Feb 7, 2026 10:50 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
اسلام اور حقوق انسانی

اسلام اور حقوق انسانی

21 Nov 2025
1 min read

اسلام اور حقوق انسانی

از: *محمد فیضان اشرف علیمی مصباحی*

انسانی حقوق کے بارے میں اسلام کا تصور بنیادی طور پر بنی نوع انسان کے احترام وقار اور مساوات پر مبنی ہے۔ قران حکیم کی رو سے اللہ رب العزت نے نوع انسانی کو دیگر تمام مخلوق پر فضیلت و تکریم عطا کی ہے۔ قران مجید میں شرف انسانیت وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ تخلیق ادم کے وقت ہی اللہ تعالی نے فرشتوں کو حضرت ادم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور اس طرح نسل ادم کو تمام مخلوق پر فضیلت عطا کی گئی قران حکیم میں ارشاد باری تعالی ہے 

وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا

ترجمہ: اور بے شک ہم نے بنی ادم کو عزت بخشی اور ہم نے ان کی خشکی اور تری میں (مختلف سواریوں پر) سوار کیا اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق عطا کیا اور ہم نے انہیں اکثر مخلوقات پر جنہیں ہم نے پیدا کیا فضیلت دے کر برتر بنادیا۔

اور ارشاد کہ!لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍترجمہ: ہم نے انسان کو بہترین (اعتدال اور توازن والی) ساخت پر بنایا ہے۔

بیان کرتے ہیں کہ انسان کو شرف و تکریم سے نوازا گیا ہے اور اس کو انعامات و نوازشات  الہیہ کے باعث اعلی مرتبہ کمال تفویض کیا گیا ہے۔ مساوات انسانی کو اسلام نے بے حد اہمیت دی ہے۔ اس حوالے سے کوئی اور مذہب اور نظام میں اقتدار اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ قران کریم نے بنی نوع انسان کی مساوات کی اساس بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ 

 یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ   اتَّقُوْا  رَبَّكُمُ الَّذِیْ  خَلَقَكُمْ  مِّنْ نَّفْسٍ  وَّاحِدَةٍ  وَّ خَلَقَ  مِنْهَا  زَوْجَهَا وَ  بَثَّ  مِنْهُمَا رِجَالًا  كَثِیْرًا  وَّ نِسَآءًۚ-وَ  اتَّقُوا  اللّٰهَ الَّذِیْ  تَسَآءَلُوْنَ  بِهٖ وَ  الْاَرْحَامَؕ-اِنَّ  اللّٰهَ كَانَ  عَلَیْكُمْ  رَقِیْبًاترجمہ: اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش (کی ابتداء) ایک جان سے کی، پھر اسی سے اس کا جوڑا پیدا فرمایا پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا اور ڈرو اس اللہ سے جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور قرابتوں (میں بھی تقوی اختیار کرو) بے اللہ تم پر نگہبان ہے۔حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الودا میں واضح الفاظ میں اعلان فرمایا: 

*_جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ: یا ایہا الناس ان ربکم واحد وان اباکم واحد الا لا فضل لعربی علی عجمی ولا لعجمی علی عربی ولا لاحمر علی اسود ولا اسود علی احمر الا بالتقوی ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم۔_*

ترجمہ: اے لوگو! بے شک تمھارا رب بھی ایک ہے اور تمھارا باپ بھی ایک۔ آگاہ رہو! کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر اور کسی سیاہ فام کو کسی سفید فام پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ فضیلت کا معیار صرف تقویٰ ہے۔ تم میں سے اللہ کے نزدیک زیادہ عزت کا مستحق وہ ہے جو زیادہ حدود کا پابند ہے۔

اس طرح اسلام نے تمام قسم کے امتیازات اور ذات پات، نسل، رنگ، جنس، زبان، حسب و نسب اور مال و دولت پر مبنی تعصبات کو جڑ سے اکھاڑ دیا اور تاریخ میں پہلی مرتبہ تمام انسانوں کو ایک دوسرے کے ہم پلہ قرار دیا خواہ وہ امیر ہوں یا غریب سفید ہوں یس یا مشرق میں ہوں یا مغرب میں مرد ہو یا عورت اور چاہے وہ کسی بھی لسانی یا جغرافیائی علاقے سے تعلق رکھتے ہوں۔ انسانی مساوات کی اس سے بڑی مثال کیا ہو سکتی ہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں نسلوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے ہر سال مکۃ المکرمہ میں ایک ہی لباس میں ملبوس حج ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

احترام ادمیت اور نوع بشر کی برابری کے نظام کی بنیاد ڈالنے کے بعد اسلام نے اگلے قدم کے طور پر عالم انسانیت کو مذہبی اخلاق کی معاشی معاشرتی اور سیاسی شعبہ ہائے زندگی میں بے شمار حقوق عطا کیے۔ انسانی حقوق اور ازادیوں کے بارے میںاسلام کا تصور افاقی اور یکسا نوعیت ہے جو زماں و مکاں کی تاریخی اور جغرافیائی حدود سے ماورا ہے۔ اسلام میں حقوق انسانی کا منشور اس اللہ کا عطا کردہ ہے جو تمام کائنات کا خدا ہے اور اس نے یہ تصور اپنے اخری پیغام میں اپنے اخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی رسالت سے دیا ہے۔ اسلام کی تفویض کردہ حقوق اللہ تعالی کی طرف سے ایک انعام کے طور پر عطا کیے گئے ہیں اور ان کے حصول میں انسانوں کی محنت اور کوشش کا کوئی عمل دخل نہیں ۔ دنیا کے قانون سازوں کی طرف سے دیے گئے حقوق کے برعکس یہ حقوق مستقل بالذات مقدس اور ناقابل تنسیخ ہیں۔ ان کے پیچھے الہی منشا اور ارادہ کار فرما ہے اس لیے انہیں کسی عذر کی بنا پر تبدیل ترمیم یا معطل نہیں کیا جا سکتا۔ ایک حقیقی اسلامی ریاست میں ان حقوق سے تمام شہری مستفیض ہو سکیں گے اور کوئی ریاست یا فرد واحد ان کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا اور نہ ہی وہ قران و سنت کی طرف سے عطا کردہ بنیادی حقوق کو معطل یا کالعدم قرار دے سکتا ہے۔

اسلام میں حقوق اور فرائض باہمی طور پر مربوط اور ایک دوسرے پر منحصر تصور کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں فرائض، واجبات اور ذمہ داریوں پر بھی حقوق کے ساتھ ساتھ یکساں زور دیا گیا ہے۔اس زیل میں متعدد ایات قرانی اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ دیا جا سکتا ہے، جن سے یہ بات ثابت ہے کہ اسلامی شریعت کہ ان اہم ماخذ وہ مصادر میں انسانی فرائض و واجبات کو کس قدر اہمیت دی گئی ہے۔

اخر میں یہ حقیقت واضح ہے کہ اسلام نے انسان کو وہ عظمت، ازادی مساوات اور عدل عطا کیا جس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی قران و سنت کی تعلیمات اج بھی حقیقی انسانی حقوق کی ضمانت ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود ان اصولوں پر عمل کریں اور انہیں دنیا تک بہترین کردار کے ساتھ پہنچائیں۔ اللہ تعالی ہمیں اپنے دین پر سچا عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین۔ 

از: *محمد فیضان اشرف علیمی مصباحی*

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383