Feb 7, 2026 04:46 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
خواجہ غریب نوازؒ کی تعلیمات اور آج کے مسلمان کا عملی تضاد

خواجہ غریب نوازؒ کی تعلیمات اور آج کے مسلمان کا عملی تضاد

26 Dec 2025
1 min read

خواجہ غریب نوازؒ کی تعلیمات اور آج کے مسلمان کا عملی تضاد

تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادریؔ

 رابطہ نمبر: 

9037099731 

پی جی اسکالر: دارالہدی اسلامک یونیورسٹی، کیرالا

انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے بعد بلاشبہ حق کی گواہی اور اس کی حفاظت کا عظیم فریضہ بے شمار اولیائے کرام اور بزرگانِ دین نے انجام دیا۔ تمام انبیاء ا کرام اور رسولانِ عظام نے ہمیں یہی پیغام اور یہی تعلیم دی کہ جب بھی کوئی ظالم، جابر اور ظلم کرنے والا حق کے مقابل آئے تو اس کے خلاف جہاں تک ممکن ہو، کھل کر، بے خوف و خطر اور پوری جرأت کے ساتھ حق کا اعلان کرنا ہی اصل اسلامی تعلیم ہے۔ انہوں نے ہمیں زندگی کے ہر موڑ اور ہر محاذ پر یہ سبق دیا کہ سچ کے ساتھ، حق کے ساتھ ڈٹ جانا ہی اصل ایمان ہے اور یہی ایک مومن کی حقیقی پہچان ہے۔ یہی طریقہ، یہی زاویہ فکر اور یہی رویہ ہمیں نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے عطا فرمایا۔

آپ ﷺ کے بعد آپ کے صحابہ کرام، خلفائے راشدین، تابعین، تبع تابعین، ائمہ مجتہدین اور دیگر تمام بزرگانِ دین نے اسی مشن کو آگے بڑھایا۔ بالخصوص غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے اسی حق گوئی اور جرأتِ ایمانی کا درس دیا۔ اس کے بعد برصغیر ہند کی مقدس سرزمین پر جن عظیم ہستی کو سب سے زیادہ معزز، محترم اور مقدس مقام حاصل ہے، وہ ہیں سلطان الہند، خواجہ خواجگان، حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری سنجریؒ۔ آپ نے ہندوستان کی سرزمین پر جو پیغام، جو پند و نصائح اور جو ہدایات دیں، وہ سراسر حق، عدل، محبت اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے پر مبنی تھیں۔ اسی راستے پر چلتے ہوئے ہمارے امامِ اہلِ سنت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلویؒ، مفتی اعظمِ ہندؒ، حجۃ الاسلامؒ اور تاج الشریعہؒ نے بھی وہی پیغام دیا، وہی تعلیمات امت تک پہنچائیں جو قرآن و سنت اور بزرگانِ دین کی امانت تھیں۔

لیکن افسوس! آج ان تمام بزرگانِ دین کی ان عظیم تعلیمات پر سچے دل، پختہ عزم اور حقیقی وفاداری کے ساتھ عمل کرنے والے بہت کم رہ گئے ہیں۔ اللہ کے فضل سے شاید ایک، دو یا چند ہی علماء ایسے دکھائی دیتے ہیں جو ان تعلیمات پر ثابت قدم ہوں۔ اکثریت اس قدر دنیا کی رنگینیوں، عیش و عشرت اور وقتی مفادات میں الجھ چکی ہے کہ نہ انہیں اپنے اسلاف اور بزرگانِ دین کی ہدایات کا احساس باقی رہا ہے اور نہ ہی نبی کریم ﷺ کی سنتِ مبارکہ کی حقیقی قدر۔اسی غفلت کا نتیجہ یہ ہے کہ لوگ بلا خوفِ خدا، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہیں، مگر دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ماننے والے ہیں، ہم اہلِ سنت و جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ حالانکہ اگر ان کی زندگی، معاملات اور کردار کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو ان میں وہ اعمال کہیں نظر نہیں آتے جن کی تعلیم ہمیں خواجہ غریب نواز حضرت معین الدین چشتی اجمیریؒ نے دی تھی اور جن پر چلنے کی انہوں نے پوری امت کو دعوت دی تھی۔

