اداریہ
فقیہِ ملت: فقہ و افتاء کا نیرِ تاباں
عبدالجبار علیمی نیپالی
ہفت روزہ نیپال اردو ٹائمز کو یہ سعادت ہمیشہ حاصل رہی ہے کہ اس نے اہلِ سنت وجماعت کی علمی و روحانی خدمات کو نہ صرف محفوظ کیا بلکہ انہیں ایک باوقار اسلوب کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش بھی کیا۔ گزشتہ شمارہ صدسالہ عرسِ قاسمی برکاتی کی پرنور فضاؤں میں شائع ہونے والا “خانقاہ برکاتیہ نمبر” اسی روایت کی روشن کڑی تھا، جسے ملک و بیرونِ ملک کے علماء، مشائخ، ادباء اور اہلِ دل حضرات نے بڑے ذوق و شوق سے قبول کیا۔ اس خصوصی شمارے کے متعلق جو تحسینی کلمات، خراجِ محبت اور دعاؤں کے گلدستے ہمیں موصول ہوئے، وہ دراصل اس بات کی دلیل تھے کہ نیپال اردو ٹائمز کا عملہ اخلاص، سلیقہ اور خدمتِ دین کی بلند روایات پر قائم ہے۔ متعدد احباب کی جانب سے مسلسل فرمائش سامنے آئی کہ اہلِ سنت کے اس عظیم فقہی ستون، محدث و فقیہ، مدرس و مصنف، محقق و مفتی حضرت فقیہ ملت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ کی علمی و دینی خدمات پر بھی ایک خصوصی شمارہ ترتیب دیا جائے، تاکہ ان کی فقہی میراث اور روشن خدمات نئی نسل تک درست اور مؤثر انداز میں پہنچ سکیں۔
چنانچہ قارئین کے اسی خلوصِ محبت اور بزرگانِ دین کے حوصلہ افزا کلمات کے زیرِ اثر آج نیپال اردو ٹائمز فخر کے ساتھ “فقیہ ملت نمبر” پیش کر رہا ہے۔ فقیہ ملت علیہ الرحمہ کی حیات کے مختلف ادوار علم، محنت، دیانت، تقویٰ اور استقامت کے وہ ابواب ہیں جنہیں پڑھ کر ایک انسان محض متاثر نہیں ہوتا بلکہ خود کو دین کی خدمت کے لیے وقف کرنے کا جذبہ بھی بیدار پاتا ہے۔ بچپن میں ناظرہ و حفظ کی تکمیل، ابتدائی عمر میں والدین کی کفالت کے ساتھ عربی و دینی علوم کی تحصیل، پھر ناگپور میں قائد اہل سنت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کی تربیت میں درسِ نظامی کا سفر۔۔۔یہ تمام مراحل اس بات کی علامت تھے کہ مستقبل میں یہ نوجوان علم و فقہ کی دنیا میں ایک غیر معمولی مقام حاصل کرنے والا ہے۔
۱۹۵۶ء سے دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف میں مسندِ تدریس سنبھالنے کے بعد آپ کی علمی زندگی نے جو رفتار اختیار کی وہ فقہ و حدیث کی دنیا میں ایک مثال بن گئی۔ آپ نے فقہ، اصولِ فقہ، حدیث اور تفسیر جیسے دقیق علوم کو نہ صرف پڑھایا بلکہ اپنے شاگردوں کے سینوں میں وہ یقین، ذہنی مضبوطی اور فقہی بصیرت پیدا کی جو ایک صحیح معنوں میں فقیہانہ ذہن کی بنیاد ہوتی ہے۔ اواخرِ عمر میں آپ نے اپنے ہی قائم کردہ ادارے مرکز تربیتِ افتاء اوجھا گنج میں جو خدمات انجام دیں، وہ ہندوستان میں فقہی تربیت کے ایک نئے باب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہاں سے فارغ ہونے والے علماء وفقہاء آج مختلف شہروں اور اداروں میں امت کی علمی رہنمائی فرما رہے ہیں۔
