May 10, 2026 05:27 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
گوپی چند نارنگ بحیثیت رجحان ساز ادیب و نقاد

گوپی چند نارنگ بحیثیت رجحان ساز ادیب و نقاد

07 May 2026
2 mins read

گوپی چند نارنگ بحیثیت رجحان ساز ادیب و نقاد

ڈاکٹر۔نجم النساء ناز،اردو لکچرر،شعبہ اردو،یوگی ویمنا یونیورسٹی،کڈپہ،آندھرا پردیش

      پدم بھوشن پروفیسر۔گوپی چند نارنگ اردو دنیا کا  ایک اہم نام ہے۔وہ اردو کے نقاد،محقق،ماہر لسانیات اور دانشور تھے۔اردو کی نظریاتی تنقید،افسانہ پریم چند،انتطار حسین،انیس شناسی،خسرو شناسی سے گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ عصر حاضر میں ان کی دلچسپی جدید تنقید،یعنی تھیوری یا مابعد جدید تنقید سے ہے،گوپی چند نارنگ کا ایک خاص اختصاص اردو ادب اور تہذیبی مطالعہ ہے۔           ۱۱ فروری ۹۳۱ ٍ ا کو گوپی چند نارنگ کی ولادت ہوئی۔ان کا آبائی وطن ضلع دکی بلوچستان ہے۔ ن کی والدہ بلوچستان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے سرائیکی جانتی تھی۔سرائیکی اور اردو قدیم میںزیادہ  فرق نہیں ہے ۔ اس طرح ان کے گھر میں اردو کا بول بالا تھا۔ان کے بڑے بھائی جگدیش نارنگ بھی اردو زبان و ادب کااچھا ذوق رکھتے تھے۔گوپی چند نارنگ کی سنسکرت،فارسی اور اردو سے دلچسپی ان کے والد محترم اور بھائی ہی کی رہین منت ہے۔ان کے والد کا نام دھرم چند نارنگ اور والدہ کا نام ٹیکا دیوی ہے۔ نارنگ صاحب کے والد بلوچستان ریونیو سروس میں ملازم تھے۔اور آفیسر خزانہ کے عہدے پر فائزتھے۔ان کے والد سنسکرت،فارسی اور اردو زبان سے بخوبی واقف تھے۔ اور ان  زبانوں کے ادب سے با خبر تھے ۔اسکول میںاردو کا پہلا قاعدہ پڑھنے اور  امتحان دینے کی روداد نارنگ صاحب نے بڑے پر لطف  انداز میں یوں بیان کیا ہے۔

                     ـ   "شمال میں چھوٹا سا اسکول تھا ۔جس میںپڑھائی کم اور انسپکٹر کے استقبال کی تیاری زیادہ کی جاتی

                         تھی۔اردو کا پہلا قاعدہ یہیں پڑھا۔پڑھاتے عبدالعزیز صاحب تھے۔ماسٹر،ہیڈ ماسٹر،کلرک سبھی                          کچھ وہی تھے۔میں اس زمانے میںاستاد سے کچھ کچھ ڈرا کرتا تھا۔اس سے بھی کئی گناہ زیادہ ڈر

                          امتحان کا تھا۔جس کے بارے میں معلوم ہی نہیں تھا کہ کیا بلا؟ کچھ کچھ یاد ہے کہ جب پہلی جماعت

                          کا امتحان ہوا تو میں گھر میں دبکا رہا۔بعد میں والد صاحب  اور بڑے بھائی صاحب پکڑے پکڑے

                          لائے اور کہابچارے کا سال برباد ہونے سے بچالیجئے اور مجھے اسکول میں پہنچا دیا۔عبد العزیز صاحب

                          نے قاعدے کا دوسرا صفحہ کھولا اور قدرے سختی سے کہا۔یہاں سے سنائو۔دہشت تو طاری تھی ہی میں 

                          بد حواسی میںقاعدہ بند کیا اور بجائے پڑھ کر سنانے کے جیسے جماعت میںرٹا کرتا تھا۔زبانی ہی سنانا

                          شروع کیا۔ابھی پورا سبق نہ سنا پایاتھا کہ انھوں نے کہا بس بس تم پاس۔نہ صرف پاس بلکہ اول۔

