Apr 12, 2026 02:16 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
جنگ بندی میں پاکستان کا کردار

جنگ بندی میں پاکستان کا کردار

09 Apr 2026
1 min read

جنگ بندی میں پاکستان کا کردار

عبدالجبار علیمی نیپالی 

نیپال اردو ٹائمز

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی، خصوصاً ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ نے عالمی امن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا تھا۔ 28 فروری کو تہران میں ہونے والے حملے اور اس میں سپرم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ائی کی شہادت کے بعد صورتحال تیزی سے بگڑتی چلی گئی اور پورا خطہ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا۔

اس دوران دونوں جانب سے شدید حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اگرچہ ہر فریق اپنی کارروائیوں کو دفاعی قرار دیتا رہا، لیکن زمینی حقائق نے یہ ظاہر کیا کہ اس جنگ میں نہ صرف فوجی اہداف بلکہ شہری علاقوں کو بھی نقصان پہنچا۔ خاص طور پر امریکہ کی جانب سے ایران پر کیے جانے والے حملوں کو مختلف حلقوں میں غیر متناسب اور ظالمانہ قرار دیا گیا، جہاں امریکہ نے ایران کے مدرسے پر حملہ کیا اور جس میں ایک سو ساٹھ سے زائد طالبات اور اساتذہ کی شہادت ہوئی ، امریکہ اسرائیل نے ایران کو مٹانے کے منصوبے سے حملے جاری رکھے جس سے خطے میں مزید کشیدگی بڑھتی گئی، جس نے عالمی سطح پر مزید تشویش کو جنم دیا اور خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا۔

دوسری جانب ایران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ وہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد جوابی کارروائی میں اسرائیل سمیت خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ، دبئی ،قطر ، بحرین، کویت، سعودیہ عربیہ جہاں بھی امریکی سفارتخانہ اور فوجی اڈے موجود تھے ایران نے ہر ایک بار وار کیا،

اس کشیدگی کے اثرات صرف جنگی میدان تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی معیشت بھی اس سے متاثر ہوئی، خصوصاً آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نے تیل کی عالمی ترسیل کے حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا۔

پوری دنیا میں پٹرول، ڈیزل،گیس کی قیمتوں نے آسمان چھونا شروع کیا پوری معیشت خطرے میں دیکھ کر ایسے نازک اور خطرناک حالات میں پاکستان کا کردار ایک ذمہ دار اور سنجیدہ ثالث کے طور پر سامنے آیا۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ہونے والی سفارتی کوششوں نے دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ اقدام نہ صرف خطے کے لیے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ جنگ بندی اگرچہ وقتی ہے، لیکن اس نے ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا یہ پائیدار امن کی بنیاد بن سکے گی یا محض ایک وقفہ ثابت ہوگی؟ اس تناظر میں ایک اور اہم پہلو ہندوستان کا ہے، جو خطے کی بدلتی ہوئی سفارتی صورتحال کو بغور دیکھ رہا ہے۔ پاکستان کے بطور ثالث ابھرنے سے علاقائی سفارتی توازن میں تبدیلی کا امکان ہے، جو ہندوستان کے لیے ایک چیلنج بھی بن سکتا ہے اور اسے اپنی خارجہ حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی پر مجبور کر سکتا ہے۔

آخر میں یہ حقیقت واضح ہے کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتی۔ اگر پاکستان اپنی دانشمندانہ سفارت کاری کو اسی طرح جاری رکھتا ہے تو وہ نہ صرف اس جنگ بندی کو برقرار رکھنے میں بلکہ پورے خطے میں مستقل امن کے قیام میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ آنے والا وقت ہی یہ طے کرے گا کہ یہ کوششیں کس حد تک کامیاب ثابت ہوتی ہیں، مگر فی الحال یہ ایک امید کی کرن ضرور ہیں۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383