Feb 7, 2026 06:09 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
ملک  کے بدلتے حالات ! مدھیش پردیش کے وزیر اعلی کا استعفٰی : عبدالجبار علیمی نیپالی

ملک کے بدلتے حالات ! مدھیش پردیش کے وزیر اعلی کا استعفٰی : عبدالجبار علیمی نیپالی

04 Dec 2025
1 min read

اداریہ

ملک  کے بدلتے حالات !

مدھیش پردیش کے وزیر اعلی کا استعفٰی 

ایڈیٹر کے قلم سے ۔۔۔۔۔۔۔

مدھیش پردیش کے وزیر اعلیٰ سروج کمار یادو کا اچانک استعفیٰ دینا ایک بار پھر یہ حقیقت سامنے لاتا ہے کہ نیپال کا سیاسی نظام تاحال مکمل استحکام حاصل نہیں کر سکا۔ جمہوری نظام کے قیام سے آج تک سیاسی گلیارے ہلچل کا شکار رہے۔ کبھی کمیونسٹ پارٹی اقتدار میں آئی، کبھی کانگریس، اور کبھی ماؤ نواز قیادت۔ کسی بھی حکومت کی آئینی مدت پوری نہ کر پانا بذاتِ خود ایک سیاسی کمزوری کی علامت ہے۔

زین جی مظاہروں کے بعد ملکی سیاست میں جو نئی بیداری پیدا ہوئی، اس نے عوام کو حکومتوں کے کارناموں اور ناکامیوں پر براہِ راست سوال اٹھانے کا حوصلہ دیا۔ سوشل میڈیا اور تعلیم یافتہ نوجوان طبقے نے جمہوری نگرانی کو پہلے سے زیادہ مضبوط کیا ہے۔ لیکن دوسری جانب سیاسی جماعتوں کی باہمی سودے بازی اور عارضی اتحادوں نے سیاسی عمل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ کب کون سی حکومت تشکیل پا جائے اور کب گر جائے—اس کی پیش گوئی ممکن نہیں رہی۔

 یہی غیر یقینی اب صوبائی سطح پر بھی نظر آتی ہے۔ مدھیش پردیش میں وزیر اعلیٰ کا استعفیٰ اس بات کا اشارہ ہے کہ صوبائی جماعتیں بھی مرکزی سیاست کے غیر مستحکم طرزِ عمل کو اپنا رہی ہیں۔ یہ تبدیلی نہ صرف صوبائی حکومتوں کے لیے چیلنج ہے بلکہ کمیونسٹ پارٹی کی مجموعی سیاست پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

نیپال کمیونسٹ پارٹی کے نظریاتی اصول مذہبی امتیاز، سماجی ناانصافی اور برادری کی بنیاد پر تفریق کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔ اسی فکر سے امید تھی کہ ملک سماجی ہم آہنگی اور مساوات کی طرف بڑھے گا۔ لیکن زمینی سیاست کا منظرنامہ بتاتا ہے کہ نظریات اور عملی سیاست کے درمیان فاصلہ اب بھی برقرار ہے۔

آج نیپال ایک نہایت نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ فلاحی پالیسیوں نے عوام کو سہارا ضرور دیا ہے مگر دوسری طرف کچھ عناصر نفرت اور مذہبی تقسیم کے بیج بونے میں مصروف ہیں۔ ایسے وقت میں اجتماعی ہم آہنگی اور رواداری پر مبنی سوچ کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

 مدھیش کی عوام طویل عرصے سےبنیادی سہولیات،روزگار کی کمی، اور سڑکوں و شاہراہوں کی خستہ حالی جیسے مسائل کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ زین جی مظاہروں کے بعد کچھ مثبت تبدیلی کی امید ضرور پیدا ہوئی، لیکن حکومتوں کے بار بار بدلنے سے ترقیاتی منصوبوں میں تسلسل نہیں رہ سکا۔ وزیر اعلیٰ کے استعفے کا ان کی پارٹی اور صوبائی منصوبہ بندی پر کیا اثر پڑے گا، یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ البتہ اتنا واضح ہے کہ نئے وزیر اعلیٰ کے لیے اقتدار سنبھالنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

وہیں دوسری جانب آنے والے انتخابات کے پیش نظر سیاسی جماعتیں دوبارہ صف بندی میں مصروف ہیں۔ وزیر اعظم شوسیلا کارکی نے حال ہی میں صاف و شفاف انتخابی عمل پر زور دیتے ہوئے سیاسی ماحول کو نسبتاً پرسکون رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم کے طور پر ان کی پالیسیوں نے امن و امان برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اگرچہ ان کے ایک بیان نے مسلم کمیونٹی میں بے چینی پیدا کی، مگر انہوں نے عوامی ردعمل کے بعد وضاحت پیش کی اور اپنی بات واپس لے کر سنجیدگی اور سیاسی اخلاقیات کا ثبوت دیا۔ ان کا شمار تعلیم یافتہ اور اصول پسند رہنماؤں میں ہوتا ہے۔

مدھیش پردیش کے وزیر اعلیٰ کا استعفیٰ محض ایک حکومتی تبدیلی نہیں، بلکہ پورے سیاسی نظام کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جب تک مضبوط اتحادی حکمت عملی، پختہ انتظامی ڈھانچہ،اور عوامی مسائل پر توجہ کو اولین ترجیح نہیں دی جائے گی، سیاسی عدم استحکام کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔نیپال کو اب ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو نظریاتی سچائی، شفاف حکمرانی اور اجتماعی ترقی کے راستے پر ثابت قدم رہے۔ بصورتِ دیگر، قیادتیں بدلتی رہیں گی اور عوام کے مسائل بدستور جوں کے توں قائم رہیں گے۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383