                                                والد صاحب نے گلے لگا لیاآنسو پونچھے اور کندھے پر بٹھا کر گھر لے آئے۔وہ دن آج کا دن کتاب 

میری بہترین رفیق اور دم ساز بن گئی۔ " (۱( گوپی چند نارنگ نے  ۱۹۳۹  میں نن پرون (رسالہ آج کل) کو دیکھا تھا۔اور ــ " پھول اور غنچہ "کا مطالعہ انھوں نے بعد میں کیا۔ پھول اور غنچہ بچوں کے رسائل تھے جو لاہور اور دہلی سے شائع ہوا کرتے تھے۔  نارنگ صاحب پرائمری اسکول میں ان پرچوں کا مطالعہ کیا کرتے تھے۔بچپن ہی سےانہیں مطالعہ کا شوق تھا۔وہ نذیر احمد،رتن ناتھ سرشار اور راشد الخیری کی تصانیف کا مطالعہ پسند کرتے تھے۔گوپی چند نارنگ نے ہائی اسکول لیہہ ضلع مظفر گڑھ سے کیا۔اور میٹرک کا امتحان۱۹۴۶ میں اول درجے میں کامیاب کیا۔اس کے بعد وہ اعلی تعلیم کے لیے دہلی آئے اور یہیں سے ۱۹۵۰ میں ایف ۔اے اور بی،اے  میں کامیابی حاصل کرلی۔اور پنجاب یونیورسٹی سے اردو (آنرز) بھی مکمل کرلی۔اعلی تعلیم کا جنون  بچپن ہی سے سر میں سمایا ہوا تھا چنانچہ انھوں نے۱۹۵۲ میں دہلی کالج (موجودہ دہلی یونیورسٹی)  میں ایم۔اے۔اردو میں داخلہ حاصل کیا۔  اور۱۹۵۴ میں امتیازی نشانات کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔اسی دوران انھوں نے اپنی بعض تخلیقات شائع کیں۔دہلی میں انھیں خواجہ احمد فاروقی جیسے اردو کے ادیب اور اسکالر سے قرب حاصل ہوا۔گوپی چند نارنگ نے دہلی کالج میگزین کے ـ"دلی کالج نمبر "میںمعاون مدیر کے فرائض بھی انجام دئے۔۱۹۵۶  انھوں نے پی۔ایچ۔ڈی۔میں داخلہ لیا اور ۱۹۵۸ میں" اردو شاعری پر ہندوستانی عناصر "موضوع   اپنا تحقیقی مقالہ داخل دفتر کیاجس پر انھیں اسی برس ڈاکٹریٹ کا مستحق قرار دیا گیا۔

        گوپی چند نارنگ کی پہلی تصنیف شائع ہوکر منظر عام پر آئی وہ " : معراج العاشقین "ہے۔ اس کو انھوں نے لسانیات کے نقطہ نظر سے مرتب کیا اور ۱۹۵۷ میں شائع کیا۔ڈاکٹریٹ کا مقالہ کے بعد انھوں نے اپنی ساری توجہ  ـ" اردو کی فکری اور تہذیبی تاریخ  "کی جانب مبذول کردی۔جس کا نتیجہ ۱۹۶۰ میں   "ہندوستانی قصوں سے ماخوذ اردو مثنویاں  "شائع ہوئی یہ ان کی دوسری تصنیف ہے۔ اس کے علاوہ گوپی چند نارنگ صاحب کی کئی کتابیں یعنی ۶۰ سے بھی زیادہ کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں جو انٹر نٹ پر موجود ہیں۔ان کو کئی انعامات واعزازات سے نوازا گیا۔        اردو دنیا میں یہ بات عام ہوگئی ہے کہ حالی کے بعد گوپی چند نارنگ نظریہ سازنقاد ہیں۔یوں تووہ  ۱۹۸۰ہی سے ما بعد جدید تنقید سے متعلق لکھ رہے تھے اور اردو کے شہ پاروں کا انہی اصولوں پر تنقیدی جائزہ بھی لے رہے تھے لیکن بھر پور انداز میں انھوں نے نئے ساختیات ،پس ساختیات اور مشرقی شعریات ۱۹۹۴ میں شائع کی تو مشرقی دنیائے ادب میں بھونچال آگیا۔ ان کی یہ کتاب ما 