درحقیقت اس زوال کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم نے خواجہ غریب نوازؒ کی اس بنیادی اور مرکزی تعلیم کو نظرانداز کر دیا ہے جو رسالتِ محمدی ﷺ سے کامل محبت اور غیر مشروط اطاعت پر مبنی ہے۔ خواجہ غریب نوازؒ کے نزدیک دینِ اسلام کی اصل روح یہی تھی کہ بندئہ مؤمن اپنے دل، اپنے قول اور اپنے عمل تینوں اعتبار سے نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ اقدس سے گہرا تعلق قائم کر لے۔ آپؒ صاف اور دو ٹوک انداز میں فرمایا کرتے تھے کہ جس عمل میں سنتِ رسول ﷺ کی جھلک نہ ہو، جو عمل نبی کریم ﷺ کے طریقے کے مطابق نہ ہو، وہ بظاہر کتنا ہی روحانی، کتنا ہی پُرکشش یا کتنا ہی مقبول کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ خواجہ غریب نواز ؒ کے نزدیک تصوف، بزرگی اور ولایت سب اسی وقت معتبر ہیں جب وہ مکمل طور پر سنتِ مصطفیٰ ﷺ کے تابع ہوں۔ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ آج ہمارے قول و فعل میں جو تضاد نظر آتا ہے، وہ دراصل سنتِ نبوی ﷺ سے عملی دوری کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم واقعی خواجہ غریب نوازؒ کی تعلیمات کے سچے پیروکار بننا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنی زندگیوں کو نبی کریم ﷺ کی سنت کے سانچے میں ڈھالنا ہوگا، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو خواجہ غریب نوازؒ نے ہمیں دکھایا تھا اور یہی اصل کامیابی کا راستہ ہے۔

            آپؒ نے یہ حقیقت اجاگر کی کہ نبی کریم ﷺ سے محبت محض زبانی دعویٰ نہیں، بلکہ عملی اطاعت کا نام ہے۔ سنتِ نبوی ﷺ کو زندگی کا مرکز بنانا، اخلاق، معاملات، عبادات اور معاشرت ہر شعبے میں رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرنا ہی سچی محبت کی علامت ہے۔ خواجہ غریب نوازؒ نے اپنے مریدوں اور متوسلین کو ہمیشہ یہ نصیحت فرمائی کہ تصوف، ولایت یا بزرگی اگر سنت کے خلاف ہو تو وہ گمراہی ہے، نہ کہ قربِ الٰہی کا راستہ۔ آپؒ کے نزدیک شریعت اور طریقت میں کوئی تصادم نہیں تھا۔ شریعت رسول ﷺ کا حکم ہے اور طریقت اسی حکم پر چلنے کا نام۔ اسی لیے خواجہ غریب نواز ؒ نے ہر اُس روحانی عمل سے دوری اختیار کی جو قرآن و سنت کے دائرے سے باہر ہو۔ آپؒ کا یہ موقف آج کے زمانے کے لیے بھی نہایت اہم ہے، جب دین کے نام پر کئی ایسی باتیں رائج ہو چکی ہیں جن کا سنتِ نبوی ﷺ سے کوئی تعلق نہیں۔ خواجہ غریب نوازؒ نے یہ بھی تعلیم دی کہ نبی کریم ﷺ کی اطاعت دراصل اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ جو شخص رسول ﷺ کی سنت کو اپناتا ہے، وہ درحقیقت اللہ کے حکم پر عمل کرتا ہے۔ اسی لیے آپؒ نے اپنے عمل، گفتار اور کردار سے سنتِ نبوی ﷺ کو زندہ کیا اور دوسروں کو بھی اسی کی دعوت دی۔ خواجہ غریب نوازؒ کے نزدیک رسالتِ محمدی ﷺ سے محبت اور اطاعت نہ صرف دین کی بنیاد ہے بلکہ ایمان کی تکمیل بھی اسی کے ذریعے ہوتی ہے۔ جو شخص اس اصول کو تھام لے، اس کی زندگی خود بخود ہدایت اور اصلاح کا نمونہ بن جاتی ہے۔          

خواجہ غریب نواز حضرت معین الدین چشتی اجمیریؒ کی تعلیمات میں حق گوئی اور حق پر ثابت قدمی کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ آپؒ کے نزدیک حق کا ساتھ دینا صرف ایک اخلاقی وصف نہیں بلکہ یہ ایمان کا تقاضا ہے۔ آپؒ یہ تعلیم دیتے تھے کہ مومن کی پہچان یہی ہے کہ وہ حق کو پہچانے بھی اور اس پر ڈٹ بھی جائے، چاہے حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں۔ خواجہ غریب نوازؒ نے واضح کیا کہ ظلم، جبر اور ناانصافی کے سامنے خاموش رہنا کمزوری ہی نہیں بلکہ بعض اوقات گناہ کے زمرے میں آ جاتا ہے۔ اگر انسان ظلم کو دیکھ کر بھی حق بات نہ کہے تو وہ ظالم کا بالواسطہ ساتھی بن جاتا ہے۔ اسی لیے آپؒ نے اپنے مریدوں اور چاہنے والوں کو یہ سبق دیا کہ حق بات کہنے میں کسی دنیاوی نقصان، مخالفت یا خوف کو آڑے نہ آنے دیا جائے۔

