2025: زخموں سے بھرا ہوا عالمی منظرنامہ
ایڈیٹر کے قلم سے ۔۔۔
عبدالجبار علیمی نیپالی
سال 2025 تاریخِ انسانی کا وہ دردناک باب بن کر اختتام پذیر ہو رہا ہے جسے نہ آسانی سے فراموش کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی نظر انداز کیا جانا چاہیے۔
یہ سال تضادات، آزمائشوں اور مختلف سانحوں کا ایسا مجموعہ ثابت ہوا جس میں کہیں وقتی خوشیوں کے چند لمحات میسر آئے، تو کہیں انسانیت غم، خوف اور بے بسی کے ملبے تلے دبی ہوئی نظر آئی۔ سال کی ابتدا سے لے کر اس کے آخری مرحلے تک عالمی منظرنامہ جنگ و امن کی کشمکش، ظلم و جبر کی داستانوں اور عالمی ضمیر کی خاموشی کا عکاس رہا۔ کہیں آنکھیں اشکبار ہوئیں تو کہیں دل و دماغ اضطراب اور خلجان میں مبتلا رہے۔
بلاشبہ 2025 نے انسان کو مسکرانے کے چند مواقع بھی دیے، مگر اس سال کی پہچان مجموعی طور پر خون، آنسو اور آہوں سے جڑی رہی۔
اس عالمی المیے کی جڑیں 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اسرائیل و حماس جنگ میں پیوست دکھائی دیتی ہیں، جس کے تباہ کن اثرات 2025 تک پوری شدت کے ساتھ محسوس کیے جاتے رہے۔ غزہ کی سرزمین، جو کبھی زندگی، امید اور جدوجہد کی علامت تھی، کھنڈرات میں بدل دی گئی۔ ہزاروں فلسطینی شہید کر دیے گئے، بھوک اور پیاس سے نڈھال ننھے بچوں نے سسک سسک کر دن گزارے، اور ملبے کے نیچے سے اٹھتی ہوئی بچوں کی چیخیں پوری انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑتی رہیں۔ اپنی ہی زمین فلسطینیوں کے لیے تنگ کر دی گئی اور حماس کے نام پر اسرائیل نے مسلم بچوں، بیٹیوں اور نوجوانوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔
دنیا نے وہ ہولناک منظر بھی دیکھا جب جوابی کارروائی کے نام پر ظلم و ستم کی نئی تاریخ رقم کی گئی۔ کھانا اور پانی بند کر دیا گیا، عمارتیں ملبے کے ڈھیر میں بدل گئیں اور فلسطینی عوام پر ظلم کی ڈکشنری کا ہر ہتھیار آزمایا گیا۔ اگرچہ بین الاقوامی دباؤ کے نتیجے میں وقتی طور پر جنگ بندی اور امن معاہدے کی بات سامنے آئی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ فلسطین کا زخم آج بھی تازہ ہے اور اس جنگ نے عالمی ضمیر کو ایک بار پھر کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔
فلسطین کے زخم ابھی بھرے بھی نہ تھے کہ سوڈان کی سرزمین پر انسانیت کو شرمسار کرنے والے مناظر سامنے آئے۔ قتل و غارت گری کا ایسا خوفناک سلسلہ شروع ہوا کہ لاشوں کے انبار لگ گئے اور قبروں کے لیے زمین کم پڑ گئی۔ پڑوسی پڑوسی کے خون کا پیاسا بن گیا، کہیں پوری بستیاں بارود اور بم سے اڑا دی گئیں تو کہیں باپ کو بیٹے کے سامنے شہید کر دیا گیا۔ چھوٹے اور ننھے بچوں کو گاڑیوں تلے کچلے جانے کے مناظر نے پوری انسانیت کے دل کو چیر کر رکھ دیا۔
یہ آگ یہیں نہیں رکی۔ اس کے شعلے آسٹریلیا تک پہنچے، جہاں یہودیوں پر فائرنگ کے واقعات سامنے آئے، اور پھر یہی آگ مشرقِ وسطیٰ سے یورپ کی سرزمین تک پھیلتی چلی گئی۔ حالات کسی حد تک سنبھلے تو جنوبی ایشیا ایک بار پھر عدم استحکام کی لپیٹ میں آ گیا۔
ہندوستان کی سرزمین، جہاں گزشتہ ایک دہائی سے اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف نفرت اور ظلم کی داستانیں رقم کی جا رہی ہیں، وہاں کہیں ماب لنچنگ کے واقعات پیش آئے، کہیں اسلامی قوانین کی کھلی خلاف ورزیاں ہوئیں، کہیں “اللہ اکبر” اور “یا رسول اللہ ﷺ” جیسے مقدس نعروں پر لاٹھیوں کی بارش کی گئی، اور کہیں انکاؤنٹر کے نام پر مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔
اسی سیاسی و سماجی بے چینی کی لپیٹ بنگلہ دیش تک جا پہنچی، جہاں سنگین بحران کے نتیجے میں وزیر اعظم شیخ حسینہ کو اقتدار سے دستبردار ہو کر ملک چھوڑنا پڑا۔ یہ آگ ابھی بجھی بھی نہ تھی کہ اس کی لپٹیں نیپال تک محسوس کی گئیں۔ زین جی مظاہروں نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، لوٹ مار اور بدامنی نے ریاستی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا، جس کے نتیجے میں وزیر اعظم کے پی شرما اولی کو استعفیٰ دینا پڑا اور ملک میں نئی حکومت کی بنیاد رکھی گئی۔یہ تمام واقعات اس تلخ حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ 2025 محض ایک کیلنڈر سال نہیں بلکہ انسانیت کے لیے ایک کڑا امتحان تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا عالمی طاقتیں، بین الاقوامی ادارے اور مہذب دنیا ان زخموں سے کوئی سبق سیکھ پائیں گی؟ یا آنے والے برس بھی اسی طرح جنگ، ظلم اور خاموشی کے نوحے دہراتے رہیں گے؟2025۔۔۔ زخموں سے بھرا ہوا یہ عالمی منظرنامہ۔۔۔ تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ زندہ رہے گا، بطور ایک ایسے سال کے جب انسانیت نے فریاد کی، مگر عالمی ضمیر اکثر خاموش رہا۔
ہفت روزہ نیپال اردو ٹائمز یہ واضح موقف رکھتا ہے کہ دنیا کو 2025 کے ان خونی اور المناک تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے ظلم کے ہر نظام کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ امن، انصاف اور انسانی وقار کے تحفظ کے بغیر عالمی استحکام ممکن نہیں، اور اگر عالمی ضمیر نے اب بھی خاموشی اختیار کی تو تاریخ اسے معاف نہیں کرے گی۔
