May 2, 2026 05:04 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
وزیر اعظم بالن شاہ کےلیے نئے چیلنجز !!!!: عبدالجبار علیمی نیپالی

وزیر اعظم بالن شاہ کےلیے نئے چیلنجز !!!!: عبدالجبار علیمی نیپالی

30 Apr 2026
1 min read

وزیر اعظم بالن شاہ کےلیے نئے چیلنجز !!!!

ایڈیٹر کے قلم سے ۔۔۔۔۔

نیپال میں وزیر اعظم بالن شاہ کی حکومت کا قیام بلاشبہ ایک نئی سیاسی صبح کا پیش خیمہ سمجھا جا رہا تھا۔ عوام، خصوصاً نوجوان طبقہ، روایتی سیاست سے ہٹ کر ایک نئی قیادت میں شفافیت، دیانت داری اور عملی تبدیلی کی امید لگائے بیٹھا تھا۔ تاہم، اقتدار سنبھالتے ہی حکومت کو جن پیچیدہ داخلی و خارجی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، اس نے اس امید کو ایک کڑی آزمائش میں بدل دیا ہے۔

ابتدائی دنوں سے ہی اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف متحرک نظر آئیں۔ سیاسی محاذ آرائی، بیانات کی جنگ اور پارلیمانی دباؤ نے حکومتی کارکردگی کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ نیپال کی سیاست ہمیشہ سے اتحاد، مفاہمت اور توازن کی متقاضی رہی ہے، جہاں کسی بھی نئی حکومت کو فوری طور پر خود کو مستحکم کرنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔

معاشی محاذ پر صورتحال مزید پیچیدہ دکھائی دیتی ہے۔ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور درآمدی انحصار نے نیپال کی معیشت کو دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ گیس، پٹرول اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکا ہے۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے سرحد پار خریداری، خصوصاً 100 روپے سے زائد کی اشیاء پر ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ ایک دو دھاری تلوار ثابت ہو رہا ہے۔ ایک طرف یہ اقدام مقامی صنعت کے تحفظ اور غیر قانونی تجارت کی روک تھام کے لیے ضروری قرار دیا جا رہا ہے، تو دوسری طرف اس نے سرحدی علاقوں میں کاروباری سرگرمیوں کو سست کر دیا ہے۔

یہاں ایک اہم سوال ابھرتا ہے کہ کیا حکومت نے اس پالیسی کے نفاذ سے قبل متبادل معاشی مواقع، مقامی مارکیٹ کی مضبوطی اور عوامی سہولت کے لیے کوئی جامع حکمت عملی تیار کی تھی؟ اگر نہیں، تو یہ فیصلہ وقتی طور پر عوامی ناراضگی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

دوسری جانب، وزیر داخلہ سدن گرونگ کا استعفیٰ سیاسی عدم استحکام کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ داخلی سلامتی، نظم و نسق اور حکومتی ہم آہنگی جیسے اہم شعبے اس وزارت سے جڑے ہوتے ہیں، اور ایسے وقت میں استعفیٰ حکومت کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالت عظمیٰ کی جانب سے بعض اہم فیصلوں، جیسے ہفتے میں دو دن کی تعطیل اور ٹیکس پالیسی، پر نظرثانی کی ہدایات بھی حکومت کی پالیسی سازی پر سوالات اٹھا رہی ہیں۔

خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی حکومت کو محتاط حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ نیپال جیسے ملک کے لیے، جو جغرافیائی طور پر دو بڑی طاقتوں کے درمیان واقع ہے، ہر معاشی اور سیاسی فیصلہ علاقائی اثرات رکھتا ہے۔ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات، سرحدی آمد و رفت اور اقتصادی انحصار کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے فیصلے نہایت حساس نوعیت کے ہوتے ہیں۔

اس تمام صورتحال میں حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج عوامی اعتماد کو برقرار رکھنا ہے۔ عوام نے جس امید کے ساتھ اس حکومت کو منتخب کیا، اس امید کو برقرار رکھنا صرف نعروں سے ممکن نہیں بلکہ عملی اقدامات، شفاف پالیسی سازی اور بروقت فیصلوں سے ہی ممکن ہے۔

یہ وقت وزیر اعظم بالن شاہ کے لیے ایک امتحان بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ اگر وہ دانشمندی، مشاورت اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی کو ترتیب دیتے ہیں تو یہ چیلنجز ہی ان کی قیادت کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ بصورت دیگر، یہی مسائل ان کی حکومت کے لیے مشکلات میں اضافہ کا سبب بن سکتے ہیں۔عبدالجبار علیمی نیپالی 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383) weeklynepalurdutimes@gmail.com