Editorial
جمہوریت میں اپوزیشن کا کردار!
ایڈیٹر کے قلم سے
عبدالجبار علیمی نیپالی ۔۔۔۔۔
نیپال کی سیاست اس وقت ایک اہم اور نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری اختلافات نے ملک بھر میں سیاسی بحث کو جنم دیا ہے۔ بعض حکومتی حامی حلقے اپوزیشن کے احتجاج اور مطالبات کو ہنگامہ آرائی قرار دے رہے ہیں، لیکن اگر حالات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اپوزیشن نے ایسے معاملات پر آواز بلند کی ہے جن کا تعلق براہِ راست قومی مفاد، حکومتی شفافیت اور عوامی اعتماد سے ہے
جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں سے سوال پوچھے جائیں۔ پارلیمنٹ محض قانون سازی کا ادارہ نہیں بلکہ عوامی نگرانی اور حکومتی احتساب کا سب سے بڑا فورم بھی ہے۔ عوام اپنے نمائندوں کو اسی لیے منتخب کرتے ہیں کہ وہ حکومت کے فیصلوں پر نظر رکھیں اور ضرورت پڑنے پر ان سے جواب طلب کریں۔ اگر پارلیمنٹ میں سوال اٹھانے کا حق محدود کر دیا جائے یا اختلافِ رائے کو ہنگامہ آرائی قرار دیا جائے تو جمہوریت کی روح کمزور پڑ جاتی ہے۔
حالیہ دنوں بعض حساس قومی معاملات پر پیدا ہونے والے سوالات نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف ہے کہ حکومت کو ان معاملات پر واضح اور دوٹوک موقف اختیار کرنا چاہیے تاکہ عوام میں پائی جانے والی بے چینی اور شکوک و شبہات کا خاتمہ ہو سکے۔ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے اور عوام کے سامنے تمام حقائق رکھے جائیں۔ یہ مطالبہ کسی غیر جمہوری طرزِ عمل کا عکاس نہیں بلکہ جمہوری جوابدہی کا تقاضا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر حکومت پر تنقید کو ریاست پر تنقید سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایک فعال اور مضبوط اپوزیشن دراصل جمہوری نظام کی محافظ ہوتی ہے۔ دنیا کی کامیاب جمہوریتوں میں اپوزیشن حکومتی پالیسیوں پر کڑی نظر رکھتی ہے، خامیوں کی نشاندہی کرتی ہے اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتی ہے۔ یہی عمل حکومت کو زیادہ محتاط، ذمہ دار اور جوابدہ بناتا ہے۔
نیپال نے جمہوریت کے حصول اور اس کے استحکام کے لیے ایک طویل جدوجہد کی ہے۔ عوامی تحریکوں، سیاسی قربانیوں اور آئینی جدوجہد کے بعد قائم ہونے والے اس نظام کو مضبوط بنانے کی ذمہ داری تمام سیاسی قوتوں پر عائد ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر قومی اہمیت کے معاملات پر سوالات اٹھتے ہیں تو ان کا جواب دلیل اور حقائق سے دیا جانا چاہیے، نہ کہ سیاسی الزام تراشی یا تنقید کرنے والوں کو خاموش کرانے کی کوشش سے۔
اس وقت ملک کو معاشی مشکلات، نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بیرونِ ملک ہجرت، روزگار کے محدود مواقع، مہنگائی اور ترقیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ عوام کی نظریں سیاسی قیادت پر لگی ہوئی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے اپنے فرائض انجام دیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ شفافیت کا راستہ اختیار کرے اور اپوزیشن کے جائز سوالات کا جواب دے، جبکہ اپوزیشن کو بھی اپنی جدوجہد کو جمہوری حدود کے اندر رکھتے ہوئے عوامی مسائل کو اجاگر کرنا چاہیے۔
سیاسی اختلافات ہر جمہوریت کا حصہ ہوتے ہیں، لیکن ان اختلافات کو قومی بحران میں تبدیل ہونے سے بچانا تمام فریقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پارلیمنٹ میں مکالمہ، بحث اور جوابدہی ہی مسائل کا حل ہے۔ اگر حکومت سوالات کا سامنا کرے اور اپوزیشن ذمہ دارانہ انداز میں اپنا کردار ادا کرے تو نہ صرف جمہوریت مضبوط ہوگی بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال رہے گا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو دشمن سمجھنے کے بجائے جمہوری عمل کا لازمی حصہ تصور کریں۔ اختلافِ رائے کو برداشت کرنا اور عوامی سوالات کا جواب دینا ہی ایک بالغ جمہوریت کی پہچان ہے۔ نیپال کی جمہوریت بھی اسی وقت مضبوط ہوگی جب اقتدار اور اپوزیشن دونوں آئین، پارلیمنٹ اور عوامی اعتماد کا احترام کریں گے۔
جمہوریت کی اصل طاقت خاموشی میں نہیں بلکہ جوابدہی میں ہے، اور اپوزیشن کی آواز کو دبانے کے بجائے سننا ہی ایک مضبوط اور مستحکم جمہوری نظام کی علامت ہےدیکھنا یہ ہے کہ بالن شاہ کی حکومت کس طرح سے جمہوریت کو قائم رکھنے میں اور اپوزیشن کے سوالات کا جواب دیتی ہے !