جدیدیت کے بارے میں لکھتے ہیں  ما بعد جدیدیت کسی ایک نظریہ کا نہیں بلکہ کئی ذہنی رویوں کا نام ہے ا ور معنی پربٹھائے   پہروں کو توڑنے کا نام ہے۔۔۔۔۔یہ جدیدیت کے بعد کا دور ہے۔۔۔۔۔۔یہ ایک  تخلیقی آزادی کا کھلا رویہ ہے۔ادبی جبر توڑنے کا،معنی کے چھپے ہوئے رخ کو دکھانے کا  ،یہ فلسفہ ، مرکزیت،وحدت کے بدلے ثقافت،مقامیت اور معنی میںقاری یا سامع کی شرکت پر زور دیتا ہے۔ادب کا رشتہ از سر نوآزادانہ تخلیق سے جوڑتا ہے۔اس لئے  کہا جاتا ہے کہ ما بعد جدید کی تعریف  تنقید سے نہیں تخلیق سے ہو گی۔" (۲) ـ   گوپی چند نارنگ کے اس نظریے کی تشریح کرتے ہوئے پروفیسر۔وہاب اشرفی لکھتے ہیں۔  " :  پرانی روش نئی روش کو آسانی سے راستہ نہیں دیتی۔جدیدیت اپنا کام    انجام دے چکی ہے۔ما بعد جدیدیت کا اپنا کوئی فلسفہ نہیں ہے۔بس ثقافت کے حوالے سے صداقت کی تلاش کرنے کا عمل ہے۔ادب کو عوامی کلچر میں تلاش کرنا ہی ما بعد جدیدیت ہے۔ما بعد جدیدیت ایک   Complex صورت ہے۔جس نے آزاد خیالی اور آزادی پر زور دیا۔ " (۳)ـ  اور سوال اٹھانے کا،دی ہوئی ادبی لیک کے جبر توڑنے کا،ادعائیت خواہ سیاسی ہو یا ادبی اس کو رد کرنے کا زبان یا متن کے حقیقت کے عکس محض ہونے کا نہیںبلکہ حقیقت کے خلق کرنے کا،معنی کے معمولی رخ کے ساتھ اس کے دبائے چھپائے اور قرات کے تفاعل میں    قاری کی کارکردگی کا دوسرے لفظوں میںمابعد   گوپی چند نارنگ کی تنقید کے حوالے سے بنیادی سوال یہ ہے کہ جب وہ زبان ،ثقافتاور تخلیق کے سہ گانا عناصر کو ایک ساتھ معرض فہم میں لاتے ہیں،تو ان میں کئی قسم کے رشتے کا تصور کرتے ہیں یاتینوں کو یکساں اہمیت دیتے ہیں۔یا تینوں میںدرجہ بندی کرتے اور ایک کو اور دیگرکو اس پر منحصر قرار دیتے ہیں۔تینوں کو یکساںاہم سمجھنے کا دعوی کیا جاتا

ہے۔مگر انسانی فکر کااصول یہ ہے کہ ایک سے زائد چیزوں کو جب بھی ایک ساتھ متصور کیا جاتا ہے تو ان میں لازما درجہ بندی قائم ہوتی ہے۔لہذا گوپی چند نارنگ کے یہاں بھی مذکورہ عناصر کے سلسلے میںدرجہ بندی نظام عمل میں آیاہے اور انھوں نے اولیت تخلیق کو دی ہے۔زبان اور ثقافت کوتخلیق پر منحصر ٹھرایا ہے۔یہ درجہ بندی ان کے یہاں اول سے آخر تک رہتی ہے۔جس کا صاف مطلب ہے کہ ان کی تقلید داخلی سطح پر نامیاتی رابطہ کی حاصل ہے۔سانحہ کربلا بطورشعری استعارہ سے اقتباس دیکھئے۔"   فنکار کے ذہن و شعور کا بنیادی سر چشمہ اکثر و بیشتر اس کی اپنی مذہبی،ثقافتی روایتیں ہی ہوا کرتی ہیں۔لیکن چونکہ فن خود حقیقت کی نئی تخلیق ہے۔فن کار یا شاعر تاریخ کی عظیم روایتوں کی باز یافت بھی کرتا ہے  اور ان سے نیا رشتہ بھی جوڑتا ہے۔نیز پرانی سچائیوں کو نئی روشنی میں پیش کرتا ہے۔جس کی اس عہد کو ضرورت ہوتی ہے۔ " (۶)ـ گوپی چند نارنگ صاحب نے اس بات کی وضاحت کردی ہے کہ مابعد جدید ادب صرف تخلیق و تحریر کااحاطہ نہیں کرتابلکہ یہ معاشرہ انسان اور اس سے وابستہ مسائل پر غور و فکر کرنے پر آمدہ کرتا ہے،جو صدیوں سے زیر غور رہنے کے باوجودآج بھی حل طلب ہیں۔ایسے مسائل میں 