تاہم آپؒ کی حق گوئی جذباتی یا اشتعال انگیز نہیں تھی، بلکہ حکمت، وقار اور اخلاق کے دائرے میں رہ کر ہوتی تھی۔ آپؒ نے یہ سکھایا کہ حق کہنا ضروری ہے، مگر انداز ایسا ہو جو اصلاح کا سبب بنے، فساد کا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپؒ نے تلوار کے بجائے کردار، اخلاق اور سچائی کے ذریعے باطل کو شکست دی۔ خواجہ غریب نوازؒ نے عملی طور پر یہ ثابت کیا کہ حق پر ثابت قدمی انسان کو وقتی طور پر آزمائش میں ڈال سکتی ہے، مگر انجام کار عزت اور کامیابی اسی کے حصے میں آتی ہے۔ آپؒ نے نہ حکمرانوں کی خوشنودی کے لیے حق کو چھوڑا اور نہ عوامی مقبولیت کے لیے مصلحت کو حق پر ترجیح دی۔ یہی استقامت آپؒ کو اللہ کے نزدیک مقبول اور مخلوق کے دلوں میں محترم بناتی ہے۔

آج کے دور میں، خصوصاً نوجوانوں اور علماء کے لیے خواجہ غریب نوازؒ کی یہ تعلیم غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ سچ کو چھپانا، حق کو مروڑنا یا باطل کے ساتھ سمجھوتا کرنا وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے، مگر یہ دین اور ضمیر دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ خواجہ صاحبؒ ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ حق کا راستہ مشکل ضرور ہے، مگر یہی راستہ نجات اور کامیابی کا راستہ ہے۔ خواجہ غریب نوازؒ کے نزدیک حق گوئی اور حق پر ڈٹ جانا وہ صفت ہے جو انسان کو اللہ کے قریب اور باطل سے دور کر دیتی ہے، اور یہی ایک سچے مومن اور داعیِ دین کی اصل پہچان ہے۔ خواجہ غریب نواز حضرت معین الدین چشتی اجمیریؒ کی تعلیمات میں انسانی مساوات کو نہایت بنیادی مقام حاصل ہے۔ آپؒ نے ایسے دور میں یہ پیغام دیا جب معاشرہ ذات پات، نسل، مذہب اور طبقاتی تفریق میں بری طرح منقسم تھا۔ آپؒ نے واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں تمام انسان برابر ہیں، فضیلت کا معیار نہ ذات ہے، نہ دولت اور نہ ہی نسب، بلکہ تقویٰ اور کردار ہے۔ خواجہ غریب نوازؒ نے عملی طور پر اس تعلیم کو زندہ کیا۔ آپؒ کی خانقاہ میں امیر و غریب، حاکم و محکوم، ہندو و مسلمان سب ایک ہی صف میں بیٹھتے، ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھاتے اور ایک ہی طرح عزت پاتے تھے۔ یہ عملی مساوات اس وقت کے سماجی نظام کے لیے ایک انقلابی پیغام تھی، جس نے ہزاروں دلوں کو متاثر کیا۔ آپؒ نے اس بات کی سختی سے نفی کی کہ کسی انسان کو اس کی ذات، زبان، رنگ یا علاقے کی بنیاد پر کمتر سمجھا جائے۔ آپؒ فرماتے تھے کہ جو شخص کسی انسان کو حقیر سمجھتا ہے، وہ دراصل اللہ کی تخلیق کی توہین کرتا ہے۔ اسی فکر نے ہندوستان میں اسلام کو ایک رحمت کے طور پر متعارف کرایا۔

