حج اور قربانی کا پیغام
ڈاکٹر سلیم انصاری جھاپا نیپال
حج اور قربانی اسلام کے دو ایسے عظیم شعائر ہیں جو محض عبادات نہیں بلکہ ایک مکمل فکری، روحانی اور عملی پیغام اپنے اندر رکھتے ہیں۔ یہ عبادات انسان کو اپنے رب کے قریب لانے، نفس کی اصلاح کرنے، انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیدا کرنے اور اجتماعی زندگی میں اتحاد و اخوت کا سبق دینے کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔ ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان حج کی سعادت حاصل کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں، جبکہ کروڑوں مسلمان قربانی کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔ اگر ہم ان عبادات کے حقیقی پیغام کو سمجھ لیں تو ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی میں حیرت انگیز تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔
حج دراصل بندگی، اطاعت اور اللہ کے سامنے مکمل سپردگی کا نام ہے۔ جب ایک مسلمان احرام باندھتا ہے تو گویا وہ دنیا کی ظاہری شان و شوکت، طبقاتی تقسیم، رنگ و نسل کے امتیاز اور مادی تفاخر کو ترک کرکے اللہ کے دربار میں ایک عاجز بندے کی حیثیت سے حاضر ہو جاتا ہے۔ سفید احرام انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ دنیاوی حیثیت، مال و دولت اور عہدے وقتی چیزیں ہیں، اصل حقیقت انسان کا تقویٰ اور اللہ سے تعلق ہے۔ حج انسان کو یاد دلاتا ہے کہ ایک دن ہر انسان کو اسی طرح اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے، جہاں نہ مال کام آئے گا اور نہ دنیاوی مرتبہ، بلکہ اعمال اور اخلاص ہی کامیابی کا ذریعہ ہوں گے۔
حج کا سب سے بڑا پیغام توحید ہے۔ بیت اللہ کی طرف رخ کرنا اور اس کا طواف کرنا دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ زندگی کا مرکز صرف اللہ کی ذات ہے۔ مسلمان جب دنیا کے مختلف ممالک، زبانوں، نسلوں اور ثقافتوں سے نکل کر ایک ہی مرکز کے گرد
جمع ہوتے ہیں تو یہ اس عالمی وحدت کا مظہر بنتا ہے جس کی بنیاد اسلام نے رکھی۔ آج کی دنیا تعصب، قوم پرستی، فرقہ واریت اور نفرتوں کا شکار ہے، ایسے میں حج ہمیں سکھاتا ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اور ان کی اصل شناخت ایمان ہے، نہ کہ زبان، قومیت یا جغرافیہ۔
حج کے مناسک میں حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت ہاجرہ علیہا السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانیوں کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔ صفا اور مروہ کے درمیان سعی ہمیں حضرت ہاجرہؑ کی بے مثال جدوجہد کی یاد دلاتی ہے، جنہوں نے ایک بے آب و گیاہ وادی میں اپنے بچے کے لیے پانی کی تلاش میں دوڑ لگائی۔ یہ عمل ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسان کو مشکلات کے سامنے ہار نہیں ماننی چاہیے بلکہ جدوجہد جاری رکھنی چاہیے، کیونکہ اللہ کی مدد انہی لوگوں کو ملتی ہے جو کوشش کرتے ہیں۔ زمزم کا چشمہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی امیدوں کو ضائع نہیں کرتا۔
اسی طرح منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا عمل انسان کو یہ پیغام دیتا ہے کہ زندگی ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے، جہاں انسان کو برائی، خواہشاتِ نفس، گناہوں اور شیطانی وسوسوں کے خلاف مزاحمت کرنی پڑتی ہے۔ حقیقی شیطان صرف باہر موجود نہیں بلکہ انسان کے اندر بھی موجود خواہشات، غرور، حسد، لالچ اور نفرت کی شکل میں پایا جاتا ہے۔ اگر انسان ان برائیوں کو شکست دے دے تو وہ واقعی حج کے روحانی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔
قربانی کا تعلق بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم سنت سے ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کو اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ
کی قربانی کا حکم دیا تو انہوں نے بلا تردد اس حکم کو قبول کر لیا۔ حضرت اسماعیلؑ نے بھی
کامل اطاعت اور رضا مندی کا مظاہرہ کیا۔ یہ واقعہ صرف ایک تاریخی قصہ نہیں بلکہ ایمان، صبر، وفاداری اور اطاعتِ الٰہی کی لازوال مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس عظیم جذبے کو قیامت تک کے لیے ایک عبادت کی شکل میں محفوظ کر دیا تاکہ مسلمان یہ سیکھیں کہ اللہ کی رضا کے سامنے اپنی خواہشات کو قربان کرنا ہی حقیقی ایمان ہے۔
