Apr 19, 2026 07:31 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
نئی حکومت نیا چیلنج!!!!!!!: عبدالجبار علیمی نیپالی

نئی حکومت نیا چیلنج!!!!!!!: عبدالجبار علیمی نیپالی

16 Apr 2026
1 min read

نئی حکومت نیا چیلنج!!!!!!!

ایڈیٹر کے قلم سے: عبدالجبار علیمی نیپالی ۔۔۔۔۔

نئی حکومت کے لیے نئے چیلنجز: دعووں اور حقیقت کے درمیان فاصلہ

ملک میں حالیہ دنوں اقتدار میں آنے والی نئی حکومت نے ابتدا ہی سے اپنے اندازِ حکمرانی کے ذریعے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ روایتی سیاست سے ہٹ کر کچھ مختلف کرنا چاہتی ہے۔ بالین شاہ کی قیادت میں قائم اس حکومت سے عوام نے بڑی توقعات وابستہ کی ہیں، لیکن ابتدائی اقدامات نے جہاں امیدیں پیدا کی ہیں وہیں کئی سنگین خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ وزیر اعظم بالین شاہ کو عالمی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور انہیں ٹائم میگزین کی 100 بااثر شخصیات میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ اعزاز نہ صرف ان کی ذاتی مقبولیت کا مظہر ہے بلکہ ملک کے لیے بھی ایک مثبت اشارہ سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عالمی شہرت اور اعزازات داخلی مسائل کے حل کی ضمانت بن سکتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اصل امتحان ملک کے اندر درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں ہے، نہ کہ بین الاقوامی شناخت میں۔

ایک طرف حکومت شفافیت، انصاف اور قانون کی بالادستی کے بلند دعوے کرتی نظر آتی ہے، تو دوسری جانب ملک میں سیاسی کشیدگی اور عوامی بے چینی میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ حکومت اپنے اقدامات میں توازن، برداشت اور شفافیت کو یقینی بنائے تاکہ جمہوری اقدار مضبوط ہو سکیں۔

نئی حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج داخلی امن و امان کا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی ایک خطرناک رخ اختیار کرتی جا رہی ہے۔ نیپال گنج، روتہٹ اور سرلاہی جیسے علاقوں میں بارہا ہندو مسلم فسادات کی کوششیں ہو چکی ہیں۔ اگرچہ ماضی میں عوامی شعور اور مقامی کوششوں نے ان سازشوں کو ناکام بنایا، لیکن اس بار حالات زیادہ حساس دکھائی دیتے ہیں۔ محض بیانات اور وقتی اقدامات سے حالات قابو میں نہیں آئیں گے، اس کے لیے ایک واضح اور جامع پالیسی درکار ہے۔اس تناظر میں وزیر داخلہ کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو ایمانداری اور سنجیدگی کے ساتھ نبھاتے ہوئے نفرت پھیلانے والے عناصر پر جلد اور مؤثر قابو پائیں گے۔ ریاستی رِٹ کو مضبوط کرنا اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

سرحدی علاقوں کی صورتحال بھی حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان بنی ہوئی ہے۔ نفرت انگیز سرگرمیوں میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ابھی تک ان علاقوں میں مکمل کنٹرول قائم نہیں ہو سکا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری اور ٹھوس اقدامات کے ذریعے ان حساس علاقوں میں اعتماد بحال کرے اور امن و امان کو یقینی بنائے۔

ایک اور اہم پہلو جس پر توجہ دینا ضروری ہے وہ حکومت کا مجموعی رویہ ہے۔ اگر حکومت ابتدا ہی میں سختی کے ذریعے اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کرے گی تو یہ جمہوری اقدار کے لیے نیک شگون نہیں ہوگا۔ جمہوریت صرف اقتدار حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ برداشت، مکالمہ اور شفافیت کا تقاضا کرتی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ نئی حکومت کو مسائل ورثے میں ملے ہیں، مگر اس حقیقت کو جواز بنا کر اپنی کمزوریوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عوام نے تبدیلی کے نام پر ووٹ دیا ہے، اس لیے اب وہ نتائج بھی دیکھنا چاہتی ہے۔ اگر حکومت نے بروقت اور دانشمندانہ فیصلے نہ کیے تو یہی امیدیں مایوسی میں بدل سکتی ہیں۔

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383