۔اللہ اکبر اور پھر افسوس ہونا چاہیے دنیا کی ایسی ترقی پر جس نے ماؤں کی ایسی تربیت کو بھلا دیا جو انہونے اپنے اپنے آرام کو بھلا کر کیا تھا۔ *
اب غور کرنے کی بات یہ ہے خاص طور سے ہمارے نوجوان نسلوں کو کہ* جن بچوں کی تربیت اتنے پاکیزہ انداز میں کی گئی اس کے بعد اس سوشل میڈیا نے انہیں اتنا ناکارہ اور ناچنے گانے والا بنا کر خواہشوں کے جیل میں قید کر دیا تو اب جن بچوں کی تربیت ہی گہوارہ سوشل میڈیا میں ہو رہی ہے ان کا مستقبل کیسا ہوگا۔کیونکہ آج ہماری ماں،بہن،بیٹی،بیوی جن کو فنا فی اللہ ہونا چاہیۓ تھا وہ فنا فی الدنیا و السوشل میدیا ہو چکی ہیں۔تو جب ماؤں کا کردار ایسا ہوگا تو ان کے دامن میں پلنے والے کا مستقبل کیسا ہوگا یہ باہر از بیان ہے۔بالآخر اتنا جانیں کہ یہ اتنا باریک جال ہے کہ اگر اس کے بارے میں سوچا جائے تو انسان کا دماغ سواۓ ناکامئ مستقبل کے اور کچھ نہیں پاتا۔ اور اسیلیۓ میں دعوت دیتی ہوں ہر مسلم مرد حضرات کو کہ وہ خود بھی علم حاصل کریں اور اپنے گھر کی عورتوں کو بھی اتنا علم ضرور دیں جتنا ان پر فرض کیا گیا تاکہ وہ ایک بہترین بیٹی،باکردار بہن،باحیا بیوی اور باشعور ماں بن سکیں۔کیونکہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا *طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم و مسلمۃ* (علم دین حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے ) تو حدود شرع میں رہتے ہوۓ خود بھی دین سیکھیں اور دوسروں تک بھی پہنچائیں،کیونکہ ہمارا دین ہمیں یہی پیغام دیتا ہے اور یہی ہماری پہچان ہے۔
*ندعو الله أن ينزل كلمة الحق على ألسنتنا.*