آج کے دور میں، جب معاشرہ پھر تعصب، نفرت اور فرقہ واریت کی طرف بڑھ رہا ہے، خواجہ غریب نوازؒ کی یہ تعلیم پہلے سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ نوجوانوں اور علما کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دین کا پیغام نفرت نہیں بلکہ عزتِ انسانیت ہے۔ اگر عالم خود تفریق کا شکار ہو جائے تو وہ امت کو کیسے جوڑ سکتا ہے؟ خواجہ غریب نوازؒ نے ہمیں یہ سکھایا کہ ہر انسان قابلِ احترام ہے، اور یہی مساوات ایک صالح معاشرے کی بنیاد ہے۔

خواجہ غریب نواز حضرت معین الدین چشتی اجمیریؒ کی تعلیمات کا ایک اہم پہلو امن، رواداری اور برداشت ہے۔ آپؒ نے ایسے معاشرے میں دعوتِ دین کا کام کیا جہاں مختلف مذاہب، ثقافتیں اور نظریات ایک ساتھ موجود تھے۔ اس تنوع کے باوجود آپؒ نے تصادم کے بجائے امن اور محبت کا راستہ اختیار کیا۔ آپؒ کا پیغام واضح تھا کہ اسلام تلوار یا جبر سے نہیں بلکہ اخلاق، صبر اور حسنِ سلوک سے دلوں میں داخل         

ہوتا ہے۔ آپؒ نے نفرت، تشدد اور انتقام کی سختی سے مخالفت کی اور برداشت کو مومن کی اصل طاقت قرار دیا۔ آپؒ کے نزدیک حقیقی بہادری غصے پر قابو پانے اور دشمنی کو محبت میں بدلنے میں ہے۔ خواجہ غریب نوازؒ نے رواداری کا یہ مفہوم بھی واضح کیا کہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے عقائد کا احترام کیا جائے، ان کے ساتھ انصاف اور حسنِ سلوک سے پیش آیا جائے، اور اختلاف کو فساد کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم بھی آپؒ کے اخلاق سے متاثر ہو کر آپ کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔

آج کے دور میں، جب معمولی اختلاف بھی تشدد اور نفرت میں بدل جاتا ہے، خواجہ صاحبؒ کی یہ تعلیم ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے۔ نوجوانوں اور علماء کو یہ سیکھنا ہوگا کہ سختی، گالی اور نفرت سے دین نہیں پھیلتا، بلکہ دین بدنام ہوتا ہے۔ خواجہ غریب نوازؒ ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ امن کے بغیر دین کی خدمت ممکن نہیں۔ جو شخص خود بے صبر اور متشدد ہو، وہ معاشرے کو سکون کیسے دے سکتا ہے؟ بس یہ سمجھ لیں کہ امن، رواداری اور برداشت وہ صفات ہیں جو ایک فرد کو بھی عظیم بناتی ہیں اور ایک قوم کو بھی۔خواجہ غریب نوازؒ کی تعلیمات میں علمِ دین کو نہایت مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ آپؒ کے نزدیک علم وہ روشنی ہے جو انسان کو حق اور باطل میں فرق سکھاتی ہے۔ بغیر علم کے عبادت اور عمل اگرچہ ظاہری طور پر اچھے نظر آئیں، مگر وہ اکثر گمراہی یا افراط و تفریط کا سبب بن جاتے ہیں۔ اسی لیے آپؒ نے ہمیشہ صحیح اور مستند علم حاصل کرنے پر زور دیا۔ خواجہ غریب نوازؒ فرماتے تھے کہ علم اگر قرآن و سنت کی بنیاد پر نہ ہو تو وہ فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی وجہ سے آپؒ نے اپنے مریدوں اور شاگردوں کو یہ نصیحت فرمائی کہ وہ کسی بھی عمل کو اختیار کرنے سے پہلے اس کی شرعی حیثیت کو سمجھیں۔ آپؒ کے نزدیک علم اور عمل کا تعلق روح اور جسم جیسا تھا ایک کے بغیر دوسرا نامکمل۔ آپؒ نے علم کے ساتھ ادب اور تواضع کو بھی لازم قرار دیا۔ آپؒ کے نزدیک وہ علم جو انسان کو متکبر بنا دے، حقیقی علم نہیں بلکہ آزمائش ہے۔ ایک سچا عالم وہ ہے جو جتنا سیکھے، اتنا ہی جھک جائے اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے۔

آج کے دور میں، جب سوشل میڈیا اور غیر مستند ذرائع سے دین کے نام پر بہت سی باتیں پھیلائی جا رہی ہیں، خواجہ غریب نوازؒ کی یہ تعلیم پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ نوجوان علما اور طلبہ کو چاہیے کہ وہ گہرے مطالعے، اساتذہ کی رہنمائی اور تحقیق کے بغیر کسی بات کو دین کا حصہ نہ بنائیں۔ بس اتنا یاد رکھیں کہ خواجہ غریب نوازؒ کے نزدیک علمِ دین نہ صرف نجات کا راستہ ہے بلکہ امت کی فکری حفاظت کا مضبوط ذریعہ بھی ہے۔