عورت پر مسلسل ہونے والے مظالم،قبائل کی زبوں حالی،علاقائی ثقافتی اور ادبی قدریںاور مظلوموں کا استحصال وغیرہ شامل ہیں۔ہم دیکھ چکے ہیں کہ مابعد جدیدیت کے ازکار رفتہ نظریہ سے معنویت کی کثرت کے نام پر مہملیت اور لفظی بازی گری کو فروغ دیا۔وہ آگہی کے ہمنوا ضرورتھے لیکن کورانہ تقلید کے ہر گز نہیں۔اس لئے وہ نظریے کی حصار بندی  کے سخت خلاف ہیںاور بار بار کہتے تھے کہ اردو میں ما بعد جدیدیت کو اپنی شناخت ان اردو تخلیقات کی روشنی خوف طے کرنا ہوگی جن تخلیقات میں مزاج اور رویے بدلے ہوئے نظر آتے ہیں۔

      گوپی چند نارنگ کی تنقید کا امتیاز یہ ہے کہ وہ اپنے ہر دعوے کا ثبوت اپنی عملی تنقید کے ذریعے پیش کئے ہیں۔انھوں نے نظری اور عملی ہر طرح کی تنقید لکھی ہے ۔ ساختیاتاور مابعد جدیدیت کے ضمن انھوں نے نظری مباحث پر تفصیلی اور جامعیت سے لکھا ہے اور کسی نے اگر ان کے ہی مضامین پڑھے ہیں تو اس گمان میں مبتلا ہو سکتے ہیں کہ انھوں نے عملی تنقید پر نظری تنقید کو ترجیح دی ہے۔ اصل یہ ہے کہ ان کا بنیادی سروکار ادب اور اس کا لسانی اور تہذیبی تفاعل ہے۔الجھنے کے بجائے ان کی عملی اور اطلاقی جہات کو اہمیت دیتے ہیں۔

           نارنگ صاحب نے دہلی میں اردو اکیڈمی میں ایک سہ روزہ بین الاقوامی سمینار ۱۴۔۱۵ اور ۱۶ مارچ ۱۹۹۷ میں منعقد کیا تھا۔معروف شاعر اور نقاد ڈاکٹر۔حامد کاشمیری نے اس سمینار سے متعلق اپنے تاثرات کا اظہار یوں کیا ہے:                          "   پروفیسر۔گوپی چند نارنگ کی نگرانی اور رہنمائی میں جو رجحان ساز سمینار منعقد ہوا، اس کی گونج تا دیر دلوں میںباقی رہے گی۔انھوں نے واقعی اپنی غیر معمولی منتظمہ صلاحیت،حسن خطابت اور تنقیدی بصیرت کی دھاک بٹھادی۔ ـ" (۷)            گوپی چند نارنگ صاحب کا یہ کہنا بھی ہے کہ اردو میں ما بعد جدیدیت اس وقت داخل ہوئی جب اردو میں نظریاتی خلاء تھا،جدیدیت کی فکری توانائی دم توڑ چکی تھی۔اس میں ذہن و شعور کو حیرت انگیز کرنے والی تازگی ختم ہوگئی تھی۔مابعد جدیدیت اسی نظریاتی خلا میںداخل ہوئی اور اسے پر کیا،اس روئے سے اختلاف کرناممکن نہیں۔کیونکہ اردو میںنظریاتی خلا نہ ہوتا تو ما بعد جدیدیت کے مباحث میں اتنی دلچسپی ہوتی،نہ واحد اہم ڈسکورس ہوتا۔اس خلا کو گوپی چند نارنگ زرف بین نگاہ  نے دریافت کیا،اور اسے پر کرنے کی مساعی کیں،یہی جہت نارنگ صاحب کی تنقید کی اہم جہت ہے۔

