اداریہ
مدھیش پردیش کی نئی حکومت:
امیدیں، چیلنجز اور سیاسی تبدیلی کی سمت
ایڈیٹر کے قلم سے ۔۔۔۔۔۔۔
مدھیش پردیش کے سیاسی ماحول میں اس وقت ایک نئی ہلچل پیدا ہوئی جب سابق وزیر اعلیٰ سروج کمار یادو نے استعفیٰ دیتے ہوئے اقتدار سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا۔ سروج کمار یادو، جو کمیونسٹ پارٹی کی قد آور شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، اپنی مختصر مدتِ اقتدار میں مسلسل سیاسی بحثوں کا مرکز رہے۔ کبھی مدرسہ بورڈ کے قیام سے متعلق اقدامات نے توجہ حاصل کی، اور کبھی انتظامی فیصلوں نے صوبائی سیاست کو گرمائے رکھا۔
استعفیٰ کے بعد گورنر نے نئی حکومت کی تشکیل کا عمل شروع کیا، جس میں کانگریس پارٹی نے اکثریت کا دعویٰ پیش کرتے ہوئے پارلیمانی رہنما کرشنا پرساد یادو کو وزیراعلیٰ منتخب کرلیا۔ کرشنا پرساد یادو کو سات جماعتوں کے 77 اراکینِ اسمبلی کی حمایت حاصل ہے، جو جمہوری عمل کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔
مدھیش پردیش اس وقت بے روزگاری، سڑکوں کی خستہ حالی، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں نئی حکومت کس طرح ان چیلنجز سے نمٹتی ہے، یہ دیکھنا نہایت اہم ہوگا۔ ترقیاتی ایجنڈے پر مؤثر پیش رفت ہی عوامی اعتماد بحال کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب آنے والے چند مہینوں میں پارلیمانی انتخابات بھی قریب ہیں۔
دوسری جانب، صوبے میں ہندو سمراٹ سینا جیسی شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیاں امن و امان کے لیے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ مدرسہ بورڈ سے متعلق سابق حکومت کے تعلیمی اصلاحاتی منصوبے کے خلاف ہونے والے احتجاجات نے صوبے میں کشیدگی کو مزید بڑھایا، جو تشویش کا باعث ہے۔ ایسی صورتحال میں نئی حکومت کے لیے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سماجی ہم بستگی بحال کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
مدھیش پردیش میں نظر آنے والی سیاسی تبدیلیاں مجموعی طور پر نیپالی سیاست کے لیے مثبت اشارہ سمجھی جا رہی ہیں۔ تاہم کانگریس حکومت کے لیے راستہ ہرگز آسان نہیں۔ اقتدار میں رہتے ہوئے عوامی توقعات پوری کرنا اور امن و امان کو یقینی بنانا ایک بڑا امتحان ہوگا۔
امید کی جاتی ہے کہ وزیر اعلیٰ کرشنا پرساد یادو، تمام اتحادی جماعتوں کے تعاون سے، صوبے کو درپیش معاشی و سماجی مسائل کا حل نکالنے میں کامیاب ہوں گے اور پارلیمانی انتخابات تک ایک مستحکم اور پُرامن ماحول قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
مزید برآں، مدھیش پردیش میں گزشتہ برسوں کے دوران عوامی خدمات کی فراہمی، مقامی سطح پر شفافیت، اور سرکاری نظام کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ کرشنا پرساد یادو کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ انتظامیہ میں میرٹ اور جوابدہی کو فروغ دیں، تاکہ حکومتی پالیسیوں کے ثمرات پسماندہ طبقات تک پہنچ سکیں۔ اگر نئی حکومت گڈ گورننس، شفافیت اور عوامی شمولیت پر مبنی حکمتِ عملی اختیار کرتی ہے تو نہ صرف موجودہ سیاسی بے یقینی کم ہوگی بلکہ آئندہ انتخابات میں عوامی اعتماد کی بحالی بھی ممکن ہو سکے گی۔
ہم امید کرتے ہیں کہ نئی حکومت عوامی مسائل کے حل، سماجی ہم آہنگی کے فروغ اور جمہوری اقدار کی مضبوطی کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔ نیپال اُردو ٹائمز اپنی صحافتی روایت برقرار رکھتے ہوئے آئندہ بھی عوامی مفاد کے ہر اہم مسئلے کو بے لاگ اور غیر جانب دارانہ انداز میں پیش کرتا رہے گا۔
