Feb 7, 2026 06:09 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
فقیہ ملت و فتاوی فقیہ ملت کا فقہی مقام

فقیہ ملت و فتاوی فقیہ ملت کا فقہی مقام

21 Nov 2025
1 min read

فقیہ ملت و فتاوی فقیہ ملت کا فقہی مقام

محقق مسائل جدیدہ سراج الفقہا حضرت علامہ مفتی نظام الدین رضوی حفظہ اللہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حامد و مصلیا و مسلما

فتوی کا معنی ہے حکم شرعی بتانا،شریعت کے قانون سے آگاہ کرنا۔ اس مفہوم کے لحاظ سے لفظ"فتوی" عقائد قطعیہ،ظنیہ، فرائض اعتقادیہ،عملیہ، احکام منصوصہ، مخصوصہ،اجتہادیہ، مخرجہ، وغیرہا  سب کو عام ہے۔

اور فقہ کی اصطلاح میں"فتویٰ"کا لفظ اس مفہوم عام کے مقابل بہت خاص ہے کیونکہ فقہا ایسے نو پیدا مسائل پر فتوی کا اطلاق کرتے ہیں جن کے بارے میں علمائے مذہب- امام اعظم ابو حنیفہ،امام ابو یوسف، امام محمد رحمہم اللہ تعالی- سے کوئی روایت منقول نہیں ہے اور اصحاب امام اعظم کے بعد کے مجتہدین مثل عصام ابن یوسف، ابن رستم ،محمد بن سماعۃ، ابو سلیمان جوزجانی، ابو حفص بخاری ،محمد بن سلمہ ،محمد بن مقاتل، نصیر بن یحی ،ابو النصر قاسم بن سلام رحمہم اللہ تعالی نے ان کے احکام اپنے اجتہاد سے بیان فرمائے ۔اس تعریف کے لحاظ سے فتوے کی سب سے پہلی کتاب فقیہ ابواللیث سمرقندی کی کتاب النوازل ہے، اس کے بعد فتاوی کے کثیر مجموعے وجود میں آئے جیسے مجموع النوازل ،واقعات ناطفی ،واقعات صدر الشہید ،وغیرہ۔ بعد کے ادوار میں جو کتب فتاوی تصنیف ہوئیں ان میں عصری تقاضوں کے پیش نظر مسائل اصول، نوادر، فتاوی سب کو یکجا کر دیا گیا، ان میں کچھ مجموعے تو ایسے تیار ہوئے جن میں یہ مسائل مخلوط طور پر لکھے گئے اور ایسا مضامین کی مناسبت کی بنا پر ہوا جیسے فتاوی قاضیخان، فتاوی خلاصہ وغیرہما ۔اور کچھ مجموعوں میں مسائل کے مدارج کے لحاظ سے اہم فالاہم کی ترتیب رکھی گئی کہ پہلے مسائل اصول و نوادر جمع کیے گئے، پھر اخیر میں مسائل واقعات و فتاوی کو شامل کیا گیا ۔اسی نوع کی ایک کڑی امام  رضی الدین سرخسی کی محیط ہے۔ اس جدت نے فتوی کے مفہوم میں بڑی وسعت پیدا کر دی اور مسائل ظواہر و نوادر بھی اس کے اطلاق میں شامل ہو گئے۔ اس طرح اصحاب مذاہب رضی اللہ تعالی عنہم بھی فتاوی کے اجزا میں شمار ہونے لگے مگر اس توسع کے باوجود بھی فتوی کا اطلاق ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ تعالی کے مسائل اجتہادیہ کے ساتھ ہی خاص رہا ۔

پھر جب بساط اجتہاد سمٹ گئی اور فرش گیتی پر ہر طرف تقلید کے ہی مظاہر رونما ہو گئے تو لفظ "فتوی" کے مفہوم میں ایک بار پھر توسیع ہوئی۔ پہلے تو جو مسائل ائمۂ سابقین نے اپنے اجتہاد سے مستنبط کیے تھے ان کو فتوی کہا جاتا تھا اور اب ان مسائل کو عوام الناس سے بیان کرنے، بلفظ دیگر نقل کرنے کو بھی لفظ فتوی سے ہی تعبیر کیا جانے لگا ۔اس تنوع کے لحاظ سے مفتی کی دو قسمیں وجود میں آئیں:(١)مفتی مجتہد (٢)مفتی ناقل۔جو فقیہ اپنے اجتہاد سے مسائل بتائے وہ مفتی مجتہد ہے، اور جو ان مسائل کو استفتا کرنے والوں سے زبانی یا تحریری بتائے وہ مفتی ناقل ہے،کہ اس کا کام محض نقل ہے ،نہ کہ اجتہاد۔ بہار شریعت میں فتاوی عالمگیری کے حوالے سے ہے:

