Feb 7, 2026 04:46 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
نیپال کی سیاست ایک نئے موڑ پر: عبدالجبار علیمی نیپالی

نیپال کی سیاست ایک نئے موڑ پر: عبدالجبار علیمی نیپالی

05 Jan 2026
1 min read

نیپال کی سیاست ایک نئے موڑ پر

ایڈیٹر کے قلم سے ۔۔۔۔۔

ملک نیپال اس وقت ایک بار پھر سیاسی بے چینی اور غیر معمولی سرگرمیوں کی لپیٹ میں ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران جس تیزی سے سیاسی واقعات رونما ہوئے ہیں، انہوں نے نہ صرف اقتدار کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ عوام، بالخصوص نوجوان طبقے، کو بھی ایک نئے سیاسی مستقبل کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔

شدید عوامی اور سیاسی دباؤ، ملک گیر مظاہروں اور بڑھتی ہوئی بے چینی کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی کو اقتدار سے دستبردار ہونا پڑا۔ ان کا استعفیٰ دراصل اس سیاسی نظام کے خلاف عوامی ناراضگی کا اظہار تھا جو برسوں سے وعدوں اور دعوؤں کے باوجود عام آدمی کی زندگی میں حقیقی تبدیلی لانے میں ناکام رہا۔ اولی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں ایک خلا پیدا ہوا، جسے پُر کرنے کے لیے نوجوانوں اور سول سوسائٹی کی نظریں ایک نئی اور نسبتاً غیر متنازع شخصیت پر مرکوز ہوئیں۔

اسی پس منظر میں سوشیلا کارکی کو وزیر اعظم کے منصب کے لیے نامزد کیا گیا۔ ابتدا میں ان کی تقرری سے ملک میں ایک حد تک سکون کی فضا قائم ہوئی اور یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید نیپال ایک نئے سیاسی باب میں داخل ہو رہا ہے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ امید دم توڑتی نظر آئی۔ بحیثیت وزیر اعظم، سوشیلا کارکی نہ تو مضبوط قیادت کا مظاہرہ کر سکیں اور نہ ہی عوامی مسائل،جیسے مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی اور انتظامی کمزوری کا مؤثر حل پیش کر پائیں۔ نتیجتاً عوام میں ایک بار پھر مایوسی نے جنم لیا۔

اب نیپال کی سیاست میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا ہے جب راشٹریہ سوتنتر پارٹی کے صدر روی لامیچھانے اور کاٹھمانڈو کے مقبول میئر بالین شاہ کے درمیان سیاسی اتحاد کے قیام کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ اس اتحاد کے تحت آئندہ انتخابی مہم میں بالین شاہ کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ پارٹی کی صدارت بدستور روی لامیچھانے کے پاس رہے گی۔ اس پیش رفت نے ملک کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور روایتی سیاست کے ایوانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

بالین شاہ اپنی بے باک شخصیت، جرات مندانہ فیصلوں اور کاٹھمانڈو میں نظر آنے والی عملی ترقی کے باعث پورے ملک میں ایک علامت بن چکے ہیں۔ تجاوزات کے خلاف کارروائیاں ہوں یا شہری نظم و نسق میں شفافیت، انہوں نے عملی اقدامات کے ذریعے خود کو محض ایک سیاست دان نہیں بلکہ ایک منتظم ثابت کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ صرف دارالحکومت ہی نہیں بلکہ ملک کے طول و عرض میں تبدیلی کی علامت سمجھے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب روی لامیچھانے اپنی سیاسی بصیرت، عوامی رابطے اور روایتی سیاست سے ہٹ کر سوچ رکھنے کے باعث خاص طور پر تعلیم یافتہ اور نوجوان طبقے میں مقبول ہیں۔ ان کی قیادت میں راشٹریہ سوتنتر پارٹی نے خود کو ایک متبادل سیاسی قوت کے طور پر منوانے کی کوشش کی ہے، جو فرسودہ نظام کے خلاف ایک مضبوط آواز بن سکتی ہے۔

یہ اتحاد اگرچہ عوامی سطح پر امید کی نئی کرن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے سامنے کئی عملی اور سیاسی چیلنجز بھی موجود ہیں۔ نیپال کی سیاست میں عددی اکثریت، اتحادی مفاہمت اور ادارہ جاتی توازن بنیادی حیثیت رکھتےہیں۔ مزید یہ کہ روایتی سیاسی جماعتیں بھی اس انتخابی معرکے میں پوری قوت کے ساتھ میدان میں اتریں گی، جس سے انتخابی ماحول مزید گرم اور پیچیدہ ہونے کا امکان ہے۔اصل سوال یہ نہیں کہ وزیر اعظم کا سہرا کس کے سر سجے گا، بلکہ یہ ہے کہ آیا آنے والی قیادت ملک کو سیاسی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور عوامی مایوسی سے نکال پائے گی یا نہیں۔ نیپال کے عوام اب محض نعروں، وعدوں اور چہروں سے مطمئن ہونے کو تیار نہیں۔ وہ عملی کارکردگی، شفاف حکمرانی اور دیرپا استحکام چاہتے ہیں۔

آنے والے دنوں میں نیپال کی سیاسی تصویر کس رخ اختیار کرے گی—کیا بالین شاہ اور روی لامیچھانے کا اتحاد واقعی ایک نئی تاریخ رقم کرے گا یا سیاست ایک بار پھر پرانے دائروں میں گھومتی رہے گی—یہ فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے۔ بہرحال، یہ طے ہے کہ نیپال کی سیاست اب ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ہر قدم ملک کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383