May 10, 2026 04:42 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
آئینی ترمیم کی ضرورت کیوں؟”!!!! عبدالجبار علیمی نیپالی

آئینی ترمیم کی ضرورت کیوں؟”!!!! عبدالجبار علیمی نیپالی

07 May 2026
1 min read

آئینی ترمیم کی ضرورت کیوں؟”!!!!

ایڈیٹر کے قلم سے ۔۔۔۔۔

ملک میں ایک بار پھر آئینی ترمیم کی بحث نے سیاسی فضا کو گرم کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے آئینی اصلاحات کے لیے ٹاسک فورس کی تشکیل، سابق اٹارنی جنرلز اور قانونی ماہرین سے مسلسل مشاورت، انتخابی نظام، عدلیہ اور وفاقی ڈھانچے پر اٹھنے والے سوالات اس بات کی واضح علامت ہیں کہ موجودہ نظام کے حوالے سے عوامی اور سیاسی حلقوں میں بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ آئین پر نظرثانی کی آواز اٹھی ہو، لیکن اس بار حالات قدرے مختلف دکھائی دیتے ہیں، کیوں کہ اب صرف سیاسی جماعتیں ہی نہیں بلکہ نئی نسل بھی کھل کر بہتر حکمرانی، شفافیت اور بدعنوانی کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

سن 2015 کے آئین سے عوام نے بے شمار امیدیں وابستہ کی تھیں۔ توقع کی جا رہی تھی کہ سیاسی عدم استحکام ختم ہوگا، ادارے مضبوط ہوں گے، اور ملک ترقی و خوش حالی کی راہ پر گامزن ہوگا، مگر ایک دہائی گزرنے کے باوجود عوام آج بھی مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی کشمکش، کرپشن اور انتظامی کمزوریوں کا شکار ہیں۔ حکومتیں بدلتی رہیں لیکن عوامی مسائل اپنی جگہ برقرار رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ سوال شدت سے اٹھنے لگا ہے کہ آیا مسئلہ صرف حکومتوں کا ہے یا نظام میں بھی بنیادی اصلاحات کی ضرورت موجود ہے۔

آئینی ترمیم یقیناً کسی بھی جمہوری ملک کا حق اور ضرورت ہوسکتی ہے، مگر اس عمل کو محض سیاسی مفادات یا وقتی اقتدار کی خواہش تک محدود کرنا ملک کے مستقبل کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ماضی میں اکثر قومی معاملات سیاسی مفاہمت کے بجائے سیاسی مفاد کی نذر ہوتے رہے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ عوام کا اعتماد بتدریج کمزور ہوتا گیا۔ اگر آئینی ترمیم واقعی قومی ضرورت ہے تو اس میں تمام سیاسی جماعتوں، قانونی ماہرین، سول سوسائٹی، نوجوانوں اور اقلیتی طبقات کی رائے کو شامل کرنا ناگزیر ہوگا۔

اس وقت ملک کو سب سے زیادہ ضرورت مضبوط جمہوری اداروں، شفاف احتساب، غیر جانب دار عدلیہ اور عوام دوست حکمرانی کی ہے۔ صرف دفعات بدلنے سے حالات تبدیل نہیں ہوں گے جب تک سیاسی قیادت اپنی ترجیحات تبدیل نہ کرے۔ بدعنوانی کے خاتمے، ریاستی اداروں کی خودمختاری، نوجوانوں کے روزگار، تعلیم اور بنیادی سہولیات کے مسائل پر سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔ نئی نسل اب روایتی نعروں سے مطمئن نہیں بلکہ عملی تبدیلی دیکھنا چاہتی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ بار بار آرڈی ننس، آئینی تنازعات اور اختیارات کی کشمکش نے ریاستی نظام کو کمزور کیا ہے۔ جمہوریت کی اصل روح مشاورت، برداشت اور اجتماعی فیصلہ سازی میں پوشیدہ ہے۔ اگر سیاسی قوتیں ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں سوچیں تو آئینی بحث ایک مثبت موڑ اختیار کرسکتی ہے، بصورت دیگر یہی اختلافات مستقبل میں مزید سیاسی بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ آئینی ترمیم کو اقتدار کی جنگ نہیں بلکہ قومی اصلاح کا ذریعہ بنایا جائے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام اب صرف وعدے نہیں بلکہ نتائج چاہتے ہیں۔ اگر موجودہ قیادت نے اس موقع کو سنجیدگی سے نہ لیا تو عوامی بے چینی مزید بڑھے گی اور جمہوری نظام پر اعتماد کمزور پڑتا جائے گا۔ امید کی جانی چاہیے کہ سیاسی قیادت ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے ملک کو استحکام، انصاف اور حقیقی ترقی کی سمت لے جانے میں اپنا مثبت کردار ادا کرے گی۔

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)