’’فتوی دینا حقیقۃ مجتہد کا کام ہے کہ سائل کے سوال کا جواب کتاب و سنت و اجماع و قیاس سے وہی دے سکتا ہے۔ افتا کا دوسرا مرتبہ نقل ہے یعنی صاحب مذہب سے جو بات ثابت ہے سائل کے جواب میں اسے بیان کر دینا اس کا کام ہے۔ اور یہ حقیقۃ فتوی دینا نہ ہوا بلکہ مستفتی کے لیے مفتی(مجتہد )کا قول نقل کر دینا ہوا کہ وہ اس پر عمل کرے‘‘۔ (ص:12/69)

آج کے دور میں جو مفتی پائے جاتے ہیں وہ سب"مفتی ناقل" ہیں۔ مگر یہ نقل بھی آسان کام نہیں کہ جو چاہے نقل احکام فرما دے بلکہ اس کے لیے کئی ایک اہم شرائط درکار ہیں؛ جو حسب ذیل ہیں:

(١) مفتی کے سامنے جو سوال پیش کیا جائے اسے بغور سنے، پڑھے، سوال کی منشا کیا ہے اسے سمجھنے کی کوشش کرے، ضرورت ہو تو سائل سے مخفی گوشوں کے تعلق سے وضاحت بھی طلب کرے، عجلت سے بچے۔ بہار شریعت میں حضرت صدر الشریعہ رحمتہ اللہ تعالی علیہ رقم دراز ہیں:

’’بارہا ایسا بھی ہوتا ہے کہ سوال میں پیچیدگیاں ہوتی ہیں جب تک مستفتی سے دریافت نہ کیا جائے سمجھ میں نہیں آتا، ایسے سوال کو مستفتی سے سمجھنے کی ضرورت ہے، اس کی ظاہر عبارت پر ہرگز جواب نہ دیا جائے۔ اور یہ بھی ہوتا ہے کہ سوال میں بعض ضروری باتیں مستفتی ذکر نہیں کرتا اگرچہ اس کا ذکر نہ کرنا بددیانتی کی بنا پر نہ ہو، بلکہ اس نے اپنے نزدیک اس کو ضروری نہیں سمجھا تھا ۔مفتی پر لازم ہے کہ ایسی ضروری باتیں سائل سے دریافت کر لے تاکہ جواب واقعہ کے مطابق ہو سکے۔ اور جو کچھ سائل نے بیان کر دیا ہے مفتی اس کو اپنے جواب میں ظاہر کر دے تاکہ یہ شبہ نہ ہو کہ جواب و سوال میں مطابقت نہیں ہے‘‘۔ (ج:١٢،ص:٧١،٧٢)

(٢) سوال تفصیل طلب ہو اور الگ الگ شقوں کا جواب دینے میں یہ احتمال ہو کہ سائل اپنے لیے اس شق کو اختیار کرلے گا جس میں اس کا نفع ،یا سرخ روئی، یا عافیت ہو گو کہ اس کا معاملہ اس شق سے وابستہ نہ ہو تو اپنی طرفسے شق قائم کر کے جواب نہ دے، بلکہ تنقیح کے ذریعہ صورت واقعہ کی تعیین کرے پھر جواب دے۔ بہار شریعت میں ہے :

’’مفتی پر یہ بھی لازم ہے کہ سائل کے واقعہ کی تحقیق کر لے، اپنی طرف سے شقوق نکال کر سائل کے سامنے بیان نہ کرے ،مثلا یہ صورت ہے تو یہ حکم ہے، اور یہ ہے تو یہ حکم ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو صورت سائل کے موافق ہوتی ہے اسے اختیار کر لیتا ہے اور گواہوں سے ثابت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو گواہ بھی بنا لیتا ہے‘‘۔ (ص:١٢/٧٠) ہاں اگر شقوق میں ایسے احتمال کی گنجائش نہ ہو تو بقدر ضرورت شقوق کا جواب دے دینا چاہیے۔

(٣) جواب میں سوال کی مناسبت سے جتنے جزئیات مل سکیں سب پر اچھی طرح غور کر لے، جو جزئیہ سوال کے مطابق ہو اسی کو نقل کرے۔