خواجہ غریب نواز حضرت معین الدین چشتی اجمیریؒ کی تعلیمات کا ایک اہم پہلو عدل و انصاف کی حمایت ہے۔ آپؒ نے واضح طور پر یہ تعلیم دی کہ اسلام ظلم کے خلاف اور انصاف کے حق میں کھڑا ہونے کا نام ہے۔ عدل صرف عدالتوں تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں اس کا قیام ضروری ہے۔ آپؒ نے سکھایا کہ ایک سچا مومن وہ ہے جو طاقتور کے خلاف اور کمزور کے حق میں کھڑا ہو، چاہے اس کے نتیجے میں اسے نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔ آپؒ نے اپنے عمل سے یہ بات ثابت کی کہ اللہ کے نزدیک سب سے افضل وہی ہے جو مظلوم کی فریاد سنے اور اس کی مدد کرے۔ خواجہ غریب نوازؒ نے حکمرانوں اور صاحبِ اقتدار افراد کو بھی عدل کی تلقین کی اور ظلم پر خاموش رہنے کو ایمان کے منافی قرار دیا۔ تاہم، آپؒ کا انداز ہمیشہ حکمت، نرمی اور خیر خواہی پر مبنی ہوتا تھا، نہ کہ بغاوت یا فساد پر۔آج کے معاشرے میں، جہاں ناانصافی، کرپشن اور طاقت کا غلط استعمال عام ہوتا جا رہا ہے، خواجہ صاحبؒ کی یہ تعلیم ہمارے لیے ایک واضح رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ نوجوان علما اور باشعور افراد کو چاہیے کہ وہ انصاف کی آواز بنیں، نہ کہ مصلحت یا خوف کی وجہ سے خاموش تماشائی بنے رہیں۔ یہ ذہن نشیں کر لیں کہ خواجہ غریب نوازؒ کے نزدیک عدل و انصاف محض ایک سماجی قدر نہیں بلکہ ایمان کا عملی تقاضا ہے، اور اسی کے ذریعے معاشرے میں امن اور بھلائی قائم ہو سکتی ہے۔

خواجہ غریب نواز حضرت معین الدین چشتی اجمیریؒ کی تعلیمات میں غریبوں، یتیموں اور مسکینوں کی خدمت کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؒ کو‘‘غریب نواز’’کہا گیا، یعنی غریبوں کا سہارا بننے والا۔ آپؒ کے نزدیک کسی بھی انسان کی قدر و منزلت اس کی دولت یا حیثیت سے نہیں بلکہ اس کی انسانیت سے ہوتی ہے۔ آپؒ نے اپنی پوری زندگی غربائ، فقراء اور محروم طبقات کی خدمت میں گزاری۔ آپؒ کی خانقاہ صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ ایک سماجی فلاحی مرکز بھی تھی، جہاں بھوکے کو کھانا، ننگے کو لباس اور بے سہارا کو سہارا ملتا تھا۔ آپؒ یہ تعلیم دیتے تھے کہ جس دل میں غریبوں کے لیے درد نہیں، وہ دل اللہ کی محبت سے بھی خالی ہے۔ خواجہ غریب نوازؒ نے یہ بھی سکھایا کہ غریبوں کی مدد احسان جتانے کے لیے نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے۔ مدد کرنے والا خود کو بڑا نہ سمجھے بلکہ شکر ادا کرے کہ اللہ نے اسے کسی کے کام آنے کا موقع دیا۔ یہی خلوص اس خدمت کو عبادت کا درجہ دیتا ہے۔

