Feb 7, 2026 06:09 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
وزیر اعظم کارکی  کا مسلم مخالف بیان لمحہ فکریہ!

وزیر اعظم کارکی کا مسلم مخالف بیان لمحہ فکریہ!

27 Nov 2025
1 min read

اداریہ

وزیر اعظم کارکی  کا مسلم مخالف بیان لمحہ فکریہ!

عبدالجبار علیمی نیپالی 

اسلام ایسا آفاقی مذہب ہے جس میں سب سے زیادہ حقوق کے تحفظ کے حوالے سے پیغام ملا ہے ،ماں باپ کے حقوق ، بہنوں اور بیویوں کے حقوق یہاں تک کہ اسلا م نے پڑوسیوں کے حقوق کی بھی بات کی ہے ، ایسا آفاقی مذہب ہے جس کی بنیادیں ہی حقوق العباد پر ہیں ، اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت میں جس طرح سے عورتیں ظلم و بربریت کا شکار ہورہی تھیں اس سے ہر کوئی باخبر ہے ، عورتوں کے وقار کو مجروح کیا جارہا تھا ، بچیوں کو زندہ دفن کردیا جاتا تھا ، لیکن جب آفاقی مذہب اس روئے زمین پر اپنے پیغمبر محمد عربی ﷺ کے ذریعے پوری دنیا میں اپنی کرنوں کو بکھیرا تو زمانے میں سب سے پہلا پیغام عورتوں کو باندی پن سے آزادی کا تھا ،آج اسی اسلام پر انگشت نمائی کی جارہی ہے،حال ہی میں ملک عزیز نیپال  جب  ترقی کی راہ پر گامزن ہے، حالات معمول پر ہیں،عوام خوشحال ہے  ،   اسی درمیان ملک کی قیادت کرنے والے شخصیت کے ذریعے مسلم مخالف بیان پورے ملک میں بے چینی پیدا کردیا ہے ،یوں تو آج.پوری دنیا میں یہی ہورہا ہے، ہر طرف انسانیت سسک  بلك رہی ہے کہیں حسب و نسب کے نام پر کہیں دولت و ثروت کے نام پر تو کہیں ذات و مذہب کے نام پرلڑائی  جاری ہے،کچھ یوں ہی حال ایشیا کا ہے پورے ایشیاء میں بالخصوص ہندو نیپال میں  اس کی چیخ  وپکار سنائی دے رہی ہے ملک نیپال کو نفرت انگیز بیان نے  ترقی سے روک دیا ہے ۔

ملک نیپال میں  گزشتہ تین ماہ قبل جب زین جی کے ذریعے  ملک کو کرپشن، رشوت خوری، سے  پاک کرنے کے لیے مظاہرے شروع ہوئے تھے تو اس وقت اس زین جی کے مطاہرے میں سیکنڑوں مسلمانوں نے پولیس کی گولیوں  کو اپنے اوپر برداشت کیا تھا ۔

زین جی کے مظاہرے کےدوران  اقتدار میں بیٹھی کے پی شرما اولی کی حکومت مستعفی ہوگئی اور زین جی کے مظاہرے کے بعد  ملک کی سلامتی کو بچانے کے لیے، ملک میں امان امان کی فضا قائم کرنے کے لیے ایک تعلیم یافتہ خاتون  کو زین جی کے ذريعہ  کرسی اقتدار پر براجمان کیا گیا ، امید یہی کی جارہی تھی کہ سوشیلا کارکی ملک ميں امن وامان اور ملك كي  سالمیت کے لیے کام کریں گی۔

لیکن  اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد لوگ اپنے ہوش وحواس  کھو بیٹھتے ہیں ، شاید کچھ یوں ہی ہوا ہے ہماری وزیر اعظم سوشیلا کارکی کے ساتھ ، ان کا نہایت ہی زہريلا بیان مسلم خواتين   کے لیے جاری ہوا  اس پر افسوس کے سوا کچھ نہیں کیا جاسکتاہے ۔

سوشیلا کارکی  اپنے عہدے پر بیٹھتے ہی پورے ملک  کی توجہ اپنی طرف  کھینچنے میں کامیاب رہیں لیکن ان کا یہ حالیہ بیان مسلم مخالف تنظیموں کے لیے انرجی کا کام کرے گا، چوں کہ  نیپال کی تاریخ میں بحيثيت وزير اعظم  کسی مذہب کے حوالے سے پہلی بارآئین کے خلاف بکواس کرتے ہوئے دیکھا گیا ۔سوشیلا کارکی ہمارے ملک کی وزیر اعظم ہیں ہم ان کی قدر کرتے ہیں لیکن ہمارا آئین ہمیں اپنے حقوق کی پامالی کرنے والوں سے حساب لینا بھی سکھاتا ہے ، ہمارے ملک کا آئین ہمیں ہر مذہب کی عزت کرنے کا پیغام بھی دیتا ہے ۔

ہم وزیر اعظم سوشیلا کارکی سے پرزور  مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ  کس کے اشارے پر ملک کی فضا کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں؟

آپ نے کیوں مسلم مخالف تحریکوں کو انرجی دینے کا کام کیا ؟ اس کے پیچھے کون سی طاقت  کام کر رہی ہے ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ پڑوسی ملک ہندوستان کے اشارے پر حالات اس طرح پیدا کئے جارہے ہیں, اگر ایسا ہے تو یہ ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگا ۔

وزیر اعظم سوشیلا کارکی کا نفرتی بیان

آپ آسماں ہیں تو رکھیے دلکشی لہجہ

تاکہ یہ زمیں  رکھے  اپنا شبنمی لہجہ

کچھ خیال تو رکھیے آپ اپنے عہدے کا

کیوں زباں پہ لاتے ہیں آپ نفرتی لہجہ

قاری بشیر القادری گلاب پوری

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383