(٤) جواب مذہب کی کتب معتمدہ،مستنده سے دے، کتب ضعیفہ سے استناد نہ کرے، استفادہ یا تائید کے لیے مطالعہ الگ چیز ہے۔ بہار شریعت میں فتاوی عالمگیری کے حوالے سے ہے:

’’مفتی ناقل کے لیے یہ امر ضروری ہے کہ قول مجتہد کو مشہور و متداول اور معتبر کتابوں سے اخذ کرے، غیر مشہور کتب سے نقل نہ کرے‘‘۔(ص:١٢/٦٩)

(٥)پیش آمدہ سوال کے تعلق سے جزئیات دو طرح کے ہوں، یا ایک ہی جزیہ میں احتمالات دو طرح کے ہوں تو اصحاب ترجیح میں سے کسی فقیہ نے جس قول یا جس احتمال کو ترجیح دیا ہو اسے اختیار کرے۔

(٦) اور اگر ترجیح بھی مختلف ہو تو اصحاب تمییز نے فتوی کے لیے جسے اختیار فرمایا اس پر فتوی دے، مفتی کی دریافت سے عاجز ہو تو  اپنے سے افقہ کی طرف رجوع کا حکم دے، یا خود رجوع کرے، یہ بھی ممکن نہ ہو تو توقف کرے کہ اب جواب دینا فتوی نہیں"طغوی" ہوگا۔ ان امور کی رعایت کے لیے کم از کم متعلقہ ابواب کا کامل اور بغور مطالعہ نیز تمام جزئیات اور ان کے فروق پر گہری نظر اور یکسوئی و حاضر دماغی ضروری ہے۔

(٧)جواب تمام ضروری گوشوں کو محیط ہو، اس کے لیے وسعت مطالعہ، استحضار ،تیقظ ناگزیر ہے۔

(٨) جواب کا تعلق کسی دشواری کے حل سے ہو ،اور حل مختلف ہو تو جواب میں اس حل کو اختیار کرے جو قابل عمل ہو، اور جو حل کسی

وجہ سے قابل عمل نہ ہو اس کا ذکر عبث ہوتا ہے۔

 (٩)بہار شریعت میں ہے کہ ’’ :مفتی کو بیدار مغز ہوشیار ہونا چاہیے، غفلت برتنا اس کے لیے درست نہیں کیونکہ اس زمانے میں اکثر حیلہ سازی اور ترکیبوں سے واقعات کی صورت بدل کر فتوی حاصل کر لیتے ہیں اور لوگوں کے سامنے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ فلاں مفتی نے مجھے فتوی دے دیا ہے، محض فتوی ہاتھ میں ہونا ہی اپنی کامیابی تصور کرتے ہیں، بلکہ مخالف پر اس کی وجہ سے غالب آ جاتے ہیں، اس کو کون دیکھے کہ واقعہ کیا تھا، اور اس نے سوال میں کیا ظاہر کیا‘‘۔(ص:١٢/٧٠) 

(١٠)مفتی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ بردبار، خوش خلق، ہنس مکھ ہو،نرمی کے ساتھ بات کرے، غلطی ہو جائے تو واپس لے، اپنی غلطی سے رجوع کرنے میں کبھی دریغ نہ کرے، یہ نہ سمجھے کہ مجھے لوگ کیا کہیں گے کہ غلط فتوی دے کر رجوع نہ کرنا حیا سے ہو یا تکبر سے، بہرحال حرام ہے۔( بہار شریعت،ص:١٢/٧٢,بحوالہ  عالمگیری)

(١١) ان تمام امور کے ساتھ ایک امر لازم یہ بھی ہے کہ جامع شرائط ماہر مفتی کی خدمت میں شب و روز حاضر رہ کر افتا کی تربیت حاصل کرے،جدوجہد کا خوگر بنے اور کثرت مشق کو مزاولت سے خود درج بالا امور کا ماہر ہو جائے۔

اگر جامع شرائط مفتی کی تربیت میں رہنے کا موقع نہ میسر ہو تو مشکل اور پیچیدہ مسائل میں اپنے سے افقہ سے تبادلہ خیال کرے اور ان کے علم و تجربہ سے استفادہ کو غنیمت سمجھے۔