قربانی کا اصل پیغام صرف جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ اپنی انا، غرور، خود غرضی، حسد، نفرت، لالچ اور گناہوں کو قربان کرنا ہے۔ اگر کوئی شخص بہترین جانور قربان کرے لیکن اس کے دل میں تکبر، ظلم اور بے حسی موجود رہے تو قربانی کا اصل مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ قرآن کریم میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے کہ اللہ تک نہ جانوروں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کی اصل روح اخلاص اور تقویٰ ہے، نہ کہ ظاہری نمود و نمائش۔ آج کے دور میں قربانی کے عمل کو بعض اوقات صرف رسم یا سماجی فخر کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ لوگ مہنگے جانور خریدنے، دکھاوے اور مقابلہ بازی میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں، جبکہ قربانی کا اصل مقصد ایثار، عاجزی اور غریبوں کی مدد ہے۔ قربانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم اپنے مال میں غریبوں اور ضرورت مندوں کا حق پہچانیں۔ قربانی کے گوشت کی تقسیم معاشرے میں مساوات، ہمدردی اور بھائی چارے کو فروغ دیتی ہے۔ خاص طور پر ایسے غریب گھرانے جنہیں سال بھر گوشت نصیب نہیں ہوتا، قربانی ان کے چہروں پر خوشی لے آتی ہے۔ یہ اسلام کے
معاشرتی انصاف کا ایک خوبصورت نمونہ ہے۔
حج اور قربانی دونوں کا مشترکہ پیغام اطاعت، قربانی، اتحاد اور انسانیت کی خدمت ہے۔ حج میں لاکھوں لوگ ایک ساتھ عبادت کرتے ہیں، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور صبر و برداشت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اسی طرح قربانی انسان کو دوسروں کے ساتھ بانٹنے، سخاوت اختیار کرنے اور اپنی ذات سے اوپر اٹھنے کا سبق دیتی ہے۔ اگر مسلمان ان عبادات کی روح کو اپنی روزمرہ زندگی میں شامل کر لیں تو معاشرے میں نفرت کی جگہ محبت، خود غرضی کی جگہ ایثار اور ظلم کی جگہ انصاف پیدا ہو سکتا ہے۔
حج انسان کو نظم و ضبط، صبر اور برداشت سکھاتا ہے۔ لاکھوں افراد کے ساتھ ایک ہی جگہ رہنا، مشکلات برداشت کرنا، گرمی، تھکن اور بھیڑ کے باوجود عبادات کو خوش اسلوبی سے ادا کرنا، انسان میں تحمل اور استقامت پیدا کرتا ہے۔ یہی اوصاف ایک کامیاب معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں۔ آج ہماری زندگی میں جلد بازی، غصہ اور عدم برداشت بڑھتی جا رہی ہے، ایسے میں حج کا پیغام انتہائی اہم ہو جاتا ہے کہ انسان دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے، صبر اختیار کرے اور اپنے اخلاق کو بہتر بنائے۔
قربانی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ زندگی میں بڑی کامیابی کے لیے بڑی قربانی دینی پڑتی ہے۔ جو قومیں علم، تعلیم، اخلاق اور ترقی کے لیے قربانی دیتی ہیں وہی آگے بڑھتی ہیں۔ اگر مسلمان صرف جانور قربان کرنے تک محدود نہ رہیں بلکہ جہالت، غربت، فرقہ واریت، ناانصافی اور اخلاقی پستی کے خلاف اجتماعی جدوجہد کریں تو امتِ مسلمہ دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے۔ آج ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ قربانی کے جذبے کو اپنی زندگی کے ہر شعبے میں زندہ کریں، چاہے وہ تعلیم ہو، معاشرت ہو یا دینی خدمات۔
حج اور قربانی کا ایک اہم پہلو عالمی اخوت بھی ہے۔ حج کے دوران دنیا بھر کے مسلمان ایک دوسرے سے ملتے ہیں، ایک دوسرے کے مسائل سمجھتے ہیں اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ منظر انسانیت کو یہ پیغام دیتا ہے کہ اختلافات کے باوجود ایک اعلیٰ مقصد کے تحت متحد ہوا جا سکتا ہے۔ موجودہ دور میں جب دنیا جنگوں، نفرتوں اور تقسیم کا شکار ہے، حج ہمیں امن، محبت اور عالمی بھائی چارے کا سبق دیتا ہے۔
آخر میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ حج اور قربانی محض چند دنوں کی عبادت نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا ایک مکمل فلسفہ ہیں۔ حج ہمیں اللہ سے تعلق، اتحاد، صبر اور بندگی سکھاتا ہے، جبکہ قربانی ہمیں ایثار، اخلاص، خدمت اور اطاعت کا سبق دیتی ہے۔ اگر ہم ان عبادات کے حقیقی پیغام کو سمجھ کر اپنی زندگی میں نافذ کریں تو نہ صرف ہماری روحانی زندگی بہتر ہو سکتی ہے بلکہ ہمارا معاشرہ بھی عدل، محبت اور خیرخواہی کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم حج اور قربانی کو صرف رسم نہ سمجھیں بلکہ ان کے اندر پوشیدہ عظیم پیغام کو اپنی شخصیت، خاندان اور معاشرے میں عملی طور پر زندہ کریں، کیونکہ یہی ان عبادات کی حقیقی روح اور اصل مقصد ہے۔
ڈاکٹر سلیم انصاری جھاپا نیپال