        میری ملاقات نارنگ صاحب سے ۲۰۱۲ میں حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں ہوئی۔وہ اس وقت حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں چیر پروفیسر کے عہدہ پر فائز تھے۔اور میں اس وقت پی۔ایچ۔ڈی ،ریسرچ اسکالر تھی۔میں نے ان سے انٹرویو بھی لیا۔گوپی چند نانگ کی پہلی ملاقات ڈاکٹر۔محی الدین قادری زور سے ہوئی۔ان کا تعلق حیدرآباد سے گہرا تھا۔میں گوپی چند نارنگ صاحب کے کئی نیشنل اور انٹر نیشنل سمیناروں میں شرکت کی اور ان کے کئی لکچرز سنی۔یہ سمینارز اور لکچرز حیدرآباد میں ہوئے۔اردو ساہتیہ اکیڈمی والوں نے حیدرآباد میںلکڑی کا پل کے ہوٹل میںایک جلسہ منعقد کیا اور اس میں نارنگ صاحب کی ڈاکو منٹری فلم بھی دکھائی۔میں وہاں موجود تھی۔حال ہی میں ان کو " اقبال سمان" کے اعزاز سے نوازا گیا اور گیان پیٹھ کا  " مورتی دیوی ایوارڈ "بھی دیا گیا۔گوپی چند نارنگ کو کئی انعامات و اعزازات سے نوازا گیا۔ پدم بھوشن،پدم سری،ستارہ امتیاز(پاکستان)،میر ایوارڈ،نذر خسرو ایوارڈ،امیر خسرو ایوارڈ،بھارتیہ بھاشا پریشد ایوارڈ۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔ان کی کئی کتابیں(۶۰) سے زیادہ کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔۱۵ جون  ۲۰۲۲ کو ۹۱ سال کی عمر میں نارنگ صاحب اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

         گوپی چند نارنگ کا اسلوب مختلف زبانوں سے بھرا ہوا ہے۔ہر زبان کا رنگ ان کے ادب میں ہے چاہے وہ ہندی ہو یا اردو،فارسی ہو یاانگریزی۔ہر زبان میں وہ ماہر لسانیات تھے۔ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ان کی تعریف ان چھوٹے  سے الفاظ میں بیان کرتی ہوں:

                            اردو  ادب کے  ستار  تھے

                             دکنی  ادب کے  دلدار  تھے

                             اردو  ادب کے  گل  مہر تھے

                            علمی  سمندر کے  انمول گہر تھے

        گوپی چند نارنگ کبھی تکبر اور گھمنڈ نہیں کرتے۔اتنے بڑے ادیب ،نقاد، محقق اور ماہر لسانیات ہو کر بھی وہ خود کو یہ کہتے تھے۔

                                 کم  آگہی سے  اپنی  شکایت نہیں مجھے

                                 اتنا  تو جانتا  ہوں  کہ کچھ  جانتا  نہیں

    حواشی:۔

           ۱  ۔ گوپی چند نارنگ، ص۱۲۰۷،مضمون مشمولا،آپ بیتی نمبر جون ۱۹۶۴۔

          ۲۔   سہ ماہی کاروان ادب بھوپال،گوپی چند نارنگ نمبر،۲۰۱۳ ،  ص  ۳۳۳۔

          ۳۔  ایضا۔

           ۴۔  سہ ماہی  کاروان ادب بھوپال، گوپی چند نارنگ نمبر، ۲۰۱۳  ،  ص  ۳۴۱۔۳۴۲۔

           ۵۔  ادب کا بدلتا منظر نامہ،  گوپی چند نارنگ ۱۹۹۸  ، ص  ۷۲ ۔

           ۶۔  سہ ماہی کاروان ادب  بھوپال،  گوپی چند نارنگ نمبر  ، ۲۰۱۳ ،  ص  ۳۱۸۔

           ۷۔  سہ ماہی کاروان ادب  بھوپال، گوپی چند نارنگ نمبر،  ۲۰۱۳  ، ص  ۳۳۳۔

Dr.NazmunnisaNaaz                       UrduLecturer,Department Of Urdu,Yogi Vemana   

Andhra pradesh,pin 516005.Cell No:9985703574

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)