فقیہ ملت علیہ الرحمہ کی تصنیفی میراث اہلِ سنت کے لیے بیش بہا سرمایہ ہے۔ آپ کی بائیس سے زائد کتابیں اور بے شمار مقالات فقہ، عقائد، مسائلِ شرعیہ اور دینی رہنمائی کے میدان میں بنیادی مراجع کی حیثیت رکھتی ہیں۔ فتاویٰ فیض الرسول، فتاویٰ فقیہ ملت، فتاویٰ برکاتیہ، انوار الحدیث، انوار شریعت، محققانہ فیصلہ، عجائب الفقہ، نورانی تعلیم جیسی کتب نے نہ صرف علمی دنیا میں آپ کی عظمت کو اجاگر کیا بلکہ اس بات پر مہر ثبت کی کہ آپ عصرِ حاضر کے عظیم مفتیان کرام میں ایک ممتاز مقام رکھتے تھے۔ دلیل کی قوت، عبارت کی صفائی، موقف کی صراحت اور اہلِ سنت کے اصول سے کامل وابستگی۔۔۔یہ خصوصیات آپ کی تمام تحریروں کا طرّۂ امتیاز ہیں۔
اوجھا گنج میں قائم کردہ مرکز تربیتِ افتاء، دارالعلوم امجدیہ اہل سنت ارشدالعلوم، کتب خانہ امجدیہ، مسجد کی تعمیر اور علاقائی دینی خدمات آپ کے اخلاص، انتظامی صلاحیت اور امت کی فکری و اصلاحی تربیت کے واضح ثبوت ہیں۔ آپ کی شخصیت کا سب سے روشن پہلو حق گوئی، بیباکی، تقویٰ، وقت کی پابندی، اور دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا وہ غیر متزلزل اصول ہے جسے آپ نے نہ صرف اپنی زندگی میں اپنایا بلکہ دوسروں کو بھی اس کی تعلیم عطا فرمائی۔ آپ کی استقامت کا یہ عالم تھا کہ سخت موسم، تیز بارش، شدید گرمی یا یخ بستہ ہوائیں بھی آپ کے طے شدہ دینی پروگراموں میں رکاوٹ نہیں بنتیں۔
یہ خصوصی شمارہ نہایت کم وقت میں، مسلسل محنت اور محدود وسائل کے باوجود ترتیب دیا گیا ہے۔ اگر کسی مقام پر کوئی کمی، کوتاہی یا فنی خامی رہ گئی ہو تو اسے ہمارے اخلاص پر محمول فرماتے ہوئے بصدرِ محبت درگزر کریں
یہ خصوصی شمارہ دراصل اس مردِ باصفا کی جہودِ علمی، تالیفی کارناموں، فقہی خدمات اور ان کی روشن زندگی کا آئینہ ہے۔ نیپال اردو ٹائمز اسے اہلِ سنت کے علمی سرمایے میں ایک نئے اضافے کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
ہماری کوشش ہے کہ اس شمارے کا ہر صفحہ، ہر مضمون اور ہر جملہ قارئین کو فقیہ ملت علیہ الرحمہ کی علمی عظمت، فقہی بصیرت اور دینی غیرت سے روشناس کرائے۔اور خدائے بزرگ و برتر ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اسی اخلاص و ذمہ داری کے ساتھ دین و سنیت کی خدمت کرتے رہیں، اور بالخصوص حضرت فقیہ ملت علیہ الرحمہ کے مشن کو مزید حسن و خوبی کے ساتھ آپ کے تلامذہ اور لائق و فائق شہزادگان صاحب سجادہ حضرت علامہ مفتی انوار صاحب امجدی، جانشین حضور فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی ابرار احمد صاحب امجدی اور وارثِ علومِ فقیہ ملت ماہرِ علوم و فنون حضرت علامہ مفتی ازہار احمد صاحب امجدی مصباحی ازہری کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی توفیقِ سعید عطا فرمائے۔