جو عالم دین ان اوصاف و شرائط کا جامع ہو وہی نقل فتوی کا اہل ہے اور وہی قابل اعتماد اور لائق استناد مفتی ناقل ہے اور اس کے فتاوی اس سے نیچے درجے کے علماء کے لیے حجت اور واجب العمل ہیں ۔اس معیار کے کتب فتاوی میں(١) فتاوی مصطفویہ(٢) فتاوی امجدیہ(٣) فتاوی شريفیہ(٤) فتاوی بحر العلوم سر فہرست ہیں۔ بلکہ ان کے بہت سے فتاوی نقل فتاوی کے معیار سے بالاتر،  اعلی تحقیقات و استخراجات کے درجے پر یا ان کے قریب ہیں۔

حجت سبھی ہیں البتہ ان میں بعض کے مدارج بعض سے اعلی ہیں ،اول و دوم کو یکساں مقام حاصل ہے۔ اور فتاوی رضویہ کا مقام تو بہت ہی

ارفع و اعلی ہے، اس لیے یہاں اس کا ذکر مناسب نہ تھا ۔

فتاوی ہندیہ، رد المحتار ،طحطاوی علی الدر، طحطاوی علی المراقی، بہار شریعت بھی اس نوع کے کتب فتاوی میں ہیں جن میں پوری صحت و تحقیق کے ساتھ مسائل ظواہر و نوادر و فتاوی کو جمع کیا گیا ہے۔

 کہانی مختصر سی ہے مگر تمہید طولانی: ہم یہاں اس مبحث جلیل کا احاطہ نہیں کرنا چاہتے ورنہ تحریر اور بھی کئی ایک علماے اہل سنت کی کتب فتاوی کے تذکرے سے مزین ہوتی، بلکہ ہم ان چند مثالوں کے ذریعہ اپنے عام قارئین کو اجالے میں لا کر فقیہ ملت اور فتاوی فقیہ ملت پر یہ روشنی ڈالنا چاہتے ہیں کہ ان کا مقام فقہ کیا ہو سکتا ہے؟

اس پر تفصیلی گفتگو کے لیے تو فتاوی فقیہ ملت کا تحقیقی و تفصیلی مطالعہ ضروری تھا جس سے راقم السطور ابھی محروم ہے،تاہم متعدد مقامات کا تبرکاً مطالعہ کیا ہے اور حضرت فقیہ ملت کی شخصیت اور ان کے آداب فتوی نویسی سے بہت قریب سے واقفیت بھی ہے اس کے پیش نظر اپنا تاثر یہ ہے فقیہ ملت حضرت مولانا مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمتہ اللہ تعالی کا درجہ معتمد ناقل فتوی کا ہے کیونکہ آپ تقریباً درج بالا جملہ اوصاف اور شرائط کے جامع ہیں آپ نے فتاوی کامل غور و فکر کے بعد تحریر فرمائے ہیں اور ان کے ثبوت میں قول مرجح، مختار ،مفتی بہ سے استناد کیا ہے، ساتھ ہی نقل میں صحت و دیانت کے تقاضوں کو پورا کیا ہے، آپ کا مجموعہ فتاوی عموما اسی طرح کے فتاوی پر مشتمل ہے، اس لیے یہیں سے اس کا مقام بھی متعین ہو گیا کہ وہ حجت اور واجب العمل ہے ۔"عموما" کی قید اس لیے لگائی کہ آپ کے مجموعہ فتاوی میں کچھ ایسے نوپیدا مسائل کے بھی جوابات ہیں جن کے احکام اصحاب مذاہب اور بعد کے ائمہ مجتہدین کے یہاں منصوص نہیں ہیں تو ان کا درجہ احکام منصوصہ کے درجے سےفروتر ہونا چاہیے۔

اس مجموعہ سے پہلے حضرت فقیہ ملت کے فتاوی کی تین جلدیں منظر عام پر آ چکی ہیں،اب یہ چوتھی جلد بنامفتاوی فقیہ ملتآپ کے ہاتھوں میں ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی پہلی تینوں جلدوں کی طرح اسے بھی مقبول انام بنائے اور حضرت کے فیض کو مزید عام تام فرمائے ۔آمین بجاہ حبیبہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم والہ وصحبہ وازواجہ اجمعین ۔

محمد نظام الدین الرضوی

خادم الافتا دارالعلوم اشرفیہ مصباح العلوم ،مبارک پور اعظم گڑھ۔

٨/ ربیع النور ١٤٢٥ھ

٢٩/ اپریل ٢٠٠٤ء (جمعرات)

 

 

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383