آج کے دور میں، جب معاشرہ خودغرضی اور مادہ پرستی کا شکار ہے، خواجہ صاحبؒ کی یہ تعلیم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دین کا اصل چہرہ خدمتِ خلق ہے۔ نوجوانوں اور علما کو چاہیے کہ وہ محض گفتار پر اکتفا نہ کریں بلکہ عملی طور پر غریبوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔غریبوں اور مسکینوں کا خیال رکھنا خواجہ غریب نوازؒ کی تعلیمات کا دل ہے، اور یہی وہ صفت ہے جو معاشرے میں رحمت اور برکت کا سبب بنتی ہے۔ خواجہ غریب نواز حضرت معین الدین چشتی اجمیریؒ کی تعلیمات میں وحدتِ امت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ آپؒ ایسے دور میں ہندوستان تشریف لائے جب معاشرہ مذہبی، سماجی اور طبقاتی اختلافات کا شکار تھا۔ اس ماحول میں آپؒ نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد، بھائی چارے اور باہمی احترام کا پیغام عام کیا اور اختلاف کو انتشار کا ذریعہ بننے سے روکا۔ آپؒ نے یہ واضح فرمایا کہ اسلام اتحاد کا دین ہے، تفرقے کا نہیں۔ فقہی یا فکری اختلاف اگر ادب اور حدود کے اندر ہو تو وہ رحمت بن سکتا ہے، مگر جب یہی اختلاف تعصب، نفرت اور تکفیر کی شکل اختیار کر لے تو امت کی قوت کمزور ہو جاتی ہے۔ اسی لیے آپؒ نے اپنے مریدوں کو اس بات کی سختی سے تلقین کی کہ وہ ایک دوسرے کی نیتوں پر حملہ نہ کریں اور اختلاف کے باوجود اخوت کو برقرار رکھیں۔ خواجہ غریب نوازؒ نے خانقاہی نظام کے ذریعے عملی طور پر وحدتِ امت کا مظاہرہ کیا۔ آپؒ کی خانقاہ میں مختلف علاقوں، زبانوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ساتھ رہتے، عبادت کرتے اور خدمتِ خلق میں حصہ لیتے تھے۔ یہ عملی اتحاد، صرف زبانی نعروں سے کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوا۔

آج کے دور میں، جب امتِ مسلمہ فرقہ واریت، گروہ بندی اور باہمی نفرت کا شکار ہے، خواجہ صاحبؒ کی یہ تعلیم ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ نوجوان علما اور داعیانِ دین کو چاہیے کہ وہ اختلافی مسائل کو ہوا دینے کے بجائے مشترکہ اقدار کو اجاگر کریں اور امت کو جوڑنے کا کردار ادا کریں۔ خواجہ غریب نوازؒ ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ امت کی قوت اتحاد میں ہے، اور اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کو برداشت کرنا ہی اسلامی اخوت کا تقاضا ہے۔

خواجہ غریب نواز حضرت معین الدین چشتی اجمیریؒ کی تعلیمات کا آخری مگر نہایت اہم پہلو عملی دعوت ہے۔ آپؒ کا طریقہ دعوت صرف وعظ و نصیحت یا مناظروں تک محدود نہیں تھا، بلکہ آپؒ نے اپنے کردار، اخلاق اور خدمت کے ذریعے اسلام کو لوگوں کے دلوں تک پہنچایا۔ آپؒ فرماتے تھے کہ جب عالم یا داعی کا عمل اس کے قول کے خلاف ہو تو اس کی بات میں اثر باقی نہیں رہتا۔ اس لیے آپؒ نے پہلے خود عمل کیا، پھر دوسروں کو دعوت دی۔ آپؒ کی سچائی، صبر، تواضع اور خدمتِ خلق ہی وہ اوصاف تھے جنہوں نے ہزاروں لوگوں کو متاثر کیا اور اسلام کی طرف راغب کیا۔ خواجہ غریب نوازؒ کے نزدیک عملی دعوت کا مطلب یہ تھا کہ انسان دوسروں کے لیے آسانی کا سبب بنے، نہ کہ بوجھ۔ آپؒ نے لوگوں کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھا، ان کے مسائل میں ساتھ دیا اور بغیر کسی امتیاز کے ان کی مدد کی۔ یہی عمل لوگوں کے دلوں میں اسلام کی محبت پیدا کرتا تھا۔

            آج کے دور میں، خاص طور پر سوشل میڈیا کے زمانے میں، زبانی دعوت بہت عام ہو چکی ہے مگر عملی نمونے کم نظر آتے ہیں۔ خواجہ صاحبؒ کی یہ تعلیم ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ محض پوسٹیں، تقاریر اور نعرے دین کی خدمت نہیں، جب تک وہ ہمارے کردار میں نہ ڈھل جائیں۔ نوجوان علما اور طلبہ دین کے لیے خواجہ غریب نوازؒ کا پیغام بالکل واضح ہے: اپنی ذات کو دعوت بنا لو۔ جب تمہارا اخلاق، معاملات اور رویّہ اسلامی ہوگا تو تمہاری خاموشی بھی دعوت بن جائے گی۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383